1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تقلید کی بیماری کی وجہ سے مقلدین کا احادیث صحیحہ کو نشانہ بنانا اور تحقیر کرنا !

'تقلید واجتہاد' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جنوری 28، 2016۔

  1. ‏جنوری 29، 2016 #11
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    مجھے اپنے سوال کا جواب وہاں نہیں ملا
    آپ میرے سوال کا جواب وہاں سے کاپی پیسٹ کردیں ۔ آپ ویسے بھی کاپی پیسٹ میں ماہر ھیں
     
  2. ‏جنوری 29، 2016 #12
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,971
    موصول شکریہ جات:
    6,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    قرآن مجید کی توہین

    ابن نجیم حنفی لکھتے ہیں:


    ولو نظر المصلی الی المصحف و قرأ منہ فسدت صلاتہ لا الی فرج امرأۃ بشہوۃ لأن الأول تعلیم و تعلم فیھا لا الثانی

    (الاشباہ والنظائر ص ۴۱۸، طبع میر محمد کتب خانہ کراچی)

    اور اگر نمازی مصحف (قرآن) کی طرف دیکھ لے اور اس میں سے کچھ پڑھ لے تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، اور اگر عورت کی شرمگاہ کی طرف بنظر شہوت دیکھ لے تو اُس سے نماز فاسد نہ ہو گی اس لئے کہ اول تعلیم ہے اور اس میں تعلیم ہے نہ کہ ثانی (کہ وہ تعلیم سے خالی ہے)۔

    غور فرمائیے کہ حنفیوں کے ہاں شرمگاہ کی کتنی اہمیت ہے کہ اسے دورانِ نماز بھی نمازی شہوت کے ساتھ دیکھتا رہے تو حنفی کی نماز کو کچھ نہیں ہو گا۔ البتہ اگر قرآن کریم کی آیت یا قرآن کا کوئی فقرہ پڑھ لیا تو نماز فاسد ہو جائے گی۔ کیا ایمان بالقرآن کا یہی تقاضہ ہے؟

    صحیح بخاری میں ہے کہ:
    کانت عائشہ رضی اللہ عنہا یومھا عبدھا ذکوان من المصحف (ص۹۶ ج۱)


    عائشہ رضی اللہ عنہا کا غلام ذکوان رحمہ اللہ قرآن سے دیکھ کر ان کی امامت کراتا تھا۔

    اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا نماز میں قراء ت مصحف (قرآن) سے دیکھ کر کرتی تھیں۔ (مصنف عبدالرزاق ص۴۲۰ ج۲۔ رقم الحدیث ۳۹۳۰)۔

    امام ابی بکر بن ابی ملیکۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

    ان عائشہ اعتقت غلاما لھا عن دبر فکان یؤمھا فی رمضان فی المصحف

    سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک غلام تھا جسے بعد میں آپ رضی اللہ عنہا نے آزاد کر دیا تھا وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رمضان المبارک میں امامت کراتا تھا اور قرائت قرآن مصحف (قرآن) سے دیکھ کر کرتا تھا۔

    (مصنف ابن ابی شیبہ:۳۳۸، ج۲ و فتح الباری ص۱۴۷ ج۲ و کتاب المصاحف لابن ابی داو'د و۱۹۲)

    علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس اثر کی سند صحیح ہے۔ (تغلیق التعلیق ص۲۹۱ج۲)۔

    امام ابن شہاب الزہری رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ قرآن میں دیکھ کر امامت کا کیا حکم ہے؟

    قال ما زالوا یفعلون ذلک منذ کان الاسلام کان خیارنا یقرؤون فی المصاحف

    ابتداء اسلام سے ہی علماء قرآن مجید کو دیکھ کر (امامت) کراتے رہے جو ہمارے بہتر تھے۔ (قیام اللیل ص۱۶۸ طبع مکتبہ اثریہ)۔

    امام سعد، امام سعید بن مسیب، امام حسن بصری، امام محمد بن سیرین، امام یحییٰ بن سعید انصاری، امام مالک، امام احمد بن حنبل رحمھم اللہ تمام کے تمام اس کے جواز کے قائل ہیں۔ تفصیل کیلئے دیکھئے:

    (قیام اللیل ص:۱۶۸ و مصنف ابن ابی شیبہ ص۳۳۸ ج۲ و مصنف عبدالرزاق ص۴۲۰، ج۲)

    http://forum.mohaddis.com/threads/قرآن-و-حدیث-میں-تحریف.22892/page-8


    تقلید کی بیماری میں انھوں نے حدیث کے ساتھ قرآن کو بھی نہیں بخشا -
     
    Last edited: ‏جنوری 29، 2016
  3. ‏جنوری 30، 2016 #13
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    محترم قارئین
    میں اس تھریڈ میں مذید کچھ کہنا نہیں چاہتا ۔ بس قارئین کو کچھ دکھانا چاہتا ہوں
    آپ اس تھریڈ میں دیکھ سکتے ہیں کہ ایک مسئلہ احناف کے حوالہ سے پیش کیا گیا اور اہل حدیث اس نظریہ کو قرآن و احادیث سے مذاق قرار دیتے ہیں لیکن اگر وہی نظریہ اسلاف میں سے کئی ائمہ کا ھو تو خاموشی اختیار کرتے ہیں بات گھماتے ہیں نئے نئے موضوع شروع کرتے ہیں
    اس کا صاف مطلب ہے احناف دشمنی اہل حدیث مسلک کا خاصہ ہے احناف پر تو اعتراض ہے لیکن وہی نظریہ اسلاف میں سے کسی کا ہو تو کیا حال ہوتا ہے وہ آپ اس تھریڈ میں دیکھ سکتے ہیں ۔ عام افراد کا مسلک اہل حدیث کے قریب نہ جانے کی ایک وجہ یہی ہے
     
    • پسند پسند x 2
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 30، 2016 #14
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,971
    موصول شکریہ جات:
    6,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    آئینہ دکھایا تو برا مان گئے
    ایک اور واقعہ جس میں صحیح حدیث کو نشانہ بنایا گیا ہے -

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی


    نعوذ باﷲ من ذالک

    الحمد ﷲ! اہل حدیث وہ جماعت ہے جو کسی شخصیت کی پرستار نہیں اور نہ ہی یہ اپنا ناطہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور شخصیت سے جوڑتے ہیں بلکہ ہر معاملے میں یہ قرآن و حدیث پر عمل پیرا رہتے ہیں۔

    اور یہ یہی چیز ماسٹر امین اوکاڑوی کے غیظ و غضب کا باعث بنی ہے، موصوف نے احادیث رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ان کتابوں کو بھی معاف نہیں کیا کہ جن کے متعلق پوری اُمت مسلمہ کا اجماع ہے کہ قرآن مجید کے بعد حدیث کی سب سے زیادہ صحیح کتابیں بخاری و مسلم ہیں۔ موصوف نے بعض ایسی شرمناک باتیں اپنی کتابوں میں تحریر کر دی ہیں کہ کوئی حیادار انسان اپنی زبان اور قلم کے ذریعے ان کا اظہار نہیں کر سکتا۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی والی عبارت موصوف کے قلم سے ملاحظہ کریں:


    [​IMG]
    [​IMG]


    موصوف دو مختلف فیہ روایات کو ذکر کر کے ان میں تضاد ثابت کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح اس نے منکرین حدیث والا انداز اختیار کر رکھا ہے۔ یہاں بھی وہ کتے کے سامنے سے گزرنے پر نماز ٹوٹنے کا ذکر کر رہے ہیں حالانکہ صحیح مسلم کی حدیث میں کالے کتے کا ذکر ہے، الفاظ یہ ہیں:

    فانہ یقطع صلوتہ الحمار والمرأۃ والکلب الاسود (مسلم ج۱ ص۱۹۷)
    (اگر نمازی کے آگے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو) اور ا س کے آگے سے گدھا اور عورت اور کالا کتا گزر جائے تو اس کی نماز ٹوٹ جائے گی۔

    اور اس روایت کے بعد موصوف نے جو روایت بیان کی ہے لیکن اپ نماز پڑھاتے رہے اور کتیا سامنے کھیلتی رہی اور ساتھ گدھی بھی تھی اور دونوں کی .........

    اس روایت کا کوئی حوالہ موصوف نے نہیں دیا۔ بلکہ یہ روایت موصوف کی خود ساختہ ہے کیونکہ موصوف جھوٹی اور من گھڑت احادیث بنانے کے ماہر و ماسٹر ہیں۔ لیکن اس خود ساختہ حدیث میں موصوف نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک عظیم بہتان بھی لگا دیا اور وہ یہ کہ کتیا اور گدھی کی شرمگاہوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پڑتی رہی۔ (نعوذ باﷲ من ذلک) موصوف خود شرمگاہوں کا انتہائی دلدادہ اور شہوت پرست انسان ہے اور بہت سے مقامات پر مزے لے لے کر اس بات کا ذکر کرتا ہے مثلاً: اس کا سوال نمبر۱۹۰ ملاحظہ فرمائیں۔

    (۱۹۰) عورتیں نماز میں امام کی شرمگاہ دیکھتی رہیں تو ان کی نماز نہیں ٹوٹتی۔ (بخاری ص۶۹۰ ج۲)

    اگر مرد عورت کی شرمگاہ دیکھ لے تو اس کی نماز ٹوٹ جائے گی یا نہیں؟ صحیح بخاری ج۲ صفحہ۶۱۶ رقم۴۳۰۲)۔

    کتاب المغازی باب قبل باب قول اﷲ تعالیٰ (ویوم حنین ...) میں عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنھما کا واقعہ ذکر ہوا ہے۔


    جناب عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنھما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا:

    ''پس جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور جو شخص تم میں سے قرآن کا زیادہ جاننے والا ہو وہ تمہاری امات کرے''۔

    پس لوگوں نے دیکھا تو مجھ سے زیادہ قرآن کا جاننے والا کوئی نہ تھا۔ اس لئے کہ میں قافلوں کے لوگوں سے قرآن یاد کرتا رہتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے مجھے امام بنا لیا اس وقت میری عمر چھ یا سات برس کی تھی اور میرے پاس صرف ایک چادر تھی۔ جب میں سجدہ کرتا تو وہ چادر کھنچ جاتی تھی۔ برادری کی ایک عورت نے قبیلہ والوں سے کہا کہ تم اپنے امام کے چوتڑ ہم سے کیوں نہیں ڈھانپتے؟ پس لوگوں نے کپڑا خریدا اور میرے لئے کرتا بنا دیا اور میں اس کرتے سے بے حد خوش ہوا۔


    اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اس قوم کے امام چھ سات سال کے ایک نابالغ بچے تھے اور ان کی چادر چھوٹی تھی اور کھنچ جانے سے ان کے چوتڑ بسا اوقات کھل جاتے تھے اور قبیلہ کی کسی ایک عورت کی اتفاقاً نظر پڑ گئی تو اس نے قبیلہ والوں کو اس کی اطلاع دے دی اور قبیلہ والوں نے اس کا سدباب کر دیا لیکن موصوف اپنی فطرت سے مجبور ہو کر کہتا ہے: ''عورتیں نماز میں امام کی شرمگاہ دیکھتی رہیں''۔ موصوف نے ایسے الفاظ استعمال کئے جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ عمل ہمیشہ ہوتا رہا ہے اور اس طرح اس نے اپنے خبث باطن کا اظہار کیا ہے۔

    جناب سہل بن سعد رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے تہہ بندوں میں گردن پر گرہ لگا کر نماز پڑھا کرتے تھے کیونکہ تہہ بند چھوٹے تھے اور عورتوں سے کہہ دیا گیا تھا کہ تم اپنا سر (سجدے) سے اس وقت تک نہ اُٹھاؤ جب تک مرد سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں۔ (صحیح بخاری کتاب الصلوۃ۔باب اذکان الثوب ضیقا۳۶۲،۸۱۴،۱۲۱۵)۔

    اس حدیث سے واضح ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں غربت کی وجہ سے لوگوں کے پاس کپڑوں کی شدید کمی تھی۔ کیا موصوف اس حدیث کا مطلب یہ لیں گے کہ عورتیں نماز میں مردوں کی شرمگاہیں دیکھتی رہتی تھیں؟۔ اگر یہ حدیث موصوف کے علم میںہوتی تو یقینا وہ اس سے بھی یہی مطلب اخذ کرتا کیونکہ خبیث انسان ہمیشہ خباثت کے متعلق ہی سوچتا رہتا ہے۔...... الخبیثون للخبیثات ......
    [FONT=KFGQPC Uthman Taha Naskh, Trad Arabic Bold Unicode, Tahoma][/FONT]
    نیز موصوف نے صحیح بخاری پر چھپے الفاظ میں زبردست طنز بھی کی ہے کہ صحیح بخاری جیسی کتاب بھی فحش باتوں سے خالی نہیں ہے۔

    اور اس کی مزید وضاحت آگے آرہی ہے۔ پھر موصوف سوال۱۹۴ پر لکھتا ہے:

    ''نمازی کی نظر اپنی شرمگاہ پر پڑ گئی تو نماز ٹوٹ جائے گی یا نہیں؟ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ موصوف ''شرمگاہ دیکھنے کا کس قدر شوقین اور دلدادہ ہے اور یہ چیز موصوف کو اپنے اکابرین سے ورثہ میں ملی ہے۔ مولانا رشید احمد گنگوہی کا ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے:


    ''بھرے مجمع میں حضرت جی کی کسی تقریر پر ایک نو عمر دیہاتی بے تکلف پوچھ بیٹھا کہ حضرت جی عورت کی شرمگاہ کیسی ہوتی ہے؟ اللہ رے تعلیم سب حاضرین نے گردنیں نیچے جھکا لیں مگر آپ مطلق چین بہ جبین نہ ہوئے بلکہ بے ساختہ فرمایا: جیسے گیہوں کادانہ''۔

    (تذکرۃ الرشید ج۲ ص:۱۰۰)۔


    ان بزرگوں کا تجربہ تھا، مجمع تو واقعی ان علمی نوادرات کو سن کر حیران و ششدر ہوا ہو گا اور ان تجربہ کار اساتذہ کے ہاتھوں تیار ہونے والے امین اوکاڑوی جیسا شاگرد جن کی تجلیات سے آخر عوام الناس کیوں نہ مستفیض ہوئے ہوں گے اور پھر جنہیں حلالہ جیسی سہولت بھی حاصل ہو اور کتنی ہی شرمگاہیں انہوں نے حلالہ کے ذریعے اپنے لئے حلال کی ہیں۔
     
  5. ‏جنوری 30، 2016 #15
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,971
    موصول شکریہ جات:
    6,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    میرے بھائی احناف میں طاہر القادری بھی شامل ہیں آپ ان کے بارے میں کیا کہے گے -

    اور گناہ اور مکروہ میں فرق بتا دے -

    کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کو گناہ کہا ہے ؟؟؟
     
  6. ‏جنوری 31، 2016 #16
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    @تلمیذ بھائی۔ خواہ مخواہ وقت ضائع کر رہے ہیں۔ یہی ہوگا۔
     
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏فروری 01، 2016 #17
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,971
    موصول شکریہ جات:
    6,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    [​IMG]

    میرے بھائی اگر یہ اس کے ساتھ وضاحت بھی لکھ دیتے کہ مجبوری کے تحت کھڑے ہو کر پیشاب کرنا جائز ہیں مگر انھوں نے وضاحت ہی نہیں کی - اور اس کو گناہ لکھ دیا -

    جبکہ اہل حدیث نے اس مسلے کو وضاحت سے بیان کیا ہے -

    کھٗڑے ہو کر پیشاب کرنا گناہ ہے؟

    شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 25 February 2015 10:07 AM
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

    کھڑے ہوکر پیشاب کرنا گناہ ہے یا نہیں؟ حضور پاکﷺ نے اس کے متعلق کیافرمایا ہے؟

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    کسی عذر اور مجبوری کے بغیر کھڑے ہوکر پیشاب کرناجائز نہیں۔ حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ رانی رسول الله ﷺ وانا ابول قائما فقال یاعمر لاتبل قائما فما بلت قائما بعد (ترمذی ج۱ ابواب الطھارۃ ص۴) رسول اللہ ﷺ نے مجھے کھڑے ہوکے پیشاب کرتے دیکھا تو آپﷺ نے مجھے منع کیا ۔ اس کے بعد میں نے کبھی کھڑے ہوکر پیشاب نہیں کیا۔ عذر کی شکل میں رسول اکرمﷺ سے بھی کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کا بعض روایات میں ذکر آتا ہے اس لئے بیماری یا کسی دوسری مجبوری کی وجہ سے کھڑے ہوکے پیشاب کرناجائز ہے بعض اوقات ایسے بھی ہوتا ہے کہ بیٹھ کرکرنے سے صفائی نہیں رہ سکتی جب کہ ایسے مقامات پر کھڑا ہو کر کرنے سے گندگی سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں بھی جائز ہے کیونکہ اسلام کا اصل مقصد طہارت و نظافت ہے۔ جس طرح یہ قائم رہ سکیں وہ طریقہ بہتر ہے لیکن بنیادی اور فطری طریقہ تو بیٹھ کر پیشاب کرنے کا ہے۔ لہٰذا اسی کو عادت بنانا چاہئے۔

    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب


    ص124


    محدث فتویٰ
     
  8. ‏فروری 01، 2016 #18
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,971
    موصول شکریہ جات:
    6,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    آج الحمدللہ لوگ کثرت سے اہل حدیث منہج کو قبول کر رہے ہیں -


    مدینہ منورہ کے پروگرام کے پہلے دن میں شیخ توصیف الرحمن کے بیان پر 25 افراد اہلحدیث ہوگئے


    لنک




    اور دوسرے دن 7 افراد اہلحدیث ہوگئے - الحمدللہ

    لنک






    الحمدللہ

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں