1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تین طلاق کے متعلق صحیح مسلم کی حدیث اور امام نووی ؒ

'طلاق' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوحنظلہ, ‏مئی 17، 2018۔

  1. ‏مئی 17، 2018 #1
    ابوحنظلہ

    ابوحنظلہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 20، 2018
    پیغامات:
    163
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    23


    حدیث مسلم عن ابن عباس عن طلاق کا صحیح مفہوم

    (۳۶۷۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ( ابتدائی ) دو سالوں تک ( طلاق دینے والا ) تین طلاقیں ایک سمجھ کر دیتا، (چنانچہ ان پرایک ہی نافذ کی جاتی) پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں نے ایسے کام میں جلد بازی شروع کر دی (یعنی تین طلاقیں تین ہی سمجھ کر دینا شروع کر دیں) جس میں ان کے لیے تحمل اور سوچ بچار تھا۔ ہم ان پر (تین ہی) نافذ کریں گے اس کے بعد انہوں نے اسے ان پر (تین ہی) نافذ کر دیں۔ مسلم

    امام نووی شارح مسلم فرماتے ہیں:
    فالأصح أن معناه أنه كان في أول الأمر اذا قال لها أنت طالق أنت طالق أنت طالق ولم ينو تأكيدا ولا استئنافا يحكم بوقوع طلقة لقلة ارادتهم الاستئناف بذلك فحمل على الغالب الذي هو ارادة التأكيد فلما كان في زمن عمر رضي الله عنه وكثر استعمال الناس بهذه الصيغة وغلب منهم ارادة الاستئناف بها حملت عند الاطلاق على الثلاث عملا بالغالب السابق إلى الفهم منها في ذلك العصر.
    ( شرح مسلم للنووی: ج۱ص۴۷۸)
    کہ حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی صحیح مراد یہ ہے کہ شروع زمانہ میں جب کوئی شخص اپنی بیوی کو ”انت طالق، انت طالق، انت طالق“ کہہ کر طلاق دیتا تو دوسری اور تیسری طلاق سے اس کی نیت تاکید کی ہوتی نہ کہ استیناف (قطعیت) کی، تو چونکہ لوگ استیناف کا ارادہ کم کرتے تھے اس لیے غالب عادت کا اعتبار کرتے ہوئے محض تاکید مراد لی جاتی۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور لوگوں نے اس جملہ کا استعمال بکثرت شروع کیا اور عموماً ان کی نیت طلاق کے دوسرے اور تیسرے لفظ سے استیناف ہی کی ہوتی تھی، اس لئے اس جملہ کا جب کوئی استعمال کرتا تو اس دور کے عرف کی بناء پر تین طلاقوں کا حکم لگایا جاتا تھا۔

    مزید فرماتے ہیں۔
    المراد أن المعتاد في الزمن الأُوَل كان طلقة واحدة وصار الناس في زمن عمر يوقعون الثلاث دفعة فنفذه عمر فعلى هذا يكون اخبارا عن اختلاف عادة الناس لا عن تغير حكم في مسألة واحدة قال المازري وقد زعم من لا خبرة له بالحقائق أن ذلك كان ثم نسخ قال وهذا غلط فاحش لأن عمر رضي الله عنه لا ينسخ ولو نسخ وحاشاه لبادرت الصحابة إلى انكاره
    ( شرح مسلم للنووی: ج۱ص۴۷۸)
    ترجمہ: مراد یہ ہے کہ پہلے ایک طلاق کا دستور تھا (تین بول کر بھی ایک ہی کی نیت ہوتی تھی) اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگ تینوں طلاقیں (تین ہی کی نیت سے) بیک وقت دینے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (ویسے ہی) انہیں نافذ فرما دیا۔ اس طرح یہ حدیث لوگوں کی عادت کے بدل جانے کی خبر ہے نہ کہ مسئلہ کے حکم کے بدلنے کی اطلاع ہے۔

    امام مازری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حقائق سے بے خبر لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ ”تین طلاقیں پہلے ایک تھیں، پھر منسوخ ہو گئیں“یہ کہنا بڑی فحش غلطی ہے، اس لیے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پہلے فیصلہ کو منسوخ نہیں کیا، -حاشا-اگر آپ منسوخ کرتے تو تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اس کے انکار کے در پے ضرور ہو جاتے۔
    وما علینا الالبلاغ
    - ابوحنظلہ
     
  2. ‏مئی 17، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,361
    موصول شکریہ جات:
    2,184
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    اصل حدیث کیا تھی اور صرف ترجمہ اور خودساختہ بریکٹیں (قوسین ) لگا اسے " عین حنفی " بنادیا ۔۔۔
    اسی کو "تحریف " کہتے ہیں ،
    یہ الفاظ بالکل خود ساختہ ،اور حدیث میں یقینی "تحریف " ہیں !
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اب اصل اور مکمل حدیث دیکھئے :
    عن ابن عباس، قال: " كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأبي بكر، وسنتين من خلافة عمر، طلاق الثلاث واحدة، فقال عمر بن الخطاب: إن الناس قد استعجلوا في أمر قد كانت لهم فيه أناة، فلو أمضيناه عليهم، فأمضاه عليهم "
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنمہا نے کہا کہ طلاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں بھی دو برس تک ایسا امر تھا کہ جب کوئی ایک بارگی تین طلاق دیتا تھا تو وہ ایک ہی شمار کی جاتی تھی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوگوں نے جلدی کرنا شروع کی اس میں جس میں ان کو مہلت ملی تھی سو ہم اس کو اگر جاری کر دیں تو مناسب ہے، پھر انہوں نے جاری کر دیا "
    (یعنی حکم دے دیا کہ جو ایک بارگی تین طلاق دے تو تینوں واقع ہو گئیں)۔صحیح مسلم ،کتاب الطلاق
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صحیح مسلم میں اس کے بعددوسری موقوف روایت :
    أخبرني ابن طاوس، عن أبيه، أن أبا الصهباء، قال لابن عباس: أتعلم أنما «كانت الثلاث تجعل واحدة على عهد النبي صلى الله عليه وسلم، وأبي بكر، وثلاثا من إمارة عمر»؟ فقال ابن عباس: «نعم»
    ابوالصہباء نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ جانتے ہو کہ تین طلاق ایک کر دی جاتی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی امارت میں بھی تین سال تک تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہاں جانتا ہوں۔(صحیح مسلم ،کتاب الطلاق )
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان دونوں روایتوں میں اصل بات کتنی واضح ہے کہ :
    اسلام کے ابتدائی تین زمانوں میں اکٹھی تین طلاق کو ایک ہی مانا جاتا تھا ، پھر سیدنا فاروق اعظم نے اصلاح احوال کیلئے تین کو تین ہی شمار کرنے کا حکم دے دیا ،
    خود حنفی علماء کو بھی تسلیم ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی زمانے تک تین طلاقیں ایک ہی طلاق سمجھی جاتی تھیں، پھر جب لوگوں کی کثرتِ سے اایک ہی وقت میں تین طلاق دینا شروع کردیا ،تو سیدنا عمر فاروق نے تین طلاقوں کو تین ہی شمار کرنے کا حکم سیاسی تدبیر کے طور پر نافذ کر دیا۔ چنانچہ امام طحطاویؒ در مختار کے حاشیے میں قہستانی کے حوالے سے لکھتے ہیں:
    (إنه كان في الصدر الأول إذا أرسل الثلاث جملة لم يحكم إلا بوقوع واحدة إلى زمن عمر، ثم حكم بوقوع الثلاث سياسة لكثرته من الناس ... حاشية الطحطاوي: 2۔ 105)
     
  3. ‏مئی 17، 2018 #3
    ابوحنظلہ

    ابوحنظلہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 20، 2018
    پیغامات:
    163
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    23

    کان الطلاق علی عہد ۔۔۔ طلاق الثلاث واحدہ
    دور عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے تین طلاق ایک ہوتی تھی (ایک سمجھی جاتی تھی، یا ایک شمار کی جاتی تھی)
    کس کے نزدیک؟ طلاق دینے والے کے نزدیک یا قانون شریعت میں؟ حدیث میں اس کی صراحت نہیں۔
    اہلحدیث بھائی یہاں قانون شریعت مراد لیتے ہیں جبکہ امام نووی رحمة اللہ علیہ جو شارح مسلم ہیں وہ یہاں طلاق دینے والے کو مراد لیتے ہیں۔ کہ وہ تین دے کر ایک مراد لیتا تھا۔
    امام نووی رحمة اللہ علیہ کی بات زیدہ قرین قیاس، منطقی اور دیگر تمام احادیث سے موافق ہے
    جب کلام ذومعنی ہو یا اس میں ابہام ہو یعنی ایک سے زیادہ معنی کا احتمال ہو تو شارحین حدیث کو دیکھا جانا زیادہ معقول ہے بہ نسبت اپنی عقل لڑانے کے۔
     
  4. ‏مئی 17، 2018 #4
    ابوحنظلہ

    ابوحنظلہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 20، 2018
    پیغامات:
    163
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    23

    ان الناس قداستعجلوہ
    یہ تعجیل یعنی جلدی کیا تھی؟
    جب بقول آپکے قانون میں لکھا ہے کہ آپ ایک مشت تین دو یا سو ایک ہی مانی جائیگی اور اس میں طلاق دینے والے کا کوئی اختیار نہیں تو لووگوں نے کیا جلدی کی اور س جلدی سے کیا فرق پڑا؟ یہ معنی تو غیر منطقی اور خلاف عقل ہیں۔
    اس سے پتہ چلتا ہے کہ قانون میں ایسی کوئی چیز نہیں تھی بلکہ لوگوں کی نیت کا اعتبار تھا۔ جب تین ایک کی نیت سے دیتے تو ایک مانی جاتی اور جب لوگوں نے جلدی کر کے تین کو تین کی نیت سے دینا شروع کردیا تو قابون شریعت کے تحت بکراہت ان کی تین کو تین ہی مانا گیا۔ یہی بات امام نووی رحمة اللہ علیہ نے لکھی ہے۔ کہ “یہ لوگوں کی عادت بدلنے کی خبر ہے نا کہ مسئلہ بدلنے کی”
     
  5. ‏مئی 17، 2018 #5
    ابوحنظلہ

    ابوحنظلہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 20، 2018
    پیغامات:
    163
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    23

    عمر رضی اللہ عنہ نے ان پر تین ہی نافذ کر دیں- کیوں؟
    اہلحدیث بھائی کہتے ہیں کہ اس کا مقصد تعزیر یعنی انہیں سزا دینا تھا۔ لیکن یہ معنی غیر منطقی اور خلاف عقل و خلاف شرح شارحین حدیث ہیں۔
    اگر آپ کی شرح مان لی جائے تو اس کی مثال یوں بنے گی۔
    “کوئی حکومت ایک قانون بناتی ہے کہ تیسرے یعنی شرخ اشارے کو کراس نہیں کرنا۔ پہلے اکا دکا لوگ کراس کرتے تو اسے پہلا اشارہ ہی سمجھا جاتا۔ لیکن جب لوگوں نے کثرت سے ایسا کرنا شروع کردیا تو حکومت نے تیسرے اشارے کو کراس کرنے کو ہی قانون بنا دیا تاکہ جب لوگوں کا خوب جانی و مالی نقصان ہو تو وہ تجربے سے اسیکھیں اور ایسا کرنے سے باز آجائیں”
    کوئی بھی ذی شعور معاشرہ ایسا قانون نہیں بنا سکتا۔ اگر تیسرے یعنی سرخ اشارے کو کاٹنا منع تھا اور لوگوں نے کثرت سے کاتنا شروع کر دیا تو ایسے لوگوں کو سخت سزا دی جائیگی ناکہ تیسرے اشارہ کاٹنے کو ہی قانون کی شکل دے دی جائے۔
    اصل بات یہ ہے کہ ایسا کوئی قانون تھا ہی نہیں۔ بلکہ قانون میں یہ تھا کہ تین طہر میں طلاق دینی ہے لیکن اگر ایسا نہیں کرو گے اور احمق، عاجز یعنی بیوقوف و ناقص العلم ہو جاو گے تو تین اکٹھی بھی قبول کر لی جائیںگی۔اور خود ہی اپنے اوپر ظلم کرنے والے بنو گے۔ اسی مطلب کو امام نووی رحمة اللہ علیہ نے بیان فرمایا ہے۔
     
  6. ‏مئی 17، 2018 #6
    ابوحنظلہ

    ابوحنظلہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 20، 2018
    پیغامات:
    163
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    23

    اس حدیث کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے ایک اور مثال عرض ہے۔
    دو آدمیوں نے دو علیحدہ جگہ یا موقع پر سانپ دیکھے۔ ایک آدمی نے ایک سانپ دیکھا مگر خوف کی کیفیت کی بنا پر اس نے زور سے پکارا “سانپ، سانپ، سانپ”
    تو کیا یہ تین سانپ ہیں یا ایک سانپ؟
    دوسرے شخص نے تین سانپ دیکھے اور اس نے کہا تین سانپ۔ یا جیسے جیسے اسے سانپ دکھتے گئے اس نے سانپ سانپ سانپ کے الفاظ بولے تو اب ان کو کتنے سانپ سمجھا جائیگا؟
    ظاہر ہے کہ پہلے والے شخص کے معاملے میں ایک ہی سمجھا جائیگا اگرچہ اس نے تین دفعہ سانپ کا لفظ بولا۔
    اور دوسرے کیس میں تین ہی سمجھے جائینگے کیونکہ اس نے تین کا لفظ بولا یا تین دفعہ سانپ کا لفظ بولنے میں تین سانپ ہی مراد لئے۔
    یہی حقیقت امام نووی رحمة اللہ علیہ سمجھانا چاہ رہے ہیں۔ کہ دور عمر سے پہلے اگرچہ بعض لوگ طلاق طلاق طلاق کہتے تھے لیکن وہ اس سے تاکید مراد لیتے تھے ناکہ استیناف یعنی قطعیت۔ اور دور عمر رضی اللہ عنہ میں جب کہتے کہ تین طلاق یا طلاق طلاق طلاق قطعیت کی نیت سے تو ان پر ویسے ہی نافذ کیا گیا جیسا ان کی نیت تھی۔
     
  7. ‏مئی 17، 2018 #7
    ابوحنظلہ

    ابوحنظلہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 20، 2018
    پیغامات:
    163
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    23

    امام نووی رحمة اللہ علیہ کے موقف کی تائید اس حدیث صحیح سے بھی ہوتی ہے۔

    ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً ؟ فَقَالَ رُكَانَةُ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، ‏‏‏‏‏‏فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏

    (۲۲۰۶) رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی سہیمہ کو طلاق بتہ ( قطعی طلاق ) دے دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی اور کہا: اللہ کی قسم! میں نے تو ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی تم نے صرف ایک کی نیت کی تھی؟ رکانہ نے کہا: قسم اللہ کی میں نے صرف ایک کی نیت کی تھی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی انہیں واپس لوٹا دی، پھر انہوں نے اسے دوسری طلاق عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں دی اور تیسری عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں۔ابوداود
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں