1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

تقریب بخاری 2016جامعہ لاہور الاسلامیہ نیو گارڈن ٹاؤن لاہور کے زیراہتمام!!(ظفراقبال ظفر)

'جامعہ لاہور الاسلامیہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ظفر اقبال, ‏جولائی 13، 2016۔

  1. ‏جولائی 13، 2016 #1
    ظفر اقبال

    ظفر اقبال رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 22، 2015
    پیغامات:
    171
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    بخاری شریف کی آخری حدیث پر درس( استاد العلماء الشیخ مولانا ارشاد الحق اثری صاحب )
    مولانا کے خطاب کا آغاز 8:20 منٹ پر ہوا جس میں سب سے پہلے رابعہ کلیہ الف کے سٹوڈنٹ راشد منیر نے اپنے سے شروع کر کے آپﷺ تک سند پڑھی اورآخری حدیث کی قراءت کی شیخ صاحب نے حمدوثناء کے بعد اپنی گفتگوں کی ابتداء قرآن مجید کی اس آیت سے کی ( حق تقاتہ ولا تموتنّ الا و انتم مسلمون)(الذی تسائلون بہ والارحام ...ومن یطع اللہ والرسولہ فقد فاذ فوذاً عظیماء)
    اس کے بعد شیخ صاحب نے کہا کہ امام بخاری ﷫ کا ذکر خیر آپ نے مولانا رمضان سلفی صاحب سے سن لیا جو کہ اپنی جگہ ایک الگ عنو ان کی حثیت رکھتا ہے جس پر الگ مجلس کی ضرورت ہے ۔
    امام بخاری ﷫ کا نام :
    امام بخاری کا نام محمد، کنیت ابو عبداللہ ہے۔ والد اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ ہیں۔ امام بخاری کے پردادا مغیرہ حاکم بخارا امام جعفی کے ہاتھ مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ امام بخاری کی ولادت جمعہ 13 شوال المکرم 194ھ بمطابق 19 جولائی 810ء کو بخارا شہر میں بعد از نمازِ جمعہ کو ہوئی۔
    نسب نامہ: امام بخاری کا سلسلہ نسب یہ ہے : ابو عبداللہ محمد (امام بخاری) بن اسما عیل بن ابراہیم بن مغیرہ بردزبہ البخاری الجعفی

    بخاری شریف کا نام ذکر کرنے کے بعد کہنے لگے کہ ابواب کی طرز پر احادیت کو تدوین کرنے کا کام تابعین کے دور سے شروع ہو چکا تھا جس میں سے ( عامر بن شرابیح ‘ ابن سرین) کی کتب موجود ہیں۔
    سنن کی کتب کو احکامات کی روایات پر جمع کیا جاتا ہے ۔جیسا کہ زہد‘فتن‘تفسیر‘ جنائز وغیرہ ۔

    بخاری شریف کا مکمل نام:
    اس کتاب کا پورا نام "الجامع المسند الصحيح المختصر من أمور رسول الله صلي الله عليه و آلہ و سلم وسننه وأيامه" ہے۔ حافظ ابن حجر مقدمہ فتح الباری میں تفصیلاً لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور صحابہ و تابعین کے پاکیزہ زمانوں میں احادیث کی جمع و ترتیب کا سلسلہ کماحقہ نہ تھا۔ ایک تو اس لئے کہ شروع زمانہ میں اس کی ممانعت تھی جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت سے ثابت ہے۔ محض اس ڈر سے کہ کہیں قرآن مجید اور احادیث کے متون باہمی طور پر گڈمڈ نہ ہوجائیں۔ دوسرے یہ کہ ان لوگوں کے حافظے وسیع تھے۔ ذہن صاف تھے۔ کتابت سے زیادہ ان کو اپنے حافظہ پر اعتماد تھا اور اکثر لوگ فن کتابت سے واقف نہ تھے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کتابت احادیث کا سلسلہ زمانہ رسالت میں بالکل نہ تھا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وجوہ بالا کی بنا پر کما حقہ نہ تھا۔ پھر تابعین کے آخر زمانہ میں احادیث کی ترتیب وتبویب شروع ہوئی۔ خلیفہ خامس حضرت عمر بن عبدالعزیز علیہ نے حدیث کو ایک فن کی حیثیت سے جمع کرانے کا اہتمام فرمایا۔ تاریخ میں ربیع بن صبیح اور سعید بن عروبہ وغیرہ وغیرہ حضرات کے نام آتے ہیں جنہوں نے اس فن شریف پر باضابطہ قلم اٹھایا ۔ اب وہ دور ہو چلا تھا جس میں اہل بدعت نے من گھڑت احادیث کا ایک خطرناک سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ ان حالات کے پیش نظر طبقہ ثالثہ کے لوگ اٹھے اور انہوں نے احکام کو جمع کیا۔ حضرت امام مالک نے موطا تصنیف کی جس میں اہل حجاز کی قوی روایتیں جمع کیں، اور اقوال صحابہ فتاوی و تابعین کو بھی شریک کیا۔ ابو محمد عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج نے مکة المکرمہ میں اور ابو عمرو عبدالرحمن بن عمر اوزاعی نے شام میں اور عبداللہ سفیان بن سعدی ثوری نے کوفہ میں اور ابو سلمہ حماد بن سلمہ دینار نے بصرہ میں حدیث کی جمع ترتیب و تالیف پر توجہ فرمائی ۔ ان کے بعد بہت سے لوگوں نے جمع احادیث کی خدمت انجام دی اور دوسری صدی کے آخر میں بہت سی مسندات وجود پذیز ہو گئیں جیسے مسند امام احمد بن حنبل، مسند امام اسحق بن راہویہ، مسند امام عثمان بن ابی شیبہ، مسند امام ابوبکر بن ابی شیبہ وغیرہ وغیرہ۔ ان حالات میں سید المحدثین امام الائمہ حضرت امام بخاری علیہ کا دور آیا۔ آپ نے ان جملہ تصانیف کو دیکھا ، ان کو روایت کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ ان کتابوں میں صحیح اور حسن ضعیف سب قسم کی احادیث موجود ہیں۔
    امام بخاري﷫ کا طریقہ تالیف صحیح بخاری !
    اس بارے میں خود امام بخاری فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی حدیث اس کتاب میں اس وقت تک داخل نہیں کی جب تک غسل کر کے دو رکعت نماز ادا نہ کر لی ہو۔ بیت اللہ شریف میں اسے میں نے تالیف کیا اور دو رکعت نماز پڑھ کر ہر حدیث کے لئے استخارہ کیا۔ مجھے جب ہر طرح اس حدیث کی صحت کا یقین ہوا، تب میں نے اس کے اندارج کے لئے قلم اٹھایا۔ اس کو میں نے اپنی نجات کے لئے جحت بنایا ہے۔ اور چھ لاکھ حدیثوں سے چھانٹ چھانٹ کر میں نے اسے جمع کیا ہے۔​
    علامہ ابن عدی اپنے شیوخ کی ایک جماعت سے ناقل ہیں کہ امام بخاری الجامع الصحیح کے تمام تراجم ابواب کو حجرہ نبوی اور منبر کے درمیان بیٹھ کر اور ہر ترجمة الباب کو دو رکعت نماز پڑھ کر اور استخارہ کر کے کامل اطمینان قلب حاصل ہونے پر صاف کرتے۔ وراق نے اپنا ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ میں امام بخاری کے ساتھ تھا۔ میں نے آپ کو کتاب التفسیر لکھنے میں دیکھا کہ رات میں پندرہ بیس مرتبہ اٹھتے چقماق سے آگ روشن کرتے اور چراغ جلاتے اور حدیثون پر نشان دے کر سو رہتے۔
    اس سے پتہ چلتا ہے کہ امام صاحب سفر و حضر میں ہر جگہ تالیف کتاب میں مشغول رہا کرتے تھے اور جب بھی جہاں بھی کسی حدیث کے صحیح ہونے کا یقین ہو جاتا اس پر نشان لگا دیتے اس طرح تین مرتبہ آپ نے اپنے ذخیرہ پر نظر فرمائی۔ آخر تراجم ابواب کی ترتیب اور تہذیب اور ہر باب کے تحت حدیثوں کا درج کرنا۔ اس کو امام صاحب نے ایک بار حرم محترم میں اور دوسری بار مدینہ منورہ مسجد نبوی منبر اور محراب نبوی کے درمیان بیٹھ کر انجام دیا۔ اسی تراجم ابواب کی تہذیب و تبویب کے وقت جو حدیثیں ابواب کے تحت لکھتے پہلے غسل کر کے استخارہ کر لیتے۔ اس طرح پورے سولہ سال کی مدت میں اس عظیم کتاب کی تالیف سے فارغ ہوئے۔
    الجامع! وہ کتاب ہوتی ہے جس میں آٹھ قسم کے علوم کو جمع کیا گیا ہوتا ہے جن میں سے (آداب‘ آخرت ‘ فتن ) وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
    الجامع کے نام پر ( سفیان بن عبد اللہ ‘عبد الرزاق ‘امام معمر )وغیرہ کی کتب مو جود ہیں ۔
    نوٹ: یہ بات یاد رہے کہ ان میں سے کوئی بھی الجامع کی تعریف پر پورا نہیں اترتی جیسا کہ ( معمر بن راشد) کی کتاب میں آٹھ علوم نہیں ہیں ۔صرف اور صرف بخاری شریف الجامع کی تعریف پر پوری اتر تی ہے جس میں امام بخاری ﷫ نے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جس کی رہنمائی کتاب اللہ و سنت رسول ﷺ سے نہ ملتی ہو ۔
    نعیم بن حماد کی کتاب ہے (کتاب التفسیر ) ابن مندہ کی کتاب ہے ( کتاب التو حید ) جب کہ بخاری شریف میں 97 کے قریب کتب بیان کی گئی ہیں۔

    المسند! امام ابن حجر ﷫ المسند کی تعریف کرتے ہیں کہ:(مرفوع صحابی بسند الظاہر المصطلح)
    حافظ اسماعیل کی رائے ! حافظ اسماعیل ﷫فرماتے ہیں میں نے محمد بن اسماعیل البخاری ی کی بخاری کو دیکھا تو سنن النسائی ‘مؤطا امام مالک ‘مسند شافعی کو بھی صحت کا درجہ دینے کی کوشش ۔
    امام نسائی ﷫ کی رائے : امام نسائی ی فرماتے ہیں کہ بخاری شریف کے علاوہ صحیح کوئی کتاب نہیں ہے ۔
    امام دار القطنی ﷫کی رائے :
    امام صاحب فرماتے ہیں کہ محمد بن اسماعیل کی بخاری کے علاوہ میں نے اور کوئی کتاب صحیح نہیں پائی۔
    امام الحرمین کی رائے :اگر کوئی کہے کہ بخاری شریف میں ایک بھی ضعیف روایت ہو تو میری بیوی کو طلاق تو اس کی بیوی کو طلاق نہیں ہو گی کیونکہ بخاری شریف میں ضعیف روایت ہے ہی نہیں ۔
    احناف کی رائے :احناف امام ابو حنیفہ ی کی (کتاب الاثار ) کو بخاری کا درجہ دیتے ہیں حالانکہ کتاب الاثار میں ےضعیف من گھڑٹ اور موضوع قسم کی روایات زیادہ ہیں ۔مثلاً: حدیث کتاب الاثار کی : سعید بن جبیر حضرت عبد اللہ بن عمر ﷜ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے بیت اللہ میں داخل ہونے کے بعد 4 رکعات پڑھی ہیں۔
    بخاری شریف کی حدیث:حضرت اسامہ﷜ و حضرت بلال ﷜ عبد اللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے بیت اللہ میں داخل ہو کر 2 رکعتیں ادا کی ہیں ۔
    مسلم شریف کی حدیث : جو کہسیدا جویریہ سے روایت ہے کہ( سبحا ن اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم)۔
    کتاب الاثار کی حدیث : حضرت صفیہ رضی اللہ عنھا سے یہی روایت ضیف ہے جبکہ یہ روات کتاب الاثار میں ام سلمہ رضی اللہ عنھا کی طرف سے منسوب کر کے ذکر کی ہے ۔
    مؤطا امام مالک: اس میں مراسیل ‘ بلاغات ‘منقطع‘ وغیرہ روایت موجود ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ امام مالک مرسل حدیث سے استدلال کے قائل تھے ۔

    صحيح البخاري: کی آخری حدیث :
    : كِتَابُ التَّوْحِيدِ وَالرَدُّ عَلَی الجَهمِيَةِ وَغَيرٌهُم
    ترجمہ: کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں اور جهميہ وغیرہ کی تردید میں۔
    (بَابُ القِسْطَ لِيَوْمِ القِيَامَةِ} [الأنبياء: 47]، وَأَنَّ أَعْمَالَ بَنِي آدَمَ وَقَوْلَهُمْ يُوزَنُ)قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَنَضَعُ المَوَازِينَ
    ( ترجمہ باب: اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ انبیاء میں ) فرمان ’’ اور قیامت کے دن ہم ٹھیک ترازوئیں رکھیں گےاور آدمیوں کےاعمال اوراقوال ان میں تولے جائیں گے)
    :7563
    حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَتَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِي۔
    ترجمہ :ہم سے احمد بن اشکاب نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے، ان سے عمارہ بن قعقاع نے، انہوں نے ابوزرعہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو کلمے ایسے ہیں جو اللہ تبارک و تعالیٰ کو بہت ہی پسند ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں اور قیامت کے دن اعمال کے ترازو میں بوجھل اور باوزن ہوں گے، وہ کلمات مبارکہ یہ ہیں «سبحان الله وبحمده،‏‏‏‏ سبحان الله العظيم»
    حدیث کی وضاحت:اس حدیث میں اعمال اور اقوال کا ترازوں ہو گا اس بات میں اعمال اور اقوال کو الگ الگ ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ : (تنزل الملائکۃ والروح )میں روح کو الگ طور پر ذکر کیا گیا ہےیہاں قول کی اہمیت کو ذکر کرنا مقصود ہے ورنہ اعمال میں اقوال بھی آ ہی جاتے ہیں ۔
    وقال المجاھد:امام مجاہد کا کہنا یہ ہے کہ (قسطاس ) جس کا مادہ (ق۔س۔ط) ہے جو کہ رومی لفظ ہے اس سے قسطاس جو کہ مقسط کا مصدر ہے ۔
    اعتراض :
    تو یہا ں پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ قرآن میں عربی کے علاوہ عجمی الفاظ نہیں ہیں تو قسطاس رومی لفظ قرآن پاک میں کیسے آ گیا؟
    جواب : امام شافعی کہتے ہیں کہ قرآن پاک میں عجمی الفاظ نہیں ہیں ۔
    امام سیوطی ی نے قرآن پاک کے عجمی الفاظ پر رسالہ لکھا ہے ۔

    دین اسلام میں سند کی اہمیت:
    شیخ صاحب نے دین میں سند کی اہمیت کو واضع کرتے ہوئے فرمایا کہ :علماء کرام کہتے ہیں کہ دین میں اگر سند نہ ہوتی تو جس کا جو دل کرتا اگل دیتا لہذا دین اس شخص سے لو حقیقت میں صحیح العقیدہ ہو اور سند کے ساتھ بات بیان کرتا ہو ۔
    اللہ تعالیٰ کو کونسے دو کلمے محبوب ہیں ؟
    رحمان اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اور(الموازین القسط)
    کے باب کے تحت( ثقیلتان فی المیزان) کے الفاظ ذکر کیے گے ہیں ۔(سبحان اللہ)اس لفظ میں اللہ کی پاکی و توحید اور وحدانیت کا ذکر ہے کہ اللہ ہر کسی عیب اور نقص سے پاک ذات ہے ۔یہ لا الہ الا اللہ کی طرح ہے ۔
    (
    وبحمدہ)یہ جملہ :لیس کمثلہ شیء کی طرح ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی تمام تر تعریفات و تمحیدات کا ذکر ہے ۔
    نوٹ: شیخ صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ تما م خوبیوں کا مالک ہے یہ کافی نہیں ہے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ تمام خوبیوں کی مالک صرف اور صرف ہے ہی اللہ تعالیٰٰ کی ذات جو کہ ہر کسی نقص سے بھی پاک اور منزہ ہے ۔کیونکہ جب تک نقائص کا ردو آزالہ نہ کیا جائے اس وقت تک خوبی بیان کرنے کا حق ادا نہیں ہوتا ۔

    ابوذر غفاری ﷜کی حدیث :
    حضرت ابو ذر غفاری ﷜سے حدیث ہے کہ دو کلمے اللہ تعالیٰ کو بڑے محبوب ہیں( سبحا ن اللہ و بحمدہ سبحا ن اللہ العظیم )
    ایک دوسری روایت :
    اللہ تعالیے کو جو دو کلمے محبوب ہیں وہی ہیں جن کے ساتھ فرشتے اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتے ہیں معلم ہوا کہ فرشتے بھی انہی دو کلموں کے ساتھ اللہ کی تعریف کرتے ہیں ۔

    امام طبرانی ﷫ کی روایت :
    امام طبرانی ﷫ سلسلہ احادیث صحیحہ کی روایت ذکر کرتے فرماتے ہیں کہ: آپ ﷺنے قسم اٹھا کر کہا کہ صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا اور یہ فرمایا کہ :جس کو اعمال میں کمی کا خطرہ ہو وہ یہ الفاظ پڑھے (سبحا ن اللہ وبحمدہ ) تو یہ اس کے لیے سونے چاندی کے پہاڑ سے بہتر ہے
     
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. ظفر اقبال
    جوابات:
    2
    مناظر:
    458
  2. ظفر اقبال
    جوابات:
    0
    مناظر:
    475
  3. کلیم حیدر
    جوابات:
    3
    مناظر:
    1,073
  4. ابن بشیر الحسینوی
    جوابات:
    0
    مناظر:
    283
  5. ابن بشیر الحسینوی
    جوابات:
    1
    مناظر:
    235

اس صفحے کو مشتہر کریں