1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تلقین المیت سے متعلق روایات کا تحقیقی جائزہ

'مسائل قبور' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏نومبر 19، 2016۔

  1. ‏نومبر 21، 2016 #11
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,333
    موصول شکریہ جات:
    1,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    دو ٹوک الفاظ میں. غیر مقلد بھی کہتے ہیں اور تقلید پر ابھارتے ہیں؟؟؟
     
  2. ‏نومبر 21، 2016 #12
    khalil rana

    khalil rana رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 05، 2015
    پیغامات:
    216
    موصول شکریہ جات:
    31
    تمغے کے پوائنٹ:
    39

    عمر اثری صاحب !
    میں کب کہتا ہوں کہ آپ تقلید کریں، ہر غیر مقلد قرآن وحدیث سے مسائل اخذ کرسکتا ہے، چاہے جاہل ہی ہو۔
    آپ میری درج کردہ باتوں کا جواب دیں کہ کیا موضوع حدیث فضائل میں مقبول ہے یا نہیں ؟
    اگر مقبول نہیں تو مولانا شاہ اسماعیل دہلوی نے یہ کیا لکھ دیا ؟
    اوریہ فقہ الحدیث میں ضعیف حدیث پر عمل کافتویٰ کیوں دیا گیا ہے ؟
    آپ اصل بحث کا جواب دیں خلط مبحث نہ کریں۔
     
  3. ‏نومبر 21، 2016 #13
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,662
    موصول شکریہ جات:
    8,301
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    نہیں ۔
    وہ اسے صحیح سمجھتے ہوں گے ، لیکن ان کا موقف سب پر ماننا لازم نہیں ۔
    اس اسکین کو دوبارہ پڑھیں ، اور سمجھیں ، حدیث کو ضعیف کہا گیا ہے ، اور اس سے ثابت ہونے والے حکم کے لازمی ہونے کی تردید بھی کی گئی ہے ۔ یہ کیسے ضعیف حدیث پر فتوی ہوگیا ؟
    فتوی جو انہوں نے دیا ہے ، وہ مصلحت کی بنیاد پر دیا ہے ، مصلحت اگر قرآن وسنت کسی نص نے ٹکراتی نہ ہو تو اس پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں ، البتہ ایک عالم دین جس چیز کو مصلحت سمجھتا ہے ، اگر دیگر کے لیے اس کا مصلحت نہ ہونا ظاہر ہو تو وہ پہلے عالم دین کے فتوی کے پابند نہیں ہوتے ۔
     
    Last edited: ‏نومبر 21، 2016
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 21، 2016 #14
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,662
    موصول شکریہ جات:
    8,301
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    تو پھر ضعیف حدیث ہی کیوں اور بھی بہت کچھ ہے ، آپ کی اور میری عام گفتگو کو بھی عربی میں حدیث کہتے ہیں ، کوئی نئی چیز آئے ، اسے بھی حدیث کہہ دیا جاتا ہے ۔ لہذا ہر حدیث کہی جانے والی چیز قابل استدلال نہیں ہوسکتی ۔ ہمارے نزدیک راجح قول یہی ہے کہ جس حدیث کی نسبت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک ’ متحقق ‘ نہ ہو ، ان سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔
    اس طرح مسائل بگڑتے ہیں ، حل نہیں ہوتے ۔ ویسے بھی اس سے ہر موضوع پلٹ کر وہی دو چار معروف موضوعات میں تبدیل ہوجاتا ہے ، لہذا فریقین کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں