1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

توبہ و استغفار کی فضیلت اور بندوں پر اللہ کی رحمتوں کا بیان

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مئی 11، 2017۔

  1. ‏مئی 11، 2017 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    18425147_870328579772071_7599529716681506278_n.jpg

    سنن الترمذی

    باب في فضل التوبة والاستغفار وما ذكر من رحمة الله لعباده
    باب: توبہ و استغفار کی فضیلت اور بندوں پر اللہ کی رحمتوں کا بیان
    حدیث نمبر: 3540
    حدثنا انس بن مالك قال:‏‏‏‏ سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:‏‏‏‏ " قال الله تبارك وتعالى:‏‏‏‏ يا ابن آدم إنك ما دعوتني ورجوتني غفرت لك على ما كان فيك ولا ابالي يا ابن آدم لو بلغت ذنوبك عنان السماء ثم استغفرتني غفرت لك ولا ابالي يا ابن آدم إنك لو اتيتني بقراب الارض خطايا ثم لقيتني لا تشرك بي شيئا لاتيتك بقرابها مغفرة ". قال ابو عيسى:‏‏‏‏ هذا حديث حسن غريب لا نعرفه إلا من هذا الوجه
    .
    سیدنا انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
    ”اللہ کہتا ہے: اے آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے گا اور مجھ سے اپنی امیدیں اور توقعات وابستہ رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا، چاہے تیرے گناہ کسی بھی درجے پر پہنچے ہوئے ہوں، مجھے کسی بات کی پرواہ و ڈر نہیں ہے، اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان کو چھونے لگیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرنے لگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کسی بات کی پرواہ نہ ہو گی۔ اے آدم کے بیٹے! اگر تو زمین برابر بھی گناہ کر بیٹھے اور پھر مجھ سے (مغفرت طلب کرنے کے لیے) ملے لیکن میرے ساتھ کسی طرح کا شرک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس اس کے برابر مغفرت لے کر آؤں گا (اور تجھے بخش دوں گا)“ ۱؎۔
    امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
    قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (127 - 128) ، الروض النضير (432) ، المشكاة (4336 / التحقيق الثاني) ، التعليق الرغيب
    صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3540

    ــــــــــــــــــــــــ
    وضاحت: ۱؎ : اس حدیث سے مشرک کی بے انتہا خطرناکی اور توبہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں