1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تقلید شخصی کی حقیقت آل دیوبند کے اصولوں کی روشنی میں

'تقلید واجتہاد' میں موضوعات آغاز کردہ از راجا, ‏دسمبر 20، 2012۔

  1. ‏دسمبر 20، 2012 #1
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    تقلید شخصی کی حقیقت آل دیوبند کے اصولوں کی روشنی میں

    محمد زبیر صادق آبادی

    آل دیوبند کے نزدیک تقلید صرف مسائل اجتہادیہ میں کی جاتی ہے۔ چنانچہ ماسٹر امین اوکاڑوی نے لکھا ہے:
    آل دیوبند کے نزدیک چار ائمہ (امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل) کے سوا کسی کی تقلید جائز نہیں اور اس پر اجماع ہے۔

    چنانچہ سعید احمد پالن پوری دیوبندی نے لکھا ہے:
    محمد بلال دیوبندی نے اپنے "شیخ الاسلام" ابن ہمام کا قول اس طرح نقل کیا ہے:
    آل دیوبند کے نزدیک ان چار ائمہ میں سے صرف امام ابو حنیفہ کی تقلید کی جائے گی، کیونکہ ان علاقوں کے متعلق جہاں احناف کی کثرت ہو ، سرفراز خان صفدر نے لکھا ہے:
    یعنی آل دیوبند کے علماء کو بھی اگر کوئی اجتہادی مسئلہ پیش آ جائے تو ان پر بھی جاہل کا اطلاق ہوگا۔

    سرفراز صفدر نے مزید لکھا ہے:
    محمد تقی عثمانی دیوبندی نے لکھا ہے:
    تقی عثمانی صاحب نے مزید لکھا ہے:
    رشید احمد گنگوہی دیوبندی نے لکھا ہے:
    محمد قاسم نانوتوی دیوبندی نے کہا:
    اوکاڑوی نے کہا:
    محمد یوسف لدھیانوی دیوبندی نے لکھا ہے :
    سرفراز خان صفدر دیوبندی نے لکھا ہے:
    مزید دیکھئے، اطمینان القلوب (ص16) اور تجلیات صفدر (2/51)

    زرولی خان دیوبندی نے لکھا ہے:
    محمود حسن صاحب نے بھی لکھا ہے:
    محمود حسن دیوبندی نے دوسری جگہ لکھا ہے:
    ماسٹر امین اوکاڑوی نے لکھا ہے :
    آل دیوبند کے مذکورہ حوالوں سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو گئی کہ ان کے نزدیک صرف امام ابو حنیفہ کے ان اقوال کو جو انہوں نے اجتہاد کر کے بتائے ہیں، تسلیم کرنا تقلید شخصی ہے اور یہ ان کے نزدیک واجب ہے۔ امام ابو حنیفہ کے علاوہ کسی کے اجتہاد کو تسلیم کرنا تقلید نہیں، کیونکہ اگر امام ابو حنیفہ کے علاوہ کسی دوسرے کے اجتہاد کو تسلیم کرنے کو تقلید کہیں گے تو اجماع کے منکر بن جائیں گے اور اجماع کے متعلق ماسٹر امین اوکاڑوی نے لکھا ہے:
    جاری ہے۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 10
    • پسند پسند x 3
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 21، 2012 #2
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    ماسٹر امین اوکاڑوی نے مزید لکھا ہے :
    جبکہ اجتہادات تو آل دیوبند نے بھی کئے ہیں۔

    چنانچہ اشرف علی تھانوی دیوبندی نے لکھا ہے :
    محمد یوسف لدھیانوی نے شعرانی کے حوالے سے لکھا ہے:
    سرفراز صفدر نے بھی لکھا ہے :
    اب ظاہر ہے دیوبندی اپنے ان علماء کے اجتہادات کو تسلیم کرنے سے ان کے مقلد تو نہیں بن جائیں گے، کیونکہ ان کے نزدیک چار ائمہ کے سوا کسی کی بھی تقلید اجماع کی مخالفت ہے۔اسی طرح اگر اہل حدیث علماء اجتہاد کریں اور عوام اہل حدیث ان کو تسلیم کر لیں تو یہ بھی کوئی تقلید نہیں ہوگی او رعلماء اہل حدیث کا اجتہاد کرنا کوئی عجیب و غریب بات نہیں، کیونکہ علمائے دیوبند بھی تو اجتہاد کرتے ہیں جیسا کہ اشرف علی تھانوی اور سرفراز صفدر وغیرہما کے حوالے نقل کئے جا چکے ہیں اور بات علمائے دیوبند کے اجتہاد کی چلی ہے تو یہاں ایک دیوبندی لطیفہ بھی سنتے جائیے۔ عبدالرشید دیوبندی نے انور شاہ کشمیری دیوبندی کے متعلق لکھا ہے :

    تنبیہ: بعض اوقات آل دیوبند ہر ایک کو اجتہاد کرنے کا کہتے ہیں۔ چنانچہ ہدایہ میں لکھا ہوا ہے:
    آل دیوبند کے نزدیک قرآن ، حدیث اور اجماع کو ماننا تقلید نہیں، جیسا کہ شروع میں اوکاڑوی کی عبارت سے واضح کیا جا چکا ہے ۔ آل دیوبند کے امام سرفراز صفدر نے لکھا ہے:
    سرفراز صفدر نے مزید لکھا ہے :
    آل دیوبند کے "شیخ الاسلام" ابن ہمام نے لکھا ہے:
    نوٹ: عربی عبارت کا ترجمہ نقل کیا گیا ہے۔

    محمد تقی عثمانی دیوبندی کے بقول: "مشہور حنفی عالم عبدالغنی نابلسی" نے لکھا ہے:
    نیز الیاس فیصل دیوبندی نے لکھا ہے:
    آل دیوبند کے اصول کے مطابق اجماع کو ماننا تقلید نہیں، اس کی مزید وضاحت ماسٹر امین اوکاڑوی کی عبارت سے پیش خدمت ہے۔ ماسٹر امین اوکاڑوی نے لکھا ہے:
    اب ظاہر ہے یہ محدثین تو امام ابو حنیفہ کی وفات کے بعد پیدا ہوئے ہیں تو ثابت ہوا کہ اجماع کو ماننا امام ابو حنیفہ کی تقلید نہیں۔ اور اجماع کے متعلق جمیل احمد دیوبندی نے لکھا ہے:
    ماسٹر امین اوکاڑوی نے کہا:
    امین اوکاڑوی نے لکھا ہے:
    جبکہ ائمہ مجتہدین کے اجتہاد سے متعلق سرفراز صفدر کی عبارت گزر چکی ہے کہ ان کے اجتہاد میں خطاء کا احتمال ہوتا ہے اور تقی عثمانی صاحب نے بھی لکھا ہے:
    اب یہ بات آل دیوبند کے اصولوں کے مطابق واضح ہو چکی ہے کہ:
    قرآن، حدیث اور اجماع کو ماننا تقلید نہیں بلکہ تقلید صرف اور صرف امام ابو حنیفہ کے اس قول کو جس میں خطاء کا احتمال ہو، ماننے کا نام ہے۔
    نیز بعض ایسے مسائل کہ جن میں آل دیوبند کے اصولوں کی روشنی میں احادیث موجود ہوں، خواہ متعارض ہی کیوں نہ ہوں، مثلاً رفع الیدین اور قراء ۃ خلف الامام، ان میں بھی تقلید نہیں کی جائے گی،

    کیونکہ منیر احمد منور دیوبندی نے لکھا ہے:
    رفع یدین کے مسئلہ کو ماسٹر امین اوکاڑوی نے بھی مسائل منصوصہ متعارضہ میں شمار کیا ہے۔ دیکھئے تجلیات صفدر (6/91)

    سرفراز صفدر نے لکھا ہے:
    سرفراز صفدر صاحب نے مزید لکھا ہے :

    اشرف علی تھانوی نے کہا:
    محمد یوسف لدھیانوی دیوبندی نے لکھا ہے :
    اگرچہ ترک رفع یدین کے بارے میں لدھیانوی کی بات بالکل غلط ہے، لیکن الزامی طور پر ہم یہ کہتے ہیں کہ جب آپ کے نزدیک یہ مسئلہ اجماعی ہے تو اجماع آپ کے نزدیک معصوم ہوتا ہے اور تقلید اجتہادی مسائل میں ہوتی ہے جن میں خطا کا احتمال ہوتا ہے تو اس طرح بھی یہ ثابت ہوا کہ رفع یدین کا مسئلہ تقلید کا مسئلہ نہیں۔

    جاری ہے۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • پسند پسند x 3
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 23، 2012 #3
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    مذکورہ عبارت سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ جس مسئلہ کو بعض دیوبندی علماء منصوصہ متعارضہ تسلیم کرتے ہیں اس مسئلہ میں آل دیوبند کے امام سرفراز خان صفدر نے سرے سے تقلید کا انکار کر دیا ہے اور اس مسئلہ میں تقلید کرنے والوں کو احناف سے خارج کر دیا ہے۔ الغرض جو مسئلہ ان کے نزدیک منصوصہ متعارضہ ہو وہ اس میں بھی تقلید نہیں کرتے۔

    رفع یدین یا ترک رفع یدین کا مسئلہ آل دیوبند کے اصولوں کی روشنی میں تقلید کا مسئلہ نہیں، اس پر ایک دلیل یہ بھی ہے کہ امین اوکاڑوی دیوبندی نے لکھا ہے:

    اور مسئلہ رفع یدین میں بقول اوکاڑوی، امام بخاری رحمہ اللہ کا امام شافعی رحمہ اللہ سے اختلاف ہے۔ دیکھئے جزء رفع الیدین مترجم ص 251۔

    قارئین کرام ! اس کی ایک دوسری مثال بھی ملاحظہ فرما لیں:
    سرفراز صفدر دیوبندی نے اہل حدیث سے مخاطب ہو کر لکھا ہے:

    مذکورہ عبارت میں سرفراز صفدر صاحب نے قراءۃ خلف الامام کے مسئلہ کو بھی اجتہادی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور نص قطعی اور صریح و صحیح احادیث پر عمل پیرا ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور بڑی صراحت سے یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ آل دیوبند کے نزدیک تقلید صرف امام ابو حنیفہ کے ان اقوال میں کی جاتی ہے ، جن کا تعلق اجتہاد سے ہو۔

    محمد تقی عثمانی صاحب نے بھی لکھا ہے :

    مسئلہ قراءت خلف الامام آل دیوبند کے اصولوں کی روشنی میں تقلید کا مسئلہ نہیں، اس پر ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اوکاڑوی کے بقول امام بخاری رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ کے مقلد ہیں۔ (جزء القراءۃ مترجم ص 17)
    اور مسئلہ قراءت خلف الامام میں بقول اوکاڑوی امام بخاری رحمہ اللہ نے امام شافعی رحمہ اللہ سے اختلاف کیا ہے۔ دیکھئے، جزء القراءۃ (مترجم ص 45)

    قارئین کرام! یہ بات بھی آپ کو بتانا ضروری ہے کہ آل دیوبند کے اصولوں کے مطابق کوئی شخص خواہ کتنا ہی معتبر کیوں نہ ہو، اس کی وہ بات جو بسند صحیح ثابت نہ ہو تسلیم نہیں کی جائے گی۔ مثال کے طور پر اگر امام بخاری رحمہ اللہ جیسے محدث کہ جن کے متعلق آل ِ دیوبند کے"حکیم الاسلام" قاری محمد طیب نے لکھا ہے:

    اگر امام بخاری رحمہ اللہ بھی کسی تابعی کا قول بغیر سند کے نقل کریں تو سرفراز صفدر صاحب اسے یوں ٹھکراتے ہیں:

    نیز دیکھئے احسن الکلام (149/2، دوسرا نسخہ 163/2)

    فقیراللہ دیوبندی نے لکھا ہے:
    اسی طرح اگر حسن بصری رحمہ اللہ جیسے تابعی کسی ایسے صحابی رضی اللہ عنہ کا قول بیان کریں جن سے ان کی ملاقات ثابت نہ ہو تو سرفراز صفدر اورا ن کے اکابر اسے تسلیم نہیں کرتے۔
    تفصیل کے لئے دیکھئے ازالۃ الریب (ص237)، نصب الرایہ (126/2)، البحر الرائق (40/2) ، مستملی (ص 416)، بذل المجہود (329/2) اور الحدیث حضرو نمبر 76 (ص 46-47)

    قارئین کرام! بدرالدین عینی احناف کے بہت بڑے امام ہیں۔ سرفراز صاحب نے ان کو "بلند پایہ حنفی فقیہہ، محدث اور شیخ الاسلام" جیسے القاب سے نوازا ہے۔ دیکھئے ازالۃ الریب (ص 408)
    اسی بدرالدین عینی نے اپنی کتاب عمدۃ القاری (126/11 ح 2010) میں لکھا ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے اپنے لئے گیارہ رکعات تراویح کو اختیار کیا، تو ماسٹرا مین اوکاڑوی نے اس قول کو اور ایک دوسرے قول کو یعنی دونوں کو یہ کہہ کر رد کر دیا:

    اب میرا آل دیوبند سے یہ سوال ہے کہ کوئی ایک ایسا مسئلہ جس میں:
    امام بخاری نے امام شافعی کی تقلید کی ہو اور آل دیوبند نے امام ابو حنیفہ کی تقلید کی ہو ، اور وہ مسئلہ:

    • نہ قرآن میں ہو
    • نہ حدیث میں ہو ، اور
    • نہ اس پر اجماع ہو
    • امام ابو حنیفہ کا صحیح سند کے ساتھ ایسا قول ہو جس کا تعلق اجتہاد سے ہو، اور
    • آل دیوبند کا اس قول پر عمل ہو، اور
    • اہل حدیث نے اس قول کا انکار کیا ہو

    پیش فرمائیں، تاکہ پتا تو چلے کہ کس مسئلے کا نام انہوں نے تقلید شخصی رکھا ہوا ہے۔۔!!

    میں نے صرف ایک مسئلے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ سرفراز صفدر نے لکھا ہے :
    جاری ہے۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 3
    • لسٹ
  4. ‏دسمبر 27، 2012 #4
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    البتہ اہل حدیث جس تقلید کی مذمت کرتے ہیں اس کی دس مثالیں درج ذیل ہیں:

    1۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ((ان المتبایعین بالخیار فی بیعھما مالم یتفرقا او یکون البیع خیاراً)) دکاندار اور گاہک کو اپنے سودے میں (واپسی کا ) اختیار ہوتا ہے، جب تک دونوں (بلحاظِ جسم ) جدا نہ ہو جائیں یا (ایک دوسرے کو ) اختیار (دینے) والا سودا ہو۔ (نافع کہتے ہیں کہ ) ابن عمر رضی اللہ عنہ جب کوئی پسندیدہ چیز خریدنا چاہتے تو اپنے (بیچنے والے) ساتھی سے (بلحاظ جسم) جدا ہو جاتے تھے۔ (صحیح البخاری، کتاب البیوع، باب کم یجوز الخیار ح 210، صحیح مسلم : 1531)


    حنفی حضرات یہ مسئلہ نہیں مانتے، جبکہ امام شافعی و محدثین کرام ان صحیح احادیث کی وجہ سے اسی مسئلہ کے قائل و فاعل ہیں۔

    محمود حسن دیوبندی نے کہا:
    غور کریں! کس طرح حق و انصاف چھوڑ کر اپنے مزعوم امام کی تقلید کو سینے سے لگا لیا گیا ہے، یہی محمود حسن صاحب صاف صاف اعلان کرتے ہیں:

    آل دیوبند کی مستند کتاب "بیس بڑے مسلمان" کے صفحہ 298 پر محمود حسن کی کتابوں میں تیسرے نمبر کے تحت لکھا ہوا ہے:
    اس تقریر کے مرتب کے متعلق سرفراز صفدر صاحب نے لکھا ہے:

    2۔ ایک حدیث جس کے مطابق ایسے مقتدی کہ جن کا امام نفل پڑھ رہا ہو اور مقتدی اس کے پیچھے فرض نماز پڑھیں تو مقتدیوں کی نماز بالکل صحیح ہو جائے گی، حنفیوں کے امام ملا علی قاری سے جب اس کا کوئی مناسب جواب نہ بن سکا تو عاجز آ کر لکھ دیا:

    3۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتی تھی، تو اس کے شوہر نے اس عورت کو قتل کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    اس حدیث اور دوسرے دلائل سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے والا واجب القتل ہے۔ یہی مسلک امام شافعی اور محدثین کرام کا ہے۔ جبکہ حنفیوں کے نزدیک شاتم الرسول کا ذمہ باقی رہتا ہے۔ دیکھئے الہدایہ (ج 1 ص 598)

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
    اس نازک مسئلے پر ابن نجیم حنفی نے لکھا ہے:

    4۔ حسین احمد مدنی ٹانڈوی لکھتے ہیں:
    ارسال: ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنا
    ساکت: خاموش
    اب دیکھئے، وہ لوگ ساکت کیوں ہو گئے تھے؟ کیا ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے کی کوئی صحیح حدیث موجود نہیں؟ یقیناً موجود ہے۔ لیکن انہیں پتا تھا کہ اگر اس مقلد کو حدیث منوائی تو خود بھی دوسری احادیث ماننا پڑیں گی۔

    5۔ صحیح حدیث میں آیا ہے :
    فقہ حنفی اس صحیح حدیث کی مخالف ہے۔ "مفتی" رشید احمد لدھیانوی دیوبندی نے اس مسئلے پر کچھ بحث کر کے لکھا ہے:
    اسی حدیث پر بحث کرتے ہوئے تقی عثمانی نے کہا ہے:

    اس حدیث پر بحث کرتے ہوئے تقی عثمانی صاحب نے مزید کہا ہے:
    جاری ہے۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • زبردست زبردست x 3
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 30، 2012 #5
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    [h=2][/h]6۔ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ اگر جنازہ مرد کا ہو تو امام میت کے سر کے سامنے کھڑا ہو اور اگر جنازہ عورت کا ہو تو امام میت کے وسط یعنی درمیان میں کھڑا ہو۔ دیکھئے اشرف الہدایہ (2/429)
    لیکن قیاس کی وجہ سے حدیث کی ایسی تاویل کر کے جو تاویل خود جمیل احمد سکروڈھوی (مدرس دارلعلوم دیوبند) کے نزدیک معتبر تاویل نہیں، یہ فتویٰ دیا گیا کہ جنازہ خواہ مرد کا ہو یا عورت کا ، امام اس کے سینے کے مقابل کھڑا ہو۔
    تفصیل کے لئے دیکھئے اشرف الہدایہ (2/ 429-428)
    اور مزید ستم یہ کہ محمد بن "مفتی" محمد ابراہیم صادق آبادی دیوبندی نے اسی قیاسی اور بے دلیل فتوے کو سنت کا نام دے رکھا ہے۔ دیکھئے گلدستہ سنت ( ص 59)

    7۔ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درندے کی کھال بچھا کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ (دیکھئے نماز پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم از محمد الیاس فیصل دیوبندی ص 216)
    نوٹ: یہ کتاب محمد ادریس انصاری دیوبندی کی پسند فرمودہ ہے۔ دیکھئے ( ص 22)
    جبکہ سید مشتاق علی شاہ دیوبندی کی مرتب کردہ کتاب میں کتے کی کھال کے متعلق لکھا ہوا ہے:
    8: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سجدہ سہو اس طرح کیا کہ جب نماز پوری کر لی اور صرف سلام باقی رہ گیا تو دو سجدے سہو کے کئے اور پھر سلام پھیرا۔
    دیکھئے صحیح بخاری مع تفہیم البخاری (1/575، 578۔۔کتاب السہو)
    لیکن آل دیوبند کے نزدیک سجدہ سہو کا طریقہ یہ ہے کہ تشہد پڑھنے کے بعد ایک طرف سلام پھیرا جائے، پھر دو سجدے کئے جائیں۔ اس کے بعد تشہد اور آگے کا درود اور دعا پڑھی جائے، پھر سلام پھیرا جائے۔
    دیکھئے تفہیم البخاری (1/577) اور بہشتی زیور (حصہ دوم ص 33)


    9۔ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ " بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔" (صحیح بخاری جلد 1 ص 298 کتاب البیوع ، صحیح مسلم جلد 2 صفحہ 19)
    لیکن اس کے برعکس فتاویٰ عالمگیری میں لکھا ہوا ہے کہ
    10۔۔ فقہ حنفی کے اصول کی انتہائی معتبر کتابوں میں لکھا ہوا ہے:
    دیکھئے، خزائن السنن جلد دوم (ص 107، از عبدالقدوس قارن دیوبندی) نور الانوار (ص 183) اور اصول شاشی (ص 75)
    تنبیہ: بعض دیوبندیوں نے اس بیہودہ اصول کو رد بھی کیا ہوا ہے۔
    دیکھئے، خزائن السنن (جلد دوم ص 107، تالیف عبدالقدوس قارن دیوبندی)

    جاری ہے۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 02، 2013 #6
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    اور اسی بیہودہ قسم کی تقلید کی اہل حدیث مذمت کرتے ہیں تو انہیں غیر مقلدین کہہ کر طعنہ دیا جاتا ہے، جبکہ خود سرفراز صفدر نے لکھا ہے:
    سرفراز صفدر صاحب نے مزید لکھا ہے :
    قارئین کرام! ایسی کئی مثالیں اوپر بیان کی جا چکی ہیں کہ اعتراف کے باوجود حق کو ٹھکرایا گیا ہے اور نور الانوار اور اصول شاشی کے حوالے سے نقل کیا جا چکا ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو بعض حنفیوں نے محض قیاس کی وجہ سے انہیں غیر فقیہہ کہہ کر رد کر دیا ہے اور ان حنفیوں کی اس حرکت کو بعض آل دیوبند نے بھی غلط سمجھتے ہوئے رد کر دیا ہے۔ اس کے باوجود یہ کہنا کہ کون ایسی تقلید کرتا ہے؟ بڑا عجیب و غریب ہے۔ اشرف علی تھانوی کے بقول یہ گندی روش اکثر مقلدین میں پائی جاتی ہے۔ چنانچہ تھانوی صاحب نے کہا:

    اور ایسے مقلدین کے متعلق خود حنفیوں کے علامہ صدرالدین علی بن علی بن ابی العز الحنفی نے لکھا ہے:
    تقلید شخصی کے علاوہ تقلید کا لفظ بعض علماء مختلف معنوں میں بھی استعمال کرتے ہیں، مثلاً امام شافعی اور علامہ طحاوی کے نزدیک حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلیم کرنا تقلید کہلاتا ہے۔ ابو جعفر الطحاوی ، حدیث ماننے کو تقلید کہتے ہیں، مثلاً وہ فرماتے ہیں:
    گزشتہ صفحات پر حنفیوں و مالکیوں و شافعیوں و حنبلیوں کی کتابوں سے مفصل نقل کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات (یعنی حدیث) ماننا تقلید نہیں ہے۔ لہٰذا علامہ طحاوی کا حدیث پر تقلید کا لفظ استعمال کرنا غلط ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ وہ حدیثیں مانتے تھے تو کیا اب یہ کہنا صحیح ہوگا کہ امام ابو حنیفہ مجتہد نہیں بلکہ مقلد تھے؟ جب وہ حدیثیں مان کر مقلد نہیں بنتے تو دوسرا آدمی حدیث مان کر کس طرح مقلد ہو سکتا ہے؟

    امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    یہاں پر تقلید کا لفظ بطور مجاز استعمال کیا گیا ہے۔ امام شافعی کے قول کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی شخص کی بات بلا دلیل قبول نہیں کرنی چاہئے۔

    حافظ خطیب بغدادی اور حافظ ابن عبدالبر کے نزدیک عامی کا مفتی سے سوال کرنا تقلید کہلاتا ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے، دین میں تقلید کا مسئلہ (ص44)
    تو عرض ہے کہ آل دیوبند کے نزدیک بھی یہ دونوں قسم کے اقوال تقلید نہیں کہلاتے کیونکہ تمام ثقہ ائمہ مجتہدین بھی حدیث کو مانتے تھے اور آل دیوبند کا اعلان ہے کہ مجتہد مقلد نہیں ہوتا بلکہ تقلید تو جاہل کے لئے ہوتی ہے۔
    سرفراز صاحب نے لکھا ہے :
    اور اسی طرح عامی کا مفتی سے سوال کرنا بھی تقلید نہیں کہلاتا، ورنہ پھر تمام دیوبندی اپنے علماء کے مقلد بن جائیں گے۔ جبکہ آل دیوبند کا اعلان ہے کہ چار ائمہ کے سوا کسی کی تقلید جائز نہیں بلکہ اجماع کی مخالفت ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ مذکورہ علماء کا تقلید کے لفظ کو استعمال کرنا مجازی طور پر ہے اور اسی طرح اگر کوئی مفتی اپنے اجتہاد سے کوئی مسئلہ بتائے، جیسا کہ تھانوی صاحب بتایا کرتے تھے تو اسے تسلیم کرنا بھی تقلید نہیں اور آل دیوبند کی انتہائی معتبر کتاب فتاویٰ عالمگیری میں لکھا ہوا ہے:

    تنبیہ: دین میں تقلید کے مسئلہ کی حقیقت کو جاننے کے لئے حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کی کتاب "دین میں تقلید کا مسئلہ" اور شمارہ الحدیث نمبر 75-76 میں تقلید کے متعلق شائع ہونے والے مضمون کا مطالعہ انتہائی مفیدہے۔
    آل دیوبند کی کئی عبارتوں سے واضح کیا گیا ہے کہ تقلید شخصی خاص امام ابو حنیفہ کی رائے کو اپنے اوپر نافذ کرنے کا نام ہے۔ جبکہ خود الیاس گھمن کے رسالہ "قافلہ حق " میں ایک حدیث لکھی ہوئی ہے جس سے ان کے اس دعویٰ کی تردید ہوتی ہے۔ چنانچہ آل دیوبند کے "شہید اور مفتی" محمد یوسف نے لکھا ہے:

    اس حدیث میں شخصی رائے کو اختیار کرنے سے منع کر کے مشورے کا حکم دیا گیا ہے اور مشورہ لینا کوئی تقلید نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ( وشاورھم فی الامر) کے تحت مشورہ لینے کا حکم دیا ہے تو کیا نعوذباللہ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تقلید کا حکم دیا تھا؟ جبکہ تھانوی صاحب نے کہا:
    تھانوی صاحب نے مزید کہا:
    تنبیہ ضروری: تقلید کے بارے میں آل دیوبند کے علماء کا سخت اختلاف ہے ، بعض کے نزدیک امام ابو حنیفہ کی تقلید واجب ہے ا ور تارک تقلید کا اسلام محفوظ نہیں رہ سکتا۔ جیسا کہ شروع میں سرفراز صفدر کا قول نقل کیا جا چکا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ان کے "حکیم الامت" تھانوی نے کہا:
    دوسری جگہ فرمایا:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏جنوری 02، 2013 #7
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    ماشاءاللہ اللہ محنت قبول فرمائے
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  8. ‏جنوری 02، 2013 #8
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    وبارك الله فيكم وجزاكم خيرا
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  9. ‏جنوری 02، 2013 #9
    عبداللہ کشمیری

    عبداللہ کشمیری مشہور رکن
    جگہ:
    سرینگر کشمیر
    شمولیت:
    ‏جولائی 08، 2012
    پیغامات:
    564
    موصول شکریہ جات:
    1,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    186

    جزاكم اللهُ خيراً راجا بھائی اللہ تعالیٰ آپ کے علم و عمل میں برکت فرمائے آمین !!!
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏جنوری 02، 2013 #10
    یحییٰ

    یحییٰ مبتدی
    شمولیت:
    ‏مئی 12، 2011
    پیغامات:
    21
    موصول شکریہ جات:
    116
    تمغے کے پوائنٹ:
    24

    جزاك الله خيراً وجعله في ميزان حسناتك
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں