1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تین طلاق پر ایک حنفی بھائی کی تحریرکا جائزہ

'طلاق' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏نومبر 10، 2016۔

Tags:
  1. ‏نومبر 16، 2016 #41
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    281
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

     
  2. ‏نومبر 16، 2016 #42
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,102
    موصول شکریہ جات:
    317
    تمغے کے پوائنٹ:
    195

    جو بات صاف اور واضح ہے اس کو سمجھنے میں کیا دقت ہے ؟
    دیکھ لیں۔
    ہر وہ آیت جو ہمارے اصحاب (یعنی فقہاء حنفیہ)کے قو ل کے خلاف ہو گی اسے یا تو منسوخ سمجھا جائے گا یا ترجیح پر محمول کیا جائے گااور اولیٰ یہ ہے کہ اس آیت کی تاؤیل کر کے اسے (فقہاء کے قول) کے موافق کر لیا جائے۔
    (اصول کرخی، صفحہ 12 )

    اشرف علی صاحب کی اس بات کو​
    اولا : آپ کے بقول قول شاذ کہہ سکتے ہیں ۔
    ثانیا: اسمیں احناف کے لئے حیلہ سازی کا بہانہ موجود ہے ۔ آپ ہی کا لکھا ہوا جملہ دیکھیں
    یہ مخصوص الفاظ حدیث صریح منصوص ایک چور درازہ ہے اس کے ذریعہ کہنا یہی چاہتے ہیں کوئی بات چھوڑی نہیں جائے گی ۔ وگرنہ جملہ یہ ہوتا کہ امام صاحب کی جو بات قرآن وحدیث کے خلاف ہوجائے اسے چھوڑدیں گے ۔ اسی بات کو تھانوی صاحب نے صراحت کے ساتھ اس طرح کہا ہے ۔
    مولانا اشرف علی تھانوی سورہ توبہ کی آیت نمبر ۳۱کی تفسیر میں فائدہ کے تحت رقم طرا ز ہیں:
    یعنی ان کی اطاعت تحلیل اور تحریم میں مثل طاعت خدا کے کرتے ہیں کہ نص پر ان کے قول کو ترجیح دیتے ہیں اور ایسی اطاعت بالکل عبادت ہے۔پس اس حساب سے وہ انکی عبادت کرتے ہیں۔
    (القرآن الحکیم مع تفسیر بیان القرآن از حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ، صفحہ 172 طبع تاج کمپنی لمیٹیڈ پاکستان)

    مولانا اشرف علی تھانوی سورہ توبہ کی آیت نمبر ۳۱کی تفسیر میں فائدہ کے تحت رقم طرا ز ہیں:
    یعنی ان کی اطاعت تحلیل اور تحریم میں مثل طاعت خدا کے کرتے ہیں کہ نص پر ان کے قول کو ترجیح دیتے ہیں اور ایسی اطاعت بالکل عبادت ہے۔پس اس حساب سے وہ انکی عبادت کرتے ہیں۔
    (القرآن الحکیم مع تفسیر بیان القرآن از حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ، صفحہ 172 طبع تاج کمپنی لمیٹیڈ پاکستان)

    میں آپ کو بتاؤں گا کہ حنفی سنت سے کتنی دور ہیں ؟ پہلے ہمارا چیلنج جو آپ نے قبول کیا ہے اسے کماحقہ ثابت کرکے دکھائیں اور سیدھی سیدھی باتوں میں بھی الٹ پھیر نہ کریں ۔
     
  3. ‏نومبر 16، 2016 #43
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,102
    موصول شکریہ جات:
    317
    تمغے کے پوائنٹ:
    195

    ایک حنفی نہیں سارے حنفی امام کے قول کے علاوہ کسی چیز پر نہیں چلتے ، اگر چلتے تو امت میں اس قدر خلفشار نہیں ہوتا۔ حنفی مذہب کا جو اصول ہے حنفی اپنے اصول پر قائم ہے اور وہ ہے تقلید امام ابوحنیفہ ؒ ۔
    امام کی تقلید پر قولا و عملا دونوں طرح چلتے ہیں ۔ صحیح کہا آپ نے کہ
    اس اختلاف میں نمونہ میں نے بھی پیش کیا تو آپ نے اسے شاذ کہہ کا نکار دیا اور اب اسی اختلاف کو بنیاد بھی بنارہے ہیں ۔ شتان بین یزیدین
    اس سے متعلق فتوی بھی آپ کے علماء کا موجود ہے مگر نہیں مانیں گے کیونکہ آپ کو امام کی تقلید کرنی ہے ۔ میری ان باتوں پر غور کریں ، بات سمجھ جائیں ۔ اور کتاب و سنت پر عمل کرنے کا جذبہ بیدار ہوگا۔ان شاء اللہ
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 16، 2016 #44
    اسرار احمد صدیقی

    اسرار احمد صدیقی مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 03، 2016
    پیغامات:
    10
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    6


    مسئلہ طلاق ثلاثہ حدیث رکانہ کا جائزہ
    حضرت رکانہؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور آنحضرت نے ارشاد فرمایا کہ اے رکانہ تم رجوع کر لو۔ انہوں نے کہا کہ حضرت میں نے تو بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں، آنحضرت نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں تم رجوع کر لو۔ (ابو داؤد جلد ۱ ص۲۹۷ و سنن الکبرٰی جلد ۷ ص۳۳۹)
    امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس میں بعض بن ابی رافع مجہول راوی ہیں۔ (شرح مسلم جلد ۱ ص۴۷۸)
    علامہ ابن حزم ؒ فرماتے ہیں کہ بعض بنی ابی رافع مجہول ہیں اور مجہول سند سے حجت قائم نہیں ہو سکتی۔ (محلی جلد ۱۰ص۱۶۸)
     
  5. ‏نومبر 16، 2016 #45
    اسرار احمد صدیقی

    اسرار احمد صدیقی مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 03، 2016
    پیغامات:
    10
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    6


    مسئلہ طلاق میں ابن عباس رض کا فتوی
    ”ایک شخص نے حضرت ابن عباسؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال کیا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، حضرت ابن عباسؓ نے اس پر سکوت اختیار کیا ہم نے یہ خیال کہ شاید وہ اس عورت کو واپس اسے دلانا چاہتے ہیں مگر حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ تم خود حماقت کا ارتکاب کرتے ہو اور پھر کہتے ہو ااے ابن عباس ‌! ابن عباس اے ابن عباسؓ؟ بات یہ ہے کہ جو شخص خدا تعالٰی سے نہ ڈرے تو اس کے لیے کوئی راہ نہیں نکل سکتی جب تم نے اللہ تعالٰی کی نافرمانی کی ہے تو اب تمہارے لیے کوئی گنجائش ہی نہیں تمہاری بیوی اب تم سے بالکل علٰیحدہ ہو چکی ہے۔ (سنن الکبریٰ جلد ۷ ص۳۳۱)
    حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ اسنادہ صحیح (تعلیق المغنی ص۴۳۰
     
  6. ‏نومبر 17، 2016 #46
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,102
    موصول شکریہ جات:
    317
    تمغے کے پوائنٹ:
    195

    یہی ہے آپ لوگوں کی حیلہ سازی ، اب تک مجتہد مجتہد کہتے رہے جب سوال ہوا حنفی میں کون کون مجتہد ہے تو بات گول کرگئے ۔آپ لوگوں کا یہی کتمان حق سبب بنادوسرے بہت سے لوگوں کو اہل حدیث ہونے کا ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏نومبر 17، 2016 #47
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    281
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    قرآن اور حدیث پر عمل حیلہ سازی کیوں کر ہے؟ جبکہ آپ جن حنفی علماء کے جن اختلافات کا ذکر کر رہے ہیں چاہتے ہیں کہ اس پر عمل کریں اور مفتیٰ بہ جو قرآن اور حدیث کے مطابق ہے اسے چھوڑ دیں!!!!! کس لئے؟ اس لئے کہ وہ آپ کے مسلک کے مطابق ہے بھلے وہ قرآن و صحیح حدیث کے مخالف ہی کیوں نہیں۔
     
  8. ‏نومبر 17، 2016 #48
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,102
    موصول شکریہ جات:
    317
    تمغے کے پوائنٹ:
    195

    میں نے آپ سے سوال کیا آپ کے یہاں کون کون مجتہد ہیں ؟ اس پہ آپ نے جو جواب دیا ہے وہ حیلہ سازی نہیں تو اور کیاہے؟
    رہے آپ کے بعض حنفی علماء کے فتاوے جو حنفیت کے خلاف مگر قرآن وحدیث کے مطابق ، میں آپ کو زبردستی ان پر عمل کرنے نہیں کہہ رہاہوں مگر اس میں آپ کے لئے دعوت فکر ضرور ہے ،اس فکر کے اضافے کے ساتھ کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بہت سارے فتاوے میں غلطیاں ہوئیں جن کی بنیاد پر اولاان کے شاگردوں نے ہی اختلاف کیا ،پھر بعد والے حنفی علماء اور قیامت تک آنے والے احناف بہت سارے مسائل جن میں امام صاحب سے چوک ہوئی اختلاف کرتے رہیں گے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏نومبر 17، 2016 #49
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    281
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    اس کے لئے الگ تھریڈ بنا لیں وہاں ایک ایک مسئلہ پر بات کرتے رہیں گے تا کہ حق پا سکیں۔

    ایک طرف کہےتے ہو کہ حنفی اپنے امام کے قول سے ادھر ادھر نہیں ہوتے اور دوسری طرف ان کو امام سے اکثر مسائل میں مخالف باور کراتے ہو میں حیراں ہوں!!!!!!!!!
    خیر یہ تھریڈ جس موضوع کا ہے اسی طرف لوٹتے ہیں۔
    ایک مجلس کی تین طلاق تین ہی ہیں پر درج ذیل احادیث دال ہیں۔ کیا آپ ان احادیث سے متفق ہیں؟
    صحيح البخاري - (ج 16 / ص 300)
    4855 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ
    أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَهُ يَا عَاصِمُ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَاصِمٌ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَاصِمٌ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا قَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا قَالَ سَهْلٌ فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانَتْ تِلْكَ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ

    صحيح البخاري - (ج 16 / ص 307)
    بَاب مَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ وَقَالَ الْحَسَنُ نِيَّتُهُ وَقَالَ أَهْلُ الْعِلْمِ إِذَا طَلَّقَ ثَلَاثًا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْهِ فَسَمَّوْهُ حَرَامًا بِالطَّلَاقِ وَالْفِرَاقِ وَلَيْسَ هَذَا كَالَّذِي يُحَرِّمُ الطَّعَامَ لِأَنَّهُ لَا يُقَالُ لِطَعَامِ الْحِلِّ حَرَامٌ وَيُقَالُ لِلْمُطَلَّقَةِ حَرَامٌ وَقَالَ فِي الطَّلَاقِ ثَلَاثًا لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي نَافِعٌ قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَمَّنْ طَلَّقَ ثَلَاثًا قَالَ لَوْ طَلَّقْتَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا فَإِنْ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا حَرُمَتْ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ

    صحيح مسلم - (ج 7 / ص 450)
    2712 - و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أُخْتَ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ
    أَنَّ أَبَا حَفْصِ بْنَ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيَّ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ لَهَا أَهْلُهُ لَيْسَ لَكِ عَلَيْنَا نَفَقَةٌ فَانْطَلَقَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فِي نَفَرٍ فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَقَالُوا إِنَّ أَبَا حَفْصٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَهَلْ لَهَا مِنْ نَفَقَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَتْ لَهَا نَفَقَةٌ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَأَرْسَلَ إِلَيْهَا أَنْ لَا تَسْبِقِينِي بِنَفْسِكِ وَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهَا أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ يَأْتِيهَا الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ فَانْطَلِقِي إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى فَإِنَّكِ إِذَا وَضَعْتِ خِمَارَكِ لَمْ يَرَكِ فَانْطَلَقَتْ إِلَيْهِ فَلَمَّا مَضَتْ عِدَّتُهَا أَنْكَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ
    حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ح و حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَ كَتَبْتُ ذَلِكَ مِنْ فِيهَا كِتَابًا قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَطَلَّقَنِي الْبَتَّةَ فَأَرْسَلْتُ إِلَى أَهْلِهِ أَبْتَغِي النَّفَقَةَ وَاقْتَصُّوا الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو لَا تَفُوتِينَا بِنَفْسِكِ
     
  10. ‏نومبر 17، 2016 #50
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,102
    موصول شکریہ جات:
    317
    تمغے کے پوائنٹ:
    195

    اللہ تعالی صحیح سمجھ دے ۔آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں