1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

'دفاع حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اپریل 13، 2014۔

  1. ‏مئی 06، 2014 #371
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,529
    موصول شکریہ جات:
    6,615
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    خلاصہ باب
    کسی آیت میں کسی نیک عمل کا ذکر ہے اور کسی آیت میں کسی کا، ان تمام آیات سے اعمال کی فہرست تیار ہوتی ہے، وہ اسلام ہے ، بالکل اسی طرح کسی حدیث میں کسی عمل کی فضیلت مذکور ہے، اور کسی میں کسی عمل کی، موقع اور محل کے لحاظ سے کہیں کسی کا ذکر ہے اور کہیں کسی کی اہمیت ، ان تمام احادیث سے جو اعمال کی فہرست تیار ہوگی، وہ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے، کسی ایک آیت یا کسی ایک حدیث کو مورد طعن ٹھہرانا، یا صرف اسی آیت یا حدیث کے عمل پر تکیہ کرلینا کسی عالم کا قول ہے نہ فعل، اگر کسی ملا نے ایسا کہا ہے یا کیا ہے، تو وہ خود اس کا ذمہ وار ہے، جس حدیث میں ذکر کو جہاد سے افضل کہا گیا ہے، وہاں ذکر میں وہ چیز بھی شامل ہے، جس کو آپ کی اصطلاح میں ''اللہ کا پروپیگنڈا'' کہتے ہیں، یعنی توحید کی اشاعت، اللہ کی حاکمیت کاپرچار، قوانین الٰہیہ کی تبلیغ، اور جب یہ چیزیں بھی ذکر اللہ میں شامل ہوں، تو یقینا وہ جہاد سے افضل ہے، کیونکہ جہاد تبلیغ کے بعد آیا کرتا ہے، اگر تبلیغ نہ ہو تو جہاد کالعدم ہوگا، پھر جہاد میں جو تکلیف پہنچتی ہے، وہ بہت کم عرصہ کے لیے ہوتی ہے، لیکن تبلیغ میں جو مصائب اور تکالیف جھیلنی پڑتی ہیں، وہ جہاد کی تکالیف سے کہیں زیادہ ہیں، ایک آدمی ہوتا ہے اور سب اس کے مخالف، حکومت کے مظالم کا نشانہ صرف وہی ایک آدمی ہوتا ہے، نہ اس کے پاس دفاع ہوتا ہے ، نہ قوت کو وہ حکومت اور عوام کا مقابلہ کرسکے ، وہ بالکل مجبور ہوتا ہے اور خندہ پیشانی سے سب کچھ برداشت کرتا ہے، یہ ہے اللہ کا ذکر! کہاں جہاد اور کہاں یہ؟
    (تفصیل کے لیے باب اول ملاحظہ ہو)
     
  2. ‏مئی 06، 2014 #372
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,529
    موصول شکریہ جات:
    6,615
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    باب ۱۲
    '' اللہ کی عادت''

    غلط فہمی
    سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی اس بری حالت کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا جواب صرف ایک ہے کہ ملا اور اس کا حدیثی اسلام۔ (دو اسلام ص ۲۶۶)
    ازالہ
    بالکل غلط ہے، مسلمانوں کے زوال کا سبب حدیث نہیں، بلکہ قرآن و حدیث کو غلط سمجھنا اس کا سبب ہے، قرآن و حدیث پر عمل نہ کرنا اس کا سبب ہے، جتنی تحریکیں اب تک مسلمانوں میں مسلمانوں کی اصلاح کے لیے اٹھیں، ان سب کا دستور العمل حدیث تھی، لیکن باوجود اس کے ان تحریکوں کی تاریخ جہاد فی سبیل اللہ سے لبریز ہے، ہندوستان کی اصلاحی تحریک بہت مشہور ہے، آپ کا اصطلاحی ملا تو بے شک اس تحریک کو بدنام کرتا ہے، لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ تحریک کے مقاصد کیا تھے اور علمبرداران تحریک کے اعمال کیا تھے ، تاریخ گواہ ہے کہ اس تحریک کے علمبرداروں نے طاغوتی قوتوں کے خلاف جہاد کیا، اور نام نہاد مسلمانوں کی غداری کے نتیجہ میں داد شجاعت دیتے ہوئے بالا کوٹ کے میدان میں جام شہادت نوش فرمایا، یہ تحریک دہلی، بہار، صوبہ سرحد بلکہ پورے ہندوستان سے مجبوراً منتقل ہو کر پہاڑی علاقہ میں فروکش ہوئی، اور ۱۹۴۷ء تک کسی نہ کسی طرح انگریزوں کے خلاف نبرد آزما رہی ، تحریک کے علمبرداروں پر جو مصائب و آزمائش کے پہاڑ ٹوٹے تاریخ کے اوراق اس کے گواہ ہیں، پھانسیاں بھی ہوئیں، کالے پانی بھی بھیجے گئے، اور نہ معلوم کیا کیا ہوا، یہ سب کچھ انگریزی حکومت اور نام نہاد مسلمان یا ملا کے ہاتھوں سے ہوا، افسوس کہ نام نہاد مسلمانوں نے پھر دھوکہ دے کر اس تحریک کو ختم کرا دیا، اور پہاڑی علاقہ سے ان کو پاکستان بلا کر تحریک کو موت کی نیند سلا دیا، لیکن اس تحریک کی صدائے بازگشت اب بھی کانوں میں گونج رہی ہے، اس روحانی مشعل کی چنگاریاں اب بھی سینوں میں سلگ رہی ہیں، کاش یہ چنگاریاں پھر روحانی مشعل بن کر دین و قوم کی خدمت کریں، مگر برق صاحب یاد رکھئے آپ سارا زور جہاد پر صرف کرتے ہیں، عبارت آرائی اور رنگین بیانی سے مضمون جہاد کو بڑے خوش نما انداز میں پیش کرتے ہیں یہ صرف عبارت کی رنگینی ہوتی ہے، جو قاری کو مرعوب کردیتی ہے اور وہ سمجھنے لگتا ہے کہ اسلام جہاد ہی کا دوسرا نام ہے۔
     
  3. ‏مئی 06، 2014 #373
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,529
    موصول شکریہ جات:
    6,615
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جہاد مقصد اصلی نہیں، بلکہ مقصد کے حصول اور بقاء کا ایک ذریعہ ہے اگر یہ مقصد بغیر جہاد ہی کے حاصل ہو جائے تو آخر پھر جہاد کی ضرورت ہی کیا ہے؟ مقصد حاصل ہو جانے کے بعد اگر کوئی شخص ایسا ہو کہ جسے جہاد کرنے کی نوبت ہی نہ آئے، خواہ وہ کہیں کا بھی رہنے والا ہو جنتی ہے اور یہی مطلب ہے اس حدیث کا جس کو آپ نے ص۲۵۸ پر صحیح بخاری کے حوالہ سے نقل فرمایا ہے۔ ذرا غور فرمائیے، آپ کا مقصد تھا ، حصول پاکستان، کیا آپ نے اس کے لیے کوئی جنگ لڑی، ظاہر ہے کہ نہیں لڑی، بلکہ دوسرے ذریعہ سے پاکستان حاصل ہوگیا، تو بتائیے یہ کامیابی ہے یا نہیں؟ یا کامیابی جب ہی ہوتی کہ مخالفین پاکستان سے میدان کارزار میں لڑکر پاکستان حاصل کیا جاتا؟ اسی طرح دین کے معاملہ میں اصلی مقصد اللہ کی حاکمیت اعلیٰ اور اس کا واحد الہ و حاکم ہونے کا عقیدہ منوانا ہے اور اللہ کی زمین پر اللہ کے قانون کی خلاف ورزی کا انسداد کرنا ہے ، اگر اس کے لیے جنگ کی ضرورت پیش آئے، تو جنگ بھی کی جاسکتی ہے اور اگر جنگ کے بغیر یہ چیز حاصل ہو جائے تو فہو المراد، جنگ کرنا اسلام کا اصلی مقصد نہیں بلکہ مسلمان بحالت مجبوری جنگ کرتا ہے،
     
  4. ‏مئی 06، 2014 #374
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,529
    موصول شکریہ جات:
    6,615
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ارشاد باری ہے:
    { اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا} (حج)
    مسلمانوں کو جنگ کی اجازت اس لیے دی جاتی ہے کہ ان پر ظلم ہو رہا ہے۔
    دوسری جگہ ارشاد ہے:
    { وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ } (البقرۃ)
    اور اللہ کے راستہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں۔
    ایک اور جگہ ارشاد ہے:
    { وَ مَا لَکُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَھْلُھَا } (النساء)
    اور تم کیوں جنگ نہیں کرتے، حالانکہ کمزور مسلمان مرد، عورت اور بچے جو ظالموں کے شکنجہ میں گرفتار ہیں، یہ دعائیں کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم کو اس بستی سے نجات دے، جس کے رہنے والے ظالم ہیں۔
    برق صاحب یہ ہیں، وہ حالات جن میں ایک مسلم تلوار اٹھاتا ہے، آپ چاہتے ہیں کہ وہ کچھ اور کرے ہی نہیں، بس لڑتا ہی پھرے ، گویا لڑنا ہی اصلی مقصد ہے، برق صاحب اس تیسری آیت کو ذرا پھر پڑھیے، اور غور سے پڑھیے، اس میں کمزور مسلمانوں کی دعا ہے، بتائیے یہ دعا قبول ہوئی تھی یا نہیں، اگر ہوئی تھی اور ضرور ہوتی تھی، تو ماننا پڑے گا کہ دعا بھی کوئی اہم چیز ہے، اور محض دعا سے بھی کام بن جایا کرتے ہیں، ان کمزور مسلمانوں نے سوائے دعا کے اور کچھ نہیں کیا اور اللہ نے انہیں نجات دلوا دی، دعا ہی وہ چیز ہے کہ جہاں اور تمام وسائل مفتود ہوں، وہاں وہی کام آتی ہے، بلکہ یہ تو ایسی چیز ہے کہ اس کی ضرورت وسائل کی موجودگی میں بھی ضروری ہے، اور وسائل کے فقدان کے حالت میں بھی ضروری ہے، مسلمانوں نے میدان جنگ میں بھی دعا کی ہے اور یہ دعا قرآن مجید میں منقول ہے۔
    { وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْم الْکَافِرِیْنَ } (البقرہ)
    اے اللہ ہم کو کافروں کے مقابلہ میں نصرت عطا فرما۔
     
  5. ‏مئی 06، 2014 #375
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,529
    موصول شکریہ جات:
    6,615
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    دعا کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کوئی نہ کوئی سبب پیدا کردیتا ہے، لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ وسائل کی تلاش نہ کی جائے، وسائل کی تلاش بھی ضروری ہے، اور دعا بھی ضروری ہے، آپ بلاوجہ دعا کے مخالف ہوگئے، یہ ہے دعا کی حقیقت جو نہ صرف حدیث بلکہ قرآن سے بھی ثابت ہے، آپ دعاء کے اصلی منشا سے اعراض کرکے اس کو ملا کے سر تھوپ رہے ہیں، جدوجہد کو چھوڑ کر دعا پر تکیہ کرنا یہ ملا کا شعار سہی، اور بے شک یہ برا ہے، لیکن مطلق دعا کا انکار، قرآن مجید کا انکار ہے، کیونکہ قرآن دعاؤں سے مملو ہے۔
    برق صاحب ایسے لوگ بھی دنیا میں موجود ہیں، اور قدیم زمانہ سے موجود رہے ہیں۔ جو عدم تشدد کے عامل ہیں، جو جنگ و حرب کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور بغیر جنگ کے انہوں نے تبلیغ کی، ان کی اس تبلیغ سے نہ صرف ہندوستان بلکہ چین و جاپان تک متاثر ہوئے اور ان کے مذہب کے ماننے والے آج بھی کروڑوں کی تعداد میں موجود ہوں، یہ کس طرح پھیلے کس طرح ان کی حکومتیں قائم ہوئیں؟ یہ کون سی جنگ لڑے؟ کیا انہوں نے مقصد کو حاصل کیا یا نہیں؟ اگر کیا اور ضرور کیا تو آخر مقصد کے حصول کے بعد ذریعہ کی کیا اہمیت ہے؟ برق صاحب ذریعہ کو مقصد نہ بنائیے، یہ لوگ جو عدم تشدد کے حامی ہیں، اگر چاہیں تو ایسی ہی عبارت آرائی اور رنگینی مضامین سے جنگ و جہاد کے پرخچے اڑا سکتے ہیں اور اپنے پڑھنے والوں کو محض مسجع و مقفی عبارت سے مرعوب کرکے جہاد سے متنفر کرسکتے ہیں لیکن حقیقت عبارت آرائی میں نہیں ہوتی نہ جہاد بے حقیقت چیز ہے نہ جہاد ہی سب کچھ ہے، مثال کے لیے سنیے، ستھیارتھ پرکاش کے چودھویں باب کا مصنف قرآنی آیت پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتا ہے:
    قرآن کا خدا اور پیغمبر دونوں جنگجو تھے، جو لڑائی کا حکم دیتا ہے، وہ امن میں خلل انداز ہوتا ہے رہائی تو اوہرم کی لڑائی سے خوف کرنے سے ہوتی ہے۔ (ستھیارتھ پرکاش باب ۱۴، ص ۷۲۰)
    ایک اور جگہ لکھتا ہے:
    یہ تحریر محمد صاحب نے اس مطلب سے کی ہوگی کہ لڑائی میں نہ بھاگے اور اپنی فتح ہو، اور مرنے سے کوئی نہ ڈرے اپنا اقبال پڑھے، اور مذہب پھیلے۔ (ص۷۶۰)
    برق صاحب دیکھا آپ نے یہ کس طرح قرآنی جہاد کا مضحکہ اڑا رہا ہے، اور یہ تو آریہ مذہب کی کتاب کا حال ہے، جو عدم تشدد کے قائل نہیں، اگر آپ بدھ مذہب اور حبینی مذہب کے ماننے والوں کی کتابوں کو پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ وہ اس جنگ کو سب سے زیادہ برا عمل سمجھتے ہیں، حتیٰ کہ اس جہاد کا مذاق ہمارے زمانہ کے بہت بڑے سیاسی لیڈر گاندھی جی نے بھی اڑایا ہے، برق صاحب یہ ہے افراط تفریط یہ جہاد کو لغو فعل سمجھتے ہیں اور آپ جہاد ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں، تفصیل کے لیے تمہید ملاحظہ ہو، جہاں مسلمانوں کے زوال اور اس کے اسباب پر قرآن سے استشہاد کیا گیا ہے۔
     
  6. ‏مئی 06، 2014 #376
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,529
    موصول شکریہ جات:
    6,615
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    غلط فہمی
    دنیائے اسلام میں لاکھوں مساجد، ان میں لاکھوں ملا اور ہر ملا صبح و شام مسلمانوں کو مندرجہ ذیل اسباق دے رہا ہے۔ (دو اسلام ص۲۶۶)
    ازالہ
    اس عبارت کے بعد برق صاحب نے اسباق درج کئے ہیں، ہم یہ اسباق ذیل میں درج کر رہے ہیں اور ہر سبق کا جواب بھی ساتھ ساتھ دے رہے ہیں:
    (کہ صرف تم اللہ کے محبوب ہو، یہ امت بخشی بخشائی ہے)۔ (دو اسلام ص ۲۶۶)
    جواب: کسی عالم نے ایسا نہیں کہا۔
    (۲) کہ ... یہ دنیا مردار ہے جس کے طالب کتے ہیں۔ (دو اسلام ص ۲۶۶)
    جواب: اس کا مفصل و مدلل جواب تمہید میں ملاحظہ فرمائیں۔
    (۳) کہ المومن لا ینجس مومن جسم پہ کتنی ہی غلاظت مل لے وہ ناپاک نہیں ہوتا۔ (دو اسلام ص ۲۶۶)
    جواب: اس عربی عبارت کا اگر یہی مفہوم ہے جو آپ نے ترجمہ میں نقل کیا ہے تو اس سے مراد ''روحانی غلاظت'' ہے اور اگر آپ کو ایک حدیث پر اعتراض ہے، جس میں یہ جملہ وارد ہوا ہے، تو سنیے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    { سَیَحْلِفُوْنَ بِاللہِ لَکُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْھِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْھُمْ فَاَعْرِضُوْا عَنْھُمْ اِنَّھُمْ رِجْسٌ وَّ مَاْوٰھُمْ جَھَنَّمُ جَزَآئً بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْن} (التوبہ)
    جب تم واپس مدینہ منورہ پہنچو گے تو منافق اللہ کی قسم کھا کر اپنے عذر پیش کریں گے تاکہ آپ ان سے صرف نظر کریں، پس آپ ان سے صرف نظر ہی کیجئے، بے شک وہ لوگ ناپاک ہیں، ان کا ٹھکانا جہنم ہے، یہ ان کے اعمال کی سزا ہے۔
    کہیے منافق اگرچہ کتنا ہی صابن سے نہائے ناپاک ہی رہے گا؟
    { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ } (التوبۃ)
    اے ایمان والو! بات در حقیقت یہ ہے کہ مشرک نجس و ناپاک ہیں۔
    اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومن نجس نہیں ہوتا، اور یہی حدیث کا مطلب ہے۔
    { وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْھُمْ رِجْسًا اِلٰی رِجْسِھِمْ وَ مَاتُوْا وَ ھُمْ کٰفِرُوْنَ } (التوبۃ)
    اور جن لوگوں کے دل میں مرض ہے، اللہ نے ان کی گندگی پر اور گندگی کا اضافہ کردیا، اور وہ کفر کی حالت میں مریں گے۔
    { وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ } (یونس)
    اور اللہ تعالیٰ گندگی، ان لوگوں کے حصہ میں کر دیتا ہے جو عقل نہیں رکھتے۔
    برق صاحب! یہ کونسی گندگی ہے؟ یہی وہ گندگی ہے جو مومن میں کبھی نہیں ہوتی، یہی وہ روحانی گندگی ہے، جس کا ذکر حدیث میں ہے، اب تو غالباً حدیث کا مطلب سمجھ میں آگیا ہوگا ، حدیث کا مطلب حدیث والوں سے پوچھئے، فقہی موشگافیاں کرنے والے بے عقل ملا اس کا مطلب کیا جانیں۔
     
  7. ‏مئی 06، 2014 #377
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,529
    موصول شکریہ جات:
    6,615
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    (۴) کہ صرف کلمہ پڑھنے سے بہشت مل جاتی ہے۔ (دو اسلام ص ۲۶۶)
    جواب: برق صاحب ایسا کہتا تو کوئی نہیں اور جو کہتا ہے ، وہ اس کا ذمہ دار ہے، یہ ضرور ہے کہ بعض احادیث سے بظاہر ایسا مطلب نکلتا ہے، اور غلط فہمی سے بعض لوگ اس کا دعویٰ کر بیٹھتے ہیں کہ صرف کلمہ پڑھنے سے جنت مل جاتی ہے، اور یہی غلط فہمی آپ کو بھی ہوئی۔
    اچھا برق صاحب اب حدیث کا مطلب سنیے، فرض کیجئے دو شخص ہیں ایک حکومت کا باغی ہے ملک میں فساد برپا کرتا ہے، فتنے اٹھاتا ہے، حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرتا ہے، آخر گرفتار ہوتا ہے کہیے اس کے ساتھ حکومت کا کیا سلوک ہوگا، کیا اس کے لیے کوئی دائمی سزا نہیں ہوگی؟ ضرور ہوگی، دوسرا شخص حکومت کا وفا دار ہے، غداری نہیں کرتا، اتفاقاً اس سے کوئی جرم ہو جاتا ہے، جرم کرتے وقت اس کی نیت سرکشی کی نہیں ہوتی، بلکہ نادانی اور جہالت ایسی طاری ہوتی ہے کہ وہ مدہوش ہو جاتا ہے اور جرم کر بیٹھتا ہے، پھر یہ بھی گرفتار ہوتا ہے ، کہیے کیا حکومت اس کو ویسی ہی سزا دے گی، جیسے پہلے شخص کو دی ہے، کیا اس کی سزا دائمی ہوگی نہیں، ہرگز نہیں، بلکہ حکومت اس کو سزا دے کر پھر رہا کردے گی آخر ان دونوں میں امتیاز پیدا کرنے والی کیا چیز ہے؟ پہلا وفاداری کا عہد نہیں کرتا، دوسرا دل سے وفاداری کا عہد کرتا ہے، غداری کی سزا دائمی سزا ہے، وفاداری کے جذبہ کے ساتھ کسی جرم کی سزا دائمی نہیں یہی بات ہے، جو شخص دل سے کلمہ پڑھ کر اتفاقاً گناہ کا مرتکب ہو جاتا ہے، تو اس کا جرم اتنا وزنی نہیں کہ ابد الا آباد تک جہنم میں رہنے والوں کے ساتھ وہ بھی ہمیشہ کے لیے دوزخ میں بند کردیا جائے، اور یہی مطلب ہے اس حدیث کا جس کو غلط فہمی کی وجہ سے برق صاحب نے ص۳۷۴، ۳۷۵ پر احتراضاً نقل کیا ہے، اور وہ حدیث یہ ہے:
    حضرت ابو ذر کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں آنحضرت کے پاس گیا، آپ نے فرمایا:
    ما من عبد قال لا الہ الا اللہ ثم مات علی ذلک الا دخل الجنۃ۔
    جب کوئی شخص لا الہ الا اللہ کہتا ہے، اور اس کی موت اسی عقیدہ پر ہوتی ہے تو وہ جنت میں چلا جاتا ہے۔ میں نے پوچھا اگر وہ زانی اور چور ہو، فرمایا پھر بھی جنت میں جائے گا۔
    مذکورہ بالا توضیح کے بعد آپ نے اس حدیث کا مطلب سمجھ لیا ہوگا، اس حدیث کا مطلب وہ نہیں جو بطور خلاصہ آپ نے تحریر فرمایا ہے یعنی '' کلمہ پڑھتا جائے، اور زنا اور سرقہ کے مزے بھی لیتا جائے، سیدھا جنت میں جائے گا۔ (دو اسلام ص ۲۷۵)
    آپ کے خلاصہ سے سرکشی اور بغاوت ٹپکتی ہے اور سرکشی و بغاوت کی نیت سے اگر گناہ کیا جائے، تو وہ معاف نہیں ہوتا، ہاں ہر وقت اللہ سے ڈرتا رہے ، اس کے احکام کا وفادار رہے اور پھر کبھی اتفاقاً گناہ ہو جائے تو یہ شخص اس عہد وفا داری کی وجہ سے قابل در گزر ہے، اور کبھی نہ کبھی اپنے جرم کی سزا بھگت کر جنت میں چلا جائے گا۔ اس حدیث کا خلاصہ یہی ہے کہ وہ عہد وفاداری (یعنی کلمہ شہادت) کبھی نہ کبھی اس کو جنت میں پہنچا کر رہے گا، خواہ سزا کے بعد یا بغیر سزا کے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جرم کو معاف بھی کرسکتا ہے،
     
  8. ‏مئی 06، 2014 #378
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,529
    موصول شکریہ جات:
    6,615
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے:
    { اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآء } (النساء)
    بیشک اللہ شرک کو نہیں بخشے گا، اس کے علاوہ اور گناہوں کو بخش دے گا جس کے لیے چاہے گا۔
    اس آیت کی روشنی میں حدیث کا مطلب سمجھنے کی کوشش کیجئے، حدیث کو نہ سمجھنے سے ساری خرابی پیدا ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ عام لوگوں کے سامنے اس قسم کی احادیث بیان کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے، مبادا وہ غلط مطلب سمجھ کر صرف کلمہ پر بھروسہ کرلیں ۔ بالا آیت کی روشنی میں کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ بس شرک معاف نہیں ہوگا، اور باقی گناہ تو ان شاء اللہ معاف ہو ہی جائیں گے، خوب گناہ کرتا پھرے، تو بتائیے اس میں آیت کا کیا قصور ہے، قصور تو اس کی سمجھ کا ہے، آیت میں صرف دوسرے گناہوں کی معافی کا امکان تو ضرور ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں کی طرح حدیث میں کلمہ شہادت پڑھ لینے کے بعد دخول جنت کا امکان ہے، سزا کے معاف ہو جانے کی صورت میں یا سزا کی مدت ختم ہو جانے کے بعد، لیکن جو شخص کلمہ ہی نہیں پڑھتا، یعنی اللہ تعالیٰ کی حاکمیت ہی تسلیم نہیں کرتا، یا کلمہ پڑھ کر غداری کرتا ہے، یا اللہ کی حاکمیت کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اس حاکمیت میں شریک کرتا ہے، تو یہ صورتیں ایسی ہیں کہ ان کی موجودگی میں جنت میں جانے کا مکان ہی باقی نہیں رہتا، آیت اور حدیث کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ شرک کی موجودگی اور وفاداری کے عہد کے فقدان کی صورت میں دخول جنت ناممکن ہے، اور توحید خالص اور وفاداری کے عہد کی موجودگی میں گنہگار کا جنت میں جانا ممکن ہے، معافی کے بعد یا سزا بھگتنے کے بعد،
     
  9. ‏مئی 06، 2014 #379
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,529
    موصول شکریہ جات:
    6,615
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اب اس حدیث کی تائید مزید میں قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت سنیے:
    { اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ } (حم سجدہ)
    بے شک جن لوگوں نے کہا '' ربنا اللہ'' پھر اسی پر جمے رہے، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں جوان سے کہتے ہیں کہ بے خوف ہو جاؤ، غمگین نہ ہو اور جنت کی بشارت سنو۔
    اس آیت سے معلوم ہوا کہ صرف '' ربنا اللہ'' کہنے اور اسی پر جمے رہنے سے جنت مل جاتی ہے یہی حدیث کا مطلب ہے کہ صرف کلمہ پڑھنے اور اس پر جمے رہنے سے جنت مل جاتی ہے اگر آیت میں کچھ شرطیں محذوف ہیں، تو وہی حدیث میں بھی ہوں گی اور اگر نہیں تو پھر جو اعتراض حدیث پر ہے، وہی قرآن پر ہوگا، اور اگر قرآن پر اعتراض نہیں، تو حدیث پر بھی نہ ہوگا۔
    (۵) فقہ و حدیث کے بغیر باقی تمام علوم ناپاک ہیں، سائنس گناہ اور کائنات میں غور کرنا کفر ہے۔ (دو اسلام ص ۲۶۶، ص۲۶۷)
    جواب: یہ کسی ملا ہی نے کہا ہوگا، عالم ایسا کوئی نہیں کہتا۔
    (۶) دنیا کا سب سے بڑا عمل رات کے وقت کے دو نفل ہیں رکعتین فی جوف اللیل خیر من الدنیا وما فیھا رات کے وقت کے دو نفل دنیا و مافیہا سے بہتر ہیں۔ (دو اسلام ص ۲۶۷)
    جواب: حدیث میں ان نفلوں کو دنیا و مافیہا سے بہتر فرمایا گیا ہے، یہ نہیں کہ اس سے بڑا کوئی نہیں، بہت سے اعمال ایسے ہیں، جو دنیا و مافیہا سے بہت بہتر ہیں، برق صاحب نے جو تفصیل کل کا صیغہ استعمال کیا ہے، یہ غلط فہمی کا نتیجہ ہے، یہاں اعمال کی تفصیل کا کوئی ذکر نہیں، بلکہ ان دونوں نفلوں کا مقابلہ دنیا و مافیہا سے کیا گیا ہے، مطلب یہ کہ ان کا ثواب اتنا زیادہ ہے کہ ان کے سامنے دنیا و مافیہا ہیچ ہیں۔
     
  10. ‏مئی 06، 2014 #380
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,529
    موصول شکریہ جات:
    6,615
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    (۷) ہر نتھو خیرا، خواہ وہ چنگیز ہو یا ہٹلر، اگر ہم پر حکومت کر رہا ہے تو وہ ہمارا اولی الامر ہے، اور اس کی اطاعت ہم پر فرض ہے۔ (دو اسلام ص ۲۶۷)
    جواب: کسی ملا نے کہا ہوگا، کوئی عالم ایسا نہیں کہتا۔
    (۸) خرقہ دنیا کا بہترین لباس ہے ... (حدیث) تم پشم کا لباس پہنا کرو، کہ ایمان کی لذت اسی میں ہے۔ (دو اسلام ص ۲۶۷)
    جواب: یہ بھی کسی ملا کی گھڑنت ہے، کسی عالم نے اس موضوع حدیث کو تسلیم نہیں کیا۔
    (۹) فلاں دعا ایک لاکھ حج اور لاکھ شہیدوں کا ثواب دلاتی ہے۔ (دو اسلام ص۲۶۷)
    (۱۰) مرشد پکڑے بغیر نجات ناممکن ہے۔ (دو اسلام ص ۲۶۷)
    (۱۱) اللہ نے تمام اختیارات فلاں مردے کے حوالے کردئیے ہیں۔ (دو اسلام ص۲۶۸)
    جواب: یہ سب کسی ملا کی گھڑنت ہے، کسی عالم نے ایسا نہیں کہا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں