1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جادو اور کہانت

'کفر اکبر' میں موضوعات آغاز کردہ از قاری مصطفی راسخ, ‏مئی 26، 2012۔

  1. ‏مئی 26، 2012 #1
    قاری مصطفی راسخ

    قاری مصطفی راسخ علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    lahore
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2012
    پیغامات:
    664
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    301

    جادو اور کہانت


    الحمدللّٰہ رب العالمین،والصلاۃ والسلام علی نبینا محمد ﷺ،وعلی آلہ وصحبہ ومن دعا بدعوتہ الی یوم الدین ۔أما بعد
    آج کے اس پرفتن دور میں مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے شعبدہ بازوں کو’’جو طب کا دعوی کرتے ہوئے جادو یا کہانت سے علاج کرتے ہیں‘‘ دیکھتے ہوئے میں نے ضروری سمجھا کہ اپنے مسلمان بھائیوں کے لئے اس معاملہ کی نزاکت کو واضح کر دوں جو اپنی جہالت کی بنیاد پر ان کے ہتھکنڈوں کا شکار ہو کر اپنے ایمان اور مال ودولت کو برباد کر بیٹھتے ہیں۔اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی صریح مخالفت کرتے ہیں۔
    علاج کروانا بالاتفاق جائز ہے۔مسلمان کے لئے جائز ہے کہ وہ علاج کی غرض سے کسی ڈاکٹر کے پاس جائے تاکہ ڈاکٹر اس کے مرض کی مناسب تشخیص کرتے ہوئے اس کے لئے مباح ادویات میں سے کسی مناسب دوا کے ساتھ جو وہ اپنے علم طب کے مطابق بہتر سمجھتا ہے ، اس کا علاج کر سکے۔اور یہ عام اسباب کو بروئے کار لانا ہے جو توکل کے منافی نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کے ساتھ اس کا علاج بھی نازل کیا ہے۔اب ڈاکٹر پر منحصر ہے کہ وہ کسی بیماری کی درست تشخیص کرکے اس کے لئے مناسب دوا اختیار کرتا ہے یا نہیں۔
    لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی شفا حرام چیزوں میں نہیں رکھی۔لہذا کسی کے لئے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ علم غیب کادعوی کرنے والے کاہنوں کے پاس اپنی بیماری کی تشخیص کے لئے جائے یا ان کی تصدیق کرے ۔کیونکہ وہ صرف اور صرف اندھیرے میں نشانہ لگاتے ہیں یا جن حاضر کر کے اس سے مدد مانگتے ہیں۔ علم غیب کا دعوی کرنے کی وجہ سے یہ لوگ کفر اور گمراہی کے مرتکب ہوتے ہیں۔کیونکہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
    ((من أتی عرافافسألہ عن شیء لم تقبل لہ صلاۃ أربعین لیلۃ))[مسلم]
    ’’جو شخص عراف کے پاس آیا اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا،چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوگی۔‘‘
    دوسری جگہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
    ((من أتی کاہنا فصدقہ بما یقول فقد کفر بما أنزل علی محمد))[أخرجہ اہل السنن]
    ’’جو شخص کاہن کے پاس گیا اور اس کی تصدیق کی ،اس نے نبی کریم ﷺ پر نازل کردہ شریعت کا انکار کردیا۔‘‘
    حضرت عمران بن حصین سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
    ((لیس منا من تطیر أو تطیر لہ،أو تکھن أو تکھن لہ،أو سحر أو سحر لہ،ومن أتی کاہنا فصدقہ بما یقول فقد کفر بما أنزل علی محمد))[رواہ البزارباسناد جید]
    ’’جس نے بد فالی لی یا جس کے لئے بد فالی لی گئی،جس نے کہانت کی یا جس کے لئے کہانت کی گئی،جس نے جادو کیا یا جس کے لئے جادو کیا گیاوہ ہم میں سے نہیں ہے،اورجو شخص کاہن کے پاس گیا اور اس کی تصدیق کی ،اس نے نبی کریم ﷺ پر نازل کردہ شریعت کا انکار کردیا۔‘‘
    ان احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کہانت اور جادو کرنا کفر ہے کیونکہ یہ دونوں جن یا غیر اللہ سے مدد طلب کرتے ہیں جو شرک ہے اور ان کی تصدیق کرنا بھی شرک ہے ۔لہذا ان کے پاس جا کر اپنی قسمت کا حال معلوم کرنا جائز نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
    ((وَمَا یُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتّٰی یَقُوْلَا اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ فَلاَ تَکْفُرْ۔۔۔۔۔۔لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ))[البقرۃ:۱۰۲]
    ’’وہ دونوں کسی شخص کو اس وقت تک جادو نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں پس تو کفر نہ کر،پھر لوگ ان سے یہ سیکھتے جس سے خاوند بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیں اور دراصل وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر کسی کو کوئی نقصان نہیں پہچا سکتے ،یہ لوگ وہ سیکھتے ہیں جو ان کو نقصان پہنچائے اور نفع نہ پہنچا سکے۔اور وہ بالیقین جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔اور وہ بد ترین چیز ہے جس کے بدلے میں وہ اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں،کاش کہ یہ جانتے ہوتے۔اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ جادو کفر ہے اورجادو بذات خود مؤثر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے مؤٔثر ہوتا ہے۔‘‘
    اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے جادو کے شر کے واقع ہونے سے پہلے بچاؤ ،اور وقوع کے بعد علاج کے طریقے بیان کر دئیے ہیں ، جو اللہ رب العزت کی طرف سے اپنے بندوں پر رحمت ،احسان اور اتمام نعمت ہے۔ذیل میں ہم وہ اذکار مسنونہ بیان کریں گے جن کے ساتھ انسان جادو کے واقع ہونے سے بچ سکتا ہے یا واقع ہو جانے کے بعد اپنا علاج کر سکتا ہے۔
    ٭ہر فرض نماز کے بعد اور رات کو سوتے وقت آیۃ الکرسی کی تلاوت کرنا:آیۃ الکرسی قرآن مجید کی عظیم ترین آیت ہے :
    ((اللّٰہ لا الہ الا ھو الحی القیوم لا تأخذہ سنۃ ولا نوم لہ ما فی السموت وما فی الأرض من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ یعلم ما بین أیدیھم وما خلفھم ولا یحیطون بشیء من علمہ الا بما شآء وسع کرسیہ السموت والأرض ولا یؤدہ حفظھما وھو العلی العظیم))[البقرۃ:۲۵۵]
    ٭ہر فرض نماز کے بعد ،نماز فجر کے بعد دن کے شروع میں،نماز مغرب کے بعد رات کے شروع میں اور سوتے وقت سورۃ الاخلاص((قل ھو اللّٰہ احد))سورۃ الفلق((قل أعوذ برب الفلق)) اور سورۃ الناس((قل اعوذ برب الناس))تینوں سورتوں کو تین تین بار پڑھنا:
    ٭ رات کے شروع میں سورۃ البقرۃ کی آخری دو آیات پڑھنا:((ء امن الرسول بما أنزل الیہ من ربہ والمؤمنون کل ء امن باللّٰہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ لا نفرق بین أحد من رسلہ وقالوا سمعنا واطعنا غفرانک ربنا والیک المصیر ٭ لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا لھا ما کسبت وعلیھا مااکتسبت ربنا لا ۔۔۔۔۔انت مولانا فانصرنا علی القوم الکفرین)) [البقرۃ: ۲۸۵،۲۸۶]
    آیۃ الکرسی کے بارے میں صحیح ثابت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:’’جو شخص رات کو آیۃ الکرسی کی تلاوت کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کے لئے ایک محافظ مقرر کر دیا جاتا ہے ،اور صبح تک شیطان اس کے قریب بھی نہیں پھٹکتا۔‘‘اسی طرح یہ بھی صحیح ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’جو شخص رات کو سورۃ البقرۃ کی آخری دو آیتوں کی تلاوت کرتا ہے ،وہ اس کو ہر شر سے کافی ہو جائیں گی۔‘‘
    ٭صبح وشام کثرت کے ساتھ ’’أعوذ بکلمات اللّٰہ التامات من شر ما خلق‘‘پڑھنا۔نبی کریمﷺ نے فرمایا جو شخص کسی منزل ،صحراء، فضا یا سمندر میں اترتے وقت یہ کلمات پڑھ لے اس کو کوچ کرتے وقت تک کوئی چیز نقصان نہیں دے سکتی ۔
    ٭نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص صبح وشام یہ کلمات تین تین مرتبہ پڑھے گا وہ ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رہے گا:((باسم اللّٰہ الذی لا یضر مع اسمہ شیی ء فی الارض ولا فی السماء وھو السمیع العلیم))اور یہ کلمات امن وسلامتی کا سبب ہیں۔مذکورہ اذکار مسنونہ صدق دل سے پڑھنے والے کے لئے جادو وغیرہ کے شر سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہیں،اور جادوکو زائل کرنے سبب ہیں۔
    اگر کسی شخص پر جادوہو چکا ہے تو نبی کریمﷺ نے اذکار مسنونہ سے اس کا علاج بھی بتایا ہے:
    ٭نبی کریم ﷺ صحابہ کرام ث کو تین مرتبہ یہ الفاظ پڑھ کر دم کیا کرتے تھے((اللّٰھم رب الناس،أذھب البأس،واشف وأنت الشافی،لا شفاء الا شفاؤک ،شفاء لایغادر سقما))اسی طرح حضرت جبرئیل نے نبی کریمﷺ کوان الفاظ کے دم کیا((باسم اللّٰہ أرقیک من کل شیی ء یؤذیک ،ومن شر کل نفس أو عین حاسد،اللّٰہ یشفیک ،باسم اللّٰہ أرقیک))ان کلمات کو تین مرتبہ پڑھ کر دم کرنا چاہئیے۔
    ٭جادو زدہ شخص کے لئے ان کلمات کے ساتھ اپنا علاج کرنا بہت مفید ہے کہ جس شخص پر جادو ہوا ہے (خاص طور پر وہ شخص جس کو جماع سے روک دیا گیا ہو)وہ بیری کے سات ہرے پتے لے اور ان ساتوں پتوں کو پتھر سے پیس لے پھر برتن میں ڈال کر اوپر سے اتنا پانی گرائے جو اسے غسل کے لئے کافی ہو،اور اس پانی پر مندرجہ ذیل آیات تلاوت کرے۔
    ۱۔آیۃ الکرسی
    ۲۔چاروں قل سورۃ الکفرون ((قل یأیھا الکفرون))سورۃ الاخلاص((قل ھو اللّٰہ احد))سورۃ الفلق((قل أعوذ برب الفلق)) اور سورۃ الناس((قل اعوذ برب الناس))
    ۳ ۔سورۃ الأعراف کی آیات السحر((وَأَوْحَیْنَا اِلٰی مُوْسٰی أَنْ أَلْقِ عَصَاکَ فَاِذَا ھِیَ تَلْقَفُ مَا یَأْفِکُوْنَ٭فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ٭فَغُلِبُوْا ھُنَالِکَ وَانْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَ)) [الأعراف:۱۱۷،۱۱۹]
    ۴۔سورۃ یونس کی آیات السحر((وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِکُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ٭فَلَمَّا جَآئَ السَّحَرَۃُقَالَ لَھُمْ مُّوْسٰی أَلْقُوْا مَا أَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ ٭فَلَمَّا أَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰی مَا جِئْتُمْ بِہٖ السِّحْرُ اِنَّ اللّٰہَ سَیُبْطِلُہٗ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ ٭وَیُحِقُّ اللّٰہُ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمَجْرِمُوْنَ))[یونس:۷۹،۸۲]
    ۵۔سورۃ طہ کی آیات السحر((قَالُوْا یٰمُوْسٰی اِمَّا أَنْ تُلْقِیَ وَاِمَّا أَنْ نَّکُوْنَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقٰی٭قَالَ بَلْ أَلْقُوْا فَاِذَا حِبَالُھُمْ وَعِصِیُّھُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ أَنَّھَا تَسْعٰی٭فَأَوْجَسَ فِی نَفْسِہٖ خِیْفَۃً مُّوْسٰی٭قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّکَ أَنْتَ اْلاَعْلٰی٭وَأَلْقِ مَا فِی یَمِیْنِکَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا اِنَّمَا صَنَعُوْا کَیْدُ سٰحِرٍ وَلَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ أَتٰی)) [طہ:۶۵،۶۹]
    ان آیات کی تلاوت کے بعداس پانی میں سے تین گھونٹ پانی پئے اور باقی پانی کے ساتھ غسل کر لے۔ان شاء اللہ اسی کے ساتھ ہی جادو کا اثر ختم ہو جائے گا ۔اگر مزید ضرورت محسوس ہو تو یہی عمل دو ،تین باریا بیماری کے خاتمہ تک دہرایا جائے ان شاء اللہ افاقہ ہو گا۔
    ٭جادو کا ایک اور مفید ترین علاج ہے کہ جادو کی جگہ کو زمین پہاڑ یا قبرستان میں تلاش کر کے اس جادوکو نکال دیا جائے اس سے بھی جادو کا اثر ختم ہو جائے گا۔لیکن جادو کا علاج جادو کے ذریعہ کرنا یا کروانا حرام ہے کیونکہ یہ شیطانی عمل ہے اور شرک أکبر ہے
    ماخوذ از مقالات سماحۃ الشیخ/ عبد العزیز بن بازؒ
     
  2. ‏مئی 27، 2012 #2
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    لیکن کیا دفعیہ کے جنتر منتر جائز ہے؟؟؟۔۔۔
     
  3. ‏دسمبر 28، 2013 #3
    عبدالقیوم

    عبدالقیوم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2013
    پیغامات:
    825
    موصول شکریہ جات:
    408
    تمغے کے پوائنٹ:
    128

    جادو گنا ہ کبیرہ ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں