1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تین طلاق سے متعلق حدیث کی تحقیق

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از مظفر اختر, ‏ستمبر 26، 2018۔

  1. ‏ستمبر 26، 2018 #1
    مظفر اختر

    مظفر اختر مبتدی
    جگہ:
    ملتان
    شمولیت:
    ‏جون 13، 2018
    پیغامات:
    77
    موصول شکریہ جات:
    9
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    2387 - حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ طَلَّقَ رُكَانَةُ بْنُ عَبْدِ يَزِيدَ أَخُو الْمُطَّلِبِ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَحَزِنَ عَلَيْهَا حُزْنًا شَدِيدًا قَالَ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ طَلَّقْتَهَا قَالَ طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا قَالَ فَقَالَ فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّمَا تِلْكَ وَاحِدَةٌ فَارْجِعْهَا إِنْ شِئْتَ قَالَ فَرَجَعَهَا فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَرَى أَنَّمَا الطَّلَاقُ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ ( مسند احمد)
    اس حدیث کی تحقیق درکار ہے
     
  2. ‏ستمبر 26، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ طَلَّقَ رُكَانَةُ بْنُ عَبْدِ يَزِيدَ أَخُو الْمُطَّلِبِ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَحَزِنَ عَلَيْهَا حُزْنًا شَدِيدًا قَالَ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ طَلَّقْتَهَا قَالَ طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا قَالَ فَقَالَ فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّمَا تِلْكَ وَاحِدَةٌ فَارْجِعْهَا إِنْ شِئْتَ قَالَ فَرَجَعَهَا فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَرَى أَنَّمَا الطَّلَاقُ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ ( مسند احمد2387)
    سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ جناب رکانہ بن عبد ِیزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دیں۔ پھر اس پر سخت دکھی اور غمگین ہوئے تو رسول اللہﷺ نے اس سے دریافت فرمایا کہ تو نے طلاق کس طرح دی ہے؟ اُس نے کہا: میں نے تینوںطلاقیں دے دے دی ہیں۔ آپؐ نے پوچھا: کیاایک ہی مجلس میں دی ہیں؟ اس نے کہا: ہاں( ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی ہیں) آپؐ نے فرمایا: یہ توایک ہی طلاق ہوئی ہے۔ تو چاہے تو اس سے رجوع کرلے۔تو اس نے رجوع کرلیا ،اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ طلاق صرف ہر طہر ہی میں دینی چاہیئے۔ (مسند احمد: ج4ص218)​
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس روایت کےحوالے سے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    ’’ وَهَذَا الْحَدِيثُ نَصٌّ فِي الْمَسْأَلَةِ لَا يَقْبَلُ التَّأْوِيلَ‘‘ [فتح الباری جلد 9 ص362]
    یعنی :’’یہ حدیث اس مسئلہ میں نص ہے اور کسی تاویل کو قبول نہیں کرتی۔ ‘‘

    مزیداس حدیث کی تصحیح مندرجہ ذیل ائمہ حدیث نے فرمائی ہے۔
    علامہ احمد شاکرؒ مصری ​
    (1892م-1958م)
    نے بھی اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے ، لکھتے ہیں :
    إسناده صحيح، ورواه الضياء في المختارة، كما نقله ابن القيم في إغاثة اللهفان 158، ورواه أبو يعلى، كما ذكر الشوكاني 7: 17 - 18، ورواه البيهقي، كما في الدر المنثور 1: 279. وهذا الحديث عندي أصل جليل من أصول التشريع في الطلاق، يدل على أن الخلاف في وقوع الطلقات الثلاث مجتمعة وعدم وقوعه إنما هو في الطلاق إذا كرره المطلق، أي طلق مرة ثم مرة ثم ثالثة في العدة، في مجلس واحد أو مجالس. وأنه ليس الخلاف في وصف الطلاق بالعدد، كقولهم "طالق ثلاثَا" مثلا، فإن هذا الوصف لغو في اللغة، باطل في العقل. وقد شرحته وفصلت القول فيه في كتابي "نظام الطلاق في الإسلام "ص 39 وما بعدها.

    https://archive.org/stream/WAQmusndaWAQ/musnda03#page/n90
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس حدیث کے حوالے سے دور حاضر کے عظیم محقق علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    ’’ هذا الإسناد صححه الإمام أحمد والحاكم والذهبى وحسنه الترمذى فى متن آخر تقدم برقم (1921) , وذكرنا هنالك اختلاف العلماء فى داود بن الحصين وأنه حجة فى غير عكرمة , ولولا ذلك لكان إسناد الحديث لذاته قويا , ولكن لا يمنع من الاعتبار بحديثه والاستشهاد بمتابعته لبعض بنى رافع , فلا أقل من أن يكون الحديث حسنا بمجموع الطريقين عن عكرمة , ومال ابن القيم إلى تصحيحه وذكر أن الحاكم رواه فى مستدركه وقال إسناده صحيح , ولم أره فى " المستدرك " لا فى " الطلاق " منه , ولا فى " الفضائل " والله أعلم , وقال ابن تيمية فى " الفتاوى " (3/18) : " وهذا إسناد جيد ".
    وكلام الحافظ ابن حجر فى " الفتح " (9/362) يشعر بأنه يرجح صحته أيضا ‘‘

    [إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل 7/145]
    یعنی :اس سند کو امام احمد، حاکم اور ذھبی نے صحیح کہا ہے،اور امام ترمذی نے دوسرے متن میں اس سند کو حسن قرار دیا ہے،وہاں ہم نے اس سند کے ایک راوی داؤد بن حصین کی توثیق و جرح کے حوالے سے اقوال علماء پیش کردئیے ہیں،کیونکہ داؤد بن حصین عکرمہ سے روایت بیان کرنے میں قابل حجت نہیں۔اگر یہ علت نہ ہوتی، تو یہ روایت لذاتہ قوی ہو جاتی،لیکن پھر بھی اس روایت کوبعض بنی رافع کی متابعت کی وجہ سے استشہاد اور اعتبار کے طور پر پیش کرنے سے کوئی مانع نہیں۔لہذا جناب عکرمہ کے طریق سے یہ روایت حسن کے درجہ سے کم نہیں۔ امام ابن قیم بھی اس کی تصحیح کے قائل ہیں۔
    امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں یہ روایت جید الاسناد ہے ،اور حافظ ابن حجرؒ کے کلام سے بھی یہی بات سامنے آتی ہے کہ وہ اس حدیث کے صحیح ہونے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔(ارواء الغلیل)

    مزید اس روایت کے متعلق حافظ ابن حجرفرماتے ہیں :
    ’’ ويقوى حديث بن إسحاق المذكور ما أخرجه مسلم من طريق عبد الرزاق عن معمر عن عبد الله بن طاوس عن أبيه عن بن عباس قال كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وسنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة فقال عمر بن الخطاب إن الناس قد استعجلوا في أمر كانت لهم فيه أناة فلو أمضيناه عليهم فأمضاه عليهم ‘‘[فتح الباری ،جلد 9 ص363(قوله باب من جوز الطلاق الثلاث)]
    یعنی : محمد بن اسحاق کی اس حدیث کوصحیح مسلم والی حدیث قوی بناتی ہے ،جس میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے (ابتدائی) دو سالوں تک (اکٹھی) تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھی، پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں نے ایسے کام میں جلد بازی شروع کر دی ہے جس میں ان کے لیے تحمل اور سوچ بچار (ضروری) تھا۔ اگر ہم اس (عجلت) کو ان پر نافذ کر دیں (تو شاید وہ تحمل سے کام لینا شروع کر دیں) اس کے بعد انہوں نے اسے ان پر نافذ کر دیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
    اس کی سند صحیح ہے محدث کبیر علامہ محمدرئیس ندوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب تنویر الآفاق میں اس کی سند پر بھر پور بحث کی ہے، اور سند پر پیش کئے جانے والے تمام اشکالات کا دندان شکن جواب دیا ہے ۔
    https://archive.org/stream/TanveerU...eer-ul-Afaaq-Fi-Masala-Al-Talaaq-Urdu#page/n9
     
    Last edited: ‏ستمبر 26، 2018
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں