1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

توثیق قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ

'ثقہ رواۃ' میں موضوعات آغاز کردہ از رضا میاں, ‏جنوری 02، 2015۔

  1. ‏اکتوبر 17، 2016 #31
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    اس میں اس بات کو بھی لحاظ میں رکھا جائے کہ امام احمد رح نے مسند میں امام ابوحنیفہ رح سے بھی ایک روایت کی ہے لیکن وہاں ان کا نام نہیں لیا. بعد کے محدثین نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہاں امام ابو حنیفہ رح ہیں. البانی رح بھی یہی فرماتے ہیں.
    ضعیف سے ضعیف یا وضاع راوی تک کو آپ اگر نام سے ذکر کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کریں اور ایک خاص شخصیت سے روایت کرتے ہوئے اس کے نام کو چھپا لیں تو اس کا کیا مطلب لیا جا سکتا ہے؟
     
  2. ‏اکتوبر 17، 2016 #32
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    عدالت وضبط کے علاوہ بعض محدثین کے نزدیک توثیق کے لئے ایک اور شرط مشہور ہے اور وہ یہ ہے کہ راوی بدعتی نہ ہو یا بدعت کی طرف دعوت دینے والا نہ ہو، اور امام احمد ان میں شامل ہیں۔ چنانچہ امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: وأهل السنة والحديث يهجرون الداعية إلى البدع من الكلام أو الرأي أو العيادة، ولهذا كان أهل السنة قد تجنبوا فيها الرواية عن الدعاة إلى البدع عندهم من أهل الكلام كعمرو بن عبيد وغيره، ومن أهل الرأي كأهل الرأي من أهل الكوفة، وهو فعل أحمد بن حنبل معهم، وهذا تفصيله مذكور في غير هذا الموضع. (جامع المسائل لابن تیمیہ المجموعہ الثامنہ: ص 76)۔
    اور ابو یوسف چونکہ نہ صرف اہل رائے میں سے تھے بلکہ ان کے ائمہ میں سے تھے اور اپنی بعض آراء کی وجہ سے خاصے بدنام بھی تھے اس لئے امام احمد نے ان سے روایت لینے سے انکار کیا ہے۔
    اس میں تعصب والی بات نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے کی وجہ اور حکمت بھی وہی ہے جو دیگر محدثین کے نزدیک الداعی الی البدعہ راوی کی روایت کے انکار کی ہے۔

    اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اہل الرائے خصوصا فن حدیث سے نا واقف گردانے جاتے ہیں، تو چاہے ان میں کوئی سچا اور حافظ بھی کیوں نہ ہو اگر اسے اخذ حدیث اور علوم حدیث سے واقفیت نہ ہو گی تو کیا فائدہ۔

    ان دونوں میں کافی فرق ہے۔
    اولا: زہری کے ادراجات ان کی اپنی طرف سے نہیں تھے یعنی انہوں نے خود حدیث کے الفاظ میں اضافہ نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے تو اپنے شاگردوں کو حدیث سناتے ہوئے جب کسی مشکل الفاظ کی وضاحت کی، جو ہر استاد کرتا ہے، تو سننے والوں نے اپنی غلطی کی وجہ سے انہیں حدیث کے ہی الفاظ سمجھ لیا اور حدیث میں داخل کر دیا۔
    ثانیا: اسی لئے ان کے دیگر شاگردوں کی روایت کے زریعے زہری کے ادراجات کو اصل متن سے الگ کرنا مشکل کام نہیں۔ لہٰذا اس کا اور اہل رائے یا اہل بدعت کا اپنی روایت میں اپنی رائے اور بدعت سے متاثر ہونے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
    ثالثا: امام زہری اہل سنت کے مشہور امام ہیں، ان کا کسی بدعت یا قیاس و رائے کی طرف مائل ہونا ثابت نہیں ہے لہٰذا ان کی روایت میں کسی بدعت یا قیاس آرائیوں کے شامل ہونے یا اس کے اثر انداز ہونے کا شک کیسے ہو سکتا ہے؟
    رابعا: امام زہری کے ادراجات یا وہ الفاظ جو انہوں نے حدیث کی تفصیل وشرح میں کہے ہیں، وہ بھی کسی رائے پر مبنی نہیں ہوتے خاص کر وہ رائے جس کی وجہ سے اہل الرائے اہل الرائے کہلاتے ہیں، بلکہ ان کے ادراجات بھی حدیث کے الفاظ پر ہی دلالت کرتے ہیں، اور حدیث کے متن سے ہی ماخوذ ہوتے ہیں۔ جبکہ اہل الرائے احادیث کی بعید سے بعید تر تاویلات، قیاس، اور بال کی کھال نکالنے کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔

    اسی لئے دونوں کو ایک نہیں کہا جا سکتا۔ ایک فقہ الحدیث ہے اور دوسری فقہ الرائے۔

    واللہ اعلم۔
     
  3. ‏اکتوبر 17، 2016 #33
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    یہ بات غلط ہے کہ امام احمد نے وضاع کی روایت اپنی مسند میں نقل کی ہو بلکہ انہوں نے صرف وہی روایات نقل کی ہیں جن کے راوی غلطیاں کرتے ہیں لیکن عمدا جھوٹ نہیں بولتے۔ ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
    من قد يغلط في الحديث ولا يتعمد الكذب : هؤلاء توجد الرواية عنهم في السنن ومسند الإمام أحمد ونحوه . (مجموع الفتاوی: 1:248)۔

    جہاں تک بات ہے نام نہ لینے کی تو یہ عمل محدثین میں کافی عام ہے اور اس کے اسباب بھی کئی ہیں۔ مثلا راوی کا عمر میں چھوٹے ہونا، یا محدث کا ضعفاء سے روایت نہ کرنا، یا راوی کے عیب کو چھپانا، یا راوی کا ہجر مقصود ہونا، یا محدث کو یہ خوف ہونا کہ لوگ اس کی روایت کو توثیق نہ سمجھ لیں وغیرہ وغیرہ۔
    اور اس کیس میں بھی امام احمد کا مقصد عام لوگوں سے ابو حنیفہ کے نام کو چھپانا ہے کیونکہ امام احمد اس وقت ایک سپریم لیڈر کے رتبے پر فائز تھے اور ان کا کوئی بھی عمل لوگوں کے لئے مثال بن سکتا ہے۔ اسی لئے انہوں نے امام ابو حنیفہ کا نام نہیں لیا۔ کیونکہ وہ خود اہل الرائے اور اہل البدعہ سے روایت لینے کے قائل نہیں تھے تو اگر وہ خود ہی یہ عمل کر لیں تو لوگوں میں غلط فہمی پیدا ہو جاتی۔
    اور نہ صرف امام احمد دیگر کئی ائمہ میں بھی یہ رواج عام ہے، اور اس کے پیچھے کی حکمت کو جاننے کے بعد کوئی بھی یہی کہے گا کہ یہ معقول عمل ہے۔
     
  4. ‏اکتوبر 17، 2016 #34
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    رائے کے حوالے سے تو فقہ کو بدعت شمار کیا ہی نہیں جا سکتا. خصوصا اس وقت جب اکثر مسائل میں اہل الرائے کے ساتھ امام مالک رح یا سفیان ثوری رح یا ابراہیم نخعی رح کی رائے بھی وہی ہو. اس کے علاوہ جو مسائل صحابہ کرام رض میں سے کسی سے مروی ہیں وہ الگ ہیں.
    یعنی فقہ کی بنیاد پر تو شاید ہم یہ نہ سوچ سکیں کہ امام احمد اہل الرائے کو مبتدعین میں شمار کر رہے ہوں.
    ہاں مسئلہ ایمان کے اختلاف کو اس زمانے میں بڑا سمجھا جاتا تھا. اسی طرح خلق قرآن وغیرہ کو جس کی ابو یوسف رح نے نفی کی ہے. تو ہو سکتا ہے اس بنیاد وہ انہیں اہل بدعت میں شمار کرتے ہوں.
    تو کیا ایسی صورت میں ہم "اہل الرائے" سے متعلق امام احمد کی جرحوں کو اسی محمل پر محمول کریں گے؟
    اس صورت میں کیا یہ جرحیں معتبر ہوں گی؟ یا نہیں؟

    اس پر میں زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا. بخاری میں ایک روایت ہے جس میں حضرت عمر رض اور غالبا فاطمہ رض کے بیچ میں ایک معاملے کا ذکر ہے. وہاں زہری رح نے چار روایات کو جمع کر دیا ہے اور ساتھ میں اپنی رائے بھی بیچ میں بیان کی ہے. اس روایت کی وجہ سے زہری پر تشیع کا الزام بھی لگا ہے اور اس روایت کو شیعہ حضرات کافی پیش کرتے ہیں. بعد کے محدثین نے اس روایت کے طرق کو الگ الگ کر کے صحیح صورت حال واضح کی.
    لیکن بات یہ ہے کہ یہ کام ابو یوسف رح کی روایات میں بھی ہو سکتا تھا اور دیگر اہل الرائے کی بھی. اور امام احمد جیسے محدث و فقیہ تو آرام سے کر سکتے تھے جیسا کہ آپ رح نے مسند کی بعض روایات پر حکم لگایا ہے. اور اگر وہ نہ کرتے تو بعد والے کر دیتے. آخر شیعہ راویوں کی باطل روایات بھی تو کتب حدیث میں روایت ہو گئی ہیں. تو اس ترک کو امام نے اتنا اہم کیوں جان لیا؟

    یہ لنک دیکھیے.
    https://islamqa.info/ar/159828

    اس میں ایک راوی کا ذکر ہے. اور اگر بات راوی کی نہیں روایات کی کریں تو باطل یا شبہ باطل ایک سے زائد روایات موجود ہیں.

    یہ فقط ایک تاویل نہیں ہے؟ مسند احمد میں شیعہ کی گھڑی ہوئی روایات موجود ہیں (ان میں سے ایک غالبا باب علی والی روایت ہے جس پر ابن تیمیہ رح نے منہاج میں رد کیا ہے), ضعفاء کی روایات موجود ہیں, اباطیل و مناکیر موجود ہیں, جب کسی کی روایت سے اس کی توثیق ثابت نہیں ہوتی تھی تو پھر اما ابو حنیفہ رح کا نام لینے سے کیسے ثابت ہو جاتی؟ اور اگر اس کا شبہ تھا تو روایت نہ لیتے. روایت لے کر نام چھپانے کا کیا فائدہ تھا. وہ تو بعد میں ظاہر ہو ہی جانا تھا اور ہو گیا.
     
    Last edited: ‏اکتوبر 17، 2016
  5. ‏اکتوبر 19، 2016 #35
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

  6. ‏اکتوبر 19، 2016 #36
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    بات نتیجے کی نہیں ہے بلکہ طریقہ استنباط کی ہے، جو اہل الرائے ک معاملے میں اکثر حدیث سے زیادہ قیاس، تاویلات، اور شبہات پر مبنی ہے۔ اہل کوفہ سب کے سب عمومی طور پر کوفی فقہ کے پیروکار تھے اس لئے ان کے مسائل بھی ایک جیسے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ سفیان الثوری، اور ابراہیم نخعی وغیرہ احادیث وآثار کے زریعے ان مسائل تک پہنچتے تھے اور اہل الرائے انہیں مسائل اور نتیجوں تک پہنچنے کے لئے مذکورہ چیزوں کا استعمال کرتے تھے۔
    اس لئے محض فقہ کا مسئلہ ہی نہیں ہے یہ۔ اگر ہوتا تو دیگر ائمہ کو اہل الرائے سے دقت ہی کیا ہوتی، جبکہ برعکس اس کے ابراہیم نخعی جیسے امام جو ابو حنیفہ سے پہلے کہ ہیں نے بھی فرمایا ہے: "أصحاب الرأي: أعداء أصحاب السنن" (حلیۃ)۔
    اور دیگر ائمہ نے بھی رائے اور اصحاب الرائے کی شدید سے شدید مذمت کی ہے، دیکھیں لنک

    بھائی جیسا کہ میں نے کہا مدرج الفاظ کو متن سے الگ کرنا اور چیز ہے اور شیعہ یا بدعتی راوی کی بدعت کا اس کی روایت میں اثر انداز ہونا اور چیز ہے۔ ادراج راوی کی طرف سے نہیں بلکہ سننے والوں کی غلطی کی وجہ سے ہوتا ہے جسے دیگر سننے والوں کی صحیح روایات سے ملا کر الگ کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ اس میں ایسا ہرگز نہیں ہے کیونکہ بدعتی اپنی روایت میں خود اپنی بدعت سے متاثر ہوتا ہے اس لئے غلطی اس کی طرف سے آتی ہے، اب اس میں ایسا معاملہ تو نہیں ہے نہ کہ بدعتی اپنی روایت کو صحیح بیان کرے اور سننے والوں کو الہام ہو جائے اور وہ اسے بدعت کی ملاوٹ کے ساتھ سنیں اس لئے اسے دوسرے لوگوں کے سماع سے صحیح کر لیا جائے!؟ اس میں تو امام احمد کی مہارت بھی کام نہیں آ سکتی الا یہ کہ وہی روایت کوئی غیر بدعتی راوی صحیح طریقے سے بیان کرے۔ اس کے علاوہ تو اس بدعتی روایت میں بدعت کا اثر نکالنے کا اور کوئی طریقہ نہیں ہے۔
    یہ دو الگ چیزیں ہیں جن کو آپ نے مکس کردیا ہے۔

    یقینا مسند احمد میں باطل اور موضوع روایات ہیں لیکن میرا کہنے کا مطلب تھا کہ امام احمد کے نزدیک اس میں صرف انہی لوگوں کی روایات ہیں جن کے بارے میں ابن تیمیہ نے فرمایا: "من قد يغلط في الحديث ولا يتعمد الكذب : هؤلاء توجد الرواية عنهم في السنن ومسند الإمام أحمد ونحوه"۔ ورنہ اگر ایسا ہوتا تو مسند میں ایسے لوگوں کی روایات بکثرت پائی جاتیں، جبکہ ایسا نہیں ہے۔ اور اگر ایک دو جگہ پر ایسا ہے بھی تو اس کے متعلق امام احمد نے وہیں پر وضاحت بھی کر دی ہے، لیکن پوائینٹ یہ ہے کہ عمومی لحاظ سے مسند احمد میں امام احمد نے جھوٹے اور وضاعین کی روایت سے اجتناب کیا ہے۔ لہٰذا اس ایک مثال کی بنیاد پر اسے ایک اصولی بات کے طور پر پیش کرنا تو خیر مناسب نہیں ہے۔

    آپ نے امام احمد کو متعصب ثابت کرنے کے لئے جو تفصیلات پیش کی ہیں وہ کیا تاویل نہیں ہے، ابتسامہ!
    فرق صرف اتنا ہے کہ میں نے حسن ظن کی بنیاد پر ایک امام المسلمین کے رتبے اور مقام کے لائق تاویل پیش کی اور آپ نے بد ظنی کی بنیاد پر ایسا کر دیا۔ حالانکہ اپنی اس تاویل کی میں نے آپ کو معقول وجہ اور محدثین کا عام طرز عمل بھی بتایا ہے جس پر امام احمد کا عمل پورا مطابقت بھی کرتا ہے۔ لیکن پھر بھی اگر آپ کو یہ ان کے تعصب کا نتیجہ لگتا ہے تو مجھے اس سے کوئی پرابلم نہیں ہے۔ لیکن تعصب ہوتا کیا ہے یہ مجھے بتائیں، تا کہ اس مسئلے کو زیادہ اچھی طرح سمجھ سکیں۔

    بات توثیق کے خوف کی نہیں ہے بلکہ بات ہے ابو حنیفہ کے بدنام ہونے کی۔ آپ خوب جانتے ہیں کہ اس زمانے میں ائمہ کرام کے نزدیک امام ابو حنیفہ کا کیا مقام تھا۔ ان کے ہم عصر علماء سے لے کر ہر کوئی انہیں ان کے کئی مسئلوں کی وجہ سے انہیں بدنامِ زمانہ جانتے تھے، بلکہ کفر کا فتوی بھی لگ چکا تھا۔ ایسے میں ایک محدث انہیں بدعتی، اور گمراہ سمجھتے ہوئے روایت میں ان کا نام نہ لے تو کیا آپ اسے تعصب کہیں گے یا بدعتی اور کفریہ عقائد کے پرچار کے رد میں ایک شرعی جائز عمل کہیں گے؟
    یاد رہے کہ یہاں امام احمد کے نقطہ نظر کی بات ہورہی ہے نہ کہ ہمارے!

    خیر آپ کو اپنی رائے رکھنے کا بھی حق ہے۔ دراصل میں تھوڑا بزی ہوتا ہوں اس لئے اتنی لمبی بحثیں زیادہ دیر تک قائم نہیں رکھ سکتا۔ اس لئے آئیندہ غیر جوابی یا دیری کے لئے معذرت چاہتا ہوں۔
    والسلام۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏اکتوبر 19، 2016 #37
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    جزاک اللہ خیرا.
    شرح صدر نہیں ہوا لیکن چھوڑیں.
    امام احمد رح کی جانب تعصب کی نسبت سے میں وہ تعصب نہیں مراد لے رہا جو عموما سمجھا جاتا ہے اور بلاوجہ ہوتا ہے.
    بعض اوقات کسی شخص کا تعصب اس کے لحاظ سے بالکل برمحل اور درست ہوتا ہے. مثال کے طور پر وہ دوسرے کو عقیدے یا کسی عمل میں غلط سمجھنے کی وجہ سے اس کے خلاف ہوتا ہے جیسا کہ آپ نے خود امام ابو یوسف رح پر محدثین کی فقہی بنیادوں پر جرح نقل کی. وہ محدثین متعصب نہیں تھے لیکن انہوں نے فقہ میں غلط جان کر احادیث قبول نہیں کیں. اسی طرح ہم امام احمد رح کے بارے میں بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ امام ابوحنیفہ رح کو غلط سمجھتے تھے تو ان کے خلاف للہ تعصب رکھتے تھے. یہ امام احمد رح کی تنقیص نہیں بلکہ تعظیم ہے. اور ساتھ میں ابو یوسف رح سے متعلق اس جرح کی وجہ بھی سمجھ میں آجاتی ہے. میری قلیل فہم میں یہ بات آتی ہے.
    آپ کا قیمتی وقت ضائع کرنے پر شرمسار اور معذرت خواہ ہوں.
     
  8. ‏اکتوبر 20، 2016 #38
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    رب اشرح لی صدری پڑھیں، ان شاء اللہ ہو جائے گا۔ ابتسامہ

    جزاک اللہ خیرا۔ اللہ ہمیں اور آپ کو مرتے دم تک ہدایت پر قائم رکھے، اور ہمارے دلوں کو اس کے دین کی خاطر مخلص رکھے، آمین۔
     
  9. ‏اپریل 03، 2017 #39
    رحمانی

    رحمانی رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 13، 2015
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    102
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    مام یزید بن ہارون فرماتے ہیں: "لا يحل الرواية عنه، إنه كان يعطي أموال اليتامي مضاربة ويجعل الربح لنفسه" اس سے روایت کرنا حلال نہیں ہے، یہ (ابو یوسف) یتیموں کے مال بطورِ مضاربت (تجارت میں) لگاتا اور اس کا نفع خود کھا جاتا تھا۔
    (الضعفاء للعقیلی 4/440 وسندہ صحیح، تاریخ بغداد 14/258 وسندہ صحیح)
    جہاں تک میری سمجھ کی بات ہے، اس مسئلہ کی صورت اورنوعیت دوسری ہے، لیکن واضح نہ ہونے کی وجہ سے اس کی شکل بری ہوگئی ہے یابرابناکر پیش کیاگیاہے
    امام ابویوسف چیف جسٹس تھے،ان سے زیادہ بھروسہ مند شخص کون ہوسکتاتھاجن کو یتیموں کے اموال کا والی بنایاجائے،یتیموں کے اموال ان کی نگرانی میں رہتے تھے،لیکن ظاہرسی بات ہے کہ یہ اموال بطورامانت تھے اور امانت کا مال اگرضائع ہوجائے تو امانت دار پر کسی طرح کاالزام عائد نہیں ہوتا اورنہ ہی وہ اس مال کو واپس کرنے کا ذمہ دار ہے
    امانت کے مال کے سلسلہ میں قاعدہ یہ ہے کہ امانت دار یاامین اس مال میں کسی طرح کا تصرف نہیں کرسکتا،نہ اس مال کو کسی طرح خرچ کرسکتاہے ،نہ اس میں تجارت کرسکتاہے اور نہ اورکچھ ۔
    اگرہم کسی کے پاس کوئی مال بطور قرض رکھوائیں اور وہ اس سے ضائع ہوگیا تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس مال کو لوٹائے ۔
    مثلاًہم نے ایک لاکھ روپے اشماریہ صاحب کے پاس بطور امانت رکھوائے ،وہ چوری ہوگئے، ڈکیتی میں ڈکیٹ لوٹ کر لے گئے، تواب اشماریہ صاحب پر لازم اور واجب نہیں ہے کہ وہ اس مال کو لوٹائیں،یہ نقصان صاحب مال کا ہوا۔
    لیکن اگر ایساہو کہ اشماریہ صاحب کے پاس ہم ایک لاکھ روپے بطور امانت رکھوائے تھے، اشماریہ صاحب نے کہاکہ میں اسے بطور امانت نہیں بطور قرض لیتاہوں اورجب آپ کو ضرورت ہوگی واپس کردوں گا، تواب اشماریہ صاحب کیلئے جائز ہے کہ وہ اس مال میں ہر طرح کا تصرف کریں چاہیں تو تجارت کریں،،بطور قرض لینے کے بعد اگرایساہوتاہے کہ وہ ایک لاکھ روپے گھر میں رکھے تھے اور چوری ہوگئے یاکسی اور طرح سے ضائع ہوگئے تواشماریہ صاحب پر لازم ہے کہ وہ ایک لاکھ روپے مجھ کو واپس کریں۔
    حضرت امام ابویوسف علیہ الرحمہ کے پاس یتیموں کے مال جو بطور امانت رکھے جاتے تھے، حضرت امام ابویوسف اس مال کوبطور امانت نہیں بلکہ بطور قرض لیتے تھے، اس میں یتیموں کا فائدہ یہ تھاکہ مال کسی بھی طرح سے اگرضائع ہوتا تواس کی ذمہ داری امام ابویوسف پر ہوتی اوران کو وہ مال یتیموں کو لوٹاناپڑتا،اس طرح سے یتیموں کا مال ضیاع کے ہرخطرہ سے محفوظ ہوجاتاتھا، اس مال کو بطور قرض لینے کے بعد امام ابویوسف کا اس سے تجارت کرنا ،تجارتی نفع خود رکھنا دونوں جائز ہیں، اوراس میں کسی قسم کا کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔
    ہوسکتاہے کہ یزید بن ہارون کی رائے اس مسئلہ میں دوسری ہو،لیکن امام ابویوسف کے کردار اورسیرت پر یہ بات کوئی داغ نہیں بلکہ زینت ہے کہ اس طریقہ میں یتیموں کے مال کا تحفظ بھی ہے اور خود کانفع بھی ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں