1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تقلید کے رد میں اماموں کے اقوال

'اصول فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد طالب حسین, ‏دسمبر 14، 2014۔

  1. ‏دسمبر 14، 2014 #1
    محمد طالب حسین

    محمد طالب حسین رکن
    جگہ:
    ہارون آباد
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2013
    پیغامات:
    156
    موصول شکریہ جات:
    91
    تمغے کے پوائنٹ:
    85


    تقلید کے رد میں اماموں کے اقوال
    ﴿1﴾ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ
    صحیح حدیث ہی میرا مذہب ہے۔
    ﴿ردالمختار حاشیہ درالمختار جلد 1 صفحہ 68﴾

    کسی کے لیے یہ حلال نہیں کہ ہمارے قول کے مطابق فتوی دے
    جب تک اسے معلوم نہ ہو کہ ہمارے قول کا ما خذ کیا ہے۔
    ﴿الانتقاءفی فضائل الثلا ثہ صفحہ 145﴾

    آپ سے پوچھا گیا کہ جب آپ کی بات کتاب اللہ کے خلاف ہو؟
    فرمایا کتاب اللہ کے سامنے میری بات چھوڑدو
    کہا گیا جب آپ کی بات حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہو؟
    فرمایا حدیث رسول کے سامنے میری بات چھوڑ دو
    کہا گیا جب آپ کی بات قول صحابہ کے خلاف ہو؟
    فرمایا قول صحابہ کے سامنے میری بات چھوڑ دو۔
    ﴿ایقاظ ھمم اولی الابصار صفحہ 50﴾

    ﴿2﴾ امام مالک رحمہ اللہ
    سرور کائنات صلی اللہ علیھ وسلم کے سواباقی ہر انسان کی بات کو قبول بھی کیا جاسکتا ہے اور رد بھی۔
    ﴿ارشاد السالک لابن عبدالہادی جلد 1 صفحہ 227 ﴾

    میں ایک انسان ہوں میری بات غلط بھی ہو سکتی ہے اور صحیح بھی لہذا میری
    رائے کو دیکھ لیا کرو جو کتاب و سنت کے مطابق ہواسے لے لو اور جو کتاب و سنت کے مطابق نہ ہواسے ترک کر دو۔
    ﴿ایقاظ ھمم اولی ابصار صفحہ 72 ﴾

    ﴿3﴾ امام شافعی رحمہ اللہ
    جب میری کسی بات کے مقابلہ میں حدیث صحیح ثابت ہو تو حدیث پر عمل کرو اور میری بات کو چھوڑ دو۔
    ﴿المجموع شرح المہذب للنوی جلد 1 صفحہ 104 ﴾

    میری کسی بھی بات کے خلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث ثابت ہو تو حدیث کا مقام زیادہ ہے اور میری تقلید نہ کرو۔
    ﴿آداب الشافعی و مناقبہ لابن ابی حاتم الرازی صفحہ 93﴾
    ﴿4﴾ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ
    نہ میری تقلید کرہ نہ مالک نہ شافعی اوزاعی اورنہ ثوری﴿جیسے ائمہ﴾ کی تقلید کرو بلکہ جہاں سے انہوں نے دین لیا ہے تم بھی وہاں ﴿یعنی کتاب و سنت﴾ سے دین حاصل کرو۔
    ﴿ایقاظ ھمم اولی الابصار صفحہ 113 ﴾
    دین کے معاملے میں لوگوں کی تقلید کرنا انسان کی کم فہمی کی علامت ہے۔​
    ﴿اعلام الموقعین جلد 2 صفحہ 178﴾
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 15، 2014 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,167
    موصول شکریہ جات:
    8,192
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

  3. ‏دسمبر 23، 2015 #3
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    281
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    اس میں تقلید کا رد کیوں کر ہے؟؟؟ ہوش و ہواس کے ساتھ جواب دیجئے گا۔

    عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں!!!
    یہ بات ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے قول کے مطابق مفتی کو فتویٰ دینے سے روکا ہے اور اس کو مشروط اجازت دی ہے کہ اس کو اگر ” ہمارے قول کا ما خذ “ معلوم ہے تو تب فتویٰ دے سکتا ہے۔

    اس کا تقلید سے کیا تعلق؟؟؟

    جناب نے جو کچھ کیا وہ یہی ہے!
    مڑ کر دیکھیں کہ جناب نے دلائل ”قرآن و سنت“ سے دیئے ہیں یا امتیوں کے اقوال پر گزر بسر کی ہے؟؟؟؟؟؟
    تقلید کے رد کے لئے بھی تقلید کا ہی سہارا لیا!!!!!!!
     
  4. ‏دسمبر 23، 2015 #4
    سلفی طالب علم

    سلفی طالب علم رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2015
    پیغامات:
    139
    موصول شکریہ جات:
    42
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    اگر کوئی کہہ دے کہ میرا مذہب حدیث ہے، تو پھر یہ تقلید کا رد ہی ہے، کیوں کہ حدیث کو ماننا تقلید ہرگز نہیں ہے۔
    جو کہے میرا مذہب حدیث ہے، وہ یہی بتا رہا ہے کہ وہ تقلید نہیں بلکہ اتباع کر رہا ہے۔

    دلیل کی طرف رجوع کرنا، اور اسے دیکھنا تقلید ہر گز نہیں، بلکہ اتباع ہے، تقلید تو کہتے ہی اسے ہیں جو بغیر دلیل کے ہو۔ اگر کوئی دلیل پیش کرے اور ساتھ ہی کسی امام کا قول بھی، پھر تو بحث ہی نہیں رہتی، اور نہ ہی تقلید رہتی ہے،،، کیوں کہ پھر اصل اتباع تو دلیل کی ہوئی، اس ماخذ کی ہوئی۔

    تعلق ہے، کچھ دیر سوچ لیں اس پر۔


    امتیوں کے قول دلیل کی تائید میں پیش کی گئی ہیں، ھماری اصل دلیل تو قرآن و حدیث ہی ہے، اس پر اور تھریڈ ہیں، ملاحظہ کرلیں۔
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 27، 2015 #5
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    281
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    ایک ہوتی ہے بحث برائے بحث اور ایک ہے بحث برائے افادہ۔ یا تو آپ تقلید کی حقیقت ہی نہیں جانتے یا پھر دھوکہ میں ہیں۔
    مجتہد فقیہ اجتہاد کرتا ہے ان مسائل میں جن پر کوئی واضح دلیل نہیں ہوتی۔ اس کا ماخذ قرآن، سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سنتِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ہے۔
    امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ مجتہد اور فقیہ تھے مقلد نہیں تھے کیوں؟ اس لیئے کہ اس سے پہلے کسی نے بھی فقہ مدون نہ کی تھی۔ ابوحنیفہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے فقہ مرتب کرائی۔ امام شافعی جو کہ ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں میں سے ہیں انہوں نے بھی مسائل کو مدون کیا ۔
    امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی فقہ پر چلنے والوں کی تعداد ہمیشہ سے زیادہ رہی اس کی کئی وجوہات ہیں۔
    انہوں نے خیر القرون کو پایا۔
    کوفہ آخری خلیفہ راشد علی رضی اللہ تعالی عنہ کا دار الخلافہ رہا۔
    یہاں ہزاروں جلیل القدر بزرگ صحابہ قیام پذیر ہوئے۔
    انہوں نے اس دین کو آنکھوں سے دیکھا جس پر آخری خلیفہ راشد عمل پیرا رہے۔

    آپ اصل بات سمجھے ہی نہیں۔ ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان (بشرطِ صحت)؛
    اس کا وہ مفہوم نہیں جو آپ بیان کر رہے ہیں۔
     
  6. ‏دسمبر 27، 2015 #6
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    ایک شخص اپنے پیروکاروں کو کہتا ہے کہ میرے اقوال کی دلیل جانے بغیر فتویٰ نہ دینا۔
    اور پیروکار اصول یہ بناتے ہیں کہ اس شخص کے اقوال کی پیروی کرنی ہے ، دلیل جاننے کی کوشش نہیں کرنی۔

    دونوں باتوں میں تضاد ہے یا دونوں ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں؟ نیز امام صاحب کا کوئی ایک قول آپ پیش کر دیجئے کہ انہوں نے کہا ہو میری تقلید کرنا ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے؟
     
  7. ‏دسمبر 27، 2015 #7
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    281
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! تمام مسالک کے تمام پیروکار اس درجہ کے نہیں ہوتے کہ وہ ”فتویٰ“ دے سکیں۔ ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ مفتیانِ کرام کو یہ حکم دے رہے ہیں۔ عامی کا کام صرف پیروی ہی ہے دلائل کی کھوج نہیں کیونکہ اس میں اتنی صلاحیت نہیں۔ جب وہ علوم کو حاصل کر کے یہ صلاحیت حاصل کر لے گا تو پھر وہ عامی نہیں رہے گا بلکہ عالم بن جائے گا مگر مجتہد اور فقیہ پھر بھی نہیں ہوگا۔
     
  8. ‏دسمبر 27، 2015 #8
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    جزاک اللہ خیرا۔ بالکل عامی کا درجہ عالم و مفتی والا نہیں۔ آپ سے اتفاق ہے۔ لیکن کیا کیجئے اگر خود مفتی بلکہ شیخ الہند فرمائے کہ:
    لحق والانصاف ان الترجیح للشافعی فی ھذہ المسئلۃ و نحن مقلدون یجب علینا تقلید امامنا ابی حنیفہ۔‘‘حق اور انصاف یہ ہے کہ اس مسئلہ میں امام شافعی کو ترجیح حاصل ہے مگر ہم ابوحنیفہ کے مقلد ہیں ہم پر انکی تقلید واجب ہے۔‘‘(تقریر ترمذی ،ص:۳۹)

    تو ایسی تقلید کو ہم اہلحدیث مذموم نہ کہیں تو کیا کہیں؟
     
    • زبردست زبردست x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏جولائی 11، 2016 #9
    abujarjees

    abujarjees مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 27، 2015
    پیغامات:
    75
    موصول شکریہ جات:
    31
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    ایک عامی کے لیے تقلید واجب ہے۔ (بقول مقلدین) چند سوال یہ پیداہوتے ہیں کہ
    ۱۔) ایک عامی کیسے جانے گا کہ کن مسائل میں تقلید کرنی ہے اور کن مسائل میں تقلید نہیں کرنی؟
    ۲۔) مسائل منصوصہ اور غیر منصوصہ کا فرق ایک عامی کیسے جانے گا؟
    ۳۔) ایک عامی قبروں پر جا کر قبر والے سے مانگتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ اسکے پاس علم نہیں وہ عامی ہے اپنے بزرگوں کی تقلید کرتا ہے اسکو کیسے اس شرک سے بچایا جا سکتا ہے؟
     
  10. ‏جولائی 11، 2016 #10
    abujarjees

    abujarjees مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 27، 2015
    پیغامات:
    75
    موصول شکریہ جات:
    31
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    مجھے یہ بات بھی اج تک سمجھ نہیں ائی کہ مقلدین امام ابو حنیفہ کے مقلد ہیں یہ فقہ حنفی کہ ذرا وضاحت فرما دیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں