1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ثلاثیات الامام الدارمی

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از رضا میاں, ‏ستمبر 02، 2011۔

  1. ‏ستمبر 02، 2011 #1
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    ثلاثیات الدارمی​


    پاکی کا بیان ۔ ‏
    باب: مسجد میں پیشاب کرنا۔
    سنن دارمی:جلد اول:حدیث نمبر 733 ‏


    حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا ‏قَامَ بَالَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ قَالَ فَصَاحَ بِهِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَفَّهُمْ عَنْهُ ثُمَّ دَعَا بِدَلْوٍ ‏مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَى بَوْلِهِ
    حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب وہ اٹھ کر جانے لگا تو مسجد کے ایک ‏کونے میں پیشاب کرنے لگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے بلند آواز سے اسے روکنے کی کوشش کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع ‏کردیا اور پھر پانی کا ایک ڈول منگوا کر اس شخص کے پیشاب کی جگہ پر بہا دیا۔


    نماز کا بیان ۔
    باب: مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے۔
    سنن دارمی:جلد اول:حدیث نمبر 1360 ‏


    أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا صَلَّى ‏فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ أَوْ رَبُّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَإِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ أَوْ يَقُولُ هَكَذَا ‏وَبَزَقَ فِي ثَوْبِهِ وَدَلَكَ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ
    حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بندہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات ‏کررہا ہوتا ہے اس کا پروردگار اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے اس لیے نماز کے دوران اگر کسی شخص نے تھوکنا ہو تو اپنے بائیں طرف یا اپنے پاؤں ‏کے نیچے تھوکے یا اس طرح کرے راوی کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے میں تھوک کر اس کپڑے کو مل دیا۔


    روزے کا بیان۔
    باب: عاشورہ کے دن روزے رکھنا
    سنن دارمی:جلد اول:حدیث نمبر 1696 ‏


    أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ يَوْمَ ‏عَاشُورَاءَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ إِنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَمَنْ كَانَ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ‏أَكَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيَصُمْهُ
    حضرت سلمہ بن اکوع بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن قبیلہ اسلم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو (یہ اعلان ) کرنے ‏کے لیے بھیجا کہ آج عاشورہ کا دن ہے جس شخص نے کچھ کھا یا پی لیا ہو وہ بقیہ دن روزہ پورا کرے اور جس نے کچھ نہ کھایا ہو اور نہ پیا ہو وہ روزہ رکھ لیں۔‏


    حج کا بیان۔
    باب: سواری پر سے " رمی جمار " کرنا
    سنن دارمی:جلد اول:حدیث نمبر 1822 ‏ ‏ ‏

    أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ وَالْمُؤَمَّلُ وَأَبُو نُعَيْمٍ عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْكِلَابِيِّ قَالَ رَأَيْتُ ‏رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجِمَارَ عَلَى نَاقَةٍ صَهْبَاءَ لَيْسَ ثَمَّ ضَرْبٌ وَلَا طَرْدٌ وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ
    حضرت قدامہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے آپ اپنی سرخ اونٹنی پر سوار تھے اور رمی جمار کر رہے تھے ‏وہاں کوئی مار پیٹ اور دھکم پیل نہیں تھی اور ہٹو بچو کی آوازیں نہیں تھیں۔


    حج کا بیان۔
    باب: صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا۔
    سنن دارمی:جلد اول:حدیث نمبر 1841 ‏


    أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ وَسَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ سَعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ ‏عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَنَحْنُ نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يُصِيبَهُ أَحَدٌ بِحَجَرٍ أَوْ بِرَمْيَةٍ
    حضرت ابن ابی اوفی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا اور مروہ پر سعی کی اور ہم نے آپ کو اہل مکہ سے بچایا ہوا تھا تاکہ کوئی شخص پتھر ‏یا تیر کے ذریعے آپ پر حملہ نہ کرے۔


    حج کا بیان۔
    باب: حج قران کا بیان۔
    سنن دارمی:جلد اول:حدیث نمبر 1843 ‏


    أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ
    حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نیت کرتے ہوئے سنا۔ "عمرہ اور حج کے لیے میں حاضر ہوں۔


    کھانے کا بیان :‏
    باب: کھجور کا حکم ۔
    سنن دارمی:جلد اول:حدیث نمبر 1973


    حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سُلَيْمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ‏وَسَلَّمَ تَمْرٌ فَأَخَذَ يُهَدِّيهِ وَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ تَمْرًا مُقْعِيًا مِنْ الْجُوعِ قَالَ أَبُو ‏مُحَمَّد يُهَدِّيهِ يَعْنِي يُهْدِي هَاهُنَا وَهَاهُنَا
    حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوریں پیش کی گئی آپ نے انہیں تحفہ کے طور پر بانٹنا شروع کیا مجھے ‏یاد ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھوک کی شدت کی وجہ سے مخصوص انداز میں بیٹھ کر کھجور کھا رہے تھے امام دارمی فرماتے ہیں اس حدیث میں ‏استعمال ہونے والالفظ " یھدیہ) سے مراد ادھر ادھر بھیجنا ہے۔


    کھانے کا بیان۔
    باب: ولیمہ کا بیان۔
    سنن دارمی:جلد اول:حدیث نمبر 1975 ‏


    أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ‏وَرَأَى عَلَيْهِ وَضَرًا مِنْ صُفْرَةٍ مَهْيَمْ قَالَ تَزَوَّجْتُ قَالَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
    حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے فرمایا اس وقت فرمایا جب آپ نے ان پر ‏زرد رنگ کا نشان دیکھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی میں نے شادی کرلی ہے آپ نے ارشاد فرمایا تم ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ذبح کرکے اس کی ‏دعوت کرو۔


    خرید وفروخت کا بیان۔
    باب: جو شخص کوئی چیز توڑ دے اس کے اوپر اس کی مانند چیز کی ادائیگی لازم ہوگئی۔
    سنن دارمی:جلد دوم:حدیث نمبر 443 ‏

    أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَهْدَى بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ ‏قَصْعَةً فِيهَا ثَرِيدٌ وَهُوَ فِي بَيْتِ بَعْضِ أَزْوَاجِهِ فَضَرَبَتْ الْقَصْعَةَ فَانْكَسَرَتْ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‏يَأْخُذُ الثَّرِيدَ فَيَرُدُّهُ فِي الصَّحْفَةِ وَهُوَ يَقُولُ كُلُوا غَارَتْ أُمُّكُمْ ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى جَاءَتْ قَصْعَةٌ صَحِيحَةٌ فَأَخَذَهَا ‏فَأَعْطَاهَا صَاحِبَةَ الْقَصْعَةِ الْمَكْسُورَةِ قَالَ عَبْد اللَّهِ نَقُولُ بِهَذَا
    حضرت انس روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ نے آپ کی خدمت میں ایک پیالہ بھیجا جس میں ثرید موجود تھا اس وقت آپ ‏دوسری زوجہ کے ہاں تھے اس دوسری زوجہ نے اس پیالے کو مار کر توڑ دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ثرید کو اٹھا کر ہتھیلی پر رکھا اور ارشاد فرمایا ‏کھالو تمہاری والدہ کو غصہ آگیا تھا۔ پھر آپ انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ وہ صحیح پیالہ لے آئیں آپ نے وہ پیالہ لیا اور ان محترمہ کو ادا کیا جو ٹوٹے ‏ہوئے پیالے کی مالک تھیں۔ امام دارمی فرماتے ہیں ہم بھی اسی بات کے قائل ہیں۔


    خرید وفروخت کا بیان۔
    باب: پچھنے لگانے والے کی آمدن۔
    سنن دارمی:جلد دوم:حدیث نمبر 466


    أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ أَبُو ‏طَيْبَةَ وَأَمَرَ لَهُ بِصَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ
    حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں ابوطیبہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے لگائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں یہ ہدایت ‏کی انہیں دو صاع دیے جائیں ۔


    اجازت لینے کا بیان۔
    باب: جب کوئی شخص سفر پر روانہ ہو یا واپس آئے تو اس وقت کی دعا۔
    سنن دارمی:جلد دوم:حدیث نمبر 514 ‏

    ‏ ‏
    أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ هُوَ الْأَحْوَلُ قَالَ وَثَبَّتَنِي شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ‏صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ ‏وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ
    حضرت عبداللہ بن سرجس بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر روانہ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے اے اللہ میں سفر کی پریشانی اور واپسی پر ‏کسی مصیبت اور کسی کام کی خرابی اور مظلوم کی بددعا اور اپنے اہل خانہ اور مال کے بارے میں کسی برے منظر سے تیری پناہ مانگتاہوں۔


    اجازت لینے کا بیان۔
    باب: جب کسی جگہ پڑاؤ کیا جائے تو دو رکعت نماز ادا کرلی جائے۔
    سنن دارمی:جلد دوم:حدیث نمبر 523 ‏

    ‏ ‏
    أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا لَمْ ‏يَرْتَحِلْ مِنْهُ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ أَوْ يُوَدِّعَ الْمَنْزِلَ بِرَكْعَتَيْنِ قَالَ عَبْد اللَّهِ عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ ضَعِيفٌ
    حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی جگہ پڑاؤ کرتے تھے تو اس وقت تک وہاں سے کوچ نہیں کرسکتے تھے جب ‏تک وہاں دو رکعت نہ ادا کرلیں یا دو رکعت پڑھ کر چھوڑتے تھے۔ عبداللہ بیان کرتے ہیں اس حدیث کے راوی عبداللہ بن سعد ضعیف ہیں۔‏


    اجازت لینے کا بیان۔
    باب: مزاح کا بیان۔
    سنن دارمی:جلد دوم:حدیث نمبر 543 ‏


    حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ غُلَامٌ يَسُوقُ بِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‏فَقَالَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ
    حضرت انس بیان کرتے ہیں ایک لڑکا تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے اونٹوں کو لے کرچلتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ‏انجشہ دھیان رکھنا تم شیشوں کو ساتھ لے کر جارہے ہو۔


    دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان۔
    باب: جنت کے بازار کا بیان۔
    سنن دارمی:جلد دوم:حدیث نمبر 677 ‏


    أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَسُوقًا قَالُوا ‏وَمَا هِيَ قَالَ كُثْبَانٌ مِنْ مِسْكٍ يَخْرُجُونَ إِلَيْهَا فَيَجْتَمِعُونَ فِيهَا فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ رِيحًا فَتُدْخِلُهُمْ بُيُوتَهُمْ ‏فَيَقُولُ لَهُمْ أَهْلُوهُمْ لَقَدْ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَيَقُولُونَ لِأَهْلِيهِمْ مِثْلَ ذَلِكَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنْ ‏حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
    حضرت انس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جنت میں ایک بازار بھی ہوگا لوگوں نے عرض کیا وہ کیا ہوگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ ‏وسلم نے فرمایا اس میں مشک کے ٹیلے ہوں گے اور لوگ اس میں جائیں گے۔ اور جہاں وہ اکٹھے ہوںگے وہاں اللہ ان کے لیے ہوا کو بھیجے گا جو انہیں ان ‏کے گھروں میں لے جائے گی تو ان کے اہل خانہ ان سے کہیں گے ہماری غیر موجودگی میں آپ کے حسن میں اضافہ ہوگیا ہے تو وہ اپنے اہل خانہ سے ‏بھی یہی بات کہیں گے۔ ‏
    یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔


    فضائل قرآن کا بیان۔
    باب: سورت بقرہ کی ابتدائی آیات اور آیت الکرسی کی فضیلت۔
    سنن دارمی:جلد دوم:حدیث نمبر 1204 ‏


    حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنِي أَيْفَعُ بْنُ عَبْدٍ الْكَلَاعِيُّ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ سُورَةِ ‏الْقُرْآنِ أَعْظَمُ قَالَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قَالَ فَأَيُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَعْظَمُ قَالَ آيَةُ الْكُرْسِيِّ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ ‏الْقَيُّومُ قَالَ فَأَيُّ آيَةٍ يَا نَبِيَّ اللَّهِ تُحِبُّ أَنْ تُصِيبَكَ وَأُمَّتَكَ قَالَ خَاتِمَةُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فَإِنَّهَا مِنْ خَزَائِنِ رَحْمَةِ ‏اللَّهِ مِنْ تَحْتِ عَرْشِهِ أَعْطَاهَا هَذِهِ الْأُمَّةَ لَمْ تَتْرُكْ خَيْرًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ
    ایفع عبدالکلاعی بیان کرتے ہیں ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ قرآن کی کون سی سورت زیادہ عظمت والی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ‏جواب دیا قل ہو اللہ اس شخص نے عرض کی قرآن کی کون سی آیت عظمت والی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا آیت الکرسی اللہ لاالہ ‏الاھوالحی القیوم اس شخص نے دریافت کیا اے اللہ کے نبی وہ کون سی آیت ہے جس کے بارے میں آپ یہ پسند کریں گے کہ آپ کی امت اسے ‏پڑھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا سورت بقرہ کی آخری آیتیں کیونکہ یہ اللہ کی رحمت کے خزانوں میں سے ہیں جواسکے عرش کے نیچے ‏ہیں اللہ نے یہ اس امت کو عطاکی ہیں دنیا اور آخرت کی کوئی بھلائی ایسی نہیں ہے جس پر مشتمل نہ ہوں۔


    نوٹ: تمام حوالے ایزی قرآن و حدیث سوفٹوئیر سے لیے گئے ہیں۔
     
  2. ‏ستمبر 02، 2011 #2
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    جزاکم اللہ خیرا رضا بھائی جان۔ ازراہ کرم عربی عبارات پر عربی کا ٹیگ لگا دیا کریں ورنہ پڑھنے میں دقت ہوتی ہے۔ درج بالا دھاگے میں تو یہ ٹیگ شامل کر دئے گئے ہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں