1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تقدیر اور تدبیر کی نسبت

'قدر وجبر' میں موضوعات آغاز کردہ از ماریہ انعام, ‏مئی 14، 2014۔

  1. ‏مئی 14، 2014 #1
    ماریہ انعام

    ماریہ انعام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 12، 2013
    پیغامات:
    498
    موصول شکریہ جات:
    369
    تمغے کے پوائنٹ:
    164

    وَقَالَ يَا بَنِيَّ لَا تَدْخُلُوا مِن بَابٍ وَاحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ ۖ وَمَا أُغْنِي عَنكُم مِّنَ اللَّـهِ مِن شَيْءٍ ۖ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّـهِ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ ﴿٦٧﴾ وَلَمَّا دَخَلُوا مِنْ حَيْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُم مَّا كَانَ يُغْنِي عَنْهُم مِّنَ اللَّـهِ مِن شَيْءٍ إِلَّا حَاجَةً فِي نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَاهَا ۚ وَإِنَّهُ لَذُو عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنَاهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٦٨﴾
    ترجمہ:اور (یعقوب علیہ السلام) نے کہا اے میرے بچو! تم سب ایک دروازے سے نہ جانا بلکہ کئی جدا جدا دروازوں میں سے داخل ہونا۔ میں اللہ کی طرف سے آنے والی کسی چیز کو تم سے ٹال نہیں سکتا۔ حکم صرف اللہ ہی کا چلتا ہے۔ میرا کامل بھروسہ اسی پر ہے اور ہر ایک بھروسہ کرنے والے کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے (67) جب وه انہی راستوں سے جن کا حکم ان کے والد نے انہیں دیا تھا، گئے۔ کچھ نہ تھا کہ اللہ نے جو بات مقرر کر دی ہے وه اس سے انہیں ذرا بھی بچا لے۔ مگر یعقوب (علیہ السلام) کے دل میں ایک خیال (پیدا ہوا) جسے اس نے پورا کر لیا، بلاشبہ وه ہمارے سکھلائے ہوئے علم کا عالم تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (68)


    سورۃ یوسف کی یہ آیت تقدیر اور تدبیر کی آپس میں نسبت بیان کرتی ہے۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ اس نسبت کا تعیین بہت اہم ہے اور ہمارے عقیدے کا لازمہ بھی ۔۔۔بہت سے فرقوں کی گمراہی کی بنیاد یہی ہے۔۔۔کچھ لوگ تقدیر کی انتہاء پر گئے توجبریہ کہلائے اور بعض نے تدبیر کو تقدیر پر فوقیت دی تو قدریہ سے موسوم ہوئے۔۔۔

    فورم پر موجود اہلِ علم خواتین وحضرات سے گذارش ہے کہ اس مسئلہ پر بحث کریں۔۔۔امید ہے بہت سوں کا فائدہ ہو گا۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏مئی 14، 2014 #2
    عمار شمسی

    عمار شمسی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2014
    پیغامات:
    50
    موصول شکریہ جات:
    34
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    محمد بن صباح، سفاحن بن عیینہ، زہری، ابی خزامہ، حضرت ابوخزامہ فرماتے ہںف کہ رسول اللہ صلی اللہ علہ وآلہ وسلم سے دریافت کاا گاب کہ جن دواؤں سے ہم علاج کرتے ہںی اور جو منتر ہم پڑھتے ہںت اور جو پرہز (اور بچاؤ کی تدبر یں ، حفاظت ودفاع کا سامان) ہم اختا ر کرتے ہں ، بتائے یہ اللہ کی تقدیر کو ٹال سکتے ہں ؟ فرمایا یہ خود اللہ کی تقدیر کا حصہ ہیں۔

    سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 318
     
  3. ‏مئی 14، 2014 #3
    عمار شمسی

    عمار شمسی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2014
    پیغامات:
    50
    موصول شکریہ جات:
    34
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تقدیر کے آگے تدبیر و احتیاط کچھ فائدہ نہیں دے سکتی البتہ دعاء ان چیزوں میں بھی فائدہ مند ہوتی ہے جو نازل ہوں یا جو نازل نہ ہوں لہٰذا بندگان خدا! دعاء کو اپنے اوپر لازم کرلو۔

    مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2107
     
  4. ‏مئی 14، 2014 #4
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    "تقدیر اور تدبیر" میں نے کہیں پڑھا تھا کہ اس مسئلہ پر گفتگو کرنے سے بچنا چاہئے۔ واللہ اعلم!

    والسلام
     
  5. ‏مئی 14، 2014 #5
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    جب بنیامین سمیت، گیارہ بھائی مصر جانے لگے، تو یہ ہدایت دی، کیونکہ ایک ہی باپ کے گیارہ بیٹے، جو قد و قامت اور شکل و صورت میں بھی ممتاز ہوں، جب اکٹھے ایک ہی جگہ یا ایک ساتھ کہیں سے گزریں گے تو عموماً انہیں لوگ تعجب یا حسد کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یہی چیز نظر لگنے کا باعث بنتی ہے۔ چنانچہ انہیں نظر بد سے بچانے کے لئے بطور تدبیر یہ حکم دیا ' نظر لگ جانا حق ہے 'جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی صحیح احادیث سے ثابت ہے مثلاً ' اَ لْعَیْنُ حَق' نظر کا لگ جانا حق ہے '۔ صحیح بخاری صحیح مسلم ۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر بد سے بچنے کے لیے دعائیہ کلمات بھی اپنی امت کو بتادیئے ہیں مثلا فرمایا کہ جب تمہیں کوئی چیز اچھی لگے تو بارک اللہ کہو۔ مؤطا امام مالک ۔جس کی نظر لگے اس کو کہا جائے کہ غسل کرے اور اس کے غسل کا یہ پانی اس شخص کے سر اور جسم پر ڈالا جائے جس کو نظر لگی ہو حوالہ مذکورہ ۔اسی طرح ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ پڑھنا قرآن سے ثابت ہے سورہ کہف قل اغوذ برب الفلق اور قل اغوذ برب الناس نظر کے لیے بطور دم پڑھنا چاہیے ،جامع ترمذی۔
    یعنی یہ تاکید بطور ظاہری اسباب، احتیاط اور تدبیر کے ہے جسے اختیار کرنے کا انسانوں کو حکم دیا گیا ہے، تاہم اس سے اللہ تعالٰی کی تقدیر و قضا میں تبدیلی نہیں آسکتی۔ ہوگا وہی، جو اس کی قضا کے مطابق اس کا حکم ہوگا ۔
    "تفسیر احسن البیان"
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں