1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

توحیدحاکمیت ، فہم سلف اور تکفیر

'کفر' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ عبدل, ‏نومبر 27، 2011۔

  1. ‏نومبر 27، 2011 #1
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    بسم اللہ الرحمن الرحیم​

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ توحید حاکمیت کی اصطلاح سلف صالحین میں نہ تھی یہ جدید دور کی اصطلاح ہے گو کہ بوقت ضرورت نئی اصطلاح وضع کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن بغیر کسی وجہ و ضرورت کے نئی نئی اصطلاحات کا استعمال ذہنی انتشار کا باعث بن جاتا ہے ۔
    بالخصوص جب کوئی شخص تو حید حاکمیت کی اصطلاح کو ایسے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے کہ اس سے کئی ایک مزید بدعتی افکار جنم لیتے ہوں یا توحید کا صحیح تصور مسخ ہو رہا ہو یا توحید کی اقسام کی مساوی اہمیت میں عدم توازن پیدا کیا جا رہا ہو یا دین کے کسی شعبے میں اس اصطلاح کے ذریعہ غلو پیدا کیا جا رہا ہو تو ایسے حالات میں توحید کے صحیح تصور کی حفاظت کی خاطر بلا شبہ اس اصطلاح کے استعمال سے رک جانا چاہیے ۔
    ہمارے موجودہ دور میں اس اصطلاح کی آڑ میں جن فتنوں نے جنم لیا ہے وہ کسی صاحب نظر سے مخفی نہیں لہذ ا ایسی نئی اصطلاحات سے اجتناب کرتے ہوئے سلف صالحین کی بیان کردہ اصطلاحات پر اکتفا کرنا چاہیے ۔
    توحید حاکمیت اور تکفیر

    صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے خلاف خروج کرنے والوں نے توحید حاکمیت کی بنیاد پر تکفیری مہم کا آغاز کیا اور درج ذیل آیات :
    وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ 44؀
    کو خود ساختہ مفہوم پہنا کر مسلمانوں کے جان ، مال ، اور عزتوں کو حلال قرار دیدیا بعنیہ آج بھی بہت سارے لوگ توحید حاکمیت کی بنا ء پر امت مسلمہ کے حکمرانوں اور دیگر ذمہ دارنوں کی تکفیر کرتے نظر آ رہے ہیں لیکن یہاں یہ بات ملحوظ رہے ہمارے مقصد نہ کسی ظالم فاسق کا دفاعکر کے اس کی حوصلہ افزائی یا اس کو گناہ پر جری کرنا نہیں اور نہ ہی علمی میدان میں کسی مخالف نظریہ والے افراد کی تکفیر کرنا ہے بلکہ محض شرعی نقطہ نگاہ سے اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ آیت تحکیم :
    کا صحیح مفہوم کیا اور سلف صالحین صحابہ کرام و تابعین و دیگر ائمہ محدثین و مفسریننے اس کا کیا معنی مراد لیا ہے تاکہ ہم نفس مسئلہ کو سمجھنے میں غلطی دے محفوظ رہیں ۔
    اس بات پر جمیع سلف صالحین کا اتفاق ہے کہ اس آیت :
    وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ 44؀
    کے مطابق فیصلہ کرنا علمی یا مجازی کفر ہے یعنی یہ ایسا کفر ہے جو ملت اسلامیہ سے اخراج کا باعث نہیں بنتا جب تک کہ فاعل (یہ کام کرنے والا) اس فعل کو جائز اور حلال نہ سمجھتا ہو ۔
    آیت ہذا کا مفہوم سلف صالحین :
    1- سید نا عبداللہ بن عباس  سے مروی ہے : وہ فرماتے ہیں یہ وہ کفر نہیں ہے جس طرح یہ لوگ جا رہے کیونکہ یہ وہ کفر نہیں ہے جو دائرہ اسلام سے خارج کر دے
    ‘‘وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ 44؀’’
    ( المائدہ 44)
    آیت میں کفر دون کفر ہے ( یعنی کبیرہ گناہ ) کرنا ہے ۔
    ( مستدرک حاکم کتاب التفسیر ، تفسیر سورۃ المائدہ ص427 ، ج:2، رقم 3269 )
    2۔ سید التابعین عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ علیہ کا فیصلہ :
    یہ ہیں اس سے مراد کفر دون کفر ہے
    ( تفسیر طبری ص:554، ج: 4 ، رقم 12061)
    3۔ سیدنا عبداللہ بن عباس کے شاگرد سیدنا طاؤس کا فیصلہ :
    وہ اس آیت
    ‘‘وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ 44؀’’
    کے بارے میں فرماتے ہیں یہ کفر ( کبیرہ گناہ ) ہے اور اللہ تعالی اس کے فرشتوں اور کتابوں اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر جیسا نہیں ۔
    ( تفسیر طبرای ، ص: 554 ، ج:4، رقم : 12067)
    بقیہ اثر ابن عباس
    تفسیر ابن عباس کی تصحیح کرنے والے ائمہ و مفسرین رحمھم اللہ
    1- امام حاکم فی المستدرک ، صفحہ : 427 ، ج: 2
    2- امام ذھبی فی تلخیص المستدرک ، ص : 427، ج : 2، تحت رقم : 3269
    3- محمد بن نصر المووزی ( تعظیم قدر الصلاۃ ، ص: 520،ج: 2
    4- امام قرطبی ۔ الجامع لاحکام القرآن ، ص124، ج: 2، افرای ، ص190،ج:6
    5- امام ابو امظفر المعانی فی تفسیرہ ، ص :42، ج: 2
    6- اما م بغوی فی معالم التنزیل ، ص: 276،ج:2
    7- امام ابو بکر ابن العرابی المالکی فی ، احکام القرآن ، ص:624، ج: 2
    8- ابو عبیدہ القاسم بن سلام فی ‘‘ الایمان ’’ ، ص45
    9- ابن عبدالبر فی التمہید ، ص: 74، ج: 5 ، افرای ، ص: 237، ج: 4
    10- ابن تیمیہ ، مجموعہ الفتاوی ، ص: 312، ج: 7
    11- ابن القیم فی ، مدرج الساکس ، ص : 33
    12- ابن بطۃ فی ، الابانۃ ، ص: 723، ج : 2
    13- احمد شاکر و محمود محدث شاکر ، عمدۃ التفایر ، ص: 602-603 ، ج: 1
    14- الواحد ی فی لواسط ، ص: 191، ج: 2
    15- امام بقا عی فی نظم لددر ، ص:492، ج:3
    16- تفسیر خازن ، ص؛ 276، ج:2
    17- ابو حیان فی البحر الحبط ، ص: 492، ج: 3
    18- نواب صدیق حسن خان فی نیل الرام ، ص: 472، ج :2
    19- تفسیر سعدی ، ص: 296، ج: 2
    20- محمد امین الشنقطی فی الضواء البیان ، ص: 101،ج: 2
    21- الشیخ ناصرلدین لالبانی ، سلسلۃ الصحیحہ ، ص: 109، ج: 62
    وغیرہ ذالک
    1- امام احمد بن حنبل کا فیصلہ : امام اسماعیل بن سعد فرماتے ہیں نے امام احمد سے سوال کیا کہ اس آیت :
    ‘‘وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ 44؀’’
    سے کون سا کفر مراد ہے امام احمد رحمہ اللہ عنہ فرمایا ایسا کفر جو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتا ۔
    ( سوالا ت ابن ھانی ، ص: 192،ج:2)
    اسی امام ابو داؤد السجستانی ( صاحب سنن ابی داؤد ) نے جب امام احمد رحمہ اللہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا کہ اس سے کون سا کفر مراد ہے تو انہوں نے امام عطاء اور امام طاؤس کے قول کے مطابق جواب دیا یعنی وہ کفر مراد ہے جو دائزہ اسلام سے خارج نہیں کرتا ۔
    ( سوا لات ابی داؤد ( عن احمد ) ص :114 )
    1- امام محمد بن نصروری نے بھی یہی معنی بیان کیا ہے دیکھئے : تعظیم قدرالصلاۃ ، ص: 520، ج: 2 )
    2- امام ابن جریر الطبری المتودی 310ھ
    3- ابن بطہ العکبری التوفی 387؁ھ نے اپنی کتاب ابانہ میں ابب قائم کیا ہے ان گناہوں کا بیان جن کا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا او کے تحت مسئلہ الحکم بغیر ماانزل اللہ کو بیان کیا اور پھر اس کی تائید میں صحابہ کرام و تابعین کے اقوال نقل کر کے ثابت کیا اس سے مراد دائرہ اسلام سے خارج کرنے والا گناہ نہیں ۔ ( الابانۃ ، ص: 723 ، ج : 2)
    4- امام ابن عبدالبر شارح مؤطا اما م مالک : المتوفی 463؁ھ وہ بھی فرماتے ہیں اس سے مراد دائرہ اسلام سے خارج کرنے والا کفر نہیں ۔ ( التمھید لابن عبداللہ ، ص: 75، ج :5)
    5- امام سمعانی المتوفی 510؁ھ کا فیصلہ : انہوں نے بھی معنی بیان کیا ہے دیکھیے ان کی تفسیر ۔ ( ص: 42،ج: 2)
    6- امام ابن تیمیہ : دیکھئے ( مجموعہ الفتاوی ، ص: 254، ج: 7)
    7- امام محمد بن قیم الجوزی المتوفی 751؁ھ : مدارج السالکین ،ص: 336، ج:1
    8- امام ابن کثیر المتوفی 774؁ھ ( تفسیر ابن کثیر )
    9- امام ابن ابی العزالحنفی المتوفی 791؁ھ ( شرح عقیدہ الطاویہ ، ص:323)
    10- شارح بخاری امام ابن حجر العسقلانی المتوفی 850؁ھ ( فتح الباری ،ص:120،ج:13)
    11- امام فخر الدین الرازی المتوفی ؁ ( تفسیر کبیر ، ص 5-6 جزء 12)
    12- امام شاطبی المتوفی 790؁ ھ ( الاعتسام لشاطبی ،ص:692،ج:2)
    13- سید معین الدیں محمد بن عبدالرحمن المتوفی 894؁ ھ ( جامع البیان فی تفسیر القرآن ، ص: 247-248)
    14- جما ل الدین القاسمی المتوفی 1333؁ ھ ( تفسیر قاسمی )
    15- قاضی ثناء اللہ پانی پتی الحنفی المتوفی 1393؁ھ ( تفسیر المظھری ، ص:118، ج:3)
    16- نواب صدیق الحسن المتوفی 1357؁ ھ ( الدین الخالص ، ص: 28، جلد:3 ، طبع داراکتب العلمیہ بیروت )
    17- محمد امین الشنقطی المتوفی 1393؁ھ ( رضواء البیان ، ص: 104، ج:2)
    18- پیر بدیع الدین شاہ رشدی السندھی المتوفی 1416؁ھ : ( بدیع التفاسیر ، ص238، ج: 7، طبع جنوری 1998؁ھ)
    اس کے علاوہ عرب کے سلفی علماء اور دیگر متقد مین و متاخرین کو جمع کیا جو طویل فہرست تیار ہو سکتی ہے لیکن ہمارا مقصود تمام علماء سلف کا احاطہ نہیں بلکہ سلف سالحین کے موقف کو بالترتیب واضح کرنا ہے تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ اس اایت تفسیر میں سلف صالحین علی الاطلاق سے ارتداد مراد نہیں لیتے بلکہ اس سے ان کی مراد کبیرہ گناہ ہے ۔
     
  2. ‏مارچ 29، 2012 #2
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    میری رائے کے مطابق توحید حاکمیت کو الگ سے اک نئی قسم بنا کر بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اور اسکی ضرورت بھی ہے کہ حاکمیت کے مسئلہ کو اجاگر کیا جائے ۔ ہاں اس میں اعتدال کے دامن کو ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے ۔ عرب علمائے کرام کے علاوہ عجم اہل قلم نے بھی اس توحید حاکمیت کو مستقل طور پر مضامین اور کتابچوں میں بیان کیا ہے ۔
    اور اتفاق کی بات ہے کہ توحید حاکمیت پر مستقلا اردو زبان میں سب سے پہلے قلم اٹھانے والے موجودہ امیر جماعت الدعوۃ حافظ محمد سعید صاحب ہیں !۔ انکا یہ مضمون مجلہ الدعوۃ میں شائع ہوا تھا ۔
     
  3. ‏اپریل 11، 2012 #3
    رانا اویس سلفی

    رانا اویس سلفی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    387
    موصول شکریہ جات:
    1,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    جزک اﷲ خیرا
     
  4. ‏اپریل 12، 2012 #4
    ابن بشیر الحسینوی

    ابن بشیر الحسینوی رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    Pakistan
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    1,066
    موصول شکریہ جات:
    4,418
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے محترم حافظ سعید صاحب کے اس مضمون کے رد میں ایک مفصل مضمون لکھا تھا اور وہ الاعتصام میں شایع ہوا تھا ۔واللہ اعلم
     
  5. ‏اپریل 12، 2012 #5
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    محترم رفیق طاہر حفظہ اللہ نے لکھا:::
    محترم نہایت ادب و احترام کے ساتھ، توحید حاکمیت کا بیان ، اسکی وضاحتیں اور اس سے کٹنے کی قباحتیں بیان کرنا کوئی قابل تردید عمل نہیں اور نہ کسی بھی آئمہ و علماء سلف نے اس کو معیوب جانا۔ بلکہ علامہ البانی رح ،جو کہ توحید حاکمیت کو علیحدہ قسم بنانے والوں کے اس عمل کو "سیاسی ہتھکنڈا" قرار دیتے تھے ، نے خود توحید حاکمیت کو اپنے رسالے عصر حاضر میں شرعی سیاست میں خوب نکھارا ہے اور حاکمیت الہی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔
    توحید کے اس قسم کے بیان میں کسی کو اعتراض نہیں ۔!!!!!
    اعتراض ہے تو صرف اس ضمن میں ، کہ اسکو انہی تیں اقسام توحید میں رکھ کر بیان کیا جائے کہ صرف اسلاف کرتے آئیں ہیں نہ کہ علیحدہ، اور دوسرا کہ اس کو علیحدہ قسم میں ڈھال کر
    جو انسانیت سے مطلوب توحید ہے اسکو پس پشت نہ ڈالا جائے جیسے کہ آج ہمارے معاشرے میں ظلم بپا ہے اور اس خود ساختہ تقسیم پر باقاعدہ پوری پوری جماعتیں اور مناہج کھڑے ہیں، جو سب کو معلوم ہیں۔
    آپ سب احباب کے گوش گذار کرنا چاہتا ہوں کہ عصر حاضر کے تمام جید سلفی علما ء جن میں علامہ البانی رح، الشیخ ابن العثیمین رح، بن باز رح، الشیخ الصالح الفوزان حفظہ اللہ، صفی الرحمن مبارکپوری رح وغیرہ اس توحید حاکمیت کی نئی تقسیم کی بھرپور مذمت اور اسکو بدعت تک قرار دے چکے ہیں ، اس لئے توحید حاکمیت کی حقیقت آئمہ سلف کی نظر میں ایک مفید رسالہ ہے ، جس مین توحید حاکمیت علماء سلف کے اقوال بحوالہ موجود ہیں ، اور اس کے علاوہ سعودی کبار علماء کمیٹی کا فتوی بھی کیا توحید عبادت قدیم ہوچکی اور اب وقت توحید حاکمیت بیان کرنے کا ہے؟ بھی کافی مفید ہے تمام احباب ضرور استفادہ کیجئے۔

    میرا خیال ہے کہ اس بارے میں رائے کا اظہار کر چکا ہوں کہ توحید حاکمیت کا بیان ، اسکی وضاحتیں اور اس سے کٹنے کی قباحتیں بیان کرنا کوئی قابل تردید عمل نہیں اور نہ کسی بھی آئمہ و علماء سلف نے اس کو معیوب جانا۔
    لہذا حافظ صاحب محترم توحید حاکمیت کو خوب نکھار کر بیان ضرور کرتے ہیں ، مگر انہوں نے کبھی اسکو علیحدہ قسم قرار نہیں دیا اور نہ ہی اسکے مقابلے میں باقی اقسام توحید کو پس پشت ڈالا ، ،۔،۔،۔ اگر تو آپ کے علم میں ایسی کوئی یا حافظ محترم کا قول ہے تو ضرور پیش کیجئے ، استفادہ کے لئے، لیکن محض توحید حاکمیت کے ایسے معاشرے میں بیان کو، جہاں اس کو کوئی حیثیت ہی دی جاتی ہو، اہم ترین فریضہ ہے ، جیسا کہ علامہ البانی نے بھی یمن میں جمہوریت بارے سوال کے جواب میں خوب بیان کیا ہے اور اس رسالے کا لنک اوپر عصر حاضر میں شرعی سیاست کے نام سے موجود ہے۔
    امید ہے کہ میں اللہ کی توفیق سے ، حافظ صاحب محترم کے حوالے سے ، توحید حاکمیت کی تقسیم اور توحید حاکمیت کی ترویج میں فرق بیان کر پایا ہوں ، ۔

    جزاک اللہ خیرا

    اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اصلاح کے رستے سے کبھی نہ ہٹنے دے اور ہمارے لئے آسانیاں فرمائے۔،۔،۔،۔،۔، آمین
     
  6. ‏اپریل 12، 2012 #6
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    محترم ابن البشیر حفظہ اللہ نے لکھا:::
    حیرت ہے، جب محترم حافظ صاحب حفظہ اللہ نے توحید کی تقسیم کی ہی نہیں تو محض اس کے بیان پر یا اسکی اہمیت اور ضرورت کے بیان پر ، تو ہمارے نہایت محترم شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے رد کس بات پر لکھا؟

    اگر تو آپ میں سے کسی کے پاس حافظ صاحب محترم کا کوئی قول ، یا تحریر اس ضمن میں موجود ہو تو ضرور پیش کیجئے کہ جس میں انہوں نے توحید حاکمیت کو علیحدہ تقسیم کیا ہو؟؟؟
    میں نہایت شکر گزار ہوں گا۔

    لیکن ایک بات صاف ہے جماعۃ الدعوہ کے مکتب کے جس پر میرا چکر لگتا ہی رہتا ہے ، ایک بھی کتاب ایسی نہیں پاتا کہ جس میں توحید حاکمیت کو علیحدہ تقسیم کیا گیا ہو!
    اور اس کے علاوہ میں اکثر جمعہ بھی حافظ صاحب محترم کے پا س ہی پڑھتا ہوں ، مجھے کوئی ایسی تقسیم انکے قول میں بھی میسر نہیں آئی ، ماسوائے اس توحید حاکمیت کی ضرورت و اہمیت کے۔

    باقی افراد اگر میری رائے سے اختلاف رکھتے ہیں تو ضرور پیش فرمائے، انشاء اللہ دل فراغ حاضر ہے

    جزاک اللہ خیرا کثیرا
     
  7. ‏اپریل 12، 2012 #7
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    میرا سوال یہ ہے کہ توحید کی تین اقسام کس آیت یا حدیث سے نکالی گئی ہیں ؟ ان شاء اللہ جب آپ اس سوال کا جواب ڈھونڈیں گے تو توحید کی چوتھی یا پانچویں یا دسویں قسم کی دلیل بھی وہیں سے میسر آجائے گی !
    اور یہ تین اقسام بنانا جائز اور کوئی بھی چوتھی قسم بنانا کیوں ناجائز ہے ؟
    رہی یہ بات کہ اسلاف نے چوتھی قسم بیان نہیں کی تو یہ کوئی دلیل نہیں کیونکہ اسلاف حجت نہیں حجت صرف کتاب وسنت ہے ۔ فتدبر !
    حافظ سعید صاحب کی بیان کردہ توحید حاکمیت مجلۃ الدعوۃ ۲۰۰۱ میں غالبا مئی یا جون کے شمارہ میں موجود ہے ۔ کنفرم نہیں ۔ میں ان شاء اللہ تلاش کرکے اسکے سکین صفحات لگاتا ہوں ۔
    ویسے حافظ صاحب حفظہ اللہ کی کتاب "عقیدہ ومنہج" بھی دیکھ لیں اس میں بھی یہ قسم مستقلا موجود ہو گی ۔ کیونکہ مجلۃ الدعوۃ میں شائع ہونے والے انہی مضامین کو جمع کرکے وہ کتاب تیار کی گئی تھی ۔
     
  8. ‏اپریل 12، 2012 #8
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    جی مجھے معلوم ہے کہ شیخ اثری صاحب حفظہ اللہ نے بہت گرم قسم کا رد کیا تھا ۔ شیخ صاحب کے وہ ٹکور کرتے ہوئے الفاظ اب بھی میرے ذہن میں ہیں ۔ (ابتسامہ)
     
  9. ‏اپریل 12، 2012 #9
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    بات سادہ سی ہے کہ توحید کی یہ تقسیم کوئی توقیفی امر نہیں ہے ، امام ابن قیم وغیرہ نے توحید کو دو اقسام میں تقسیم بھی کیا ہے، اور اس تقسیم کے علاوہ بھی ایک اور تقسیم موجود ہے.

    اس کے علاوہ یہ بات قابل غور ہے کہ اس سارے شور میں جن مفروضہ حضرات کی اس تقسیم کو رد کیا جا رہا ہے وہ نہیں پائے بھی جاتے ہیں یا نہیں؟؟ پاکستان میں کوئی ہو تو ضرور بتائیں.

    حافظ صاحب نے عقیدہ و منہج میں فرمایا ہے کہ توحید حاکمیت کی اہمیت کے پیش نظر ہی کچھ علمائ نے اس کو الگ قسم کے طور پر بھی زکر فرمایا ہے. . . . اب انہی کی جماعت حاکمیت کا نام سنتے ہی آستینیں چڑھانے لگی ہے !!١

    والسلام
     
  10. ‏اپریل 13، 2012 #10
    رانا اویس سلفی

    رانا اویس سلفی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    387
    موصول شکریہ جات:
    1,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    شیخ بہت اچھا جواب ۔۔۔ شیخ اگر بہتر ہو تو تفصیل سے اس کا جواب دیں ۔۔۔ اپ کے اس کا تفصیل جواب فتنہ ختم ہونا کا سبب بن سکتا یا شیخ۔۔۔۔ اپ کے تفصیلی جواب کا انتظار کروں گا

    جزک اﷲ خیرا بھای
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں