1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تین طلاق سے متعلق بعض صحابہ کی طرف منسوب غیرثابت فتاوے

'طلاق بدعی' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏فروری 28، 2017۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏فروری 28، 2017 #1
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,773
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    تین طلاق سے متعلق خلفائے راشدین کے موقف کے لئے ذیل کا موضوع دیکھیں۔



    باقی دیگر کئی ایسے صحابہ ہیں جن کی طرف یہ فتوی منسوب ہے کہ وہ تین طلاق کو تین مانتے تھے لیکن ان سے یہ فتاوی بسند صحیح ثابت نہیں ہے ذیل میں ایسی روایات پر تبصرہ پیش خدمت ہے:
     
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 28، 2017 #2
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,773
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    عمران بن حصین رضی اللہ عنہ

    ابو موسی الاشعری رضی اللہ عنہ


    امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
    حدثنا سهل بن يوسف ، عن حميد ، عن واقع بن سحبان قال : سئل عمران بن حصين عن رجل طلق امرأته ثلاثا في مجلس ؟ قال : أثم بربه ، وحرمت عليه امرأته.(وازدا لبیہقی :فانطلق الرجل فذكر ذلك لأبى موسى رضى الله عنه يريد بذلك عيبه فقال : ألا ترى أن عمران بن حصين قال كذا وكذا فقال أبو موسى أكثر الله فينا مثل أبى نجيد)
    واقع بن سحبان کہتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی تو انہوں نے فرمایا: اس نے اپنے رب کے ساتھ گناہ کیا اور اس پر اس کی بیوی حرام ہوگئی (بیہقی کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ پھر اس شخص نے وہاں سے جاکر ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے اس بات کا تذکرہ کیا اس امید پر کہ یہ بات غلط نکلے چنانچہ اس نے کہا: ابے ابو موسی الاشعری ! کیا آپ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ عمران بن حصین ایسا ایسا کہہ رہے ہیں ! تو ابو موسی الاشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ ہمارے بیچ ابو نجید جیسے لوگوں کی کثرت کرے) [مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 5/ 10 و اخرجہ ایضا الحاکم فی لمستدرك 3/ 472 -و صریح حمید بالسماع عندہ- من طریق یحیی بن سعید ۔واخرجہ البیہقی فی السنن الكبرى ط الهند: 7/ 332 من طریق عبد الوهاب بن عطاء۔ واخرجہ الدو لابی فی الكنى والأسماء 1/ 175 من طریق حماد بن مسعدة ، وفیہ 1/ 278 ایضا من طریق حماد بن سلمة۔ کلھم (یحیی بن سعیدوعبد الوهاب بن عطاءوحماد بن مسعدة وحماد بن سلمة) من طریق حمید بہ]

    اس سندمیں حمید کے شیخ کا نام ابن ابی شیبہ ، بیہقی اور دولابی کی ایک روایت میں واقع بن سحبان ہے جبکہ حاکم اور دولابی کی دوسری روایت میں اس کانام رافع بن سحبان ہے، کتب رجال سے پتہ چلتا ہےکہ واقع بن سحبان ہی صحیح ہے مثلا دیکھئے:[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، ت المعلمي: 9/ 49]

    اسے ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے [الثقات لابن حبان ط العلمية: ص: 2]۔
    اورکسی نے اس کی توثیق نہیں کی ہے لہٰذا یہ روایت ضعیف ہے۔
     
  3. ‏مارچ 01، 2017 #3
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,773
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ


    امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
    حدثنا أبو أسامة ، عن هشام قال : سئل محمد عن الرجل يطلق امرأته ثلاثا في مقعد واحد ؟ قال : لا أعلم بذلك بأسا ، قد طلق عبد الرحمن بن عوف امرأته ثلاثا ، فلم يعب ذلك عليه
    محمدبن سیرین سے پوچھا گیا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کوایک مجلس میں تین طلاق دے دے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ تو انہوں نے کہا: مجھے اس میں حرج معلوم نہیں ہوتا اور عبدالرحمن بن عوف نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تو ان پر عیب شمار نہیں ہوا[مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 5/ 11]

    یہ روایت منقطع ہے محمدبن سیرین نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔
    عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی وفات 31 یا 32 ہجری میں ہوئی ہے دیکھئے:[تهذيب الكمال للمزي: 17/ 328]
    اور محمدبن سیرین کی پیدائش 33 ہجری میں ہوئی ہے دیکھئے:[الثقات لابن حبان ط االعثمانية: 5/ 349]


    شیخ سعد بن ناصر الشثري اپنے نسخہ میں اس روایت پر حاشیہ لگاتے ہوئے لکھتے ہیں:
    منقطع، ابن سیرین عن عبد الرحمن بن عوف منقطع
    یہ روایت منقطع ہے ابن سیرین کی عبدالرحمن بن عوف سے ملاقات نہیں ہے[مصنف ابن أبي شيبة. إشبيليا: 10/ 103 حاشہ 5]


    مزید یہ کہ اس روایت میں تین طلاق کو تین شمار کرنے کی صراحت بھی نہیں ہے۔
     
    • علمی علمی x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 01، 2017 #4
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,773
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ


    امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
    حدثنا عبدة ، عن سعيد ، عن قتادة ؛ أن رجلا طلق امرأته ثلاثا ، ثم جعل يغشاها بعد ذلك ، فسئل عن ذلك عمار ؟ فقال : لئن قدرت على هذا لأرجمنه.
    قتادہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی پھر وہ اس سے ہمبستری کرنے لگا تو اس بارے میں میں عماربن یاسررضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اگر میں قدرت رکھتا تو اسے رجم کردیتا [مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 9/ 565]

    یہ روایت ضعیف ہے اس میں کئی علتیں ہیں:
    اول:
    قتادہ نے عماربن یاسر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
    عماربن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت صفین میں 37 ہجری میں ہوئی ہے۔دیکھئے:[الوافي بالوفيات للصفدي: 22/ 232]
    اور قتادہ رضی اللہ عنہ کی پیدائش ان کی وفات کے چوبیس (24) سال بعد ہوئی ہے چنانچہ:
    أبو بكر ابن منجويه(المتوفى428) نے کہا:
    ولد سنة إحدى وستين
    ان کی پیدائش اکسٹھ (61)ہجری میں ہوئی ہے[رجال صحيح مسلم لابن منجويه 2/ 150]

    دوم:
    قتادہ سے اس روایت کرنقل کرنے والے سعید یہ سعيد بن أبي عروبة ہیں ۔انہوں نے عن سے روایت کیا ہے اور یہ کثیر التدلیس ہیں اور کثیر التدلیس کا عنعنہ غیر مقبول ہوتا ہے ۔

    صلاح الدين العلائي رحمه الله (المتوفى 761)نے کہا:
    سعيد بن أبي عروبة مشهور بالتدليس
    سعیدبن عروبہ تدلیس سے مشہور ہیں[جامع التحصيل للعلائي: ص: 106]

    امام أبو زرعة ولي الدين ابن العراقي رحمه الله (المتوفى 826) نے کہا:
    سعيد بن أبي عروبة مشهور بالتدليس
    سعیدبن عروبہ تدلیس سے مشہور ہیں[المدلسين لابن العراقي: ص: 51]

    امام سبط ابن العجمي الحلبي رحمه الله (المتوفى:841)نے کہا:
    سعيد بن أبي عروبة مشهور بالتدليس
    سعیدبن عروبہ تدلیس سے مشہور ہیں[التبيين لأسماء المدلسين للحلبي: ص: 26]

    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    كثير التدليس
    یہ کثیر التدلیس ہیں [تقريب التهذيب لابن حجر: رقم 2365]

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے طبقات المدلسین میں انہیں دوسرے طبقہ میں رکھا ہےلیکن یہاں تقریب میں اسے کثیر التدلیس بتلارہے ہیں جس کا تقاضا یہ ہے کہ یہ تیسرے طبقہ میں ہونا چاہے اوریہ بات مناسب ہے کیونکہ یہ کثرت سے تدلیس کرتے ہوے پائے گئے ہیں بلکہ انہوں نے اپنے استاذ قتادہ سے بھی بکثرت تدلیس کی ہے چنانچہ:
    عفان بن مسلم الصفاررحمه الله (المتوفى بعد 219)نے کہا:
    كان سعيد بن أبي عروبة يروي عن قتادة مما لم يسمع شيئا كثيرا، ولم يكن يقول فيه: حدثنا
    سعیدبن عروبہ ، قتادہ سے نہ سنی ہوئی بہت ساری روایات بیان کرتے تھے اور انہیں بیان کرتے وقت حدثنا نہیں کہتے [الطبقات الكبرى ط دار صادر 7/ 273 واسنادہ صحیح]

    یہی وجہ کہ امام بزار رحمہ اللہ نے بھی یہ شرط لگائی ہے کہ یہ جب سماع کی صراحت کریں گے تبھی ان کی روایت مأمون یعنی قابل اعتبار ہوگی چنانچہ:
    امام بزار رحمه الله (المتوفى292):
    إذا قال : أخبرنا وسمعت كان مأمونا على ما قال
    یہ جب اخبرنا اور سمعت کہیں تو اپنی بیان کردہ بات پرمأمون ہوں گے [مسند البزار: 1/ 113]

    دکتو مسفر بن الدمینی نے بھی یہی تحقیق پیش کی ہے کہ یہ بکثرت تدلیس کرنے والے ہیں اس لئے ان کا شمار تیسرے طبقہ میں ہی ہوگا[التدليس في الحديث ت د دميني: ص: 301]

    امام ابن أبي شيبة رحمه الله نے اسی طریق کی ایک دوسری سند پیش کی ہے جس میں قتادہ کے بعد خلاس نامی راوی کا واسطہ ہے۔
    امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
    حدثنا محمد بن سواء ، عن سعيد ، عن قتادة ، عن خلاس ، عن عمار ؛ بنحوه.[مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 9/ 565 واخرجہ ایضا البلاذري فی أنساب الأشراف للبلاذري: 1/ 165 من طریق سعد بہ]

    عرض ہے کہ اس میں بھی سعید بن عروبہ کا عنعنہ موجود ہے اور ماقبل میں بتایا جاچکا ہے کہ یہ کثیر التدلیس ہیں اس لئے ان کا عنعنہ غیر مقبول ہے۔
    نیز اس میں قتادہ بھی عنعنہ ہے اور یہ بھی مشہور مدلس ہیں۔
     
    Last edited: ‏مارچ 01، 2017
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں