1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تین طلاقوں کا مسئلہ! کتاب وسنت کی روشنی میں

'طلاق' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏جون 25، 2011۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏جون 25، 2011 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    تین طلاقوں کا مسئلہ! کتاب وسنت کی روشنی میں

    مولانا محمد رمضان سلفی
    طلاق دینا پسندیدہ فعل نہیں ہے۔ اسلام نے انتہائی کٹھن حالات میں طلاق کی اجازت دی ہے جبکہ صلح اور باہمی اتفاق کی کوئی صورت باقی نہ رہ جائے۔ معمولی بات پر طلاق، طلاق کہہ دینا با عزت اور باوقار لوگوں کا شیوہ نہیں ہے۔ میاں، بیوی میں جدائی اور تفریق ہی وہ جرم ہے جو کہ شیطان کو باقی تمام جرائم سے بڑھ کر پسند ہے۔
    اسلام نے کلی طور پر طلاق کے دروازے کو بند بھی نہیں کیا بلکہ انتہائی ناگزیر حالات میں اس کی اجازت دی ہے اور اس کیلئے طریق کار کا تعین بھی صحیح کردیا ہے۔
    دوسری طرف شریعت ِمطہرہ نے ایک مجلس میں اکٹھی تین طلاقیں داغ دینے کی حوصلہ شکنی کی ہے اور اسے انتہائی قبیح فعل قرار دیا ہے۔ رسول اللہﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دیں۔ رسولِ کریمﷺکو پتہ چلا تو آپﷺ غصے کی حالت میں کھڑے ہوگئے اور فرمایا:
    ’’کیا میری موجودگی میں اللہ تعالیٰ کی کتاب سے کھیلا جارہاہے؟‘‘ یہ سن کر ایک آدمی نے کہا: ’’اے اللہ کے رسولؐ ،کیا میں اسے قتل نہ کردوں؟‘‘ (سنن نسائی :۲؍۴۶۸)
    اس شدید ڈانٹ کے باوجود طلاقِ ثلاثہ کا مسئلہ اختلافی بنا دیا گیا ہے، ایک گروہ کی رائے یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یک بارگی تین طلاقیں دے دے تو تینوں ہی واقع ہوجائیں گی۔ یہ گروہ مقلدین حضرات کا ہے، اگرچہ اس گروہ کے وسیع النظر علماء اس رائے سے اختلاف رکھتے ہیں۔
    دوسرے گروہ کے نزدیک ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی ہے، اس رائے کے حاملین اہل حدیث اور ظاہریہ ہیں۔ امام طحاوی، امام رازی، امام ابن تیمیہ، امام ابن قیم، علامہ ابن حجر، علامہ عینی، علامہ طحطاوی، امام شوکانی، عبدالحی لکھنوی اور نواب صدیق حسن خان رحمہم اللہ بھی اسی رائے کو اختیار کرتے ہیں۔
    ٭ امام طحاویؒ فرماتے ہیں:
    ’’ذھب قوم إلی أن الرجل إذا طلق امرأتہ ثلاثا معا فقد وقعت علیہا واحدة‘‘ (معانی الآثار:ج۲؍ص۳۱)
    ’’ایک قوم اس طرف گئی ہے کہ اگر اکٹھی تین طلاقیں دی جائیں تو ایک ہی واقع ہوتی ہے۔ ‘‘
    ٭ امام رازیؒ فرماتے ہیں:
    ’’ھذا اختیار کثیر من علماء الدین أنہ لو طلقھا اثنین أو ثلثا لا یقع إلا واحدة‘‘ (تفسیر کبیر: ج۶ ؍ص۹۶)
    یعنی ’’بہت سے علماے دین کاپسندیدہ مسلک یہ ہے کہ جو شخص بیک وقت دو یا تین طلاقیں دے دے تو اس سے صرف ایک طلاق واقع ہوتی ہے۔ ‘‘
    ٭ امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:
    ’’اگر کوئی شخص طہر میں ایک کلمہ یا تین کلمات کے ساتھ طلاق دے دے تو جمہورعلما کے نزدیک یہ فعل حرام ہے لیکن ان کے واقع ہونے میں اختلاف ہے۔
    ایک قول یہ ہے کہ تین واقع ہوں گی اور
    ایک قول یہ ہے کہ ایک ہی طلاق واقع ہوگی اور
    یہی وہ قول ہے جس پر کتاب و سنت دلالت کرتے ہیں۔ (مجموع الفتاویٰ: ج۳۳؍ ص۹)
    ٭ امام ابن قیمؒ نے تین طلاقوں کو ایک قرار دینے والوں کی یہ فہرست پیش فرمائی ہے:
    اس بارے میں امام ابوحنیفہؒ کا مذہب کیاہے؟ امام ابن قیمؒ فرماتے ہیں کہ اس کے متعلق ان سے دو روایتیں منقول ہیں:
    ٭ حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباري میں تین طلاقوں کو ایک قرار دینے والوں کی جو فہرست دی ہے، وہ حسب ِذیل ہے:
    ٭ امام شوکانیؒ فرماتے ہیں کہ ’’اہل علم کا ایک گروہ اس طرف گیا ہے کہ طلاق طلاق کے پیچھے واقع نہیں ہوتی بلکہ صرف ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔‘‘ (نیل الاوطار: ج۴ ؍ص۳۵۵)
    ٭ نواب صدیق حسن خاں فرماتے ہیں:
    ٭ علامہ عینی حنفی ؒ نے عمدۃ القاري میں کہا ہے کہ
    ٭ امام طحطاوی حنفیؒ درّمختار کے حاشیہ پر لکھتے ہیں:
    ٭ علامہ عبدالحی حنفی لکھنویؒ فرماتے ہیں:
    ٭ اوپر ان علما کے اقوال کا تذکرہ کیا گیا ہے جنہوں نے خود اور سلف صالحین میں تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینے کے موقف کا تذکرہ کیا ہے۔ علما کی اس فہرست سے ان لوگوں کے دعوے کا پھسپھساپن ظاہر ہوجاتا ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ
    ’’تین طلاقیں اکٹھی دی جائیں یا دو، ان کا شرعاً اعتبار کیا جائے گا اور دو کو دو اور تین کو تین ہی سمجھا جائے گا، تقریباً سو فیصد صحابہ کرامؓ، اکثر تابعینؒ، ائمہ اربعہؒ اور جمہور سلف ؒو خلفؒ اسی کے قائل ہیں اور ظاہر قرآن کریم اور صحیح و صریح احادیث بھی یہی بتلاتی ہیں اور یہی حق و صواب ہے لہٰذا جن بعض حضرات کے اقوال اور فتوے اس مسئلے میں جمہور کے اِجماع کے خلاف نقل کئے جاتے ہیں ان کی کوئی وقعت نہیں اور وہ سب کے سب شاذ ہیں جو قابل عمل نہیں۔‘‘ (ماہنامہ ’الشریعہ‘:ص۳۳، جولائی ۲۰۰۶ئ)
    اس عبارت میں حسب ِذیل چار دعوے کئے گئے ہیں:
    یہ دعویٰ کہ سو فیصدی صحابہ کرامؓ اور اکثر تابعینؒ تین طلاقوں کو تین ہی شمار کرتے ہیں، تو یہ سوچ سراسر تقلیدی غلو کی پیداوار ہے، ورنہ جو حضرات تین طلاقوں کو ایک ہی قرار دیتے ہیں وہ تعداد میں کم نہیں ہیں۔ ان حضرات کی فہرست جن علما کے پیش نظر رہی، اُنہوں نے کبھی ایسا غیرمنصفانہ فیصلہ نہیں کیا جو ’الشریعہ‘ کے مضمون نگار نے کیا ہے، بلکہ جو لوگ تین طلاقوں کو ایک قرار دیتے ہیں، وہ اگر یہ دعویٰ کریں کہ سو فیصدی صحابہ کرامؓ بھی اسی موقف کے حامل تھے تو یہ بے جا نہ ہوگا جیسا کہ عنقریب اسے ثابت کیا جائے گا۔
    رہا دوسرا دعویٰ کہ تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق بنانے والوں کامذہب شاذ اور منکر ہے تو یہ بھی جذباتی فیصلہ ہے جو حقیقت سے عاری ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل سے ثابت شدہ مسئلے کو شاذ یا منکر نہیں کہناچاہئے اور اس سلسلہ میں عجلت سے کام نہیں لینا چاہئے بلکہ مسئلہ زیر بحث میں شاذ یا منکر کا استعمال ہی بے جا اوربے محل ہے، کیونکہ شاذ سے مراد یہ ہے کہ راوی خود تو ثقہ ہو لیکن وہ اپنے سے اَوثق یا اکثر راوۃ کی اس طرح مخالفت کرے کہ ان میں سے ایک کا صدق دوسرے کے کذب کو مستلزم ہو۔
    زیر نظر مسئلہ میں شاذ کا اطلاق تب صحیح ہوسکتا ہے جب یہ کہا جائے کہ
    امام ابن قیمؒ فرماتے ہیں:
    ’’لیس ہذا ھو الشاذ وإنما الشذوذ أن یخالف الثقات فیما رووہ فیشذّ عنھم بروایتہ فأما إذا روی الثقة حدیثا منفردا بہ لم یرو الثقات خلافہ فإن ذلک لا یسمی شاذا‘‘ (إغاثة اللھفان: ج۱؍ ص۲۹۶)
    ’’یہ حدیث شاذ نہیں ہوسکتی کیونکہ شذوذ تو اسے کہتے ہیں کہ ثقہ راوی دیگر ثقہ راویوں کے خلاف روایت کرے لیکن جب ثقہ راوی ان سے الگ مستقل حدیث روایت کرے جسے ثقات نے روایت ہی نہ کیا ہو تو اس کا نام شاذ نہیں رکھا جاسکتا۔‘‘
    یہی حال منکر کا ہے کیونکہ منکر سے مراد یہ ہے کہ ضعیف راوی ثقہ راویوں کے خلاف روایت کرے اور یہاں مخالفت کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ لہٰذا مضمون نگار کا تین طلاقوں کو ایک قرار دینے والوں کے مذہب پر شاذ یامنکر کا اطلاق غیر سوچی سمجھی رائے ہے جس کی کوئی وقعت نہیں۔
    کیونکہ قرآنِ کریم اور صحیح و صریح احادیث بھی تین طلاقوں کو تین قرار دینے کی نفی کرتے ہیں بلکہ اس کے برعکس یکبار دی ہوئی تین طلاقوں کو ایک شمار کرنے پر دلالت کرتے ہیں،جیسا کہ درج ذیل آیت ِکریمہ اور احادیث ِصحیحہ سے واضح ہے :
    دلائل قرآنِ کریم

    قرآنِ کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    ’’ اَلطَّلاقُ مَرَّتَانِ َفاِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌ بِاِحْسَانٍ ‘‘ (البقرۃ :۲۲۹)
    ’’یہ طلاقیں دو مرتبہ ہیں پھر یا تو اچھائی سے روک لینا ہے یا عمدگی سے چھوڑ دینا ہے۔‘‘
    یعنی وہ طلاق جس میں خاوند کو عدت کے اندر رجوع کا حق حاصل ہے، وہ دو مرتبہ ہے۔ پہلی مرتبہ طلاق دینے کے بعد رجوع ہوسکتا ہے اور دوسری مرتبہ طلاق دینے کے بعد بھی رجوع کی گنجائش ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ طلاق دو عدد ہیں کہ ایک آدمی یکبار متعدد طلاقیں دے دے۔ بلکہ مرّتان سے واضح کردیا گیا ہے کہ دو طلاقیں الگ الگ دو بار دی جائیں گی۔ اسی لئے آگے چل کر فرمایا:
    ’’ فَإِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ ‘‘
    ’’یعنی دو دفعہ طلاق دینے کے بعد تیسری مرتبہ اگر پھر طلاق دے دے تو وہ اس کے لئے حلال نہیں،یہاں تک کہ وہ کسی اور سے(شرعی) نکاح کرے۔‘‘
    اس میں اس بات کی صراحت ہے کہ تینوں طلاقیں قرآن کی رو سے الگ الگ دی جائیں گی۔
    یہ بھی یاد رہے کہ تین طلاقیں تین طہروں یا تین مہینوں میں دینے سے بھی" ف" تعقیب کے لئے ہوسکتی ہے کیونکہ ایک طہر میں ایک طلاق دینے کے بعد وہ طلاق معدوم نہیں ہوجاتی بلکہ اس کا اثر اگلے طہر تک جاری رہتا ہے تو دوسرے طہر میں دی جانے والی طلاق بھی پہلی طلاق کے پیچھے ہی واقع ہوگی۔ اسی طرح دوسرے طہر میں دی جانے والی طلاق بھی معدوم نہیں ہوجائے گی بلکہ اس کا اثر تیسرے طہر تک جاری رہے گا اور تیسرے طہر میں دی جانے والی طلاق دوسرے طہر میں دی جانے والی طلاق کے پیچھے ہی واقع ہوگی۔ اس طرح طلاق حَسَن طریقہ کے مطابق دی جائے گی اور" ف" کی تعقیب بھی باقی رہے گی۔ لہٰذا قرآنِ کریم کے الفاظ سے طلاق کا وہی طریقہ مراد لینا چاہئے جو جائز ہے۔ طلاقِ بدعت کو قرآن کریم کے الفاظ میں لپیٹ کر رائج کرنے سے بہرحال گریز کرنا چاہئے۔ اسی میں انسان کی عاقبت کی عافیت بھی ہے اور اس کے مذہب کی خیربھی۔ کیونکہ مذہب ِحنفی میں بھی یکبارگی تین طلاقیں دینے کو بدعت کہا گیا ہے۔ (الہدایۃ:۲؍۳۳۵، المطبع المجتبائي ،دہلی طبع ۱۳۷۵ھ)
    دلائل احادیث ِمبارکہ

    1۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ ’’رسولِ اکرمﷺ اور حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں اور حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں جب کوئی شخص اکٹھی تین طلاقیں دیتا تو وہ ایک ہی شمار کی جاتی تھیں۔ پھر حضرت عمرؓ نے کہا کہ لوگوں نے اس کام میں جلدی کرنا شروع کردی جس میں اُنہیں مہلت ملی تھی۔ تو اس کو ہم نافذ کردیں تو مناسب ہے۔ پھر اُنہوں نے اسے جاری کردیا۔( صحیح مسلم: ج۱؍ ص۴۷۷) (زیر نظر بحث اور مذکورہ حدیث کی تفصیل کےلیے دیکھیئے:تطلیقات ثلاثہ از مولانا عبدالرحمن کیلانی ؒ )
    2۔ابوالصہباء نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے زمانہ میں اور حضرت ابوبکرؓ کی خلافت ،حضرت عمرؓ کی خلافت میں بھی تین سال تک تین طلاقوں کو ایک بنایا جاتا تھا؟ تو عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا: ہاں۔( مسلم:ج۱ ؍ص۴۷۸)
    3۔ابوالصہباء نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے کہا: ایک مسئلہ تو بتائیے کیا رسول اللہﷺ اور حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں تین طلاقیں ایک ہی شمار نہ ہوتی تھیں؟ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے کہا: ہاں ایساہی تھا۔ پھر جب حضرت عمرؓ کا زمانہ آیا تو لوگ اکٹھی طلاقیں دینے لگے تو حضرت عمرؓ نے اُنہیں لوگوں پر نافذ کردیا۔‘‘ (صحیح مسلم : ج۱؍ ص۴۷۸)
    4۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رکانہ بن عبد ِیزید نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دیں۔ پھر اس پر سخت پریشان ہوئے تو رسول اللہﷺ نے اس سے دریافت فرمایا کہ تو نے طلاق کس طرح دی ہے؟ اُس نے کہا: میں نے تینوںطلاقیں دے دے دی ہیں۔ آپؐ نے پوچھا: کیاایک ہی مجلس میں دی ہیں؟ اس نے کہا: ہاں( ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی ہیں) آپؐ نے فرمایا: یہ توایک ہی طلاق ہوئی ہے۔ تو چاہے تو اس سے رجوع کرلے۔ اس نے کہا: میں نے رجوع کیا۔ (مسند احمد: ج۳ ؍ص۹۱)
    اس حدیث سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک رجعی طلاق شمار ہوگی۔
    کیا اکٹھی تین طلاقوں کو ایک قرار دینا اجماع کے خلاف ہے؟

    رہا یہ دعویٰ کہ تین طلاقوں کو ایک قرار دینے والوں کا قول اجماع کے خلاف ہے تو یہ دعویٰ بھی خلاف ِحقیقت اور کئی اعتبار سے غلط ہے :
    اوّلاً… اجماع کی تعریف اُصولِ فقہ کی کتابوں میں یہ کی گئی ہے:
    ’’ھو اتفاق المجتھدین من الأمۃ الإسلامیۃ في عصر من العصور علی حکم شرعي بعد وفاۃ النبي! (الوجیز في أصول الفقہ: ص۲۲۲)
    یعنی ’’نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد کسی دور میں امت ِ مسلمہ کے تمام مجتہدین کا کسی شرعی حکم پر متفق ہونا ’اجماع‘ کہلاتا ہے۔‘‘
    ’اجماع‘کی اس تعریف کے پیش نظر طلاقِ ثلاثہ کے تین واقع ہونے پر اجماع کا دعویٰ ہرگز نہیں کیاجاسکتا، کیونکہ بہت سے اہل علم نے اس سے اختلاف کیا ہے جن کی فہرست اس سے قبل دے دی گئی ہے جبکہ صرف ایک مجتہد کے اختلاف کرنے سے بھی اجماع ثابت نہیں ہوسکتا، تو اتنی کثیر تعداد کے اختلاف کی صورت میں اجماع کا دعویٰ کیسے کیا جاسکتا ہے؟
    ثانیاً: امام ابن قیمؒ نے ذکر کیا ہے کہ طلاقِ ثلاثہ سے متعلق چار مذاہب پائے جاتے ہیں :
    اندازہ فرمائیے زیر بحث مسئلہ میں چار مختلف مذاہب کے پائے جانے کے باوجود اجماع کا دعویٰ کیسے کیا جاسکتا ہے؟
    ثالثاً : تین طلاقوں کے تین شمار ہونے پر اجماع کا دعویٰ تو بالکل خلافِ حقیقت ہے ، لیکن اس کے برعکس تین طلاقوں کو ایک طلاق شمار کرنے والے حضرات کا اپنے موقف پر اجماع کا دعویٰ کرنا بالکل برمحل اور برحق ہے، کیونکہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی مذکور حدیث کے مطابق رسول اللہﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دورِ خلافت میں اور حضرت عمرؓ کی خلافت کے ابتدائی دو یا تین سال تک تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں۔ مسلم شریف کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۵ہجری تک صحابہ کرامؓ میں ایک صحابیؓ بھی ایسا نہ تھا جس نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہو، تمام صحابہ کرامؓ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک رجعی طلاق شمار کرتے تھے۔ اس لئے طلاقِ ثلاثہ کو ایک طلاق قراردینے والے اپنے اس موقف پر اجماع کا دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہیں۔
    علامہ ابن قیمؒ فرماتے ہیں:
    ’’فنحن أحق بدعوی الإجماع منکم لأنہ لایعرف في عھد الصدیق أحد ردّ ذلک ولا خالفہ فإن کان إجماع فھومن جانبنا أظھر ممن یدعیہ من نصف خلافۃ عمر وھلمّ جرا فإنہ لم یزل الاختلاف فیھا قائما‘‘
    (إغاثۃ اللھفان:۱؍۲۸۹)
    ’’ طلاق ثلاثہ کو ایک بنانے والے حضرات تین بنانے والوں سے بڑھ کر اجماع کا دعویٰ کرنے کا حق رکھتے ہیں او ر ہمارے موقف پر اجماع کا پایا جانا زیادہ واضح ہے، جبکہ حضرت عمرؓ کے نصف دور میں تین طلاقوں کو تین قرار دینے سے لے کر اب تک اس مسئلہ میں اختلاف چلا آرہا ہے۔‘‘
    رابعاً … اجماع کا دعویٰ کرنے والوں کا انحصار اس بات پر ہے کہ جب سے حضرت عمرؓ نے تین طلاقوں کو تین قرار دینے کا حکم دیاہے، تب سے اس پر اتفاق ہوگیا ہے۔ لہٰذا اس کی مخالفت جائز نہیں ہے۔
    جیسا کہ امام ابن قیمؒ إغاثۃ اللھفان میں فرماتے ہیں:
    ’’قال الحافظ أبوبکر الإسماعیلي في مسند عمر أخبرنا أبو یعلی حدثنا صالح بن مالک حدثنا خالد بن یزید بن أبي مالک عن أبیہ قال قال عمر بن الخطاب: ما ندمت علی شیئ ندامتی علی ثلاث أن لا أکون حرمت الطلاق وعلی أن لا أکون أنکحت الموالي وعلی أن لا أکون قتلت النوائح‘‘ (إغاثۃ اللھفان: ج۱؍ ص۳۳۶)
    ’’حضرت عمرؓ نے فرمایا جو ندامت مجھے تین کاموں پر ہوئی ہے وہ کسی او رکام پر نہیں ہوئی: ایک یہ کہ میں تین طلاقوں کو طلاقِ تحریم نہ بناتا، دوسرا یہ کہ غلاموں کو نکاح کرنے کا حکم صادر نہ کرتا، اور تیسرا یہ کہ نوحہ کرنے والیوںکو قتل کرنے کا حکم نہ دیتا۔‘‘
    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے جو تین طلاقوں کے تین ہونے کا حکم دیا تھا، وہ شرعی حکم نہ تھا بلکہ تعزیری اور وقتی آرڈیننس تھا، جو یکبار تین طلاقیں دینے والوں کے لئے سزا کے طور پر نافذ کیا تھا۔ جب دیکھا کہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ لوگوں کا یکبارگی طلاقیں دینے کا فساد اوربڑھا ہے تو آپؓ نے اس ذاتی فیصلے سے رجوع فرما لیا، اور اس پر ندامت کا اظہار بھی کیا۔ تو دیکھئے جب حضرت عمرؓ ہی اپنے اس فیصلے پر ندامت کااظہار فرماچکے ہیں تو اب اسے بنیاد بنا کر اجماع کا دعویٰ کیسے کیاجاسکتا ہے؟
    اگرچہ بعض علما نے اس راوی پر جرح کی ہے لیکن کبارائمہ مثلاً ولیدبن مسلم، عبداللہ بن مبارک، سلیمان بن عبدالرحمن، ہشام بن عمار، ہشام بن خالد، سوید بن سعید، ابوزرعہ اور ابن صالح وغیرہ نے اس راوی کو ثقہ اور قابل اعتماد قرار دیا ہے۔ ابن حبانؒ نے اسے فقہاے شام میں شمار کیا ہے او ریہ بھی کہاہے کہ یہ صدوق في الروایۃ ہے۔ عجلی نے بھی اسے ثقہ کہا ہے۔(تہذیب التہذیب: ج۳ ص۱۲۶)
     
  2. ‏جون 25، 2011 #2
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    طلاقِ ثلاثہ کو ’تین‘ ثابت کرنیوالوں کے دلائل کا جائزہ

    حنفیہ کے ہاں طلاق کی اقسام
    ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین قرار دینے والوں کے دلائل کا جائزہ لینے سے قبل حنفی مذہب میں طلاق کی اقسام کو سمجھ لینا مناسب ہے، تاکہ آنے والے دلائل کی مراد سمجھنے میں آسانی رہے۔ حنفیہ کے ہاں طلاق کی تین اقسام ہیں:
    1۔احسن
    2۔حسن
    3۔بدعی
    اب ہم ان دلائل کا جائزہ لیتے ہیں جو طلاقِ ثلاثہ کے واقع ہونے پر پیش کئے جاتے ہیں۔ ہماری رائے میں طلاقِ ثلاثہ کی روایات کو طلاقِ بدعت پر محمول کرنے کی وجہ سے اختلاف پیدا ہوتا ہے جسے خود حنفی مذہب میں بھی بدعت کہا گیا ہے۔ اس کے برعکس اگر ان روایات کو طلاق حسن پر محمول کیا جائے تو کوئی اختلاف باقی نہ رہے۔
    ایک مجلس کی طلاقِ ثلاثہ کو تین قرار دینے والوں کے دلائل کی حقیقت

    1۔سب سے پہلے قرآن کی یہ آیت پیش کی جاتی ہے:
    ’’ فَاِنْ طَلَّقَھَا فَـلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ‘‘ (البقرۃ:۲۳۰)
    اور اس سے استدلال یوں کیا جاتاہے کہ یہاں حرف ’فا‘ ہے جو اکثر تعقیب بلامہلت کے لئے آتا ہے۔ جس کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ دو کے بعد اگر کسی نادان نے تیسری طلاق بھی فی الفور دے دی تو اب اس کی بیوی اس کے لئے حلال نہیں ہے جب تک وہ کسی اور مرد سے نکاح نہ کرلے اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ ایک ہی مجلس اور ایک ہی جگہ میں تین طلاقیں دی جائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ آیت کی تفسیر میں دفعتہً تین طلاقیں دینا بھی داخل ہے۔ (ماہنامہ ’الشریعہ‘ جولائی ۲۰۰۶ئ، ص۲۸)
    2۔ایک مجلس میں طلاقِ ثلاثہ کے وقوع کے قائلین دوسری دلیل کے طور پر حضرت عائشہؓ کی یہ حدیث پیش کرتے ہیں: ’’حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، سو اس نے کسی اور مرد سے نکاح کیا اور اس نے ہم بستری سے پہلے اسے طلاق دے دی۔ آنحضرت ﷺ سے پوچھاگیا: کیا وہ عورت اپنے پہلے خاوند کے لئے حلال ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا: نہیں جب تک کہ دوسرا خاوند اس سے ہم بستری نہ کرلے اور لطف اندوز نہ ہوجائے۔‘‘ (بخاری :۲؍۷۹۱، مسلم:۱؍۴۶۳، السنن الکبریٰ:۷؍۳۳۴)
    مضمون نگار لکھتے ہیں: ’’اس حدیث میں ’’طلَّق امرأتہ ثلاثًا‘‘ کے جملہ کی تشریح میں حافظ ابن حجرؒ اور حافظ بدر الدین عینی ؒفرماتے ہیں کہ یہ جملہ ظاہراً اسی کو چاہتا ہے کہ تین طلاقیں اکٹھی اور دفعتہً دی گئی تھیں۔‘‘ (ماہنامہ الشریعہ، جولائی ۲۰۰۶ئ، ص ۲۸)
    3۔ان حضرات کی تیسری دلیل یہ حدیث ہے کہ ’’حضرت عائشہؓ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے اور اس کے بعد اس کو تین طلاقیں دے دیتا ہے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ عورت اس شخص کے لئے حلال نہیں ہے، جب تک کہ دوسراخاوند اس سے لطف اندوز نہ ہوجائے جس طرح کہ پہلا خاوند اس سے لطف اُٹھا چکا ہے۔(مسلم:۱؍۴۶۳)
    4۔تین طلاق کو تین قرار دینے والوں کی طرف سے محمود بن لبید کی وہی حدیث پیش کی جاتی ہے جس کے الفاظ بمع ترجمہ ابھی ذکر ہوئے ہیں اور اس سے استدلال کرتے ہوئے کہا گیا ہے:
    ’’اس صحیح روایت سے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ دفعتاً تین طلاقیں دینا پسندیدہ امر نہیں ورنہ جناب رسول اکرمﷺ نہ تو اس پر سخت ناراض ہوتے اور نہ ہی یہ ارشاد فرماتے کہ میری موجودگی میں اللہ کی کتاب سے کھیلا جارہا ہے۔ البتہ آپؐ نے باوجود ناراضگی کے ان تینوں کو اس پر نافذ کردیا۔‘‘ (ماہنامہ الشریعہ: جولائی ۲۰۰۶ئ)
    5۔ان کی پانچویں دلیل حضرت سہل بن سعدؓ کی یہ روایت ہے کہ حضرت عویمرؓ نے آپؐ کے سامنے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں اور آپ ؐ نے ان کونافذ کردیا۔(سنن ابوداؤد) ’’اگر دفعتہً تین طلاقیں حرام ہوتیں اور تین کا شرعاً اعتبار نہ ہوتا اور تین طلاقیں ایک تصور کی جاتیں تو آپؐ ضرور اس کا حکم ارشاد فرماتے اور کسی طرح خاموشی اختیار نہ فرماتے۔‘‘ (ماہنامہ ’الشریعہ‘: جولائی ۲۰۰۶ئ)
    6۔ان حضرات کی چھٹی دلیل یہ ہے کہ ’’حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بحالت ِحیض اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دی، پھر ارادہ کیا کہ باقی دو طلاقیں بھی باقی دو حیض یاطہر کے وقت دے دیں۔ آنحضرتﷺ کو اس کی خبر ہوئی تو آپؐ نے حضرت ابن عمرؓ سے فرمایا کہ تجھے اللہ تعالیٰ نے اس طرح حکم تو نہیں دیا، تو نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے۔ سنت تو یہ ہے کہ جب طہر کا زمانہ آئے تو ہر طہر کے وقت اس کو طلاق دے، وہ فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے مجھے حکم دیا کہ تو رجوع کرلے۔ چنانچہ میں نے رجوع کرلیا۔ پھر آپؐ نے مجھ سے فرمایا کہ جب وہ طہر کے زمانہ میں داخل ہو تو اس کو طلاق دے دینا اور مرضی ہوئی تو بیوی بناکر رکھ لینا، اس پر میں نے آنحضرتﷺ سے عرض کیا: یارسول اﷲﷺ یہ تو بتلائیں، اگر میں اس کو تین طلاقیں دے دیتا تو کیا میرے لئے حلال ہوتا کہ میں اس کی طرف رجوع کرلوں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں وہ تجھ سے جدا ہوجاتی اور یہ کارروائی معصیت ہوتی۔ (السنن الکبریٰ:۷؍۳۳۴، سنن دارقطنی :۲؍۴۳۸)
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تین طلاقیں دے چکنے کے بعد پھر رجوع کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔‘‘ (ماہنامہ الشریعہ :۲۰۰۶ء ، ص۲۹)
    7۔ان کی ایک دلیل یہ ہے کہ حضرت نافع بن عجیر فرماتے ہیں کہ حضرت رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی سہیمہ کو بتہ (تعلق قطع کرنے والی) طلاق دی۔ اس کے بعد اُنہوں نے آنحضرتﷺ کو خبر دی اور کہا: بخدا میں نے صرف ایک ہی طلاق کا ارادہ کیاہے؟ اس پر آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی قسم! تو نے صرف ایک ہی طلاق کا ارادہ کیا ہے؟ رکانہ نے کہا: اللہ تعالیٰ کی قسم! میں نے صرف ایک ہی طلاق کا ارادہ کیا ہے تو آنحضرتﷺ نے وہ بی بی اسے واپس دلوا دی۔‘‘ (سنن ابوداؤد، سنن دارقطنی وغیرہ)
    اس پر صاحب ِمضمون کہتے ہیں:
    ’’اگر لفظ بتہ سے دفعتہً تین طلاقیں پڑنے کا جواز ثابت نہ ہوتا تو جناب رسولِ اکرمﷺ حضرت رکانہؓ کو کیوں قسم دیتے؟ چونکہ کنایہ کی طلاق میں نیت کا دخل بھی ہوتا ہے اور لفظ بتہ تین کا احتمال بھی رکھتا ہے، اس لئے آپ نے ان کو قسم دی، اگر تین کے بعد رجوع کا حق ہوتا اور تین ایک سمجھی جاتی تو آپؐ ان کو قسم نہ دیتے۔‘‘ (ماہنامہ ’الشریعہ‘ جولائی ۲۰۰۶ئ،ص ۲۹)
    8۔ان حضرات کی ایک دلیل یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمرؓ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میں نے بحالت ِحیض اپنی بیوی کو بتہ طلاق دے دی ہے۔ اُنہوں نے فرمایا کہ تو نے پروردگار کی نافرمانی کی ہے اور تیری بیوی تجھ سے بالکل الگ ہوگئی۔ اس شخص نے کہا کہ عبداللہ بن عمرؓ کے ساتھ بھی تو ایسا ہی معاملہ پیش آیاتھا۔ مگر آنحضرتﷺ نے تو ان کو رجوع کا حق دیاتھا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے اسے فرمایا کہ ’’بلا شبہ آنحضرتﷺ نے عبداللہ کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ اپنی بیوی کی طرف رجوع کرلے مگر اس لئے کہ اس کی طلاق باقی تھی اور تیرے لئے اپنی بیوی کی طرف رجوع کا حق نہیں۔‘‘(السنن الکبریٰ:۷؍۳۳۴)(ماہنامہ الشریعہ: جولائی ۲۰۰۶ئ)
    9۔ان حضرات کی نویں دلیل یہ ہے کہ ’’حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے جب اسی قسم کے مسئلہ کے بارہ میں سوال کیا جاتا تو وہ فرماتے تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دی ہیں تو بے شک آنحضرت ﷺ نے اس صورت میں مجھے رجوع کا حکم دیا تھا اور اگر تم نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں تو یقینا وہ تم پر حرام ہوگئی ہے جب تک کہ وہ تیرے بغیر کسی اور مرد سے نکاح نہ کرلے اور اس طرح تو نے اپنی بیوی کو طلاق دینے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی بھی کی ہے۔‘‘(بخاری ،مسلم بحوالہ ماہنامہ الشریعہ:جولائی ۲۰۰۶ء ، ص۳۰)
    10۔ان کی ایک دلیل حضرت زید بن وہب کی یہ روایت ہے کہ مدینہ طیبہ میں ایک مسخرہ مزاج آدمی تھا، اس نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دیں۔ جب ان کا یہ معاملہ حضرت عمرؓ کے ہاں پیش کیا گیا اور ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا کہ میں نے تو محض دل لگی اور خوش طبعی کے طور پر یہ طلاقیں دی ہیں، یعنی میرا قصد و اِرادہ نہ تھا تو حضرت عمرؓ نے دُرّہ سے اس کی مرمت کی اور فرمایا کہ ’’تجھے تو تین طلاقیں ہی کافی تھیں۔‘‘ (السنن الکبریٰ:۷؍۳۳۴)
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عمرؓ بھی ایک کلمہ یا ایک ہی مجلس میں دی گئی طلاقوں کا اعتبار کرتے تھے۔ (ماہنامہ ’الشریعہ‘، جولائی ۲۰۰۶ء ، ص۳۰)
    11۔ان کی ایک دلیل حضرت انسؓ بن مالک کی یہ روایت ہے کہ’’ حضرت عمرؓ نے اس شخص کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کو ہم بستری سے پہلے تین طلاقیں دے دیں، فرمایا کہ تین ہی طلاقیں متصور ہوں گی اور وہ عورت پہلے خاوند کے لئے حلال نہیں تاوقتیکہ وہ کسی اور شخص سے نکاح نہ کرلے اور حضرت عمرؓ کے پاس جب ایساشخص لایاجاتا تو آپؐ اس کو سزا دیا کرتے تھے۔ ‘‘ (السنن الکبریٰ:۷؍۳۳۴) (ماہنامہ الشریعہ، جولائی ۲۰۰۶ئ)
    12۔ان کی ایک دلیل یہ ہے کہ ’’حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ روایت کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی بیوی کو ہم بستری سے پہلے تین طلاقیں دے دے تو وہ عورت اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور مرد سے نکاح نہ کرلے۔‘‘ (السنن الکبریٰ:۷؍۳۳۴)
    13۔ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ ’’ایک روایت میں یوں آیاہے کہ ایک شخص حضرت علیؓ کے پاس آیا اور اُس نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دی ہیں، اُنہوں نے فرمایاکہ تین طلاقیں تو اس کو تجھ پر حرام کردیتی ہیں اور باقی ماندہ طلاقیں اپنی دوسری بیویوں پرتقسیم کردے۔ (السنن الکبریٰ:۷؍۳۳۵)
    معلوم ہوا کہ حضرت علیؓ بھی ایک کلمہ اور ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین ہی قرار دیتے ہیں۔‘‘(ماہنامہ ’الشریعہ‘:جولائی ۲۰۰۶ئ، ص۳۰)
    14۔ان حضرات کی ایک دلیل یہ ہے کہ ’’حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا میرے چچا نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ اب اس کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ تیرے چچا نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہے۔ اور اب اس کی کوئی صورت نہیں بن سکتی۔ وہ شخص بولاکہ کیا حلالہ کی صورت میں بھی جواز کی شکل نہیں پیدا ہوسکتی؟ اس پرابن عباسؓ نے فرمایا: جوشخص اللہ تعالیٰ سے دھوکہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کواس کا بدلہ دے گا۔ ‘‘ (السنن الکبریٰ :۷؍۳۳۷) (ماہنامہ ’الشریعہ‘: ص۳۰)
    15۔ان حضرات کی ایک دلیل یہ ہے کہ’’ایک شخص نے حضرت ابن عباسؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر سوال کیا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ نے اس پر سکوت اختیارکیا، ہم نے خیال کیا کہ شاید وہ اس عورت کو اسے واپس دلانا چاہتے ہیں مگر حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا: تم خود حماقت کا ارتکاب کرتے ہو اور پھر کہتے ہو: ’’اے ابن عباسؓ! اے ابن عباسؓ بات یہ ہے کہ جوشخص خدا تعالیٰ سے نہ ڈرے تو اس کے لئے کوئی راہ نہیں نکل سکتی۔ جب تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہے تو اب تمہارے لئے کوئی گنجائش نہیں۔ تمہاری بیوی اب تم سے بالکل علیحدہ ہوچکی ہے۔‘‘(السنن الکبریٰ:ج۷؍ص ۳۳۱) (ماہنامہ ’الشریعہ‘:جولائی ۲۰۰۶ء، ص۳۰)
    16۔ان کی ایک دلیل یہ ہے کہ ’’حضرت معاویہ بن ابی عیاش انصاری فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر اور عاصم بن عمرو کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں حضرت محمد بن ایاس بن بکیر تشریف لائے اورپوچھنے لگے کہ ایک دیہاتی گنوار آدمی نے اپنی غیر مدخول بہا عورت کو دخول سے قبل تین طلاقیں دے دی ہیں۔ اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ کہا: جا کر ابن عباسؓ اور ابوہریرہؓ سے پوچھو۔ جب سائل ان کے پاس حاضر ہوا اور دریافت کیا تو حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! فتویٰ دیجئے لیکن سوچ سمجھ کربتانا کہ مسئلہ پیچیدہ ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا کہ ایک طلاق اس سے علیحدگی کے لئے کافی تھی۔ اور تین طلاقوں سے وہ اس پر حرام ہوگئی ہے۔ الا یہ کہ وہ کسی اور مرد سے نکاح کرے اور حضرت ابن عباسؓ نے بھی یہی فتویٰ دیا۔ (موطأ امام مالک: ص۲۰۸، الطحاوی، السنن الکبریٰ:۷؍۳۳۵) (ماہنامہ ’الشریعہ‘:جولائی ۲۰۰۶ء)
    17۔ان حضرات کی ایک دلیل یہ ہے کہ’’ایک شخص نے حضرت ابن مسعودؓ سے سوال کیا کہ میں نے اپنی بیوی کو دو سو طلاق دے دی ہیں، اب کیا حکم ہے؟ اُنہوں نے فرمایا تجھے کیا فتویٰ دیا گیا ہے؟ اُس نے کہا کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ عورت اب مجھ سے بالکل الگ اور جدا ہوگئی ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا کہ لوگوں نے سچ کہا ہے۔‘‘ (موطا امام مالک:۱۹۹) (ماہنامہ ’الشریعہ‘:جولائی ۲۰۰۶ء)
    18۔ان کی ایک دلیل یہ ہے کہ ’’حضرت عمران بن حصینؓ مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے یہ سوال کیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دی ہیں۔ اب وہ کیا کرے؟ حضرت عمران ؓ نے فرمایا کہ اس نے ربّ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہے اور اس کی بیوی اس پر حرام ہوگئی ہے۔‘‘ (السنن الکبریٰ:۷؍۷۳۲)
    19۔ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین قرار دینے والوں کی ایک دلیل یہ ہے کہ ’’ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ سوال کیا کہ ایک شخص نے ہم بستری سے قبل اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، وہ کیاکرے؟ اس پر حضرت عطا بن یسار نے فرمایا کہ کنواری کی طلاق تو ایک ہی ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمروؓ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ’’تم قصہ گو ہو۔ ایک طلاق ایسی عورت کو جدا کردیتی ہے اور تین اس کو حرام کردیتی ہیں۔‘‘(ماہنامہ ’الشریعہ‘:جولائی ۲۰۰۶ء،ص ۳۲)
    20۔ان کی ایک دلیل یہ ہے کہ ’’ایک شخص نے اپنی غیر مدخول بہا بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، پھر اس کا خیال ہوا کہ وہ اس سے نکاح کرلے، اس نے حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت ابن عباسؓ سے فتویٰ طلب کیا۔ ان دونوں بزرگوں نے فرمایا کہ تم اس سے نکاح نہیں کرسکتے، تاوقتیکہ وہ کسی اور مرد سے نکاح نہ کرلے، اس نے کہا کہ اس کے لئے میری طرف سے ایک ہی طلاق ہے تو اُنہوں نے فرمایا کہ تم نے اپنا اختیار کھو دیا ہے جو تمہارے ہاتھ میں تھا۔‘‘ (ماہنامہ الشریعہ:جولائی ۲۰۰۶ء ، ص۳۲)
    اس کا جواب بھی وہی ہے جو اس سے قبل ذکر ہوچکا ہے کہ احناف کا اس اثر سے تین طلاقوں کے واقع ہونے پر استدلال درست نہیں ہے کیونکہ ان کے نزدیک غیر مدخول بہا کو دی گئی تین طلاقوں میں سے ایک طلاق واقع ہوتی ہے، باقی دو لغو اور بے کار جاتی ہیں۔ ویسے بھی یہ اثر مرفوع حدیث کے خلاف ہے،لہٰذا قابل عمل نہیں ہے۔ قابل عمل رسول اللہﷺ کی حدیث ہی ہے۔
    21۔ان حضرات کی ایک دلیل یہ ہے کہ ’’ حضرت عطا فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے پاس آیا اور اُس نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ اب کیا صورت ہو؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ تو نے اپنے ربّ کی نافرمانی کی ہے اور تجھ پر تمہاری بیوی حرام ہوگئی ہے حتیٰ کہ وہ تمہارے بغیر کسی اور مرد سے نکاح کرے۔ ‘‘(ماہنامہ الشریعہ :جولائی ۲۰۰۶ء ،ص۳۲)
     
  3. ‏جون 25، 2011 #3
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    طلاقِ ثلاثہ کے بارے میں بحث کا خلاصہ اوراُصولی موقف

    طلاقِ ثلاثہ کے بارے میں کسی نتیجہ پر پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ ایک اُصولی بات پیش نظر رکھی جائے اور وہ یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کے دور میں جب کوئی شخص اکٹھی تین طلاقیں دے دیتا تھا تو اُنہیں ایک ہی طلاق شمار کیا جاتا تھا، جیسا کہ حضرت رکانہ بن عبد ِیزیدؓ نے جب اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دیں تو خود رسول اللہﷺ نے اُنہیں ایک طلاقِ رجعی قرار دیا تھا۔ یہ بات طے شدہ ہے
    لیکن اگر وہ دلائل صحیح ثابت ہیں تو دو حال سے خالی نہیں ہیں۔ یا وہ دلیل مرفوع حدیث ہوگی جو نبی کریمﷺ کی طرف منسوب ہے یا پھر اس کا تعلق آثارِ صحابہؓ سے ہوگا۔ اگر وہ دلیل جو طلاقِ ثلاثہ کے وقوع کے متعلق پیش کی جاتی ہے،
    جیسا کہ حضرت عویمرؓ کی حدیث ِلعان سے تین طلاقوں کے وقوع پر استدلال کیا جاتا ہے، جبکہ اُنہوں نے لعان کے بعد رسول اللہﷺ کے سامنے ملاعنہ عورت کو از خود ہی آپﷺکے حکم کے بغیر تین طلاقیں دے دی تھیں، حالانکہ لعان کے بعد ان کا یہ طلاقیں دینا بے فائدہ اور بے محل تھا۔ اس لئے کہ لعان کی صورت میں عورت، مرد سے نفس لعان سے ہی جدا ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد ایک یا تین طلاقیں دینا غیر مؤثر اور بے فائدہ ہے، اسی لئے حضرت ہلال بن اُمیہ نے جب اپنی بیوی سے لعان کیا تھا تو اس کے بعد طلاقیں دینے کا کوئی ذکر نہیں ہے اور یہاں صرف لعان کو ہی جدائی کے لئے کافی سمجھا گیاہے۔ (صحیح بخاری ، کتاب الطّلاق)
    دوسرے فریق کی طرف سے جن آثارِ صحابہؓ کو طلاقِ ثلاثہ کے و قوع پر دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، ان کی بھی دو صورتیں ہیں۔
    اور اگر وہ آثار متفرق طور پر تین طلاقیں دینے کا احتمال نہیں رکھتے بلکہ اکٹھی تین طلاقیں دینے پر ہی دلالت کرتے ہیں تو ان میں ذکر ہونے والی اکٹھی تین طلاقوں کے وقوع کو اس تعزیر پر محمول کیا جائے گا جو حضرت عمر ؓ کی طرف سے غیر محتاط لوگوں کی سزا کے طور پر نافذ کی گئی تھی جیسا کہ یہ بات حضرت عمرفاروقؓ کے عمل سے بھی ظاہر ہے۔ لیکن اسے طلاقِ ثلاثہ کے لئے اُصول نہیں بنایا جائے گا تاکہ رسول اللہﷺ سے ثابت شدہ طریقہ طلاق سے اس عمل کا تعارض لازم نہ آئے اور نبی کریمﷺ سے ثابت شدہ طریقۂ طلاق کو اختیار کرکے آپﷺ کے حق اتباع کو بھی ادا کیا جائے۔ وما علینا إلا البلاغ
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں