1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تين طلاق كي حقيقت

'طلاق' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن خلیل, ‏جولائی 03، 2012۔

  1. ‏ستمبر 01، 2012 #31
    آصف نور

    آصف نور مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 20، 2012
    پیغامات:
    19
    موصول شکریہ جات:
    48
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    محترم مولانا ابو الحسن علوی صاحب
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    لفظ بدعت سے ہم اچھی طرح مانوس ہیں لیکن آپ نے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ، امام ابن قیم رحمہ اللہ کے قول کی بنیاد پر مسئلہ تین طلاق کے عدم وقوع پر لفظ بدعت کا استعمال کیا ہے، کیا اس بدعت سے مراد وہ اصل بدعت ہے جس سے ہم مانوس ہیں ، یعنی وہ بدعت جس عمل کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہو اور اسے دین اور شریعت کے نام پر رائج کردیا جائے۔
    اگر اس بدعت کو اصل بدعت کے معنوں میں لیا جائے تو ایک بھیانک تصور وجود پکڑتا ہے، اور کئی سوالات ذہن میں بسیرا کرتے ہیں۔

    ابو الحسن علوی صاحب آپ کے بیان کردہ لفظ بدعت سے ذہنی کیفیت کو اطمنان نہیں ملا،
    لہذا آپ سے درخواست ہے کہ ذرا آپ کے لائے گئے لفظ بدعت کے بنیاد کی وضاحت فرمادیں، یقینا آپ کی رہنمائی میرے اطمنان کا باعث ہوگی، کیونکہ آپ کی اعتدال پسند تحریریں یقینا سنجیدہ ذہن رکھنے والے طالبعلموں کے لئے کافی اطمنان بخش ہوتی ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏مئی 24، 2013 #32
    ideal_man

    ideal_man رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    258
    موصول شکریہ جات:
    482
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    السلام علیکم
    محترم گڈ مسلم صاحب!
    حنفی بھائی نے یہاں چار سوال کئے ہیں۔ جب کہ چار صفحات کے پمفلٹ میں صرف جس سوال پر بحث ہے وہ ایک مجلس کی تین طلاق پر ہے۔ جب کہ حنفی بھائی کے چار سوال اس کے علاوہ ہے۔

    لیکن آپ مشورہ دیتے ہیں کہ
    گڈ مسلم بھائی میں نے بھی اس کا بغور مطالعہ کیا ہے مجھے ان سوالوں کا جواب نظر نہیں آیا ذرا آپ میری مدد فرمائیں گے؟
    یہ سوال اور ان کا جواب کس صفحہ اور کس لائن میں ہے۔ بڑی نوازش ہوگی۔
    اگر آپ کے نزدیک یہ تمام سوال ایک مجلس کی طلاق کے تحت آتے ہیں تو مندرجہ ذیل محدث فتوی کا تعلق کس سوال سے ہے؟
    ایک دن کے وقفہ سے تین طلاقیں دینا
    محدث فتوی
    شکریہ گڈ مسلم بھائی
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏مئی 25، 2013 #33
    ideal_man

    ideal_man رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    258
    موصول شکریہ جات:
    482
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    معذرت یہاں تین طلاق ایک ہوتی ہے یا تین پر کوئی بحث نہیں۔
    بنیادی طور پر اس مثال پر متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔
    بعض اوقات کوئی فریق اپنے موقف کو سمجھانے کے لئے کوئی مثال پیش کرتے ہیں اور وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ مثال ہمارے موقف کو مزید پختہ اور طاقتور بنادیگی۔ لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ مثال خود ان کے موقف کو کمزور اور رد کررہی ہوتی ہے اور مخالف فریق کو مضبوط دلیل فراہم کرہی ہوتی ہے۔
    اس مثال میں بھی کچھ ایسا ہی نظر آرہا ہے۔
    آپ تسلیم کرتے ہیں کہ پٹائی دو مرتبہ ہوئی،
    میرا سوال ہے یہ پٹائی دو مرتبہ جو ہوئی وہ ایک مجلس یعنی ایک پیریڈ ، ایک ہی دن ہوئی یا ایک دفعہ پٹائی کے ایک ماہ بعد دوسری پٹائی ہوئی؟؟؟

    اب ایک دن میں شاگرد کو دو مرتبہ یا تین مرتبہ پٹائی ہوتی ہے۔ یعنی ایک دفعہ پٹائی ہوئی دیر سے اسکول آنے پر، پھر دوسری دفعہ جب حاضری لی گئی تو پتہ چلا کل چھٹی کی تھی پٹائی ہوئی، پھر تیسری مرتبہ اس وقت پٹائی ہوئی جب ہوم ورک چیک کیا گیا،
    تین دفعہ پٹائی ہوئی ڈنڈے کتنے لگے خارج از موضوع ، یہ تین دفعہ پٹائی ایک دن میں ، ایک پیریڈ میں ایک کلاس میں ہوئی تو آپ اسے تین دفعہ تسلیم کرتے ہیں تو ایک مجلس میں تین دفعہ طلاق دی گئی ہو، یا ایک دن میں تین طلاق دی گئی ہو، یا دس دس ڈنڈوں کی طرح تین تین طلاق وقفے وقفے سے دئی ہو تو اسے تین کے بجائے ایک طلاق کیوں تسلیم کرتے ہو۔
    بھائی جان : اصل اختلاف ڈنڈوں پر نہیں مجلس پر ہے۔ کہ یہ پٹائی ایک مجلس میں ہوئی کہ ایک ماہ کے وقفہ سے
    یاد رہے یہ سوال صرف مندرجہ بالا پیش کردہ مثال پر ہوا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بات خارج از موضوع ہوگا۔
    شکریہ
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  4. ‏مئی 26، 2013 #34
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    محترم ideal_man بھائی سب سے پہلے تو آپ مجھے یہ بتائیں کہ

    1۔ ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے کو آپ سنت سمجھتے ہیں یا بدعت ؟
    اسی طرح آپ نے جو حنفی بھائی صاحب کاسوال پوسٹ کیا کہ
    2۔آپ کے نزدیک اس طریقہ پر دی گئی طلاق سنت ہے یا بدعت ؟

    3۔طلاق کس طرح دی جائے تو سنت ہوتی ہے۔ اور کس کس طرح دی جائے تو بدعت میں آجاتی ہے؟
     
  5. ‏مئی 26، 2013 #35
    ideal_man

    ideal_man رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    258
    موصول شکریہ جات:
    482
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    محترم گڈمسلم صاحب!
    ایک مجلس کی تین طلاق اس بحث کا اصل موضوع نہیں، اور یہ موضوع بوسیدہ ہوچکا ہے، کافی دھاگے اس پر موجود ہے اور سینکڑوں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ یہ کوئی نئی بحث اور نیا سوال نہیں کہ اپنا وقت اس کے پیچھے برباد کریں، ہاں اگر کوئی نیا تحقیقی سوال سامنے آئے تو ضرور متوجہ ہونا چاہئے۔
    ایک طہر میں مختلف مجالس میں وقفہ سے دی گئی طلاق سنت ہے یا بدعت؟ اس پر بحث تو اس وقت ممکن ہے جب پہلے یہ واضح ہو کہ
    تین طلاق پر لفظ بدعت کا جو استعمال ہوتا ہے وہ بدعت اصل کے معنوں میں ہوتا ہے یا لغوی یعنی ناپسندیدہ عمل کے معنوں میں۔
    محترم گڈ مسلم بھائی !


    اس سے پہلے آصف نور کا یہ اہم سوال اوپر موجود ہے جو مولانا ابو الحسن علوی صاحب کے موقف کا انتظار میں کئی ماہ سے موجود ہے۔
    پہلے اس سوال کا جواب دے کر لفظ تین طلاق پر لائے گئے لفظ بدعت کی اصل معنوی حیثیت کی وضاحت ہوجائے، پھر یہ سوال ممکن ہے کہ یہ سنت ہے یا بدعت۔
    شکریہ
     
    • علمی علمی x 2
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  6. ‏مئی 27، 2013 #36
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    محترم بھائی میں نے اس موضوع پر بات کرنے کو نہیں کہا اور نہ میرا مقصود ہے کہ اس موضوع پر بات کی جائے۔۔۔ کیونکہ جن میں ’’ نا مانوں ‘‘ کی بات ہو، جتنے چاہو ان کے سامنے حقائق رکھ دو، پھر بھی تسلیم نہیں کیے جاتے۔
    تو ٹھیک ہے جناب واضح کریں پھر کہ یہ بدعت کن معنوں میں ہے۔
    اوکے متفق ۔۔ تو پھر آپ دلیل سے یہ واضح کریں کہ جو اس مسئلہ پر ’’ لفظ بدعت ‘‘ بولا جاتا ہے۔ یہ اس تصور پر دال ہے جو لفظ بدعت سنتے ہی ذہن میں اجاگر ہوجاتا ہے۔ یا پھر یہاں پر کوئی اور تصور ذہن میں لایا جائے گا۔
     
  7. ‏مئی 28، 2013 #37
    ideal_man

    ideal_man رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    258
    موصول شکریہ جات:
    482
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    محترم گڈ مسلم صاحب!
    ہر فریق اپنے مخالف فریق کے لئے ایسے ہی نیک جذبات، خواہشات اور خیالات رکھتا ہے ، آپ کی زبان مبارک کرے اور ہمیں حق پراستقامت نصیب فرمائے۔ شکریہ آپ کے دلی جذبات کا۔

    اس سوال کا جواب تو آپ نے دینا ہے کہ آپ تین طلاق کو ایک کہتے ہوئے دو طلاق کے عدم وقوع پر دلیل لفظ بدعت لاتے ہیں۔
    لہذا پہلے معلوم ہو کہ آپ یہاں بدعت سے اصل بدعت مراد لیتے ہیں؟؟؟ جو اس عمل کو مردود ٹھہراتی ہے ،
    چلیں میں ہی لفظ بدعت پر اپنے فہم کے مطابق وضاحت کردوں
    میرے فہم کے مطابق دو باتیں الگ الگ ہیں۔
    ایک ہے سنت عمل چھوڑ کر خلاف سنت عمل کرنا، یہ معصیت اور ناپسندیدہ عمل ہے۔
    دوسرا سنت کے مقابلے میں یا سنت کے خلاف کوئی نیا کا م ایجاد کرنا جسکی قرآن و سنت اور اس کے فہم میں کوئی مثال موجود نہ ہو اور اسے قرآن و سنت کا حصہ بنایا جائے، یہ عمل مردود ہے۔

    گڈ مسلم صاحب وہ مسائل جو اختلافی ہیں اور اس پر دونوں طرف قرآن و سنت کی ایک دلیل بھی موجود ہے وہاں لفظ بدعت جو اصل کے معنوں میں ہے استعمال نہیں ہوسکتا، چہ جائیکہ زیر بحث موضوع پر علمی اختلاف ہوا ہے اور دونوں فریقین کا دعوی ہے کہ اس مسئلے میں ان کے موقف پر دلائل کا ایک انبار ہے۔
    اہل حدیث مکتبہ فکر کہ عالم دین مولانا محمد اقبال کیلانی صاحب اپنی کتاب اتباع سنت کے مسائل صفحہ 26 پر وضاحت فرمارہے ہیں ، جسے فورم کے ایک میمبر ارسلان بھائی نے نقل کیا ہے، ملاحظہ فرمائیں۔
    اختلافی مسائل کا مغالطہ بدعت کا ایک سبب

    محترم گڈ مسلم صاحب!
    اب آپ تین طلاق پر لائے گئے لفظ بدعت پر اپنا موقف بیان کردیں۔
     
  8. ‏مئی 28، 2013 #38
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    میرے خیال میں ایسے جذبات صرف انہیں لوگوں کو رکھنے چاہیے، جو حق کے زیادہ قریب ہوں، اور حق کے زیادہ قریب کون ہوتا ہے؟ جن کے پاس قوی دلائل ہوں، اور آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہاں جن دلائل بارے بات ہورہی ہے۔ وہ دلائل شرعیہ (قرآن وحدیث) ہیں۔ اور دلیل وہ تسلیم کی جاتی ہے۔ جو صحیح ہو۔۔۔ضعیف ومن گھڑت روایات دلیل نہیں ہوا کرتیں۔
    پہلے آپ اس بات کا ثبوت تو پیش کریں کہ ہم ایک مجلس میں دی جانے والی تین طلاقوں کو کیا نام دیتے ہیں۔؟ ۔۔۔ پھر آپ مجھ سے مطالبہ کرنا کہ آپ اس سوال کا جواب دیں۔۔۔
    آپ نے ایک بات کی کہ سنت چھوڑ کر خلاف سنت کام کرنا۔ اس کو آپ نے معصیت اور ناپسندیدہ عمل کا نام دیا اور دوسری بات کی کہ سنت کے مقابلے میں یا سنت کے خلاف کوئی نیا کام کرنا۔۔اس کو بھی آپ نے بدعت تو نہیں کیا لیکن ایسے عمل کو مردود کہا ہے۔

    محترم بھائی دونوں صورتوں میں سنت کے خلاف عمل ہورہا ہے۔اگر لاعلمی میں ہے تو پھر شریعت کے اور اصول ہیں لیکن اگر جان بوجھ کر کیا جارہا ہے تو پھر دونوں ہی عمل شریعت میں نئے ہیں (کیونکہ سنت سے ثابت نہیں ہیں) اور دونوں ہی بدعت ہیں۔ اور دونوں ہی مردود ہیں۔۔
    پہلے محترم بھائی اس بات کا ثبوت تو پیش کریں، کہ ہم ایک مجلس میں تین بار طلاق کا لفظ بولے جانے کو کیا نام دیتے ہیں۔۔۔ یہ آپ نے کہاں سے پڑھ لیا کہ ہم اس کو بدعت کا نام دیتے ہیں۔۔ آپ اس بات کا ثبوت پیش کریں، اس کے بعد ان شاءاللہ میں وضاحت کرونگا۔
     
  9. ‏مئی 29، 2013 #39
    ideal_man

    ideal_man رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    258
    موصول شکریہ جات:
    482
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    انا للہ وانا الیہ راجعون

    غیر ضرورری۔۔۔۔۔ آپ سے درخواست ہے غیر ضروری باتوں سے اجتناب فرمائیں۔ صرف اساسی سوال، جواب اور دھاگہ پر اپنا فوکس رکھیں۔ کوشش کریں ٹو دی پوائنٹ بات کریں۔ شکریہ
    محترم گڈمسلم صاحب!
    آپ کی اس پوسٹ سے محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے اس دھاگہ کا بنیادی سوال اور اس پر جواب کا مطالعہ نہیں کیا۔ یا آپ انجان بننے کی کوشش کررہے ہیں۔ چلیں دوبارہ سے اس دھاگہ کا ایک ریویو کرلیا جائے۔
    اس دھاگہ کا مقصد حنفی بھائی کے سوالات پر علماء اہل حدیث کا قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح موقف حاصل کرنا ہے۔
    حنفی بھائی کے سوال۔۔۔ ملاحظہ فرمائیں۔
    ۱​

    ان سوالات کی روشنی میں مولانا ابو الحسن علوی صاحب کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔​

    محترم گڈ مسلم صاحب ! مولاناابوالحسن صاحب نے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ، ابن قیم رحمہ اللہ اور اہل حدیث کی ایک جماعت کا واضح موقف بیان کیا ہے کہ ان سوالات میں جتنی صورتیں ہیں صرف ایک طلاق واقع ہوگی دوسری اور تیسری بدعت ہے لہذا واقع نہیں ہوگی۔
    محترم ایک طہر میں دوسری اور تیسری طلاق کو بدعت مولانا ابو الحسن علوی صاحب نے کہا ہے ۔
    یعنی بقول مولانا ابو الحسن صاحب اہل حدیث کی ایک جماعت کی طرف سے دوسری اور تیسری طلاق کے عدم وقوع پربطور دلیل لفظ بدعت استعمال ہوا ہے۔
    مولانا ابو الحسن صاحب کی طرف سے لائی گئی دلیل لفظ بدعت پر آصف نور نے مولانا سے سوال کیا ہے۔
    آصف نور کا سوال ملاحظ فرمائیں۔​
    محترم مولانا ابو الحسن علوی صاحب​


    محترم ابو الحسن صاحب اپنی مصروفیات کی وجہ سے اس کا تسلسل جاری نہ رکھ سکے یا ممکن ہے اس سوال پر طویل بحث کے اندیشہ کے پیش نظر خاموشی کو مناسب سمجھا۔ میں ان کا ادب و احترام کرتا ہوں۔
    محترم گڈ مسلم صاحب! اب یہ بات صاف ہوگئی کہ سوال کے جواب میں اہل حدیث کی ایک جماعت کی طرف سے دوسری اور تیسری طلاق کے عدم وقوع پر لفظ بدعت کو بطور دلیل استعمال کیا ہے۔ اب یہ آپ پر لازم ہے کہ آپ آصف نور کے سوال کا جواب دے کر وضاحت فرمائیں کہ اہل حدیث کی یہ جماعت اس مقام پر لفظ بدعت کو کن معنوں میں بیان کرتے ہیں؟؟؟
    یاد رہے انہی سوالات کا جواب جاننے کی خواہش ہمارے محترم شاکر بھائی نے بھی کی تھی اور انہوں نے اپنی پوسٹ میں احناف کے علاوہ اہل حدیث کا موقف بھی سوال صورت میں بیان کیا ہے۔
    ملاحظہ فرمائیں۔​

    اور محترم آپ بھول رہے ہیں آپ نے بھی مولانا صاحب کی اس جواب کے اس حصہ پر​
    ابوالحسن علوی نے کہا ہے:
    ان تمام فتاوی کی اصل یہ ہے کہ طلاق سنت واقع ہوتی ہے اور طلاق بدعی واقع نہیں ہوتی ہے۔

    جزاک اللہ خیرا شیخ

    اتفاق کیا ہے
    اصول اور انصاف کی بات تو یہی تھی کہ آپ لفظ بدعت جو طلاق پر استعمال کیا ہے اہل حدیث جماعت نے اس کی وضاحت فرماتے الٹا آپ مجھ ہی سے سوال کربیٹھے کہ

    میں نے آپ کے سوال پر یہ جواب دیا۔ ملاحظہ فرمائیں۔​


    اور ساتھ ہی آصف نور کے سوال کی طرف آپ کو متوجہ کیا۔
    پھر آپ مجھ سے ہی سوال کربیٹھے​
    انا للہ وانا الیہ راجعون
    میرے بھائی ، دوسری اور تیسری طلاق پر لفظ بدعت کا استعمال بطور دلیل آپ کی ہل حدیث جماعت پیش کررہی ہے۔ سوال ہمارا ہے کہ اس لفظ کی وضاحت فرمائیں، آپ الٹا تھانہ دار کی طرح مجھ سےوضاحت طلب کر رہے ہیں۔
    آپ کی بات رکھنے کے لئے میں نے خود سے طلاق پر لائے گئے لفظ بدعت کو دو پوئنٹ میں بیان کردیا اور بظور دلیل آپ کی جماعت اہل حدیث کے مولانا محمد اقبال کیلانی صاحب کا اقتباس بھی پیش کردیا۔
    انصاف تو یہی تھا آپ لفظ بدعت جو طلاق کے عدم وقوع پر بطور دلیل استعمال ہوا ہے اس کی وضاحت فرمادیتے۔
    لیکن افسوس صد افسوس ، آپ غیر ضروری اور ادھر ادھر کی باتوں میں صرف اپنی موجودگی کو اس دھاگہ میں ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
    محترم گڈ مسلم صاحب!
    آپ میری پوسٹ کا ایک اقتباس لیتے ہوئے اس کا ثبوت مانگ رہے ہیں۔


    محترم آپ کا حافظہ اتنا کمزور ہوگا مجھے یقین نہیں آرہا۔
    مولانا ابو الحسن صاحب نے جو جواب دیا ہے اس میں دوسری اور تیسری طلاق کے عدم وقوع پر بطور دلیل کونسا لفظ استعمال کیا ہے؟؟؟

    کیا وہ لفظ بدعت نہیں۔ جس پر آپ نے بھی تو جزاک اللہ خیرا شیخ کہا ہے۔ اور اسی میں شاکر بھائی نے اہل حدیث کا موقف بیان کیا ہے۔
    آپ کا حافطہ کمزور نہیں لیکن آپ جلد بازی سے پوسٹ بنانے کی فکر میں رہتے ہیں اس لئے ایسا ہوجاتا ہے۔ کوئی بات نہیں۔
    چلیں میرے بھائی اب آپ دوسری اور تیسری طلاق کے عدم وقوع پر بطور دلیل استعمال کیا جانے والا لفظ بدعت کی وضاحت فرمادیں۔
    آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔

     
  10. ‏مئی 30، 2013 #40
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    محترم بھائی آپ بھی بات کو بہت طول دیے جارہے ہیں، اور غیر ضروری باتیں جو ادھر ادھر کی ہیں، بیچ میں لائے جارہے ہیں۔ اور اس بات کا الزام مجھے دیے جارہے ہیں کہ میں خواہ مخواہ پوسٹ بنا رہاہوں۔۔۔پوسٹ کو طویل کررہا ہو۔۔۔

    آپ حنفی بھائی کے سوالوں کو چار سوال باور کرا رہے ہیں۔ حالانکہ سوال ایک ہی ہے کہ اگر مجلس مختلف ہوجائے چاہے وہ ایک دن میں ہو، چاہے وہ دو دن میں ہو، چاہے وہ تین دن میں ہو یا وہ تین ہفتوں میں ہو۔ تو مجلس مختلف ہوجانے پر جو تین طلاق دی جائیں گی۔ وہ کیا کہلائیں گی اور کیا واقع ہونگی کہ نہیں؟

    اس کے بعد جب میں نے آپ سے اس بات کا ثبوت مانگا جب آپ نے کہا کہ آپ لوگ (اہل حدیث) ایک مجلس میں یا ایک طہر میں دی جانے والی پہلی طلاق کے علاوہ باقی دو طلاقوں کو بدعت کہتے ہو تو آپ نے ابو الحسن علوی بھائی کی بات پیش کردی۔ کہ ابو الحسن علوی بھائی اس کو بدعت کا نام دے رہے ہیں۔

    محترم بھائی پہلی بات اگر ابو الحسن علوی بھائی نے اپنی تحقیق سے کوئی ایسی بات کردی ہے، جس سے میں یا ہمارا کوئی اور صاحب متفق نہیں تو پھر آپ کا یہ قطعاً حق نہیں کہ آپ اس بات کو بطور دلیل ہمارے سامنے پیش کریں۔ کیونکہ ایک طرف سے آپ لوگ ہمیں غیر مقلد کہتے ہو اور دوسری طرف ہمیں ہمارے علماء کے اقوالات بھی پیش کرتے ہو۔؟ یہ ایک ایسی صورت ہے جو ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔

    دوسری بات آپ سے یہاں پر سوال ہے، اور آپ بےشک ابو الحسن علوی بھائی سے پوچھ کر بھی بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے جب یہاں بدعت کا لفظ استعمال کیا ہے تو کس معنی میں کیا ہے؟ ۔۔۔

    کیونکہ آپ نے خود ہی لکھا دیا ہے کہ
    آپ کی اس بات کی تائید کرتے ہوئے میں نے بھی لکھ دیا تھا کہ آپ واضح کریں، کہ یہاں لفظ بدعت کس معنیٰ میں ہے؟ لیکن جب آپ نے یہ کہا کہ
    تو پھر اس پر میں نے ثبوت مانگا۔۔۔ اور پھر ثبوت مانگنے کا مقصد یہ قطعاً نہیں ہوتا کہ اگلا بندہ سرے سے ناواقف ہے، اس لیے ثبوت مانگ رہا ہے۔۔۔فتدبر


    اب آپ کے مطالبے پر سوال کا جواب پیش ہے کہ ہم اس کو ’’ لغو ‘‘ کہتے ہیں۔ اور مولانا نے بھی جو اس کےلیے ’’ بدعت ‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ وہ بھی ’’ لغو ‘‘ کے معنیٰ میں ہے۔۔۔ ہاں مولانا آکر خود وضاحت کردیں، کہ میں نے یہاں پر لفظ بدعت سے مراد یہ لی ہے۔۔۔ تب مولانا کی بات مانی جائے گی۔

    میرا جواب جاننے کے بعد اب آپ مجھے بتائیں کہ

    اور اگر آپ بدعت کہتے ہیں، تو پھر کس معنیٰ میں ؟ میرا مؤقف آپ کے سامنے آچکا ہے کہ میں اس کو ’’ لغو ‘‘ کہتا ہوں۔

    لَّا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ‌ حَلِيمٌ
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. أبو القاسم
    جوابات:
    0
    مناظر:
    1,133
  2. محمد عامر یونس
    جوابات:
    6
    مناظر:
    1,706
  3. محمد عامر یونس
    جوابات:
    0
    مناظر:
    2,217
  4. محمد عثمان سلفی
    جوابات:
    1
    مناظر:
    311
  5. طویلب علم
    جوابات:
    0
    مناظر:
    24

اس صفحے کو مشتہر کریں