1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تمام والدین سے اپیل !!!!

'گرافکس' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو بصیر, ‏فروری 26، 2013۔

  1. ‏فروری 26، 2013 #1
    ابو بصیر

    ابو بصیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 30، 2012
    پیغامات:
    1,420
    موصول شکریہ جات:
    4,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    239

    [​IMG]
     
  2. ‏فروری 26، 2013 #2
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    کتنے افسوس کی بات ہے ہم ایک اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں جہاں یہ ساری خرافات آج بھی موجود ہیں۔۔۔
     
  3. ‏فروری 26، 2013 #3
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    جزاکم اللہ خیرا یاسر بھائی
    کئی ہمارے احباب ایسے بھی ہیں، جو کہتے رہتے ہیں کہ اگر خوشی سے والدین جہیز دینا چاہی تو اس میں کیا حرج ہے؟۔۔حرج ہو نہ ہو لیکن یہ عمل معاشرے کو نظر میں رکھ کر کیا جائے تو حرج نہیں بلکہ حراج ہے۔
    مرد بھی بکتے ہیں جہیز کے لیے
     
  4. ‏فروری 26، 2013 #4
    ابراہیم بھائی

    ابراہیم بھائی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 03، 2012
    پیغامات:
    214
    موصول شکریہ جات:
    814
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    رسول اللہ(صلى الله عليه و سلم)نےفرمایا :

    ”وَتَرَکتُمُ الجِھَادَ سَلَّطَ اللّٰہُ عَلَیکُم ذُلاَّ لاَیَنزِعُہُ حَتَّی تَرجِعُوا دِینَکُم “
    ”اور اگر تم نے جہاد چھوڑدیاتو اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ذلت مسلط کر دے گااور اس وقت تک یہ حالت ختم نہ ہو گی جب تک کہ تم اپنے دین کی طرف پلٹ نہ آؤ۔“

    اس کا مطلب یہ ہے کہ عزت کی زندگی گزارنے کے لیے مشقتیں بھی برداشت کرنا پڑتی ہیں اور اس کو جہاد کہتے ہیں ۔امت اس وقت عزت دار کہلانے کی مستحق ہوگی جب وہ دشمن کا مقابلہ کرے گی اور مشقتیں برداشت کرنے میں ثابت قدمی دکھائے گی۔جب لوگ مجموعی طور پر جہاد کو ترک کر دیتے ہیں اور دنیا کی لذتوں میں کھو جاتے ہیں تو عذاب الٰہی پوری قوم کو گھیر لیتا ہے۔ظالم، مظلوم، نیک و بدکار،سب لپیٹ میں آجاتے ہیں ۔اس لیے پوری امت کو اجتماعی طور پر جہاد کا علم تھام لینا چاہیے تاکہ جو مسائل و مشکلات آن پڑی ہیں ان سے چھٹکارا ممکن ہو سکے۔

    یہاں میں رسول اللہ (صلى الله عليه و سلم) کی یہ حدیث بیان کرنا ضروی سمجھتا ہوں ۔فرمایا:

    ”اِذَاتَبَایَعتُم بِالعِینَةِ وَاَخَذتُم اَذنَابَ البَقَرِ وَرَضِیتُم بِالزَّرعِ وَتَرَکُم الجِھَادَ سَلَّطَ اللّٰہُ عَلَیکُم ذُلاًّ لاَ یَنزِعُہُ حَتَّی تَرجَعُو اَلَی دَیَنکُم “

    ”جب تم نے بیع عینہ شروع کردی (یعنی ایسی تجارت جس میں کوئی چیز وقت مقررہ کے لیے بیچ کر کم قیمت پر اس سے دوبارہ خریدنا شامل ہے)اور تم نے بیلوں کی دمیں پکڑ لیں اور کھیتی باڑ ی میں مشغول ہو گئے اور جہاد کو چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ تمہارے اوپرذلت ومسکنت مسلط کر دے گا جو اس وقت تک ختم نہ ہو گی جب تک کہ تم اپنے دین کی طرف پلٹ نہ آؤ“
    ان حالات میں دین کی طرف کیسے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ ایک زمانے سے ہمارے کندھوں پر ایک بھاری ذمہ داری ہے۔ہم نے تو اس زمانے میں خود اپنے حقوق ادا کرنا ترک کردیے ہیں چہ جائے کہ دوسروں کے حقوق ادا کریں ۔اسی لیے وہ اہداف نہیں حاصل ہو سکے جن کا انتظار ہمارے گھر والے،امت محمدیہﷺ اور ہماری آئندہ نسل کر رہی ہے۔ہمارے ناتواں کندھوں پر بے شمار گناہ سوار ہو چکے ہیں ۔بیسویں صدی میں پیدا ہونے والا مسلمان تو ان گناہوں کے بار تلے دبا ہو اہے۔یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے بلکہ بہت مشکل کام ہے۔ہمارے کان تین صدیوں سے امت کی پستی اور تباہ کاری کی چیخیں سن رہے ہیں ۔صرف ایک چوتھائی کی مشقت برداشت کرنے سے وہ چیخیں ماند نہیں پڑ سکتیں ۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان حالا ت تک پہنچنے میں خود ہمارا قصور ہے۔ جب تک ہم خود درست نہیں ہوں گے یہ مسائل ختم نہیں ہو سکتے۔ہمیں خود اپنے آپ کو درست کرنا ہے۔اپنے ہاتھوں سے اپنی مشعلیں روشن کرنی ہیں ۔اللہ کی رحمت کی طرف رجوع کرنا ہے۔قول وفعل سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم کرنا ہے۔جس قدر ہم یہ کام کریں گے اسی قدر اس کی رحمتیں ہمیں ڈھانپیں گی۔رحمت کے دروازے کھلیں گے اور جس دردناک حالت سے ہم دو چار ہیں ،اللہ کی رحمت ہمیں اس حالت سے نکالے گی اور ہم اللہ کے حکم سے راہ سلامتی پر پہنچیں گے۔
     
  5. ‏فروری 26، 2013 #5
    ابو بصیر

    ابو بصیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 30، 2012
    پیغامات:
    1,420
    موصول شکریہ جات:
    4,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    239

    میں ذاتی طور پر اس حدیث کا تعلق ۔۔ذلت کا مفہوم بڑا ہی گہرا ہے۔۔۔معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حیائی اور دیگر جرائم کی کافی حد تک وجوہات کا ایک گہرا تعلق جہاد کو پسند یا نہ کرنا ہے۔۔۔۔اللہ کا ایک نظام ہے ۔۔۔۔اگر لوگ یا تین صدیوں پرانے ہمارے بڑے جہاد کو پسند کرتے یا کر رہے ہوتے تو ایسی ذلت مسلط نہ ہوتی۔۔۔۔اسلام قربانی مانگتا ہے۔۔۔۔تسبیحوں والے اسلام سے نظام نہیں بدلتے۔۔۔۔
     
  6. ‏فروری 26، 2013 #6
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    میرے نزدیک اس کی بڑی وجہ علماء کرام کی خاموشی ہے۔۔۔
    معاشرے میں موجود ہر برائی کو قرآن وحدیث کی واضح تعلیمات سے رد کیا جانا چاہئے۔۔۔
    شراب خانے موجود ہیں، جوا خانے موجود ہیں، جسم فروشی کے اڈے بھی موجود ہیں۔۔۔
    ایک کارکن قتل ہوجائے تو سراپا اجتجاج بن جاتے ہیں۔۔۔ سپلائی لائن کا معاملہ ہو تو دھرنے دینا شروع ہوجاتے ہیں۔۔۔
    مگر ان برائیوں سے جو معاشرے کو تباہ کررہی ہیں اُن کے خلاف نہ دھرنا ہوتا ہے نا ہی کوئی احتجاج۔۔۔
    اور نعرہ جہاد جہاد کے بلند کئے جاتے ہیں۔۔۔ لال مسجد کا واقعہ زیادہ پرانا نہیں ہے۔۔۔ یہ انفرادی نہیں اجتماعی کوشش ہے۔۔۔
    جس میں اہلسنت والجماعت کی تمام مکتبہ فکر کے افراد کو مل کر کوشش کرنی ہوگی۔۔۔ پہلے اندر کے گندگی صاف ہوجائے۔۔۔
    پھر اس کے بعد سوچنا ہے کہ باہروالوں کا کیا ہوگا۔۔۔
    لیکن بڑی معذرت کے ساتھ آج تو ہر بندہ سیاست کررہا ہے۔۔۔
    ابھی لائنز ایریا میں ایک سنی تحریک کے کارکن کو قتل کیا تو احتجاج پر لوگ سڑکوں پر آگئے۔۔۔
    کیوں؟؟؟۔۔۔
     
  7. ‏فروری 26، 2013 #7
    ابو بصیر

    ابو بصیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 30، 2012
    پیغامات:
    1,420
    موصول شکریہ جات:
    4,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    239

    بھائی میرے ۔۔۔۔۔ایک اصول یاد رکھیں ۔۔۔۔۔۔جب حق باقی نہیں رہتا تو پھر ظلم ہوتا ہے
    اللہ کا غصب بندوں کے حقوق بھی غصب۔۔۔۔
    اب یہ جو نظام ہے یہ بغیر جہاد کے ٹھیک ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔رہ گئی بات کہ جہاد اپنوں سے کیا جائے یا یہودیوں ہندوؤں یا عسائیوں سے
    نظام کن کا ہے اس وقت ؟؟؟ یہودیوں ہندوؤں یا عسائیوں کا ۔۔۔۔اب یہ نظام کیسے ٹھیک ہو گا ۔۔۔۔۔جہاد سے
    جب جہاد کی برکت سے غیروں کا نظام ٹوٹے گا تو اُس کی برکت سے اسلامی نظام قائم ہو جائے گا
    بہت مختصر طور پرسمجھانے کی کو شش کی ہے ۔۔۔۔اُمید ہے کچھ تو سمجھ آگئی ہوگی
    جزاک اللہ خیرا
     
  8. ‏فروری 26، 2013 #8
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    یاسر بھائی!۔۔۔ جہاد ہے کہاں؟؟؟۔۔۔ اس کو فساد بنا کر رکھ دیا ہے۔۔۔
    میرے کہنے کا مقصد یا سمجھانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ آج ہر شخص جمہوریت کو ہی وہ نظام سمجھتا ہے جو ہمیں اللہ کے عذاب سے بچالے۔۔۔
    اس کی وجہ ہے کیونکہ ہمارے اسکولوں میں اسلامی تعلیمات نہ ہونے کے برابر ہیں۔۔۔
    اچھا علماء کرام جہاد کی بات کرو تو حدیث پیش کرتے ہیں ماں کی خدمت سے بڑا جہاد کوئی نہیں۔۔۔
    ایک پروگرام میں ابتسام الٰہی ظہیر کو بلایا اسی پروگرام میں عون نقوی کو بھی آنا تھا لیکن جب اُن کو پتہ چلا کے حافظ صاحب اس پروگرام میں تو وہ نہیں آئے؟؟؟َ۔۔۔ کیوں تو کم سے کم جو علماء حق ہیں وہ یار اپنی زبانیں کھولیں۔۔۔ آج پاکستان کا پورا میڈیا لشکر جھنگوی کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے پر تلا ہوا ہے اور حیرانگی اس بات پر ہوتی ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بات کہی کے ہر سیاسی جماعت کا ایک ملیٹنٹ ونگ ہے؟؟؟ تو پھر ان کو کالعدم کیوں قرار نہیں دیا جاتا۔۔۔ یہ ہیں زمینی حقائق رک جائیں دس پندرہ دن کی گیم باقی ہے متحدہ میں بھی دراڑ پڑھنے دیں۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔ جو کام جام صادق نہیں کرسکا وہ ذرداری بھیاء کرکے دکھائیں گے۔۔۔
     
  9. ‏فروری 26، 2013 #9
    ابو بصیر

    ابو بصیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 30، 2012
    پیغامات:
    1,420
    موصول شکریہ جات:
    4,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    239

    فرض عین جہاد سے جی چُرانا علما کا پُرانا وطیرہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔میں ذاتی طور پر ان علما کے ساتھ نہیں ہوں
     
  10. ‏فروری 27، 2013 #10
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    یاسر بھائی میں نے دو بار پہلے بھی درخواست کی تھی کے آپ کی عمر کیا ہے؟؟؟۔۔۔
    بھائی اگر میں کوئی بات کہنا چاہ رہا ہے دبے لفظوں میں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں لیا کیجئے کے میرا مقصد آپ پر تنقید ہے۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں