1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تقلید کے متعلق چند سوالات

'تقلید واجتہاد' میں موضوعات آغاز کردہ از اسحاق سلفی, ‏دسمبر 23، 2017۔

  1. ‏دسمبر 23، 2017 #1
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    بسم اللہ الرحمن الرحیم​
    فورم کے جدید رکن محترم بھائی @حسیب اللہ ذکی صاحب نے ان باکس میں چند سوال پیش کیئے ہیں ؛
    انہیں یہاں اوپن فورم میں اس غرض سے پیش ہیں تاکہ جوفاضل بھائی جواب دینا چاہیں ،وہ جواب لکھ سکیں
    اور جوابات سے تمام زائرین مستفید ہوں ؛؛؛؛
    ـــــــــــــــــــــــ
    تقلیداورسلف صالحین¤
    ______________
    جواب :
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    نواب صدیق حسن خان صاحب تو بہت متاخرین میں سے ہیں ، اور نہ انکی کتاب "الحطہ " فی الوقت سامنے ہے
    آپ کو ایک بہت بھاری حوالہ پیش کرتے ہیں :
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ محدثین کے فقہی مذاہب کے متعلق فرماتے ہیں :
    الحمد لله رب العالمين، أما البخاري؛ وأبو داود فإمامان في الفقه من أهل الاجتهاد. وأما مسلم؛ والترمذي؛ والنسائي؛ وابن ماجه؛ وابن خزيمة؛ وأبو يعلى؛ والبزار؛ ونحوهم؛ فهم على مذهب أهل الحديث ليسوا مقلدين لواحد بعينه من العلماء ولا هم من الأئمة المجتهدين على الإطلاق [بل هم يميلون إلى قول أئمة الحديث] (*) كالشافعي؛ وأحمد؛ وإسحاق وأبي عبيد؛ وأمثالهم ۔۔۔)) (مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ ،جلد 20 )
    امام ابن تیمیہ ، محدثین کا فقہی مسلک بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    ''رہے امام بخاری او رابوداؤد، تو وہ دونوں فقہ میں امام ہیں او راہل اجتہاد میں شمار ہوتے ہیں، رہے امام مسلم، امام ترمذی، امام نسائی، امام ابن ماجہ، امام ابن خزیمہ، امام ابویعلیٰ او رامام بزار وغیرہم، تو مذہب اہل حدیث پر گامزن ہیں۔ وہ علماء میں سے کسی ایک عالم کے مقلد نہیں اور نہ ان کا شمار ائمہ مجتہدین میں ہوتا ہے ۔ بلکہ ان کا میلان ائمہ حدیث مثلاً امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام اسحاق، او رامام ابوعبید قاسم بن سلام او ران جیسے دوسرے ائمہ کے اقوال کی طرف رہتا ہے۔''

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    علامہ انور شاہ کاشمیری جیسا ’’ متصلب حنفی ‘‘ عالم واشگاف الفاظ میں امام بخاری رحمہ اللہ کے مقلد ہونے کی نفی کرتا ہے
    اور انہیں مستقل مجتہد۔۔مانتا ہے لیکن ۔۔گلی ،محلے ،کے مولوی امام بخاری ؒ کو امام شافعی کا مقلد بنانے پر کمر بستہ ہیں‘‘

    قال العلامة محمد أنور الكشميري رحمه الله تعالى (1352هـ) في : "فيض الباري على صحيح البخاري" (1/58) : "واعلم أنَّ البخاري مجتهدٌ لا ريب فيه ، وما اشتهر أنه شافعي فلموافقته إياه في المسائل المشهورة ، وإلا فموافقته للإمام الأعظم ليس أقل مما وافق فيه الشافعي، وكونه من تلامذة الحميدي لا ينفع؛ لأنه من تلامذة إسحاق بن راهويه أيضاً وهو حنفي، فَعَدّه شافعياً باعتبار الطبقة ليس بأولى مِنْ عَدِّه حنفياً. أ.هـ.
    مولوی انور شاہ صاحب فرماتے ہیں : ’’ اچھی طرح جان لیجئے کہ امام بخاریؒ۔۔ مجتہد ہیں ،اس میں کوئی شک نہیں ۔۔
    اور یہ جو ان کے بارے مشہور ہے کہ وہ شافعی المذہب
    تھے ،تو اس کی وجہ یہ ٹھہری کہ مشہور ( اختلافی ) مسائل میں ان کی تحقیق امام شافعی ؒ کے موافق تھی ،
    حالانکہ دیگر کئی مسائل میں ان کی امام ابو حنیفہ سے موافقت ۔۔امام شافعی سے موافقت سے کم نہیں ؛
    اور امام بخاری کا علامہ حمیدی کا شاگرد ہونا بھی (انکی شافعیت کے دعوے کیلئے ) مفید نہیں ۔۔۔کیونکہ وہ امام اسحاق بن راھویہ ؒ کے بھی شاگرد ہیں ،اور امام اسحاق حنفی تھے ۔۔تو اس طرح طبقہ کے لحاظ سے بھی ان کے شافعی ہونے کا دعوی۔۔انکے حنفی ہونے کے دعوی پر کوئی ترجیح نہیں رکھتا ۔(یعنی جس وجہ سے انہیں شافعی بنایا جا رہا ہے ،،وہی وجہ انکے حنفی ہونے کی بھی بنتی ہے ،اور یہ بات معروف ہے کہ وہ ’’ بہرحال حنفی نہیں ۔۔تو ثابت ہوا کہ وہ شافعی بھی نہیں )
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
    اہل حدیث اور احناف دونوں کے نزدیک قابل اعتماد بڑے عالم سمجھے جاتے ہیں ،اس مسئلہ ۔۔یعنی جلیل القدر محدثین کسی خاص فقہی مذہب کے مقلد تھے ،یا نہیں ؛
    اس سوال کا جواب علامہ ابن تیمیہ ؒ دیتے ہیں :
    وفي مجموع فتاوى شيخ الإسلام 20/40:
    ’’ وسئل أيضا - رضي الله عنه -:
    هل البخاري؛ ومسلم؛ وأبو داود؛ والترمذي؛ والنسائي؛ وابن ماجه؛ وأبو داود الطيالسى؛ والدارمي والبزار؛ والدارقطني؛ والبيهقي؛ وابن خزيمة؛ وأبو يعلى الموصلي هل كان هؤلاء مجتهدين لم يقلدوا أحدا من الأئمة؛ أم كانوا مقلدين؟ وهل كان من هؤلاء أحد ينتسب إلى مذهب أبي حنيفة؟

    .....
    سوال : کیا یہ ائمہ محدثین ۔۔الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ، وَأَبُو داود، والترمذي، والنسائي، وَابْنُ ماجه، وَأَبُو داود الطيالسي، والدارمي، وَالْبَزَّارُ، والدارقطني، والبيهقي، وَابْنُ خزيمة، وَأَبُو يَعْلَى الْمُوصِلِيُّ ۔۔خود مجتہد تھے ،اور کسی امام کی تقلید نہیں کرتے تھے ؟؟۔۔یا۔۔مقلد تھے ؟؟۔۔اور ان میں سے کوئی امام ابوحنیفہ کے مذہب کی طرف بھی منسوب ہے ؟ْ

    الجواب

    ’ فأجاب:
    الحمد لله رب العالمين : أما البخاري؛ وأبو داود فإمامان في الفقه من أهل الاجتهاد.
    وأما مسلم؛ والترمذي؛ والنسائي؛ وابن ماجه؛ وابن خزيمة؛ وأبو يعلى؛ والبزار؛ ونحوهم؛ فهم على مذهب أهل الحديث ليسوا مقلدين لواحد بعينه من العلماء

    ‘‘
    جہاں تک امام بخاری اور امام ابو داود کی بات ہے تو وہ فقہ میں بھی خود امام تھے ،اور اہل ااجتہاد میں سے تھے ۔۔یعنی خود مجتہد تھے (مقلد نہیں )
    اور امام مسلم ،امام ترمذی، امام ابن ماجہ ،امام ابن خزیمہ ،امام ابویعلی ،اور البزار اور ان جیسے دیگر حفاظ حدیث سب اہل حدیث کے مذہب پر تھے ۔اور کسی معین امام کے مقلد نہ تھے‘‘۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو حاصل کلام یہ کہ :
    ’’ حفاظ حدیث سب اہل حدیث کے مذہب پر تھے ۔اور کسی امام کے مقلد نہ تھے ‘‘
    ـــــــــــــــــــــــــــ
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 23، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    بھائی نے اگلا سوال کیا ہے :
    ــــــــــــــــــــــ
    جو بھائی جواب دینا پسند فرمائیں یہاں دے سکتے ہیں ؛
     
  3. ‏دسمبر 23، 2017 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    مزید سوال ہے کہ :
     
  4. ‏دسمبر 23، 2017 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    امام شافعی ؒ کے مشہور ساتھی امام مزنی أبو إبراهيم المزني: صاحب الإمام الشافعي لکھتے ہیں :
    اختصرت هذا الكتاب من علم محمد بن إدريس الشافعي - رحمه الله - ومن معنى قوله لأقربه على من أراده مع إعلامه نهيه عن تقليده وتقليد غيره لينظر فيه لدينه ويحتاط فيه لنفسه، وبالله التوفيق.(مختصر المزني )

    امام المزنی رحمہ اللہ نے فرمایا:
    میں نے یہ کتاب (امام) محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ کے علم سے مختصر کی ہے تاکہ جو شخص اسے سمجھنا چاہے آسانی سے سمجھ لے، اس کے ساتھ ہی یہ اعلان ہے کہ امام شافعی نے اپنی تقلید اور دوسروں کی تقلید سے منع فرما دیا ہے ۔
     
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 23، 2017 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

  6. ‏دسمبر 23، 2017 #6
    حسیب اللہ ذکی

    حسیب اللہ ذکی مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 23، 2017
    پیغامات:
    6
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

    .مسئلہ تقلید¤حافظ الحدیث ابن حجرعسقلانی رحمہ اللہ متوفی 852ھجری کو عبدالرشیدعراقی صاحب غیرمقلد نے "کاروان حدیث صفحہ 339"پرمتشددشافعی،،البانی صاحب نے ابن حجررحمتہ اللہ علیہ کو"صفتہ صلوة النبی مترجم صفحہ 166پراورارشادالحق اثری صاحب نے"مقالات اثری جلد1صفحہ 163اورجلد2صفحہ 37پر"شافعی "لکھاہے،ابوالاشبال شاغف صاحب نےابن حجرکو"مقالات شاغف صفحہ 160"پر'شافعیت اورتقلیدکی راہ میںغرق"لکھا..مزیداس کتاب مقالات شاغف کاصفحہ 127،315،395بھی دیکھئے،،اسماعیل سلفی صاحب نے ان کو"رسول اکرم کی نمازکےصفحہ 51"پرشافعی اورحافظ محدث زیلعی کوپختہ کارحنفی محدث لکھا
     
  7. ‏دسمبر 23، 2017 #7
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,651
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    کسی کا شافعی ، مالکی، حنبلی، حنفی ہونا اس کے مقلد ہونے کو مستلزم نہیں!
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏دسمبر 24، 2017 #8
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,579
    موصول شکریہ جات:
    412
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    صالح بن محمد بن نوح بن عبد الله العَمْري المعروف بالفُلَّاني المالكي (المتوفى: 1218هـ) لکھتے ہیں:
    أما التَّقْلِيد فَهُوَ قبُول قَول الْغَيْر من غير حجَّة فَمن أَيْن يحصل بِهِ علم وَلَيْسَ لَهُ مُسْتَند إِلَى قطع وَهُوَ أَيْضا فِي نَفسه بِدعَة محدثة لأَنا نعلم بِالْقطعِ أَن الصَّحَابَة رضوَان الله عَلَيْهِم لم يكن فِي زمانهم وعصرهم مَذْهَب لرجل معِين يدرس ويقلد وَإِنَّمَا كَانُوا يرجعُونَ فِي النَّوَازِل إِلَى الْكتاب وَالسّنة وَإِلَى مَا يتمحض بَينهم من النّظر عِنْد فقد الدَّلِيل إِلَى القَوْل وَكَذَلِكَ تابعوهم أَيْضا كَانُوا يرجعُونَ فِي النَّوَازِل إِلَى الْكتاب وَالسّنة فَإِن لم يَجدوا نظرُوا إِلَى مَا أجمع عَلَيْهِ الصَّحَابَة فَإِن لم يَجدوا اجتهدوا وَاخْتَارَ بَعضهم قَول صَحَابِيّ فَرَآهُ الْأَقْوَى فِي دين الله تَعَالَى ثمَّ كَانَ الْقُرْآن الثَّالِث وَفِيه أَبُو حنيفَة وَمَالك وَالشَّافِعِيّ وَابْن حَنْبَل فَإِن مَالِكًا توفّي سنة تسع وَسبعين وَمِائَة وَتُوفِّي أَبُو حنيفَة سنة خمسين وَمِائَة وَفِي هَذِه السّنة ولد الإِمَام الشَّافِعِي وَولد ابْن حَنْبَل سنة أَربع وَسِتِّينَ وَمِائَة وَكَانُوا على منهاج من مضى لم يكن فِي عصرهم مَذْهَب رجل معِين يتدارسونه وعَلى قريب مِنْهُم كَانَ أتباعهم فكم من قولة لمَالِك ولنظرائه خَالفه فِيهَا أَصْحَابه وَلَو نقلنا ذَلِك لخرجنا من مَقْصُود هَذَا الْكتاب مَا ذَاك إِلَّا لجمعهم آلَات الِاجْتِهَاد وقدرتهم على ضروب الاستنباطات وَلَقَد صدق الله تَعَالَى نبيه ص فِي قَوْله خير النَّاس قَرْني ثمَّ الَّذين يَلُونَهُمْ ثمَّ الَّذين يَلُونَهُمْ ذكر بعد قرنه قرنين أَو ثَلَاثَة والْحَدِيث فِي صَحِيح البُخَارِيّ فالعجب لأهل التَّقْلِيد كَيفَ يَقُولُونَ هَذَا هُوَ الْأَمر الْقَدِيم وَعَلِيهِ أدركنا الشُّيُوخ وَهُوَ إِنَّمَا أحدث بعد مِائَتي سنة من الْهِجْرَة وَبعد فنَاء الْقُرُون الَّتِي أثنى عَلَيْهِم الرَّسُول صلى الله عَلَيْهِ وَسلم
    تقلید فی نفسہ ایک بدعت ہے جو بعد کے زمانے میں پیدا ہوئی اس لیے کہ ہمیں یہ قطعی علم ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانے میں کسی خاص شخص کے نام کا مذہب نہ تھا جس کو پڑھا پڑھایا جاتا ہو اور اس کی تقلید کی جاتی ہو بلکہ وہ لوگ پیش آمدہ واقعات میں قرآن و حدیث کی طرف رجوع کرتے تھے اور اس سے کچھ نہ ملنے کی صورت میں اپنی نظرو بصیرت سے کام لیتے تھے اسی طرح تابعین بھی پہلے قرآن و حدیث کی طرف رجوع کرتے تھے اور دوسری صورت میں اجماع صحابہ کو دیکھتے تھے اگر اجماع صحابہ بھی نہ ملتا تو خود اجہتاد کرتے اور بعض کسی صحابی کے قول کو قوی سمجھ کر اختیار کرلیتے پھر قرین ثالث (تبع تابعین کا دور) آیا اسی قرن میں امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ، امام مالک رحمتہ اللہ، امام شافعی رحمتہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ ہوئے۔ امام مالک رحمتہ اللہ ۱۷۹ھ میں فوت ہوئے اور امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ ۱۵۰ھ میں اسی سن میں امام شافعی رحمتہ اللہ پیدا ہوئے اور امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ ۱۶۴ھ میں پیدا ہوئے یہ چاروں آئمہ بھی اپنے پیشرووں کے طریقے پر ہی تھے ان کے زمانے میں بھی کسی خاص شخص کا مذہب مقرر نہ تھا جس کی آپس میں تعلیم دیتے ہوں انہی کے قریب ان کے اتباع کا طرز عمل تھا، پس امام مالک رحمتہ اللہ اور ان جیسے دیگر آئمہ کے کتنے ہی اقوال ہیں جن میں انہیں کے شاگردوں نے ان سے اختلاف کیا اگر ہم انہیں نقل کریں تو مقصود کتاب سے دور نکل جائیں گے (ظاہر ہے کہ) ان کے شاگردوں نے (آزادی کے ساتھ) اختلاف اسی واسطے کیا کہ وہ (مقلدنہ تھے) بلکہ آلات اجتہاد کے جامع اور استنباط مسائل کے طریقوں پر قادر تھے بہر حال قرون ثلاثہ میں مذہب تقلید پیدا نہ ہوا تھا اور اللہ تعالی نے اپنے نبیﷺ کی ان کے اس قول میں صداقت واضح کردی کہ سب قرون میں میرا قرن سب سے بہتر ہے پھر وہ جو ان کے بعد والے ہیں پھر جو ان کے بعد والے ہیں اپنے زمانے کے بعد آپﷺ نے صرف دو زمانوں کا ذکر کیا۔ یہ حدیث صحیح بخاری میں ہے پس اہل تقلید پر تعجب ہے کہ وہ کیسے اس مذہب تقلید کو قدیم بتلاتے ہیں حالانکہ یہ مذہب تقلید ہجرت سے دو سو سال بعد پیدا ہوا جب کہ وہ قرون گزر چکے تھے جن کی حضورﷺ نے حدیث میں تعریف فرمائی۔
    إيقاظ همم أولي الأبصار للاقتداء بسيد المهاجرين والأنصار ص۷۴۔۷۵

    عبدالقادر الرافعی حنفی لکھتے ہیں:
    وقد نقل ابو بكر القفال وابو علي والقاضي حسين من الشافعية انهم قالوا لسنا مقلدين للشافعي بل وافق راينا رايه، وهو الظاهر من حال الامام ابي جعفر الطحاوي في اخذه بمذهب ابي حنيفة
    ابوبکر فقال،ابوعلی اور قاضی حسین سے جو شافعیہ میں شمار کیے جاتے ہیں یہ صراحت منقول ہے کہ ہم (امام شافعی رحمتہ اللہ) کے مقلد نہیں ہیں، اور ہمیں جو ان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے تو اس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ ہماری رائے ان کی رائے کے موافق پڑگئی بظاہر یہی صورت حال مشہور امام ابوجعفر طحاوی رحمتہ اللہ کی انتساب حنفیت معلوم ہوتی ہے۔
    تقريرات الرافعي على حاشية ابن عابدين رد المحتار ص ۱۱

    حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی لکھتے ہیں:
    وكان صاحب الحديث أيضا قد ينسب إلى أحد المذاهب لكثرة موافقته
    بعض دفعہ صاحب الحدیث (اہلحدیث) کو بھی کسی نہ کسی مذہب (مذاہب اربعہ میں سے) کی طرف کثرت موافقت کی وجہ سے منسوب کردیا جاتا ہے۔
    حجة الله البالغة ص ۲۶۱
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں