1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

توثیق قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ

'ثقہ رواۃ' میں موضوعات آغاز کردہ از رضا میاں, ‏جنوری 02، 2015۔

  1. ‏اکتوبر 16، 2016 #21
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    لگتا ہے آپ میرا امتحان لے رہے ہیں، ابتسامہ۔ حالانکہ میرا اس مسئلے میں کچھ بھی کہنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔
    اس کے لئے ہم دیگر اقوال کا موازنہ کریں گے۔
    جارح اور مجروح کے آپس میں معاصرت، اور باہمی اختلاف کو مد نظر رکھیں گے۔
    جارح کی عادت کو دیکھیں گے، متعنت یا متشدد تو نہیں۔
    واقعے کے سیاق کو دیکھیں گے وغیرہ وغیرہ۔
    الغرض جہاں کہیں بھی احتمال کا شبہ آ جائے تو دیگر اقوال کے تحت فیصلہ ہو گا۔
    باقی اہل علم زیادہ بہتر طریقے سے بتا سکتے ہیں۔
    میرے خیال سے اس طرح کے دیگر الفاظ جیسے یضع الحدیث، یا کذب کے ساتھ وضع کا بیان، یا اسی طرح دیگر الفاظ جیسے متہم، متروک کذاب، متروک وضاع، رافضی کذاب، کذاب خبیث اس جیسے شدید اور واضح الفاظ میں محض "کذاب" کی نسبت بہت کم احتمال ہوتا ہے۔ کیونکہ صرف کذاب غلطیوں اور آراء پر بھی بولا جاتا ہے۔
    واللہ اعلم۔
     
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 16، 2016 #22
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    ہر گز نہیں میرے بھائی. میں نے آپ بھائیوں سے بہت علم حاصل کیا ہے ہمیشہ. شاید یہی وجہ ہے کہ میں محدث فورم پر آنا کبھی ترک نہیں کرتا.
    علم تو ہرجگہ سے حاصل کرنا چاہیے جہاں سے ملے. اور پھر آپ جیسے بھائیوں سے, جن کا وہ اختصاصی اور پسندیدہ موضوع ہو, تو ضرور استفادہ کرنا چاہیے.
    مسلک کا اختلاف الگ چیز ہے لیکن اسے علم اور اعتدال کی راہوں کے درمیان حائل نہیں ہونا چاہیے.
    ویسے بھی میں تو ایک طالب علم ہوں لیکن بڑے بڑے علماء بھی مذاکرہ کرتے ہیں حالانکہ وہ خود مرجع خلائق اور حفاظ ہوتے ہیں. خصوصا علم حدیث میں تو مذاکرہ بہت عام ہے.


    جزاک اللہ خیرا.

    ایک سوال امام احمد رح کے حوالے سے ہے لیکن میں ابھی موبائل سے آن لائن ہوں. کمپیوٹر سے دیکھ کر عرض کروں گا.
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏اکتوبر 16، 2016 #23
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,311
    موصول شکریہ جات:
    1,070
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    محترم جناب @رضا میاں صاحب حفظہ اللہ!
    آپ نے لکھا:
    میں نے تو پڑھا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اگر متروک کا لفظ استعمال کیا ہے تو یہ آخری درجے کی جرح ہے. پھر کیوں یہ غیر مفسر ہے؟؟؟
    براہ کرم! اصلاح کریں.
     
  4. ‏اکتوبر 16، 2016 #24
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,109
    موصول شکریہ جات:
    2,351
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    ایک امام کا کہنا ہے :
    إذا قالوا: "متروك الحديث" أو ذاهب الحديث، أو كذّاب، فهو ساقط الحديث، لا يكتب حديثه.
     
    • علمی علمی x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏اکتوبر 16، 2016 #25
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,311
    موصول شکریہ جات:
    1,070
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    جزاکم اللہ خیرا محترم شیخ.

    وہی بات سمجھ میں نہیں آئی. امام بخاری کے ساتھ ساتھ امام یحی وغیرہم بھی اس جرح میں شامل ہیں.
     
  6. ‏اکتوبر 17، 2016 #26
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    صحیح جواب تو رضا میاں بھائی ہی دیں گے. میرا خیال یہ ہے کہ یہ قول ان کے بارے میں ہے جن کے بارے میں دوسروں سے بھی مفسر جرح موجود ہو.
    جہاں ہمیں علم ہے کہ انہیں فقہی اختلاف یا کسی اور وجہ سے ترک کیا گیا ہے وہاں "ترکوہ" یا "متروک" تو صرف ایک خبر ہے. ویسے بھی یہ مراد امام بخاری رح نے خود بیان نہیں کی بلکہ آئیندہ آنے والوں نے امام کے طرز کو دیکھ کر اخذ کی ہے. اس لیے اس کے خلاف ہونا ممکن ہے.
     
  7. ‏اکتوبر 17، 2016 #27
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    جی بھائی ویسے تو کذاب بھی آخری درجے کی جرح ہوتی ہے اس میں کس کو اختلاف ہے لیکن صرف جرح کے درجے کو ہی نہیں دیکھا جاتا بلکہ کہنے والے کو اور اس کے مقصد ومعنی کو بھی دیکھا جاتا ہے۔
    ابو یوسف کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اہل الرائے میں سے ہیں اور صرف اسی کو بنیاد بنا کر اکثر نے انہیں ضعیف کہہ دیا ہے نہ کہ ان کی حدیث کو پرکھ کر۔ جیسے امام احمد نے تو دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا:
    "صدوق، ولكن من أصحاب أبي حنيفة، لا ينبغي أن يروي عنه شيء." اس سے پتہ چلتا ہے کہ اکثر محدثین نے ان پر جرح ان کی رائے کی وجہ سے کی ہے۔ اسی لئے محقق الضعفاء الصغیر للبخاری نے امام بخاری کے قول کے تحت لکھا ہے: " والظاهر أن البخاري رحمه الله وغيره تكلموا فيه لأجل الرأي، لا لضعفه
    ویسے تو یہ جرح اگر حدیث کو پرکھ کر کی جائے تو یقینا مفسر ہے۔ بلکہ ہر وہ جرح مفسر ہے جس میں راوی کی حدیث، تحمل روایت، یا اس کے حفظ وضبط پر جرح کی گئی ہو، لیکن جہاں کہیں بھی یہ شک ہو جائے کہ حدیث کے علاوہ کسی چیز کی وجہ سے اس پر جرح کی گئی ہے تو وہ جرح مفسر بھی مفسر نہیں رہتی خاص کر جب بات ان الفاظ کی ہو جو عموم پر بھی بولے جا سکتے ہیں جیسے کذاب، ضعیف، متروک۔ اس کے برعکس اگر "متروک الحدیث" ہوتا تو بات اور تھی۔ اور اس قول میں دیکھیں تو امام بخاری نے انہیں ترکوہ کہا ہے یعنی یحیی القطان، ابن مہدی، اور وکیع نے انہیں ترک کیا ہے۔ اور جب ہم ان کے قول دیکھتے ہیں کہ انہوں نے ترک کیوں کیا ہے تو یحیی القطان یہ وجہ بتاتے ہیں کہ وہ مرجئی ہے یعنی یہ بھی مذہب کی وجہ سے جرح کی گئی ہے نہ کہ حدیث میں ضعف کی وجہ سے۔ اور ترک کرنے کی یہ کوئی وجہ نہیں ہے۔ اسی لئے ابو یوسف کے معاملے میں صحیح اور اعدل رائے وہی ہے جو ان کی حدیث کے مد نظر ان کے مخالفینِ مذہب تک نے دی ہیں اور اس سے بڑی انصاف کی مثال اور کیا ہو سکتی ہے، برعکس اس رائے کہ جو ان کے مذہب اور رائے کو مدنظر رکھ کر دی گئی ہے اور اس بات کو وہ خود اپنی زبان سے کہتے نظر آتے ہیں۔ دونوں میں فرق واضح ترین ہے۔
    واللہ اعلم۔
     
  8. ‏اکتوبر 17، 2016 #28
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    وہ سوال کیا ہے؟
     
  9. ‏اکتوبر 17، 2016 #29
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,311
    موصول شکریہ جات:
    1,070
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    جزاکم اللہ خیرا محترم بھائی
     
  10. ‏اکتوبر 17، 2016 #30
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    سوال یہ ہے کہ امام احمد کی مسند حدیث کی کتابوں میں جمع حدیث کے حوالے سے اعلی ترین کتاب ہے. آپ نے یہ اسی لیے لکھی تھی کہ اگر کوئی روایت اس میں نہ ملے تو سمجھ لیا جائے کہ اس میں کوئی مسئلہ ہے. دوسرا امام احمد رح فقاہت و حدیث دونوں میں ماہر تھے. غلط کو صحیح سے جدا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے تھے. تیسرا آپ نے ان روایات کو بھی نقل کیا ہے جو آپ کے مسلک کے خلاف تھیں.
    چوتھا آپ نے ضعیف رواۃ سے بھی روایات نقل کی ہیں
    تو پھر قاضی ابو یوسف رح کو ترک کرنے کی کیا وجہ ہے؟ جب کہ وہ خود ان کی توثیق کر رہے ہیں. صرف اس بات کو ناپسند کر رہے ہیں کہ وہ ابو حنیفہ کے ساتھی ہیں. اور صرف اس بنا پر ان کی روایات لینے اور کرنے سے رکنا تو خاکم بدہن امام ابو حنیفہ یا اصحاب الرائے سے تعصب کو ظاہر کرتا ہے. یا پھر کیا یہ بھی مسئلہ خلق قرآن کا کوئی نتیجہ تھا؟
    جن محدثین نے عموما اصحاب الرائے کی روایات کو نہیں لیا ان پر بھی یہ سوال اٹھتا ہے کہ انہوں نے کیوں نہیں لیا؟ اگر آج یہ کوئی وجہ نہیں ہے تو اس زمانے میں بھی نہیں تھی. لیکن ہم وہاں یہ توجیہ کر سکتے ہیں کہ انہوں نے اس خوف سے نہیں لیا ہوگا کہ غلط احادیث یعنی جن میں رائے کی آمیزش ہو گئی ہو وہ روایت نہ ہو جائیں (حالانکہ زہری رح کے ادراجات اور تطبیقات و جمع کو روایت کرنا اس توجیہ کو باطل کرتا ہے) لیکن امام احمد رح کے حوالے سے یہ توجیہ نہیں کی جا سکتی.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں