1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تیمم کے بارے میں ایک سوال

'تیمم' میں موضوعات آغاز کردہ از بنیامین, ‏جنوری 15، 2016۔

  1. ‏جنوری 15، 2016 #1
    بنیامین

    بنیامین رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 21، 2015
    پیغامات:
    137
    موصول شکریہ جات:
    36
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    تیمم کن کن چیزوں سے کیا جا سکتا ہے
    مثلاً اگر مٹی دستیاب نہ ہو، جیسے کوئی قیدی ہے جو گاڑی میں ہے اور اس کے پاس مٹی نہیں نہ اسے وضو کرنے دیا جاتا ہے تو ایسے میں وہ کیا کرے؟
     
  2. ‏جنوری 16، 2016 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    زمين كے اوپر مٹى كى جنس مثلا مٹى، كيچڑ، پتھر، ريت، اور ٹھيكرى سے تيمم كرنا صحيح ہے، كيونكہ فرمان بارى تعالى ہے:
    ( فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا ) النساء/43
    ﴿ تو تم پاك مٹى سے تيمم كرو ﴾. النساء ( 43 ).

    الصعيد زمين كے اوپر والے حصہ كو كہتے ہيں، اور الطيب پاكيزہ اور طاہر كو كہا جاتا ہے.

    تو ہر اس چيز سے تيمم كرنا جائز ہے جو زمين كى جنس سے ہو، امام ابو حنيفہ اور امام مالك رحمہما اللہ مسلك يہى ہے، تو اس طرح ان دونوں كے ہاں مٹى، ريت، اور كنكريوں كے ساتھ تيمم كرنا صحيح ہے، اور امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ نے ملائم پتھروں، اور مٹى كى ليپ شدہ ديواروں، اور خالصتا مٹى اور پانى سے ملا كر بنائى گئى ٹھيكرى سے تيمم كرنا جائز قرار ديا ہے، اور اسى طرح اگر كپڑے پر ہاتھ مارے تو اس ميں سے غبار اوپر آجائے.

    ديكھيں: بدائع الصنائع ( 1 / 53 ) التاج الاكليل ( 1 / 51 ) الموسوعۃ الفقھيۃ ( 14 / 261 ).

    اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ نے اختيار كيا ہے كہ: اگر مٹى نہ ملے تو مٹى كے بغير زمين كے دوسرے اجزاء سے بھى تيمم كرنا جائز ہے.

    ديكھيں: الاختيارات الفقھيۃ صفحہ نمبر ( 28 ).

    شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:
    وسئل الشيخ ابن عثيمين رحمه الله عن المريض لا يجد التراب فهل يتيمم على الجدار ، وكذلك الفرش أم لا ؟

    فأجاب : " الجدار من الصعيد الطيب ، فإذا كان الجدار مبنيا من الصعيد سواء كان حجرا أو كان مدرا – لَبِنًا من الطين - ، فإنه يجوز التيمم عليه ، أما إذا كان الجدار مكسوا بالأخشاب أو ( بالبوية ) فهذا إن كان عليه تراب – غبار – فإنه يتيمم به ولا حرج ، ويكون كالذي يتمم على الأرض ؛ لأن التراب من مادة الأرض . أما إذا لم يكن عليه تراب ، فإنه ليس من الصعيد في شيء ، فلا يتيمم عليه .

    وبالنسبة للفرش نقول : إن كان فيها غبار فليتيمم عليها ، وإلا فلا يتيمم عليها لأنها ليست من الصعيد " انتهى من "فتاوى الطهارة" (ص 240)

    .
    سوال :
    اگر مريض كو مٹى نہ ملے تو كيا وہ ديوار پر تيمم كر لے، اور اسى طرح فرش تيمم كر لے يا نہ ؟

    شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

    " ديوار پاكيزہ مٹى سے ہے، تو اس ليے اگر ديوار مٹى سے بنى ہوئى چاہے وہ پتھر كى ہو يا كچى اينٹوں سے ( مٹى كى كچى اينٹوں سے ) تو اس پر تيمم كرنا جائز ہے، ليكن اگر ديوار پر لكڑى لگى ہو يا رنگ كيا گيا ہو تو اگر اس پر مٹى اور غبار پڑى ہو تو اس سے تيمم كرنے ميں كوئى حرج نہيں، تو يہ اسى طرح ہوگا جس نے زمين پر تيمم كيا؛ كيونكہ مٹى زمين كے مادہ سے ہے.

    ليكن اگر اس پر مٹى اور غبار نہيں تو پھر يہ صعيد اورمٹى ميں سے نہيں اس ليے اس پر تيمم نہيں كيا جائيگا.

    اور فرش كى مناسبت سے ہم يہ كہينگے: اگر تو اس پر غبار ہو اس پر تيمم كيا جائيگا، ليكن اگر غبار نہيں تو اس پر تيمم نہيں كيا جا سكتا، كيونكہ يہ مٹى اور الصعيد ميں شامل نہيں " انتہى.

    ديكھيں: فتاوى الطہارۃ صفحہ نمبر ( 240 ).

    حاصل يہ ہوا كہ ديوار يا مٹى يا ٹھيكرى كے بنے ہوئے برتنوں پر تيمم كرنا جائز ہے جب تك اس پر رنگ وغيرہ نہ ہوا ہو، اور اگر اس پر رنگ كيا گيا ہو تو اس پر تيمم كرنا صحيح نہيں، ليكن اگر اس پر غبار ہو تو تيمم كيا جا سكتا ہے، اور مسلمان شخص كے ليے يہ بھى ممكن ہے كہ وہ كسى برتن ميں مٹى يا ريت ركھ لے اور اس سے تيمم كر ليا كرے.
    واللہ اعلم .
    الاسلام سوال و جواب
     
    • علمی علمی x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  3. ‏جنوری 16، 2016 #3
    بنیامین

    بنیامین رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 21، 2015
    پیغامات:
    137
    موصول شکریہ جات:
    36
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    گاڑی میں موجود شخص کے لیے مجبوری کی حالت میں تیمم کیسے ہو گا؟
     
  4. ‏جنوری 16، 2016 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    درج ذیل فتوی ملاحظہ فرمائیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    السؤال
    صليت صلاة الفجر في المنزل من دون أن أتوضأ، وذلك بأني لا أستطيع المشي لأن قدمي مكسورة ولم يكن هناك من يعينني على إيجاد الماء أو التيمم؟ أفيدونا؟

    الإجابــة
    الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه، أما بعـد:
    فإذا كان الحال هو ما وصفتَ من عجزك عن الوضوء والتيمم، ولم تكن لك حيلة لتحصيل الماء للوضوء أو التراب للتيمم، فصلاتُك صحيحةٌ إن شاء الله، ولا إعادة عليك، فإن فاقد الطهورين يُصلي حسبَ حاله، لأن الله تعالى لا يكلف نفساً إلا وسعها، ودليلُ ما ذكرنا حديث عائشة رضي الله عنها الثابت في الصحيح حين بعث النبي صلى الله عليه وسلم رجالاً في طلب القلادة التي أضلتها عائشة فحضرت الصلاة فصلوا بغير وضوء، فلما أتوا النبي صلى الله عليه وسلم شكوا إليه ذلك فنزلت آية التيمم.

    قال الشوكاني: قوله " فصلوا بغير وضوء " استدل بذلك جماعة من المحققين منهم المصنف على وجوب الصلاة عند عدم المطهرين الماء والتراب، وليس في الحديث أنهم فقدوا التراب، وإنما فيه أنهم فقدوا الماء فقط ، ولكن عدم الماء في ذلك الوقت كعدم الماء والتراب ؛ لأنه لا مطهر سواه ووجه الاستدلال به أنهم صلوا معتقدين وجوب ذلك، ولو كانت الصلاة حينئذ ممنوعة لأنكر عليهم النبي صلى الله عليه وآله وسلم وبهذا قال الشافعي وأحمد وجمهور المحدِِّثين وأكثر أصحاب مالك . اهـ من نيل الأوطار.

    وقال ابن القيم رحمه الله: وحالة عدم التراب كحالة عدم مشروعيته ولا فرق، فإنهم صلوا بغير تيمم لعدم مشروعية التيمم حينئذ فهكذا من صلى بغير تيمم لعدم ما يتيمم به فأي فرق بين عدمه في نفسه وعدم مشروعيته، فمقتضى القياس والسنة أن العادم يصلي على حسب حاله، فإن الله لا يكلف نفسا إلا وسعها، ولا يعيد، لأنه فعل ما أمر به، فلم يجب عليه الإعادة، كمن ترك القيام والاستقبال والسترة والقراءة لعجزه عن ذلك فهذا موجب النص والقياس. اهـ من حاشية ابن القيم على تهذيب سنن أبي داود.

    وفي المسألة أقوالٌ أخرى سوى هذا القول الذي رجحناه، وقد بين ابن قدامة مذاهب العلماء في هذه المسألة، ورجح أن من عدم الطهورين صلى حسب حاله ، ولا تلزمه الإعادة ولو وجد الماء في الوقت فقال ما عبارته: وإن عدم بكل حال صلى على حسب حاله . وهذا قول الشافعي ، وقال أبو حنيفة والثوري والأوزاعي لا يصلي حتى يقدر، ثم يقضي،لأنها عبادة لا تسقط القضاء، فلم تكن واجبة، كصيام الحائض . وقال مالك: لا يصلي ولا يقضي، لأنه عجز عن الطهارة ، فلم تجب عليه الصلاة ، كالحائض . وقال ابن عبد البر: هذه رواية منكرة عن مالك. وذكر عن أصحابه قولين : أحدهما كقول أبي حنيفة والثاني يصلي على حسب حاله ، ويعيد . ولنا ما روى مسلم أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث أناسا لطلب قلادة أضلتها عائشة فحضرت الصلاة فصلوا بغير وضوء فأتوا النبي صلى الله عليه وسلم فذكروا ذلك له فنزلت آية التيمم ولم ينكر النبي صلى الله عليه وسلم ذلك ولا أمرهم بإعادة، فدل على أنها غير واجبة ؛ ولأن الطهارة شرط ، فلم تؤخر الصلاة عند عدمها ، كالسترة واستقبال القبلة . وإذا ثبت هذا، فإذا صلى على حسب حاله ، ثم وجد الماء أو التراب، لم يلزمه إعادة الصلاة في إحدى الروايتين، والأخرى عليه الإعادة. وهو مذهب الشافعي لأنه فقد شرط الصلاة ، أشبه ما لو صلى بالنجاسة .

    والصحيح الأول لما ذكرنا من الخبر، ولأنه أتى بما أمر، فخرج عن عهدته لأنه شرط من شرائط الصلاة فيسقط عند العجز عنه ، كسائر شروطها وأركانها، ولأنه أدى فرضه على حسبه ، فلم يلزمه الإعادة ، كالعاجز عن السترة إذا صلى عريانا ، والعاجز عن الاستقبال إذا صلى إلى غيرها، والعاجز عن القيام إذا صلى جالسا. انتهى.

    وسئلت اللجنة الدائمة للإفتاء : إني طريح الفراش ولا أقوى على الحركة فكيف أقوم بعملية الطهارة لأداء الصلاة وكيف أصلي ؟ فأجابت : أولا: بالنسبة للطهارة يجب على المسلم أن يتطهر بالماء ، فإن عجز عن استعماله لمرض أو غيره تيمم بتراب طاهر، فإن عجز عن ذلك سقطت الطهارة وصلى حسب حاله ، قال تعالى: ( فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ) ، وقال جل ذكره : ( وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَج)انتهى.

    والله أعلم.

    اس فتوی کا خلاصہ یہ ہے کہ :
    تمام تر کوشش کے باوجود کسی صورت وضوء کیلئے پانی ،یا تیمم کیلئے مٹی نہ مل سکے تو جس حال میں ہو اسی حال میں نماز پڑھ لے ،
    ان شاء اللہ نماز ہوجائے گی ،اور دہرانے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی ۔
    ربط فتوی
     
    Last edited: ‏جنوری 16، 2016
    • شکریہ شکریہ x 2
    • مفید مفید x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 16، 2016 #5
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,387
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جزاک اللہ شیخ
     
  6. ‏جنوری 16، 2016 #6
    بنیامین

    بنیامین رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 21، 2015
    پیغامات:
    137
    موصول شکریہ جات:
    36
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    جزاک اللہ خیرا اسحاق سلفی بھائی
     
  7. ‏جنوری 16، 2016 #7
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    تقریبا ایک سال قبل میرا بون میرو ٹرانسپلانٹ ھوا تھا اور اسپتال میں جب میں ایڈمٹ تھا تو طبیعت کی خرابی کی وجہ سے ڈاکٹرز نے مجھے بستر سے اٹھنے سے منع کردیا اسی دوران بستر پر پیشاب نکل گیا ۔ کپڑے تو لیٹے لیٹے اسٹاف نے بدلوا دیے اور ٹانگیں گیلے کپڑے سے صاف کردیں
    اس حالت میں میں نے ایک مدرسے کے دارالافتاء فون کیا انہوں نے کہا کہ آپ نماز پڑہ لیں اور بعد میں قضاء کرلیں۔
    کیا اس ناپاکی کی حالت میں نماز ادا کی جاسکتی ھے ؟؟؟
    @اسحاق سلفی صاحب
     
    Last edited: ‏جنوری 16، 2016
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏جنوری 16، 2016 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    ’’ ٹانگیں گیلے کپڑے سے صاف کردیں ‘‘
    یعنی ناپاک جگہ تو اس طرح پاک ہوگئی ۔
    اور اگر اس حالت میں وضو ء کرنا ممکن نہیں تھا ،تو تیمم ہوسکتا تھا۔خواہ کسی کی مدد سے ہی کیوں نہ ہوتا ،
    اور اگر تیمم کرنا ممکن تھا اور تیمم نہیں کیا گیا تو یقیناً اس حالت میں پڑھی گئی نماز دہرانا ضروری ہے ۔
    اور اگر اس وقت تیمم بھی استطاعت سے باہر تھا تو نماز دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔واللہ تعالی اعلم
    علامہ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
    ( وحالة عدم التراب كحالة عدم مشروعيته ولا فرق، فإنهم صلوا بغير تيمم لعدم مشروعية التيمم حينئذ فهكذا من صلى بغير تيمم لعدم ما يتيمم به فأي فرق بين عدمه في نفسه وعدم مشروعيته، فمقتضى القياس والسنة أن العادم يصلي على حسب حاله، فإن الله لا يكلف نفسا إلا وسعها،
    (من حاشية ابن القيم على تهذيب سنن أبي داود)

    اور اگر اس مسئلہ میں فقہی مذاہب کی تفصیل مطلوب ہو تو ’’ المغنی لابن قدامہ ‘‘ اور ’’ الفقہ الاسلامی و ادلتہ ‘‘ ملاحظہ فرمائیں
     
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  9. ‏جنوری 16، 2016 #9
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    جس طرح انہوں نے پاک کیا میرے مطابق ٹانگیں پاک نہیں ھوئیں
    میں وضو اور تیمم پر قادر نہیں تھا اور ٹانگیں بھی پاک نہ تھیں
    وضو اور تیمم پر قادر نہ ہوں تو کیا کرنا چاہیے ۔یہ تو آپ نے وضاحت کردی لیکن اگر ساتہ ناپاکی ھو جیسا کہ میرے ساتھ ھوا تو پھر کیا کرنا چاھئیے
    جزاک اللہ خیرا
    میں آپ کی بتائی ھوئی کتب ان شاء اللہ ضرور پڑھوں گا
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏جنوری 16، 2016 #10
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    امام موفق الدین ابن قدامہ ؒ ’’ الکافی فی فقہ الامام احمد ‘‘ میں لکھتے ہیں :
    وإن عجز عن إزالة النجاسة عن بدنه، أو خلع الثوب النجس، لكونه مربوطاً، أو نحو ذلك، صلى ولا إعادة عليه، لأنه شرط عجز عنه فسقط، كالسترة ‘‘
    اگر بدن یا لباس کی نجاست دور کرنے سے عاجز ہو ،تو ایسے ہی نماز پڑھ لے ،اس پر اعادہ واجب نہیں ، چونکہ ( طہارت بدن و ثوب) نماز کی شرط ہے ،جو عاجز ہونے کے سبب اس سے ساقط ہے ، (۱۔۲۲۱ )
    اور علامہ عینی رحمہ اللہ ’’ البنایہ ‘‘ میں لکھتے ہیں :
    ثم المذهب عندنا أن إزالة النجاسة عن الثوب والبدن والمكان شرط لصحة الصلاة عند القدرة،،
    ہمارا مذہب (اس مسئلہ میں) یہ ہے کہ ۔۔جگہ ،لباس اور بدن سے نجاست کا ازالہ صحت نماز کیلئے شرط ہے لیکن قدرت کے ساتھ (یعنی عدم قدرت پر یہ شرط ساقط ہوگی)انتہی
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اور شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز ؒ فرماتے ہیں :
    من وجد على لباسه بقع دم كيف يصلي.
    س: من على لباسه بقع دم هل يصلي بها أم ينتظر حتى يحضر له لباس نظيف.
    ج: يصلي على حسب حاله، فلا يدع الصلاة حتى يخرج الوقت، بل يصلي على حسب حاله إذا لم يمكنه غسلها ولا إبدالها بثياب طاهرة قبل خروج الوقت؛ لقول الله تعالى: {فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ} (1)
    والواجب على المسلم أن يغسل ما به من الدم، أو يبدل ثوبه النجس بثوب آخر طاهر إذا استطاع ذلك، فإن لم يستطع ذلك صلى على حسب حالها ولا إعادة عليه؛ للآية الكريمة، ولقوله صلى الله عليه وسلم: «ما نهيتكم عنه فاجتنبوه وما أمرتكم به فأتوا منه ما استطعتم (2) » متفق على صحته.
    __________
    (1) سورة التغابن الآية 16
    (2) صحيح البخاري الاعتصام بالكتاب والسنة (7288) ، صحيح مسلم الفضائل (1337) ، سنن الترمذي العلم (2679) ، سنن النسائي مناسك الحج (2619) ، سنن ابن ماجه المقدمة (2) ، مسند أحمد بن حنبل (2/508) .
     
    Last edited: ‏جنوری 16، 2016
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں