1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تلقین المیت : لقنوا موتاکم یعنی اپنے مرنے والے کو تلقین کرو سے مراد قریب الموت لوگ ہیں مردے نہیں

'مسائل قبور' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏دسمبر 22، 2016۔

  1. ‏دسمبر 22، 2016 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    860
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    تلقین المیت : لقنوا موتاکم یعنی اپنے مرنے والے کو تلقین کرو سے مراد قریب الموت لوگ ہیں مردے نہیں


    اس تحریر کو رومن اردو میں پڑھنے اور اسکین پیجیس کے لئے یہاں کلک کریں
    https://ahlehadithhaq.wordpress.com/2016/12/22/talqeen-al-mayyat-لقنوا-موتاكم-yani-apne-marne-wale-ko-talqeen-karo-se-murad-qareeb-ul-maut-log-hain-murde-nahi/

    دفن کرنے کے بعد میت کو تلقین کرنا بدعت سیئہ اور قبیحہ ہے،قرآن اور حدیث میں اس کی کوئی اصل نہیں،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ثقہ تابعین عظام رحمہم اللہ سے یہ فعل قطعاً ثابت نہیں،یہ کامل و اکمل دین میں اضافہ اور زیادتی ہے، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پیش قدمی ہے :

    فرمان باری تعالی ہے :
    "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ"
    اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پیش قدمی نہ کرو اور اللہ سے ڈرو،یقیناً اللہ تعالی خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے.[سورہ حجرات آیت ۱]

    یاد رہے دفن کے بعد میت کو تلقین کرنا کسی دلیل شرعی سے ثابت نہیں ہے،اہل بدعت کے دلائل کا علمی و تحقیقی جائزہ یہاں سے ملاحظہ کریں
    http://forum.mohaddis.com/threads/تلقین-المیت-سے-متعلق-روایات-کا-تحقیقی-جائزہ.34408/

    بعض احادیث میں "لقّنوا موتاکم لا اله الا الله" کا ذکر ہے اور اہل بدعت ان احادیث سے مردے کو تلقین کرنا مراد لیتے ہیں جو کہ بالکل بھی درست نہیں جب کہ اس عبارت کا اصل معنی ہے کہ اپنے قریب الموت لوگوں کو لا الہ الا اللہ کی تلقین کرو اور ان شاء اللہ اس کو ثابت کیا جائے گا،اہل بدعت میت کو تلقین کرنے سے متعلق یہ روایت پیش کرتے ہیں:

    "حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا عمارة بن غزية، عن يحيى بن عمارة، قال: سمعت أبا سعيد، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لقنوا موتاكم قول لا إله إلا الله "
    سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے قریب الموت لوگوں کو لا الہ الا اللہ کی تلقین کرو.[مسند احمد ج ۱۷ ص ۱۹ حدیث ۱۰۹۹۳،صحیح مسلم ج ۱ ص ۳۰۰ حدیث ۹۱۶،سنن ابی داود حدیث ۳۱۱۷،سنن ترمذی حدیث ۹۷۶،سنن نسائی حدیث ۱۸۲۸،سنن ابن ماجہ ۱۴۴۵]

    تبصرہ: اس بات پر مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ یہ تلقین قریب الموت انسان کو کی جائے گی،نہ کہ مردہ کو،جیسا کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل مبارک سے ثابت ہے:

    "حدثنا عفان، حدثنا حماد، قال: أخبرنا ثابت، عن أنس، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم عاد رجلا من الأنصار، فقال: " يا خال، قل: لا إله إلا الله "، قال: خال أم عم؟ قال: " بل خال "، قال: وخير لي أن أقولها؟ قال: " نعم "
    سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری آدمی کی تیمارداری کی،فرمایا،اے ماموں جان ! لا الہ الا اللہ کہہ دیں،اس نے کہا،ماموں یا چچا؟فرمایا،بلکہ ماموں،اس نے کہا،کیا یہ (لا الہ الا اللہ) کہنا میرے لئے بہتر ہوگا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،ہاں.[مسند احمد ج ۲۱ ص ۳۲۸ حدیث ۱۳۸۲۶ وسندہ صحیح]

    امام ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "رواه أبو يعلى والبزار، ورجاله رجال الصحيح"
    کہ اس حدیث کو امام ابو یعلٰی اور امام بزار نے بیان کیا ہے اور اس کے راوی صحیح (بخاری) کے راوی ہیں.[مجمع الزوائد ج ۲ ص ۳۲۵]

    امام بوصیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    "رواه أبو يعلى والبزار بسند الصحيح"
    کہ اس حدیث کو امام ابو یعلی اور امام بزار نے صحیح سند کے ساتھ بیان کیا ہے.[اتحاف الخيرة المهرة ج ۲ ص ۴۲۷ رقم ۱۸۲۹]

    امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث پر یوں باب قائم کرتے ہیں:
    "باب ما جاء في تلقين المريض عند الموت، والدعاء له عنده"
    کہ مریض کو موت کے وقت (لا الہ الا اللہ) کی تلقین کرنے اور اس کے لئے دعا کرنے کا بیان.[جامع الترمذی ج ۱ ص ۵۴۴]

    نیز فرماتے ہیں:
    "وقد كان يستحب أن يلقن المريض عند الموت قول لا إله إلا الله وقال بعض أهل العلم: إذا قال ذلك مرة، فما لم يتكلم بعد ذلك، فلا ينبغي أن يلقن، ولا يكثر عليه في هذا"
    کہ موت کے وقت مریض کو لا الہ الا اللہ کی تلقین کرنا مستحب ہے،بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ آدمی ایک مرتبہ کہہ دے تو جب تک وہ اس کے بعد کلام نہ کرے،اسے تلقین نہ کرنی چاہئے،نہ ہی اسے زیادہ کہنا چاہئے.[جامع الترمذی ج ۳ ص ۲۹۸]

    امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے:

    "ذكر الأمر بتلقين الشهادة من حضرته المنية"
    کہ قریب المرگ کو لا الہ الا اللہ کی تلقین کرنے کے حکم کا بیان.[صحیح ابن حبان ج ۷ ص ۲۷۱]

    حافظ ابوالعباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی رحمہ اللہ (متوفی ۶۵۶ ھ) فرماتے ہیں:

    "قوله صلى الله عليه وسلم : لقنوا موتاكم لا اله الا الله، أى قولوا لهم ذلك وذكروهم به عند الموت وسماهم صلى الله عليه وسلم موتى، لأن الموت قد حضرتهم،وتلقين الموتى هذه الكلمة سنة مأثورة، عمل به المسلمون، وذلك ليكون آخر كلامه : لا اله الا الله، فيختم له بالسعادة، وليدخل فى عموم قوله صلى الله عليه وسلم : من كان آخر كلامه : لا اله الا الله دخل الجنة"
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ اپنے مرنے والوں کو لا الہ الا اللہ کی تلقین کرو،اس کا مطلب یہ ہے کہ موت کے وقت ان کو یاد دلاؤ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریب الموت لوگوں کو مردہ کہہ دیا ہے،کیونکہ موت انکے پاس حاضر ہو چکی ہوتی ہے،مرنے والوں کو اس کلمہ کی تلقین کرنا سنت ماثورہ ہے،مسلمانوں کا اس پر عمل رہا ہے،اس کا مقصد یہ ہے کہ مرنے والے کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ہو جائے،یوں اسی کلمہ پر اس کا خوش بختی کے ساتھ خاتمہ ہو جائے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمومی فرمان میں داخل ہو جائے کہ جس کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ہو جائے،وہ جنت میں داخل ہو جائے گا.[المفھم ج ۲ ص ۵۷۰،۵۶۹،نیز دیکھیں زھر الربی للسیوطی ص ۵۱۴]

    امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

    "معناه من حضره الموت والمراد ذكروه لا إله إلا الله لتكون آخر كلامه كما في الحديث من كان آخر كلامه لا إله إلا الله دخل الجنة والأمر بهذا التلقين أَمْرُ نَدْبٍ وَأَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ عَلَى هَذَا التَّلْقِينِ"
    کہ اس کا مطلب ہے جو قریب المرگ ہو اسے لا الہ الا اللہ یاد کروائیں،تاکہ اسکا آخری کلام یہی ہو جائے،جیسا کہ حدیث جس کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ہوگا،وہ جنت میں داخل ہو گیا،تلقین کرنے کا یہ حکم استحبابی ہے،علماء کا اسی (طریقہ) تلقین پر اجماع ہے.[شرح صحیح مسلم ص ۵۹۵]

    عبدالرحمن شرف الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

    "أي ذكروا من حضره الموت منكم بكلمة التوحيد أو بكلمتي الشهادة بأن تتلفظوا بها أو بهما عنده ليكون آخر كلامه كما في الحديث من كان آخر كلامه لا إله إلا الله دخل الجنة وقال السندي المراد من حضره الموت لا من مات"
    کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جو مرنے کے قریب ہوں،موت اس کے سر پر پہنچ چکی ہو،انہیں کلمہ توحید لا الہ الا اللہ یا شہادت کے دونوں کلموں یعنی : لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اس طرح اسے یاد دلاؤ،کہ اس کے سامنے یہ کلمہ پڑھو،تاکہ یہ کلمہ اس کا آخری کلام ہوجائے،جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ : جس کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ہوا،وہ جنت میں داخل ہوگا،اور علامہ سندھی حنفی فرماتے ہیں اس تلقین سے مراد یہ ہے کہ اس شخص کو کلمہ کی تلقین کرو جو قریب الموت ہو،نہ کہ وہ جو مرچکا ہو(یعنی تلقین زندہ کو کرنی ہے،مردہ کو نہیں).[عون المعبود علی سنن ابی داود ص ۱۳۳۱]

    صاحب ھدایہ جناب برھان الدین ابو الحسن علی بن ابو بکر المرغیانی فرماتے ہیں:

    "المراد الذي قرب من الموت"
    کہ اس سے قریب الموت مراد ہے.[الھدایہ شرح بدایتہ المبتدی ج ۲ ص ۱۳۸]

    محشئ ھدایہ جناب عبدالحی لکھنوی رحمہ اللہ صاحب ھدایہ کی اس عبارت کے تحت فرماتے ہیں:

    "دفع توهم من يتوهم أن المراد به قراءة التلقين على القبر"
    کہ اس سے اس انسان کا وہم دور کرنا مقصود ہے جو یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ قبر پر تلقین کرنا چاہئے.[حاشیہ الھدایہ ج ۲ ص ۱۳۸]
     
    Last edited: ‏دسمبر 22، 2016
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 22، 2016 #2
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    860
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    علامہ سندھی حنفی اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں:
    "المراد من حضره الموت لا من مات والتلقين أن يذكر عنده لا أن يأمره به والتلقين بعد الموت قد جزم كثير أنه حادث والمقصود من هذا التلقين أن يكون آخر كلامه لا إله إلا الله ولذلك إذا قال مرة فلا يعاد عليه الا ان تكلم بكلام آخر"
    کہ اس سے مراد قریب المرگ ہے،نہ کہ جو فوت ہو چکا ہے،تلقین کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے پاس کلمہ کا ذکر کیا جائے،نہ کہ اسے حکم دیا جائے،موت کے بعد تلقین کو بہت سے علماء نے بدعت قرار دیا ہے،اس تلقین سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ مرنے والے کا آخری کلام یہی ہو،اسی لئے جب وہ ایک مرتبہ کہہ دے تو دوبارہ اسے تلقین نہیں کی جائے گی،الا یہ کہ وہ کوئی اور بات کر لے.[حاشیہ السندی علی النسائی ج ۳ ص ۳۰۳،۳۰۲]

    ابن الساعاتی حنفی (متوفی ۶۹۴ ھ) لکھتے ہیں:

    "ونلقنه الآن لا بعد التلحيد"
    کہ ہم اسے ابھی (موت سے پہلے) تلقین کریں گے،دفنانے کے بعد نہیں.[مجمع البحرین وملتقی النیرین ص ۱۷۲]

    محمد بن عبداللہ بن احمد الغزی التمرتاشی الحنفی (متوفی ۱۰۰۴ ھ) فرماتے ہیں:

    "ولا يلقن بعد تلحيده"
    کہ دفن کرنے کے بعد تلقین نہیں کی جائے گی.[تنویر الابصار و جامع البحار مخطوط ص ۳۴]

    شيخى زاده حنفى (متوفى ۱۰۷۶ ھ) لکھتے ہیں:

    "وَقَالَ أَكْثَرُ الْأَئِمَّةِ وَالْمَشَايِخِ: لَا يَجُوزُ"
    کہ اکثر ائمہ و مشائخ کا کہنا ہے کہ (قبر پر تلقین) جائز نہیں.[مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر ج ۱ ص ۲۶۴]

    علمائے کرام کی تصریحات سے معلوم ہو گیا ہے کہ لا الہ الا اللہ کی تلقین قریب الموت انسان کو کی جائے گی،نہ کہ میت کو دفنانے کے بعد،اس باوجود اہل بدعت مصر ہیں کہ یہ تلقین میت کو دفنانے کے بعد قبر پر کی جائے گی،اہل عقل کے لئے فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی کہ بدعات کے شیدائی کس طرح سینہ زوری سے کام لیتے ہیں اور بے دریغ جھوٹ بولتے ہیں؟

    ابن عابدین شامی حنفی وغیرہ اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں:

    "أَمَّا عِنْدَ أَهْلِ السُّنَّةِ فَالْحَدِيثُ أَيْ «لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ» مَحْمُولٌ عَلَى حَقِيقَتِهِ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُحْيِيهِ عَلَى مَا جَاءَتْ بِهِ الْآثَارُ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «أَنَّهُ أَمَرَ بِالتَّلْقِينِ بَعْدَ الدَّفْنِ فَيَقُولُ: يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ اُذْكُرْ دِينَك الَّذِي كُنْت عَلَيْهِ"
    کہ اہل سنت کے نزدیک یہ حدیث لقنوا موتاکم اپنے حقیقی معنی پر محمول ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے دفن کے بعد تلقین کرنے کا حکم دیا ہے،پس قبر پر کہے کہ اے فلاں کے بیٹے ! تو اس دین کو یاد کر جس پر قائم تھا.[الدرالمختار و حاشیہ ابن عابدین ج ۲ ص ۱۹۱،الجوہرة النيرة ج ۱ ص ۲۵۲]

    ابن عابدین شامی حنفی صاحب نے ایک سانس میں بڑی بے باکی سے کئی جھوٹ بول دئے ہیں،ان کا یہ کہنا کہ اہل سنت نے اس حدیث کو حقیقی معنی پر محمول کیا ہے،یہ اہل سنت پر کذب وافترا اور جھوٹ ہے،اگر ان کی مراد حنفی "فقہاء" ہوں تب بھی صحیح نہیں،گویا ان کے نزدیک صاحب ھدایہ اہل سنت سے خارج ہیں،دوسری بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دفن کے بعد تلقین کا حکم قطعی طور پر ثابت نہیں ہے،مدعی پر دلیل لازم ہے،دفن کے بعد قبر پر تلقین شرعی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ بہت بعد کی ایجاد ہے،دراصل یہ لوگ دین کے حوالے سے حزم و احتیاط سے عاری ہیں،انہوں نے اپنی خواہشات کو دین بنا رکھا ہے،اس لئے ان کے مذہب کی بنیاد قیاس و باطل پر ہے،یہ پہلے مسئلہ گڑھتے ہیں،بعد میں شرعی دلائل کو توڑ مروڑ کر اس پر فٹ کرتے ہیں،یہی وہ فعلِ شنیع ہے،جس نے ان کو محدثین کرام سے کوسوں دور کر دیا ہے اور یہ شرعی نصوص میں لفظی و معنوی تحریفات کے مرتکب ہوتے ہیں،سنت دشمنی ان کا مقدر ٹھرا ہے،اس کے بوجود یہ اپنے تئیں اہل سنت کہنے سے نہیں تھکتے،یہ حیران و پشیمان پھرتے ہیں،سلف صالحین میں ان کا کوئی حم خیال نہیں،ان کے علم سے جہالت بہتر ہے.

    احمد یار خان نعیمی بریلوی صاحب لکھتے ہیں:
    "اس حدیث کے دو معنی ہو سکتے ہیں،ایک تو یہ کہ جو مر رہا ہو،اس کو کلمہ سکھاؤ،دوسرے یہ کہ جو مر چکا ہو،اس کو سکھاؤ،پہلے معنی مجازی ہیں اور دوسرے حقیقی اور بلا ضرورت معنی مجازی لینا ٹھیک نہیں لہذا حدیث کا یہ ہی ترجمہ ہوا کہ اپنے مردوں کو کلمہ سکھاؤ اور یہ وقت دفن کا ہے".[جاءالحق ج ۱ ص ۳۱۱]

    تبصرہ: تعزر نہ ہو تو حقیقی معنی ہی لیا جاتا ہے،جب کوئی امر مانع موجود ہو تو حقیقت کو چھوڑ کر مجاز کی طرف جایا جاتا ہے،یہ بھی اسی قبیل سے ہے،یہاں حقیقی معنی معتزر ہے،کیونکہ مردے میں تعلم و اخذ کی صلاحیت نہیں ہوتی،لہذا یہاں بھی مجازی معنی مراد ہے.

    نعیمی صاحب مزید لکھتے ہیں:

    "اس حدیث اور ان عبارات سے معلوم ہوا کہ دفن میت کے بعد اس کو کلمہ طیبہ کی تلقین مستحب ہے"۔[جاءالحق ج ۱ ص ۳۱۲]

    افسوس مسلمان بالاتفاق جس حدیث کو انسان کی قرب موت والی حالت پر ہی محمول کریں،اس کو "مفتی" صاحب بغیر دلیل کے دفن میت کے بعد کی حالت پر محمول کر کے ایک بدعت کی سند دے رہے ہیں.جب وہ شامی وغیرہ کی عبارات صریح جھوٹ ہیں تو ان کی بنیاد پر استوار ہونے والا عمل کیسے حق ہوگا؟

    "مفتی" احمد یار خان نعیمی صاحب لکھتے ہیں:

    "نکیرین میت سے تین سوال کرتے ہیں،اول تو یہ کہ تیرا رب کون ہے؟پھر یہ کہ تیرا دین کیا ہے؟پھر یہ کہ اس سنہری جالی والے سرسبز گنبد والے آقا کو تو کیا کہتا ہے؟ پہلے سوال کا جواب ہوا أشهد أن لا اله الا الله، دوسرے کا جواب ہوا حى على الصلاة یعنی میرا دین وہ ہے جس میں پانچ نمازیں فرض ہیں،تیسرے کا جواب ہوا أشهد أن محمدا عبده ورسوله"۔[جاءالحق ج ۱ ص ۳۱۲]

    یہ واضح طور پر دین اسلام میں تحریف ہے،یہ کسی آیت کریمہ یا حدیث کا مفہوم نہیں،بلکہ صریح نصوص کی خلاف ورزی ہے،یہ غلو کا نتیجہ ہے،جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر اطہر پر سبز گنبد نہیں بنایا گیا تھا،اس وقت کیا یہ سوال پوچھا جاتا تھا؟دراصل عقل و انصاف کو ان سے شکوہ ہے کہ وہ ان کا ساتھ نہیں دیتے.

    خوب یاد رہے کہ دفن کے بعد میت کو تلقین کرنے والی بدعت میں دیوبندی اور بریلوی دونوں متفق ہیں،اس بدعت کے دفاع میں جناب مولانا سرفراز خان صفدر دیوبندی لکھتے ہیں:

    "البتہ دفن کے بعد تلقین کرنا عندالقبر (قبر کے پاس) ہے،مگر وہ تو والدعاء عندھا قائما کی مد میں ہے،جو سنت سے ثابت ہے".[راہ سنت ص ۲۲۸]

    دیوبندیوں نے قبر پر تلقین کو دعا پر قیاس کیا اور بریلویوں نے قبر پر اذان کو اس تلقین پر قیاس کر لیا،حالانکہ عرفاً و شرعاً نہ تلقین دعا ہے اور نہ اذان تلقین ہے،شریعت اسلامیہ میں نہ قبر پر اذان ثابت ہے اور نہ دفن کے بعد قبر پر تلقین ہی ثابت ہے،لہذا ایک بے اصل چیز کو دوسری بے اصل چیز پر قیاس کرنا اہل بدعت کا ہی شیوہ ہو سکتا ہے.
    اللہ ہم سب کو حق سمجھنے کی توفیق دے آمین
    جزاک اللہ خیراً
     
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں