1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تکفیر کا معاملہ نہایت حساس: ہے جس میں سوائے علماءاکرام کے کسی کو پیش قدمی کرنے کی اجازت نہیں!

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ عبدل, ‏جنوری 23، 2012۔

  1. ‏جنوری 23، 2012 #1
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    سماحة الشیخ علامہ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ ( حفظہ اللہ )
    مفتی اعظم سعودی عرب

    کاوش
    ڈاکٹر عبداللہ سلفی ​


    سماحة الشیخ ” نواقص الاسلام “ پر لکھی گئی اپنی شرح کی ابتدا میں فرماتے ہیں :

    ” ایک مسلمان کو یہ اچھی طرح جان لینا چایئے کہ نواقص اسلام پر کلام کرنا ایسے مسئلے کہ بارے میں کلام کرنا جس کا سبب کفروگمراہی ہو ،یہ ان انتہائی اہم اور عظیم ترین امور میں سے ہے جن پر قرآن و سنت کی موافقت کے سوا پیش قدمی ناجائز ہے اور کسی کی تکفیر کا معاملہ ایسا نہ ہو کہ جس کی بنیاد محض اپنی اہوا پرستی و خواہش نفس ہو ، کیونکہ اس صورت میں تو یہ ایک بہت بڑا خطرہ ہے ۔ لہذا ایک مسلمان کی تکفیر یعنی اس پر کفر کا حکم لگانا جائز نہیں الایہ کہ وہ کوئی ایسے (قول و عمل) کا مرتکب ہو جو قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی تکفیر کا شرعی موجب ہو ،مگر اس کے سوا لوگوں کی تکفیر کرتے پھرنا اور کہنا کی فلاں فلاں کافر ہے یا محض اپنی خواہشات اور دلی میلانات و رجحانات کے بل بوتہ پر کسی پر کافر یا فاسق ہونے کا حکم چسپاں کرنا قطعی حرام ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ :
    یَا ایُّھَا الَّذِینَ آ مَنُو ااِن جاءکُم فَاسِق بِنَبَا فَتَبَیَّنُو ا ﴿ (الحجرات )
    ( اے ایمان والوں !جب تمھارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو)
    پس ہر مسلمان پر یہ واجب ہے کہ وہ کسی پر کفر یا فسق کا حکم چسپاں نہ کریں جب تک اس پر قرآن و سنت کی دلیل واضح نہ کر دے، کیونکہ یہ جو تکفیر یتفسیق ( کسی کو فاسق قرار دینا) کے معاملے ہیں اس میں بہت سو ںکہ قدم پھسل جاتے ہیں اور فہم گمراہی کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس لئے کہ اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو مسلمانوں کو چھوٹے سے گنا ہ یا غلطی پر کافر قرار دینے لگ جاتے ہیں ،تو ایسے لوگ خود بھی سیدھی راہ سے گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں ۔“
    اسی طرح سماحة الشیخ نے ” صحیفة الشرق الاوسط “ کو اپنے ایک انٹرویو بتاریخ ۱۲،۴،۱۰۰۲میں فرمایا:
    ” التکفیرا مرخطیر، یجب علی المسلمین عدم الخوض فیہ،و ترکہ لاھل العلم الراسخین “
    (تکفیر ایک نہایت پر خطر و حساس مسئلہ ہے جس میں عام مسلمانوں کو طبع آزمائی نہیں کرنی چاہئیے بلکہ اس میدان کو راسخ العلم علماءکرام کے لئے چھوڑ دینا چاہیئے )۔

    واللہ اعلم.​
     
  2. ‏فروری 18، 2013 #2
    ابو بصیر

    ابو بصیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 30، 2012
    پیغامات:
    1,420
    موصول شکریہ جات:
    4,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    239

    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں