1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تنازع (اختلاف) کی صورت میں کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف رجوع ... نکتہ اتفاق؟!!

'حنفی' میں موضوعات آغاز کردہ از انس, ‏جولائی 02، 2011۔

  1. ‏جولائی 02، 2011 #1
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    الحمد للہ! یہی اہل الحدیث کا منہج ہے اور میرے خیال میں یہ ہمارے مابین نکتۂ اتفاق ہو سکتا ہے۔
    اور ایک مسلمان کو اس میں اختلاف بھی کیا ہو سکتا ہے، فرمانِ باری ہے:
    ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِيْلًا ﴾ ... سورة النساء: ٥٩
    عمر معاویہ، جمشید اور سہج برادران! کیا خیال ہے؟!!
     
  2. ‏جولائی 02، 2011 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    آو ایک کلمہ "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" پر ہم سب اکھٹے ہو جائیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 11
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 02، 2011 #3
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    جزاک اللہ خیرا انس بھائی بہت ہی اہم عمدہ ، اور اصلاحی، موضوع ہے
    بھائی میں بھی اسی آیت سے بہت متاثر ہوا تھا،،
    اس آیت کو اگر دل و دماغ سے سوچا جائے تو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔
     
  4. ‏جولائی 02، 2011 #4
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    جزاک اللہ خیرا۔
    انس نضر بھائی جان !
    واقعی بالکل صحیح نکتہ اتفاق پیش کیا ہے ۔
    اللہ سمجھ عطا فرمائے۔
     
  5. ‏جولائی 10، 2011 #5
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    بشرطیکہ وہ اللہ ورسول کا حکم ثابت ہوجائے!
     
  6. ‏جولائی 10، 2011 #6
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    جزاکم اللہ خیراً میرے عزیز بھائی! میں قرآن کریم اور صحیح حدیث مبارکہ کی ہی بات کر رہا ہوں۔
    عمر معاویہ اور سہج برادران! آپ لوگ متفق نہیں کہ قرآن کریم اور صحیح حدیث مبارکہ کے بالمقابل تقلید کو چھوڑ دینا چاہئے جبکہ بقول آفتاب بھائی یہی انہوں نے اپنے علماء سے سنا ہے اور اسی کی علمائے احناف تاکید کرتے ہیں؟!!
    میں نہیں سمجھتا کہ زبانی حد تک ہمارا مزید کوئی بڑا اختلاف ہے۔
    اصل بات تو عمل کی ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے، فرمانِ باری ہے: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۰۰۲كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۰۰۳ ﴾ ... سورة الصّف کہ ’’ اے ایمان والو! تم وه بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں (٢) تم جو کرتے نہیں اس کا کہنا اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔‘‘
     
  7. ‏جولائی 10، 2011 #7
    عبد الرشید

    عبد الرشید رکن ادارہ محدث
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    5,178
    موصول شکریہ جات:
    9,941
    تمغے کے پوائنٹ:
    667

    جزاک اللہ خیرا
    انس نضر بھائی
     
  8. ‏جولائی 10، 2011 #8
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    مسئلہ اتناسادہ اورآسان نہیں جتناکہ بناکر پیش کیاجاتاہے۔
    ایک توکسی چیز کے حضورپاک تک صحیح نسبت کا مسئلہ ہے اس میں محدثین اورفقہاء کے اپنے اجتہادات ہیں ۔ محدثین کا راویوں کے ضبط کی بابت فیصلہ کرنا عموما ان کی روایت کے جانچ پڑتال سے ہوتاہے اس میں بھی غلطیاں ہوتی ہیں اوریہی وجہ ہے کہ ایک ہی راوی کے سلسلہ میں ائمہ جرح وتعدیل مختلف البیان ہوجاتے ہیں۔
    اس کے بعد دوسرابڑامرحلہ متن سے ثابت ہونے والی بات کاہے۔یہ اول الذکر سے بھی زیادہ پیچیدہ مسئلہ ہے۔ عبارت النص ،دلالۃ النص ،اشارۃ النص اقتضاء النص ،عام ،خاص،مطلق،مقید،امر،وجوب ،استحباب،مباح،جواز اوراس قسم کے سینکڑوں مسائل جو کتب اصول فقہ میں مفصل طورپر مذکور ہیں۔ اس کی چھان بین کرنا ایک نہایت مشکل امر ہے اوریہیں پر ہمیں مجتہدین حضرات کی ضرورت پڑتی ہے۔
    کچھ حدیثیں ایسی بھی ہیں جوکہ سنداصحیح ہیں لیکن ان پر کسی بھی فقیہہ نے عمل نہیں کیا ہے۔مثلاوہ صحیح حدیث کہ شرابی چوتھی مرتبہ شراب پئے تواسے قتل کردو ۔

    اس کے سلسلے میں علامہ خطابی کہتے ہیں
    وقال الخطابي : قد يرد الأمر بالوعيد ولا يراد به الفعل ، وإنما يقصد به الردع والتحذير . وقد يحتمل أن يكون القتل في الخامسة واجبا ثم نسخ بحصول الإجماع من الأمة على أنه لا يقتل انتهى . وحكى المنذري : عن بعض أهل العلم أنه قال : أجمع المسلمون على وجوب الحد في الخمر ، وأجمعوا على أنه لا يقتل إذا تكرر منه إلا طائفة شاذة قالت : يقتل بعد حده أربع مرات للحديث وهو عند الكافة منسوخ . ا هـ .
    اب یہ نازک امور کون سمجھے گا۔ کیاہرشخص جوعربی عبارت پرھنے اوراس کامطلب سمجھنے کی صلاحیت رکھتاہے وہ اسکی لیاقت رکھتاہے۔بعضے جاہلین کہتے پھرتے ہیں کہ صحیحین،ترمذی،نسائی اورابودائود ایک مسلمان کیلئے کافی ہے اوراس میں حدیث پڑھ کر عمل کرے اورجہاں حدیث میں اختلاف ہو تووہ ہرایک حدیث پر باری باری عمل کرے۔
    اس جاہل کویہ نہیں معلوم کہ اس طرح امت میں کتنی بڑی مصیبت واقع ہوجائے گی۔
    میری عبارت مین دوچیزیں بڑی اہم ہیں۔ ایک تویہ کہ نفس حدیث کا ثبوت حضورپاک کی جانب ہونا۔
    اصول حدیث میں بھی محدثین کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔کچھ لوگ مرسل کو حجت مانتے ہیں کچھ لوگ نہیں مانتے ۔اب جومرسل کوحجت مانتے ہیں وہ اسے حدیث رسول مانتے ہیں اوراسی حیثیت سے عمل کرتے ہیں۔ اورجولوگ حجت نہیں مانتے وہ ان پر عمل نہیں کرتے۔
    مرسل تک محدود نہیں ہے بعض متکلم فیہ روات میں محدثین کااختلاف ہے بعض اسے حجت نہیں مانتے اوربعض مانتے ہیں ایک مثال لیں عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ ۔حضرت ابن قیم اسے حجت مانتے ہیں اوراس راوی کی روایت کااعتبار نہ کرنے والوں کو انہوں نے فقہ سے خالی قراردے دیاہے چنانچہ وہ اس سلسلے میں ابن حزم اورابوحاتم البستی پر پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں ان سے انہی حضرات نے استدلال نہیں کیاہے جوفقہ سے خالی ہیں انکے الفاظ میں من لم یتحمل اعباء الفقہ جنہوں نے فقہ کی گراں باریوں کاذمہ نہیں لیاہے۔
    اس کے علاوہ اوربھی بہت سی باتیں ہیں جنہیں طوالت کے خوف سے نظرانداز کرتاہوں
    دوسری چیز یہ ہے کہ متن سے ثابت کیاہورہاہے۔
    آپ کو معلوم ہے کہ حضورپاک کی مشہور حدیث ہے جس میں سود کو چھ چیزوں کے ادلے بدلے میں متعین کیاگیاہے۔ اس کی علت اورلم ہرمجتہد نے الگ الگ بیان کی ہے۔ اس لم اورعلت کوکون سمجھے گا۔ عربی کاحرف شناس یااردو کے ترجمہ کی بنیاد پر تیار ہونے والا مجتہد !
    یہ تو صرف ایک مثال ہے۔ ویسے رفع الملام ابن تیمیہ کی اورالانصاف فی بیان سبب الاختلاف بھی پڑھ لیں تو یہ بات سمجھ میں آجائے گی بشرطیکہ ذہنی افق اوردائرہ تھوڑاوسیع ہو۔
    علماء ہردور میں فقہی اورفروعاتی مسائل میں اختلاف کرتے رہے ہیں لیکن کسی نے یہ نہیں کہاکہ ہم حدیث پر عمل کررہے ہیں اورتم غیرحدیث پر عمل کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں امام احمد بن حنبل کا وہ جملہ اسحاق بن راہویہ کے سلسلے میں مشہور ہے کہ ہماراان سے کچھ باتوں میں اختلاف ہے لیکن لوگ ہمیشہ سے ان مسائل میں اختلاف کرتے رہے ہیں۔
    یہ صرف دورحاضر کے کچھ لوگوں کی ذہنی اپج ہے کہ وہ خود کو مدعی عمل بالحدیث سمجھتے ہیں اور دوسروں کے بارے میں ان کاخیال ہوتاہے کہ وہ حدیث پر عمل نہیں کرتے ۔
    ایسے حضرات کو چاہئے کہ وہ ائمہ مجہتدین کے اجتہادات اوران کی کتابوں کوغوروفکر سے پڑھیں۔ ذہنی افق اوردائرہ تھوڑاوسیع رکھیں۔
    پھرانشاء اللہ انکو دکھنے لگے لگاکہ امت کابیشتر طبقہ حدیث پر ہی عمل کررہاہے خواہ وہ حدیث اس کے مزعومہ فہم کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
    یہ کچھ سطریں جلدبازی میں لکھی گئی ہیں۔ انشاء اللہ تفصیلی طورپر پھرکبھی لکھوں گا۔
    ویسے یہ لنک بھی کارآمد ہے۔
    مخالفت حدیث:واقعیت اورحقیقت - پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز
    اوریہ لنک بھی
    اختلاف امتی رحمۃ کاایک جائزہ - پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز
     
  9. ‏جولائی 10، 2011 #9
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    جمشید بھائی جان آپ نے کہا۔۔!!!
    اور انس بھائی نے یہ آیت پیش کی تھی۔۔۔!!!
    اب آپ یہ بتائیں کہ انس بھائی کی پیش کردہ آیت میں یہ کہاں ثابت ہے کہ اگر وہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہ بھی ہو تو تب بھی ہم اسی پر عمل کریں گے۔؟؟؟
    نکتہ اتفاق ہم اسی پر کریں گے جو شریعت ہوگی اور شریعت وہ چیز ہوتی ہے جو صحیح ثابت ہو۔آپ نے انس بھائی کے ان الفاظ ’’عمر معاویہ، جمشید اور سہج برادران! کیا خیال ہے؟!! ‘‘ کا جواب دینے پر حاضری تو دی لیکن پھر بات گول مگول کرگئے۔جمشیدبھائی انس بھائی کی پوسٹ کا جو مقصد ہے آپ صاف الفاظ میں یہ پیش کردیں۔اور باقی بھائیوں کو بھی کہہ دیں کہ وہ یہاں آکر حاضری لگوالیں۔
    اللہ تعالی حق بات پہنچاننے کی اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔آمین یارب العالمین
     
  10. ‏جولائی 13، 2011 #10
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    1. آفتاب بھائی نے علمائے احناف﷭ کے حوالے سے ایک ایمان افروز اور دل کو چھو لینے والی بات کی تو میں نے سورۃ النساء کی آیت کریمہ کو دلیل میں پیش کرتے ہوئے ان کی اس بات کو اہل الحدیث اور اہل الرّائے (احناف) کے مابین نکتۂ اتّفاق قرار دینے کی بات کی تھی۔ اور اپنے علم کی حد تک فورم پر موجود دیگر حنفی بھائیوں (جمشید، عمر معاویہ اور سہج برادران) سے تائید چاہی تھی۔ میرا خیال تھا کہ یہ حضرات حکم الٰہی کو مد ِنظر رکھتے ہوئے فوراً تائید کریں گے، خاص طور پر اس لئے بھی کہ بقول آفتاب بھائی علمائے احناف بھی یہی کہتے ہیں۔ لیکن افسوس عمر معاویہ اور سہج بھائیوں نے تو گیارہ دن گزرنے کے باوجود تائید ہی نہ کی (یا شائد اس پوسٹ پر ان کی نظر ہی نہ پڑی۔) جبکہ جمشید بھائی نے ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بجائے تائید کرنے کے پس وپیش شروع کر دیا ؟؟!!
      علم غیب، نکتۂ اتفاق
      والے تھریڈ میں پیر کرم شاہ صاحب کے مشتبہ الفاظ کے متعلّق جمشید بھائی کو شدید اصرار تھا کہ آپس کے اتحاد کیلئے انہیں نکتۂ اتفاق تسلیم کر لینا چاہئے، اب ایک آیتِ کریمہ کو نکتۂ اتفاق تسلیم کرنے سے ان کا کترانا سمجھ سے بالا تر ہے!!
      کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے!​
    2. قرآن وحدیث میں جہاں بھی اللہ تعالیٰ اور رسول کریمﷺ کی اطاعت کرنے کا حکم ہے تو وہاں یہ بات انڈرسٹڈ ہوتی ہے کہ ان سے مراد نہ منسوخ آیات واحادیث ہیں اور نہ ہی ایسے احکامات جن کی اللہ تعالیٰ یا رسول کریمﷺ کی طرف نسبت ہی مشکوک ہے، مثلاً شاذ قراءات یا ضعیف وموضوع روایات!
    3. اگر آپ کے سامنے آیت کریمہ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ۰۰۳۳ [FONT=&quot] ... [/FONT]سورة محمد کہ ’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کا کہا مانو اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو۔‘‘ پیش کی جائے تو تب بھی ڈائریکٹ ماننے کی بجائے آپ اسی قسم کی موشگافیاں پیش فرمائیں گے؟؟!!
    4. جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم﷤ کو ﴿ اَسْلِمْ١ۙ ﴾ فرمایا تو انہوں نے نہایت سادگی میں فوراً جواب دیا: ﴿ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۰۰۱۳۱ اسی طرح نبی کریمﷺ بھی صحابہ کرام﷢ سے بیعت لیتے وقت انہیں سمع واطاعت کا حکم فرماتے تو وہ بغیر کسی پس وپیش کے آپ کی اطاعت کا اقرار کر تے، کبھی یہ نہ کہتے کہ منسوخ اور ضعیف احکامات وغیرہ وغیرہ پر عمل نہ کریں گے۔
    5. فراہی مکتبۂ فکر کے افراد سے جب بھی حدیث کی حجیت کے حوالے سے گفتگو ہو اور پوچھا جائے کہ کیا آپ احادیث مبارکہ کو وحئ الٰہی تسلیم کرتے ہیں؟ تو وہ بھی آئیں بائیں شائیں کرنے لگتے ہیں کہ جی بہت سی احادیث ضعیف بھی تو ہیں وغیرہ وغیرہ حالانکہ وہاں ضعیف احادیث زیر بحث ہی نہیں ہوتیں!
      اللهم وفقنا لما تحبه وترضاہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں