1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جاری نماز کی جماعت میں شامل ہونا.

'احکام ومسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو عبدالله, ‏مارچ 21، 2017۔

Tags:
  1. ‏مارچ 21، 2017 #1
    ابو عبدالله

    ابو عبدالله مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 28، 2011
    پیغامات:
    720
    موصول شکریہ جات:
    447
    تمغے کے پوائنٹ:
    135

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

    پہلی صورت: ایک شخص فرض نماز کی جماعت سے فارغ ہوکر سنت یا نفل وغیرہ پڑھ رہا ہے اور میں مسجد میں آکر جماعت بنانے کیلیے اس کے برابر کھڑا ہوجاتا ہوں اور وہ امام بن جاتا ہے تو اس طرح میری فرض کی جماعت ہوگئی.

    لیکن مجھے شیوخ کرام سے ایک دوسری صورت کے بارے پوچھنا ہے وہ یہ کہ پہلا شخص پہلی فرض کی جماعت کے امام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی بقیہ رکعتیں پوری کرنے کیلیے کھڑا ہوا ہو اور میں آکر اوپر ذکر کردہ طریقے سے اس کے ساتھ جماعت بنانے کیلیے اس کی "بقیہ جاری نماز" میں مل جاتا ہوں اپنی فرض نماز پڑھنے کیلیے. کیا یہ نماز ہوجائے گی؟
    پہلے کھڑے شخص کے امام بن کر قرآت اور جہری تکبیر وغیرہ کہنے کی کیا صورت ہوگی؟

    قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں.

    جزاکم اللہ خیرا

    میرا رب اللہ ہے.
     
  2. ‏مارچ 21، 2017 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    مسبوق کی اقتدا میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    مسبوق کی اقتدا میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    مسبوق کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا کسی حدیث میں ثبوت نہیں ہے۔ (از مولانا عبد السلام بستوی۔ ترجمان دہلی ۲۷ محرم الحرام ۱۳۸۰ھ)

    فتاویٰ علمائے حدیث
    کتاب الصلاۃجلد 1 ص226
     
  3. ‏مارچ 21، 2017 #3
    ابو عبدالله

    ابو عبدالله مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 28، 2011
    پیغامات:
    720
    موصول شکریہ جات:
    447
    تمغے کے پوائنٹ:
    135

    عمر بھائی!
    "مسبوق" سے وہی مراد ہے جو میں نے دوسری صورت پوچھی ہے؟

    میرا رب اللہ ہے.
     
  4. ‏مارچ 22، 2017 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    جی محترم بھائی

    مزید یہاں دیکھیں.
    اور میرے خیال سے جس کو آپ امام بنانا چاہتے ہوں، اُسے اس مسئلہ کا علم ہونا ضروری ہے..ورنہ وہ پریشان ہو جائے گا، جیسا کہ ایک بار میرے ساتھ ہو چکا ہے..گو کہ وہ صاحب مسبوق نہیں تھے..
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں