1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تقلید(مطلق و شخصی) اور اتباع سے متعلق ہمارا مؤقف کیا ہونا چاہیئے ؟

'اہل حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از Hasan, ‏اکتوبر 28، 2012۔

  1. ‏نومبر 01، 2012 #11
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    آپ اپنی تحقیق ضرور پیش کیجئے اور تقلید شخصی کا اصلی رخ بھی ضرور دکھائیے۔ لیکن میری بات دوسری تھی۔
    ہمیں اس وقت تو یہ سمجھنا ہے کہ تقلید شخصی کے اثبات میں جو ڈھیروں کتب احناف بلکہ دیوبندی علماء نے لکھی ہیں، آیا انہوں نے بھی تصویر کا یہ رخ قارئین کے سامنے پیش کیا یا نہیں؟
    اگر پیش کیا ہے تو آپ سے وہ حوالہ درکار تھا۔ اور اب بھی مطلوب ہے۔ سعید پالن پوری صاحب کی اس ضمن میں عبارت پیش کر دیں اور نیز جو دلائل انہوں نے دئے ہیں وہ بھی شیئر کردیں۔

    فی الحال تو یہ سمجھنا ہے کہ تقلید شخصی کو تقلید حکمی قرار دینے میں آپ منفرد ہیں یا آپ کے مذہب کےجید علمائے کرام نے بھی یہی موقف پیش کر رکھا ہے۔
    ویسے اگر تقلید شخصی کو ثابت کرنے کے لئے جو دلائل تقی عثمانی صاحب نے پیش کئے ہیں، تو وہ تو صریحاً آپ کے پیش کردہ موقف کے مخالف ہے۔ انہوں نے تقلید شخصی کے دلائل وہ پیش کئے ہیں جن سے کسی ایک منفرد شخص کی ہی تقلید ثابت ہوتی ہے نا کہ ایک مذہب کے مفتیان کی۔

    یہ بھی فرما دیں کہ واقعی تقلید شخصی اپنے معروف معنوں میں آپ کے نزدیک بھی مبغوض اور لائق تنقید ہے یا نہیں؟
     
  2. ‏نومبر 01، 2012 #12
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    دخل درمعقولات کے لیے معذرت چاہتے ہوئے مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے یہ تھریڈ دیکھ کر.... اگر بات ویسے ہی ہونے لگے جیسے یہاں ہو رہی ہے ، تو بہت سے مسائل تو ویسے ہی سلجھ جائیں جو علم سے زیادہ غرور علم کا شاخسانہ ہوتے ہیں ،اور باقی مسائل بھی ذاتی سطح تک ہرگز نہیں آئیں گے.

    شاید یہ لنکس کچھ مزید مدد دے سکیں .
    حول التقليد و الاتباع - ملتقى أهل الحديث

    منہجِ سَلَف کو لازم پکڑنا
    کوئی چیز

    اللہ ہماری کمیوں کوتاہیوں سے درگزر فرمادے. آمین

    والسلام
     
  3. ‏نومبر 02، 2012 #13
    Hasan

    Hasan مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 02، 2012
    پیغامات:
    103
    موصول شکریہ جات:
    426
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    میرے مطالعے کے مطابق تقلید کے شرک کے درجے تک پہنچنے کی تین صورتیں جوعلماء نے بیان کی ہیں وہ یہ ہیں:
    ١-مقلد کا اپنے مذھب کی حمایت کیلئے کتاب و سنت میں تحریف کرنا-
    ٢-اپنے امام کو معصوم عن الخطا سمجھنا-
    ٣-اپنے امام کے قول کو کتاب و سنت سے بہتر سمجھنا-

    انصاف کے ساتھ یہ دیکھنا چاہیئے کہ کیا یہ شروط مخالفین میں پائی جاتی ہیں ؟ کیا اپنی صلاحیتوں کی کمی یا صلاحیتوں کا ادراک نہ ہونے کی وجہ سے کوئی مقلد اپنے مفتی یا مذھب کے آئمہ کی بات مان لے اور ہماری دلیل کو قبول نہ کرے، ساتھ وہ مفتی یا امام سے اجتھاد میں غلطی ہوجانے کا قائل بھی ہو، تو ہم اسے مشرک کہہ سکتے ہیں ؟
     
  4. ‏نومبر 03، 2012 #14
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    انصاف کی بات یہ ہے کہ یہ شرائط مخالفین میں بحیثیت مجموعی اگرچہ موجود نہیں۔ لیکن بہرحال ، عملی طور پر کئی علمائے کرام کی تحریروں سے اس کا ثبوت بھی مل جاتا ہے۔ مثلاً، آپ ہی انصاف کیجئے کہ:

    کوئی آیت یا حدیث ہمارے فقہاء کے اقوال کے مخالف ہوئی تو اس آیت یا حدیث کی تاویل کی جائے گی وغیرہ، جیسی بات بطور اصول بیان کرنا، کیا اپنے ائمہ کو معصوم عن الخطا سمجھنے جیسا ہی نہیں؟
    حق اور انصاف تو یہ ہو کہ کتاب و سنت کے دلائل فلاں مسئلہ میں امام شافعی کے موافق ہیں، اور اس اقرار پر بھی، لیکن ہم پر ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید واجب ہے، کہہ کر مخالف مسئلہ پر عمل کرنا۔ کیا امام کے قول کو کتاب و سنت سے بہتر سمجھنے کی دلیل نہیں؟
    کتاب و سنت میں تحریف فقط لفظی نہیں ہوتی، معنوی بھی ہوتی ہے۔ معنوی تحریف کی مثالیں تو ڈھونڈنے جائیے تو اس بحر بیکراں کے احاطہ کے لئے تو سفینہ درکار ہوگا۔ چلئے معنوی تحریف کے الزامات تو ہر فریق دوسرے پر لگاتا ہی رہتا ہے۔ لفظی تحریف کی مثالیں بھی کچھ کم نہیں۔ اس کے لئے "قرآن و حدیث میں تحریف" از ابو جابر عبداللہ دامانوی ، کتاب کا مطالعہ کیجئے، جس میں اسکین حوالہ جات کے ساتھ احناف کی جانب سے کتب احادیث میں لفظی تحریف کے ثبوت اکٹھے کئے گئے ہیں۔

    یہ سب کرنے والے اگرچہ چند علماء ہیں، لیکن اصل مسئلہ وہی کہ ، دیگر علماء بھی ایسی باتوں پر بجائے اس کے کہ، ان چند شخصیات کو ان کی غلطیوں پر متنبہ کریں، ان غلطیوں کے ناجائز دفاع میں مشغول ہو جاتے ہیں۔

    یہ بھی اعتراف ہے کہ فریق مخالف میں، خصوصاً دیوبندیوں میں ، اکثریت سلجھے ہوئے، اونچی علمی قامت رکھنے والے مخلص علماء کی ہے۔ اور انہوں نے دین کی خدمت بھی بلا شک و شبہ بہت سرانجام دی ہے۔ لیکن ایسے حضرات کا، اپنے ہم مسلک علماء کی جانب سے کھلی کھلی تحریفات پر خاموش رہنا بھی ان کا سب سے بڑا جرم ہے۔

    موجودہ دھاگے کے موضوع کے تعلق سے میرا ماننا تو یہ ہے کہ تقلید کی اقسام میں تقلید جامد کی تردید میں علمائے اہلحدیث اور علمائے احناف کا موقف کم و بیش ایک سا ہے۔ اصل مسئلہ فقط اس کے عملی انطباق میں ہے۔
    اہلحدیث علماء اس کے قائل ہیں کہ احناف تقلید جامد اور درج بالا اوصاف کے حامل مقلدین ہیں۔
    اور حنفی علماء قولاً تو اس کی تردید کرتے ہیں۔ لیکن عملاً صورتحال ایسی ہے کہ ان میں سے کئی ایک خود اس میں مبتلا ہیں۔ ، اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ اہلحدیث علماء کا علی الاطلاق تمام حنفیوں کو تقلید بمعنی شرک میں مبتلا سمجھنا اور باور کروانا بھی غلط ہے۔
    اور حنفی علماء کا اس سے کلیتاً انکار بھی درست نہیں۔

    جس عالم نے جو غلطی کی ہے، اس کی تردید اسی عالم تک رہنی چاہئے، نا کہ اسے پوری جماعت تک متعدی کر دیا جائے۔
    مثلاً ختم نبوت کے تعلق سے ایک حنفی عالم کی ایک متنازعہ تحریر مشہور ہے۔ اس کی بنیار پر اہلحدیث جذباتی نوجوان احناف کو بحیثیت مجموعی ہی ختم نبوت کا منکر قرار دے دیتے ہیں۔ یہ رویہ سخت متشددانہ ہے اور اس کی ہر سطح پر تردید کی جانی ضروری ہے۔
    لیکن اگر حنفی علماء ، اپنے مسلک کے کسی عالم کی واقعی غلطی کا بھی دفاع کرتے ہیں، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اہلحدیث علماء بھی ان غلطیوں کو آشکارا نہ کریں۔ ایسا کرنا بھی اپنی جگہ بہت اہم ہے۔ بس اسے دیگر علمائے کرام یا پوری جماعت تک متعدی نہ کریں۔
     
  5. ‏نومبر 10، 2012 #15
    Hasan

    Hasan مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 02، 2012
    پیغامات:
    103
    موصول شکریہ جات:
    426
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    گو یہ دو حضرات ماضی اور حال کے دو بڑے حنفی ہیں، مگر میری معلومات میں احناف کی اس درجہ مذموم اور متعصبانہ قسم کی تیسری کوئی عبارت نہیں- حالانکہ حنفیہ کے ہر دور میں علماء بہت ہوئے ہیں-

    جزاک اللہ- آپ کی بات میں یہ اضافہ کرنا چاہوں گا کہ شیخ اسماعیل سلفی رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ حنفی اھلحدیث اختلاف کو بازاروں میں نہ لایا جائے-
     
  6. ‏نومبر 10، 2012 #16
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    یہ غلط فہمی ہے۔ ایسی کئی عبارات دور حاضر یا ماضی قریب کے دیوبندی علماء کی بھی پیش کی جا سکتی ہیں۔ شاید نام بتا دینے سے ہی سمجھ جائیں۔ امین اوکاڑوی، سرفرازخاں صفدر، الیاس گھمن وغیرہم۔
    پھر اصل بات عبارات کی ہے بھی نہیں۔ اختلافی عبارات یقیناً اہل حدیث علماء کی بھی پیش کی جا سکتی ہیں۔ اصل بات اس رویہ سے متعلق ہے جو اپنی ہی جماعت کے دیگر علماء، ایسی اختلافی عبارات کے ساتھ اپناتے ہیں۔ اہل حدیث علماء اس کا سرعام رد کرتے ہیں۔ اور دیوبندی علماء اس کا سرعام دفاع کرتے ہیں۔
    ورنہ آخر کیا بات ہے کہ حنفی علماء اپنے مکتب فکر کی جانب سے کی جانے والی کتب احادیث میں سنگین لفظی تحریفات پر آواز نہیں اٹھاتے؟

    کاش ایسا ہی ہو سکتا۔
    لیکن جب دیوبندی علماء "فتنہ غیر مقلدیت" کی سربازار کانفرنسیں کر کے عوام الناس میں زہر آلود باتیں پھیلا رہے ہوں، تو شاید اس نصیحت پر یک طرفہ عمل تو ممکن نہیں ہوگا۔
     
  7. ‏نومبر 11، 2012 #17
    Hasan

    Hasan مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 02، 2012
    پیغامات:
    103
    موصول شکریہ جات:
    426
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    اکاڑوی کو ئی عالم نہیں تھے- جامعہ بنوری ٹاؤن والوں سے معلوم کرلیں- گھمن کی بات بھی کرنا فضول ہے- ہاں سرفرازخان صفدر کی عبارت واقعی حنفیوں پر نیا بوجھ ہوگی- اس کی نشاندہی فرمائیں-

    صحیح فرمایا-

    کسی کو تو یہ شیطانی چکر ختم کرنا پڑیگا-

    ہمارے اکابرنے ہندوستان جیسے خالص حنفی مزاج رکھنے والے علاقے میں نہایت باوقار اور شرعی حکمت کے مطابق طریقہ کار سے مسلک کتاب و سنت پھیلایا- ان کا طریقہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے-
     
  8. ‏نومبر 13، 2012 #18
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    فی الحال، اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ جمشید صاحب سے توجہ کی گزارش ہے۔

     
  9. ‏نومبر 19، 2012 #19
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

  10. ‏نومبر 19، 2012 #20
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    آج تک کتنے غیرمقلد علماء نے شیخ نذیرحسین کو حضرت ابن عربی کو شیخ اکبرقراردینے پر تحریر لکھی ہے؟ کتنے غیرمقلد علماء نے نواب صدیق حسن خان کے حضرت ابن عربی رحمہ اللہ کو شیخ اکبرقراردینے پر مضامین تحریر فرمائے ہیں ذراہمیں بھی آگاہ کیاجائے تاکہ اس ڈھول کاپول کھولاجائے۔یہ صرف ایک نمونہ ہے مثالیں اوربھی بہت ساری ہیں۔
    اتنی معصومیت برتنے کی ضرورت نہیں ہے۔غیرمقلد علماء نے جوکچھ احناف کے خلاف لکھاہے اورلکھتے آرہے ہیں۔ وہ سب ہماری نگاہوں سے بھی گزرتارہتاہے اس لئے کسی کی معصومیت کے اظہار،تجاہل عارفانہ اورتغافل جاہلانہ سے کام چلنے والانہیں ہے۔
    "ہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیس میں آئے"
    اگرکہئے توعبارتیں تک پیش کردوں آپ کے پرانے عالموں کی جوناگڈھی اوراسی قبیل کے آپ کے دیگرممدوحان گرامی کی ۔
    جس میں بڑے زوروشورسے کوئی ڈنکاپیٹتاہے ناجیہ فرقہ اہلحدیث ہے باقی سب فی الناروالسقر۔کوئی کہتاہے کہ اہل حدیث ہی سچاناجیہ فرقہ ہے باقی چارمذاہب اربعہ خالص مسلمان نہیں اورکوئی کچھ اورکوئی کچھ ہرایک اپنی اپنی ڈفلی بجارہاہے اوراپنااپناراگ الاپ رہاہے۔
    اورآپ کیاکرتے ہیں الدیوبندیہ جیسی کتابیں لکھ کر چھاپتے ہیں ۔ جس میں دعویٰ کچھ ہوتاہے اوردلیل کچھ ۔
    حقیقت الفقہ جیسی کتابیں لکھ کر چھاپتے ہیں جس کو مصنف کے خیانت علمی کا عالمی ایوارڈ ملناچاہئے
    لیکن ظاہر ہے کہ راجاصاحب کو یہ باتیں نظرنہیں آئیں گی ۔اگرآتیں تویہ باتیں نہ کہتے۔
    اولاتویہ وضاحت ضروری ہے کہ تقلید شخصی کے تقلید حکمی ہونے کی بات مفتی سعید احمد پالن پوری نے بھی کی ہے اورانہوں نے یہ بات حدیث اوراہل حدیث مصنف انوارخورشید کے مقدمہ میں بیان کی ہے۔ لہذااس کو میری شخصی اورانفرادی رائے نہ سمجھیں
    ثانیاًاگریہ میری تنہارائے ہوتی تواس سے کیافرق پڑسکتاتھا؟ہم دلائل کی بنیاد پر غورکرتے کہ میری رائے دلائل کی بنیاد پر درست ہے یانہیں ۔آپ توماشاء اللہ اہل حدیث ہیں آپ کوتودلائل سے سروکار ہوناچاہئے پھر دلائل سے شخصیات کی جانب گریز کیوں؟گزارش ہے کہ ان لوگوں کاطریقہ اختیار نہ کریں جودلائل کے میدان مین شکست کھاتے ہیں توشخصیات کی جانب راہ فرار اختیار کرتے ہیں اورجب شخصیات کے حوالہ سے بات ہوتی ہے تودلائل کی جانب دوڑنے لگتے ہیں۔
    آپ کس جانب رہیں گے وہ واضح کردیں دلائل کی جانب یاشخصیات کی جانب ۔ انشاء اللہ اسی اعتبار سے ہم بات کریں گے۔
    ثابت کیاجائے اورمولاناتقی عثمانی سے بہتر یہ بات کون جانے گا کہ کتنے مسائل میں فتوی امام ابوحنیفہ کے قول پر نہیں بلکہ ان کے شاگردوں کے قول پر ہے؟ویسے ہماراکنسرن مولاناتقی عثمانی بھی نہیں ہیں بلکہ دلائل ہیں کہ احناف جس قسم کی تقلید کرتے ہیں وہ تقلید شخصی ہے یاحکمی ہے۔ دلیل سے جوثابت ہوجائے اسی تسلیم کرلیاجائے ۔
    میرے جواب سے قبل معروف معنوں کی وضاحت کردیں۔
    والسلام
     

اس صفحے کو مشتہر کریں