1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

توحید حاکمیت توحید کی چوتھی قسم؟

'توحید حاکمیت' میں موضوعات آغاز کردہ از عمران اسلم, ‏دسمبر 23، 2012۔

  1. ‏دسمبر 26، 2012 #11
    عمران اسلم

    عمران اسلم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    318
    موصول شکریہ جات:
    1,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    150

    میرے بھائی آپ کے پیش کردہ اقتباس پر مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے بایں الفاظ تبصرہ کیا ہے:
    ’’نہیں معلوم کہ سلف میں ’بہت سے علما‘ کون ہیں؟ جنھوں نے حاکمیت کے مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر اسے الگ طور پر بیان کیا ہے؟ اگر محترم حافظ صاحب اس کی وضاحت فرما دیں تو ہم ان کے شکر گزار ہوں گے اور ان کی یہ وضاحت ہمارے لیے یقیناً معلومات میں اضافے کا باعث ہوگی۔‘‘ [مقالات اثری: ص328]
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 26، 2012 #12
    القول السدید

    القول السدید رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 30، 2012
    پیغامات:
    348
    موصول شکریہ جات:
    950
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاۃ
    جناب جناب جناب۔۔بروسا صاحب۔۔کمال تلبیس کرنا سیکھا ہے آپ نے بھائی جی۔
    پہلی جو بات ذہن نشین کر لیں:‏
    توحید حاکمیت ، توحید الوہیت کا ہی ایک جز ہے اور اگر اس کو جز ہی طور پر بیان کیا جائے تو سلف صالحین کے راستے پر ‏رہیں گے جو کہ خیر کا راستہ ہے اور اگر اس کی الگ قسم بنائی جائے اور اس سے باقی تمام اقسام توحید کو نظر انداز کرنے کا ‏کام لیا جائے اور توحید الوہیت اور توحید اسماء و صفات میں خورد برد کرنے والے بھی موحد بن جائیں اور اسلامی ملکوں ‏مین اس کی بنیاد پر بغاوتیں کھڑی کر کہ مسلمانوں کا امن و سکون ، جان و مال تہہ تیغ کیا جائے تو بلاشبہ یہ فتنہ اور گمراہی ‏ہی کا دروازہ ہے۔

    دوسرا امیر محترم حافظ محمد سعید حفظہ اللہ کا ایک ‏اقتباس جو آپ نے پیش کیا :‏

    حافظ سعید حفظہ اللہ نے توحید حاکمیت کی اہمیت کے لحاظ سے اس جزء کو ہی علیحدہ بیان کیا ہے نہ کہ اسے علیحدہ قسم میں ‏تقسیم کیا ہے۔ اور عرض ہے توحید حاکمیت کے بیان کی جہاں ضرورت ہو وہاں پورے زور سے بیان کرنا اور واضح کرنا ‏بھی سلف کا طریقہ ہے ، اس پر امام ابن تیمیہ ، محمد بن عبد الوھاب اور علامہ البانی رحمہ اللہ اجمعین سمیت بہت سے ‏علماء سلف کے اقوال موجود ہیں مگر توحید حاکمیت کی بنیاد پر انقلابی تحریکیں برپا کرنا ، موحد ہونے کے معیار مقرر کرنا ، ‏توحید الوہیت و اسماء و صفات کو مسخ کرنے والے بدعتی و گمراہ فرقوں کو موحد باور کروانا، حکمرانوں کے خلاف ‏بغاورتیں برپا کرنا وغیرہ وغیرہ۔ ۔ نہ یہ کام کسی صحابی نے کیا، نہ کسی تابعی نے کیا ، نہ کسی تبع تابعی نے کیا نہ ہی آئمہ سلف ‏نے کیا ، نہ ہی ابن تیمیہ رحمہ اللہ ‏ ، نہ ہی ابن القیم رحمہ اللہ ‏ ،نہ ہی احمد بن حنبل رحمہ اللہ ‏ ، نہ محمد بن ‏عبدالوھاب رحمہ اللہ ‏ نے، نہ ہی علامہ البانی رحمہ اللہ ‏ نے ، نہ ہی علامہ بن باز رحمہ اللہ ‏ نے اور الحمد اللہ نہ ہی ‏امیر محترم حافظ محمد سعید حفظہ اللہ نے یہ کام کیا۔
    لہذا اپنے گلے میں خود جھانکیئے کہ آپ کے اسلاف کون ہیں؟؟؟

    اب میں امیر محترم حافظ محمد سعید حفظہ اللہ کا اقتباس پیش کرتا ہوں جو آپ نے پیش کیا اور اس بارے وضاحت بھی ‏کرتا جو کہ خود اس میں موجود ہے‎:‎
    آپ نے لکھا ہے کہ :‏


    پہلی بات‎:‎
    جناب عالی ، آپ نے عبارت کے پہلے حصے پر بات ہی نہیں کی جو میں نے ہائی لائٹ کیا ہے؟؟؟
    پہلے حصے سے آپ نے یہ کیوں استدلال نہیں کیا کہ حافظ سعید حفظہ اللہ توحید حاکمیت کو توحید الوہیت کا ہی جز قرار دے ‏رہے ہیں ؟؟؟
    عبارت کا آخری حصہ پکڑ کر مرضی کا لباس چڑھا کر شور مچانا شروع کر دیا۔
    یہاں پر امام ابن تیمہ رحمہ اللہ کا وہ مشہور قول یا د آ رہا ہے کہ ‏
    آپ فرماتے ہیں:۔
    فلاتجد قط مبتدعا الا ویحب کتمان النصوص التی تخالفہ،ویبغضھا،ویبغض اظھار ھا،وروایتھا،والتحدث ‏بھا،ویبغض من یفعل ذلک(الفتاوی ۲۰|۱۶۱ باب:الخوارج کلاب اھل النار)‏
    "تو کبھی بھی کسی بدعتی کو نہیں پائے گا کہ وہ ایسی نصوص (قرآن و حدیث کےدلائل )کو چھپاناپسند کرتا ہے،جو اس ‏کےخلاف ہوں اور وہ ان سے بغض رکھتا ہے،اوعر ان نصوص کے اظہار ،ان کی روایت اور ان کو بیان کرنے کو ناپسند ‏کرتا ہے ۔اور ان پر عمل کرنے والوں سے نفرت کرتا ہے۔"‏


    دوسری بات‎:‎
    جناب عالی ، زرا مجھے یہ بھی دکھا دیں کہ امیر محترم نے کہا لکھا ہے کہ میرے مطابق توحید کی تین نہیں چار اقسام ہیں یا ‏توحید حاکمیت ، توحید الہی کی ایک الگ قسم ہے؟؟؟
    حافظ صاحب محترم نے یہاں محض عصر حاضر میں موجود توحید حاکمیت بارے مختلف علماء کی آرا نقل کی ہیں، کہ کوئی ‏توحید حاکمیت کو توحید الوہیت میں شامل رکھتا ہے اور تقسیم کا قائل نہیں اور کچھ علماء اسے الگ قسم میں (یہاں اشارہ ‏اخوانیوں اور ان سے جنم لینے والی تحریکوں اور شخصیات کی جانب ہے )تقسیم کرتے ہیں۔

    تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ حافظ سعید محترم نے توحید حاکمیت کو الگ قسم قرار دیا ہے ، اور فہم سلف صالحین ‏کے خلاف گئے ہیں ، نہایت ہی بھونڈا اور کسی ذاتی عناد سے بھرا ہوا استدلال ہے۔‎ ‎
    یہاں پر چند موضوعات پر تفصل سے بیان کئےلنک دے رہا ہوں امید ہے بھائی اس سے مستفیذ ہوں گے۔ان شا ءاللہ

    توحید حاکمیت کی حقیقت علماءسلف کی نظر میں
    توحید حاکمیت ،فہم سلف اور تکفیر
    ان پوسٹوں میں ان تمام بھائیوں کے سوالات کے جواب موجود ہیں جو اس پوسٹ پر کر رہے تھے،اور کسی نے ان کا مدلل جواب نہیں دیا۔



    اللہ رحم فرمائے ۔ آمین
     
  3. ‏دسمبر 27، 2012 #13
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جی بھیا! بدعت کی تعریف دین میں ایسا عمل جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہ ہو اور اسے دین سمجھ کر ثواب کی نیت سے کیا جائے بدعت کہلاتا ہے مثلا فوت شدہ کے کل اور جمعراتیں کرنا، عید میلاد منانا وغیرہ۔
     
  4. ‏دسمبر 27، 2012 #14
    عمران اسلم

    عمران اسلم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    318
    موصول شکریہ جات:
    1,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    150

    ارسلان بھائی آپ نے جو بدعت کی تعریف کی ہے کیا یہ اللہ کے رسولﷺ سے ثابت ہے؟
    اگر ثابت نہیں ہے تو پھر بقول آپ کہ بدعت کی یہ تعریف کرنا بھی بدعت ہی ہے۔
    جس طرح آپ ائمہ سلف کی بدعت کی تعریف کو مان رہے ہیں اسی طرح ائمہ سلف نےتوحید کی جو اقسام بیان کی ہیں ان کو بھی تسلیم کر لیجئے۔
     
  5. ‏دسمبر 27، 2012 #15
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بھیا میں نے جو بدعت کی تعریف کی ہے، یہ صحیح بخاری کی حدیث کا مفہوم بھی ہے۔
    دراصل میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میں آئمہ سلف کی توحید کی جو اقسام بیان کی ہیں ان کو نہیں تسلیم کرتا، بلکہ میں کہنا یہ چاہ رہا ہوں کہ فقہاء بھی بعد کے ادوار کے تھے اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہ ہو تو بدعت ہے اور نیا کام ہے تو کیا فقہاء سے اگر چوتھی توحید کی اقسام ثابت نہیں تو کیا پھر بھی چوتھی قسم نکالنا بدعت ہے؟
     
  6. ‏دسمبر 27، 2012 #16
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    بھائی! ایک اصول ہے۔ لا مشاحۃ فی الاصطلاح اصطلاح مقرر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ شرط یہ ہیکہ وہ شریعت کے مخالف نہ ہو۔
     
  7. ‏دسمبر 27، 2012 #17
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    حامد کمال صاحب کی یہ تحریر ہے،
     
  8. ‏جنوری 01، 2013 #18
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    السلام علیکم !

    جناب القول السدید! آُپ نے سیدھے ہی مجھ پر تلبیس اور خوارج کے ٹھپے لگا دیے ہیں جس پر مجھے افسوس ہے ، موقف سے اختلاف اور چیز ہوتی ہے لیکن نیتوں پر شک کرنا .........

    میں نے حافظ صاحب کا قول محض بات نبٹانے کے لیے پیش کیا تھا اور اس سے بالکل متفق بھی ہوں ، اس سے بھی کہ حاکمیت ، الوہیت سے الگ نہیں ہے.

    اور ساتھ ہی فہم سلف سے مخالفت کرنے کا الزام بھی آپ نے خود ہی لگا کر حافط صاحب کی صفائی دی ہے ........ میری تحریر میں ایسی کوئ بات نہیں ہے .

    ا
    پھر جن لوگوں پر تیر "ارسال" فرمائے جا رہے ہیں ، بے چارے تکفیری ........... ) جن کی ہنوز تعریف بھی نہیں کی جا سکی اس فورم پر( تو انہوں نے کہاں یہ لکھ دیا ہے کہ ہم حاکمیت کو الوہیت سے الگ کوئی بلا مانتے ہیں .........

    حاکمیت میں اللہ کی یکتائی پر زور دینے والا ہر عالم یہی تو کہتا ہے کہ الوہیت کا حصہ ہے لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظر الگ سے بیان کیا جا رہا ہے ........

    اوپر ایک "تکفیری" حامد کمال الدین کی تحریر ایک بھائی نے لگائی بھی ہے اس بارے میں ............

    اس چیز کی اجازت کم از کم حافظ صاحب کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی ہونی چاہیے میرے عزیز !
     
  9. ‏جنوری 15، 2013 #19
    القول السدید

    القول السدید رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 30، 2012
    پیغامات:
    348
    موصول شکریہ جات:
    950
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاۃ
    مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی؟زرا وضاحت فرما دیں۔
    کن کو کس اجازت ہونی چاہیے؟
    میرا اشارہ تو ان افراد کی طرف ہے جو توحید حاکمیت کو بنیاد بنا کر افراتفری،جنگ و جدال کھڑی کر رہے ہیں،
    اور اسی کی بنیاد پر ایمان اور کفر کے فیصلے کر رہے ہیں۔
    زرا اس اجازت کی بھی وضاحت فرما دیں۔
    آخری بات جو کہ پرسنل ہے اگر آپ گوارا کریں اس پر وضاحت فرمانے کا کہ
    آپ کے دستخط میں "محمد قطب"کون ہے؟
    جزاک اللہ خیرا
     
  10. ‏جنوری 19، 2013 #20
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    اس تھریڈ میں تفصیلی بات ہو چکی ہے ، بار بار ایک ہی بات کو دو تین جگہ پھیلا کر میرا خیال کوئی فائدہ نہیں ہوتا .

    ملاحظہ فرمائیں::

    http://www.kitabosunnat.com/forum/کفر-454/توحیدحاکمیت-،-فہم-سلف-اور-تکفیر-3612/index2.html

    شیخ رفیق طاہر صاحب کا یہ مراسلہ بالخصوص قابل توجہ ہے :

    والسلام
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں