1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جابر جعفی محدثین اہل سنت اور اہل تشیع کی نظر میں۔

'ضعیف رواۃ' میں موضوعات آغاز کردہ از علی عمران, ‏جون 02، 2019۔

  1. ‏جون 02، 2019 #1
    علی عمران

    علی عمران مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 02، 2019
    پیغامات:
    28
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ۔

    جابر جعفی کے روایات گھڑنے کے متعلق جرح درکار ہے اور اہل تشیع کی کتب سے بھی اس پر جرح درکار ہے۔
     
  2. ‏جون 02، 2019 #2
    علی عمران

    علی عمران مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 02، 2019
    پیغامات:
    28
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

  3. ‏جون 02، 2019 #3
    علی عمران

    علی عمران مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 02، 2019
    پیغامات:
    28
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

  4. ‏جون 02، 2019 #4
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,541
    موصول شکریہ جات:
    410
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    شیعوں کی رجال کی کتاب میں جابر جعفی کے متعلق لکھا ہے:
    اس سے ایک جماعت نے روایت کی، جن پر جرح کی گئی اور انھیں ضعیف قرار دیا گیا، ان میں سے "عمرو بن شمر" اور "مفضل بن صالح" ہیں۔
    آگے نجاشی لکھتا ہے کہ جابر جفعی فی نفسہ مختلط تھا۔
    رجال النجاشی رقم ۳۳۲

    هاشم معروف الحسني شیعہ کی بعض روایات حکم لگاتے ہوئے کہتا ہے:
    اس روایت کی سند میں "صباح مزنی" اور "جابر جعفی" ہے اور دونوں ضعیف ہیں، جابر کی قدح اور مدح میں بہت کچھ منقول ہے، لیکن اکثریت کا قول ہے کہ وہ مختلط ہے۔
    الموضوعات في الاثار والأخبار ص ۲۳۸

     
  5. ‏جون 02، 2019 #5
    علی عمران

    علی عمران مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 02، 2019
    پیغامات:
    28
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    @عدیل سلفی
    محترم۔ آپ کا شکریہ۔ کیا جابر جعفی کے متعلق اور حوالہ جات مل سکتے ہیں؟
     
  6. ‏جون 04، 2019 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,311
    موصول شکریہ جات:
    2,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جابر بن یزید الجعفی
    جابر الجعفی جمہور محدثین کے نزدیک مجروح ہے ۔ حافظ ابن حجر نے کہا:
    “ضعیف رافضي” وہ ضعیف رافضی ہے ۔ (تقریب التہذیب : ۸۷۸)
    امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا:
    “ما رأیت أحداً أکذب من جابر الجعفي ولا أفضل من عطاء بن أبي رباح“
    میں جابر جعفی سے زیادہ جھوٹا کوئی نہیں دیکھااور عطاء بن ابی رباح سے زیادہ افضل کوئی نہیں دیکھا۔ (العلل الترمذی ص ۸۹۱ و سندہ حسن)

    جابر بن یزید الجعفی کے متعلق علامہ عجلونی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ضعیف تھا، تشیع میں غلو کرتا تھا اور مدلس بھی تھا۔" ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ "ضعیف رافضی تھا۔" علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "شعبہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ صدوق تھا۔ وکیع رحمۃ اللہ علیہ نے بھی جابر کو ثقہ بتایا ہے۔ عبداللہ بن احمد رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں کہ یحییٰ القطان نے اسے ترک کیا ہے۔" ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے: "میں نے اس سے زیادہ جھوٹا شخص نہیں دیکھا۔" نسائی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے اسے "متروک" بتایا ہے۔ یحییٰ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ "اس کی حدیث نہ لکھی جائے۔" ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ "میرے نزدیک قوی نہیں ہے۔" یحییٰ کا ایک اور قول ہے کہ "کذاب تھا۔" اور "وہ کچھ بھی نہیں ہے۔" جوزجانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے "کذاب" بتایا ہے۔ اور زائدہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ "جابر الجعفی رافضی تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم کو گالیاں دیتا تھا۔"
    مزید تفصیل کے لیے الضعفاء والمتروکین للنسائی رحمۃ اللہ علیہ،
    تاریخ یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ،
    علل لابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ،
    التاریخ الکبیر للبخاری رحمۃ اللہ علیہ، التاریخ الصغیر للبخاری رحمۃ اللہ علیہ، الضعفاء الصغیر للبخاری رحمۃ اللہ علیہ،مقدمہ صحیح مسلم رحمۃ اللہ علیہ،
    معرفۃ والتاریخ للبسوی رحمۃ اللہ علیہ،
    الضعفاء الکبیر للعقیلی رحمۃ اللہ علیہ،
    الجرح والتعدیل لابن حبان رحمۃ اللہ علیہ،
    کامل فی الضعفاء لابن عدی رحمۃ اللہ علیہ،
    الضعفاء والمتروکین للدارقطنی رحمۃ اللہ علیہ،
    میزان الاعتدال للذہبی رحمۃ اللہ علیہ،
    کشف الحثیث عمن رمی بوضع الحدیث للحلبی رحمۃ اللہ علیہ،
    موضوعات لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ،
    مجموع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان،
    تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری رحمۃ اللہ علیہ،
    تنزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ لابن عراق الکنانی رحمۃ اللہ علیہ،
    مجمع الزوائد ومنبع الفوائد للہیثؐی رحمۃ اللہ علیہ،
    تقریب التہذٰب لابن حجر رحمۃ اللہ علیہ،
    معرفۃ الثقات للعجلی رحمۃ اللہ علیہ، فہارس مجمع الزوائد للزغلول،
    سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی اور سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی وغیرہ کا مطالعہ فرمائیں۔

    امام یحییٰ بن معین رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا " جابر جھوٹا ہے ۔
    امام لیث بن سلیم رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا " وہ جھوٹا ہے
    امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں " میں نے جابر جفعی سے بڑا جھوٹا نہیں دیکھا
    امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں ۔امام یحییٰ قطان رحمتہ اللہ علیہ نے جابر کو ترک کردیا تھا
    امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے " وہ متروک ہے ۔
    امام ابو داؤد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں " میرے نزدیک وہ حدیث میں قوی نہیں ہے
    امام ابن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ کا کہنا ہے " میں نے جابر کو ترک کردیا
    امام سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں " جابر ( بارہوں امام ) کی رجعت پر ایمان رکھتا تھا
    امام جوزجانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں " وہ کذاب ( جھوٹا ) ہے
    امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں " وہ سبائی تھا اور عبداللہ بن سبا کی پارٹی سے تھا
    امام عقیلی رحمتہ اللہ علیہ امام زائدہ رحمتہ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں " واہ روافضی تھا اور صحابہ رضی اللہ عنھم کو گالیا دیتا تھا
    ( میزان الاعتدال ، جلد 1 صفحات 351 تا 354 )
    امام زہبی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں " جابر شیعہ کے بڑے علماء میں سے تھا ، اگرچہ امام شعبہ رحمتہ اللہ علیہ نے اسکی توثیق کی ہے لیکن وہ توثیق شاذ ہے ، حفاظ حدیث کے نزدیک یہ متروک روای ہے ۔( الکاشف فی من لہ روایۃ فی الکتب السنۃ ، جلد 1 صفحہ 288 )
    ابو عوانہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں " سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ اور شعبہ رحمتہ اللہ علیہ نے مجھے جابر( جفعی ) سے حدیث لینے سے منع کیا ۔
    یحییٰ بن یعلی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں " اللہ کی قسم وہ جھوٹا تھا
    امام عقیلی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں " سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ نے اسے جھوٹا کہا ہے
    امام ابن سعد رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں " وہ بہت زیادہ ضعیف تھا
    امام ساجی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں " سفیان بن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ نے اسے جھوٹا کہا ہے
    میمونی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کیا جابر جفعی جھوٹ بولتا تھا ؟ تو آپ نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم ۔
    ( تہذیب التہذیب ، جلد 1 صفحہ 283 تا 286 )​
     
  7. ‏جون 06، 2019 #7
    علی عمران

    علی عمران مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 02، 2019
    پیغامات:
    28
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    @اسحاق سلفی
    محترم۔ کتب شیعہ سے بھی حوالہ جات درکار ہیں۔
     
  8. ‏ستمبر 21، 2019 #8
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,541
    موصول شکریہ جات:
    410
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

  9. ‏اکتوبر 16، 2019 at 6:08 PM #9
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,541
    موصول شکریہ جات:
    410
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    ایک شیعہ عالم مظفر کہتا ہے کہ جابر نے صرف باقر سے ستر ہزار حدیثیں روایت کی ہیں اور کہا گیا ہے کہ اسی پر آئمہ کے علم کی انتہا ہوگئی ہے۔
    الإمام الصادق – الشيخ محمد حسين المظفر – مجلد ٢ ص ١٣٦

    لیکن "رجال الكشي " میں جابر جعفی کے ترجمے میں مذکور ہے کہ زرارہ نے کہا: میں نے ابو عبداللہؓ سے جابر کی احایث کے متعلق استفسار کیا تو انھوں نے فرمایا: میں نے اسے صرف ایک بار اپنے والد کے پاس دیکھا ہے اور وہ میرے پاس کبھی نہیں آیا۔
    رجال الكشي ص ۱۴۲

    یہ شیعہ کی گواہی ہے، جو صادق اور ان کے والد سے احادیث روایت کرنے میں جابر کو جھوٹا ثابت کرتی ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں