1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تین ،،،طلاق سے متعلق کتاب

'طلاق' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو عائشہ ادریس, ‏ستمبر 25، 2016۔

Tags:
  1. ‏ستمبر 25، 2016 #1
    ابو عائشہ ادریس

    ابو عائشہ ادریس رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 22، 2015
    پیغامات:
    12
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    السلام علیکم
    ایک مجلس میں تین طلاق اس موضوع سے متعلق کوئی مدلل کتاب ہو تو اس کا لنک ارسال کر کے رہنمائی کریں۔
     
  2. ‏ستمبر 25، 2016 #2
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,368
    موصول شکریہ جات:
    367
    تمغے کے پوائنٹ:
    147

  3. ‏نومبر 16، 2016 #3
    اسرار احمد صدیقی

    اسرار احمد صدیقی مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 03، 2016
    پیغامات:
    10
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    6


    مسئلہ طلاق میں ابن عباس رض کا فتوی
    ”ایک شخص نے حضرت ابن عباسؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال کیا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، حضرت ابن عباسؓ نے اس پر سکوت اختیار کیا ہم نے یہ خیال کہ شاید وہ اس عورت کو واپس اسے دلانا چاہتے ہیں مگر حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ تم خود حماقت کا ارتکاب کرتے ہو اور پھر کہتے ہو ااے ابن عباس ‌! ابن عباس اے ابن عباسؓ؟ بات یہ ہے کہ جو شخص خدا تعالٰی سے نہ ڈرے تو اس کے لیے کوئی راہ نہیں نکل سکتی جب تم نے اللہ تعالٰی کی نافرمانی کی ہے تو اب تمہارے لیے کوئی گنجائش ہی نہیں تمہاری بیوی اب تم سے بالکل علٰیحدہ ہو چکی ہے۔ (سنن الکبریٰ جلد ۷ ص۳۳۱)
    حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ اسنادہ صحیح (تعلیق المغنی ص۴۳۰

    +


    مسئلہ طلاق ثلاثہ حدیث رکانہ کا جائزہ
    حضرت رکانہؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور آنحضرت
    نے ارشاد فرمایا کہ اے رکانہ تم رجوع کر لو۔ انہوں نے کہا کہ حضرت میں نے تو بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں، آنحضرت نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں تم رجوع کر لو۔ (ابو داؤد جلد ۱ ص۲۹۷ و سنن الکبرٰی جلد ۷ ص۳۳۹)
    امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس میں بعض بن ابی رافع مجہول راوی ہیں۔ (شرح مسلم جلد ۱ ص۴۷۸)

    علامہ ابن حزم ؒ فرماتے ہیں کہ بعض بنی ابی رافع مجہول ہیں اور مجہول سند سے حجت قائم نہیں ہو سکتی۔ (محلی جلد ۱۰ص۱۶۸)

     
  4. ‏جنوری 05، 2017 #4
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    574
    موصول شکریہ جات:
    103
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

  5. ‏جنوری 05، 2017 #5
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    574
    موصول شکریہ جات:
    103
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

  6. ‏جنوری 05، 2017 #6
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,068
    موصول شکریہ جات:
    8,172
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ان دلائل کا کئی بار جواب یہاں نقل کیا جا چکا ہے ، کچھ عرصہ پہلے کی ایک تحریر ملاحظہ کریں :
    تین طلاق پر ایک حنفی بھائی کی تحریر کا جائزہ
    دلیل نمبر دو اور دلیل نمبر چار ملاحظہ کیجیے ۔
     
  7. ‏جنوری 05، 2017 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,450
    موصول شکریہ جات:
    2,201
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    • متفق متفق x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏جنوری 05، 2017 #8
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    574
    موصول شکریہ جات:
    103
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    محترم
    آپ کو ٹیگ کر نے کا مقصد اس کتا ب کے عالم کی علمی حیثیت کا تعین کر نا ہے ۔ یہ کتاب اہلحدیث کے مؤقف کے مطابق ہے ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں