1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جاوید احمد غامدی اور ان کے نام نہاد’امام‘

'جدیدیت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏فروری 11، 2015۔

  1. ‏فروری 11، 2015 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,727
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    جاوید احمد غامدی اور ان کے نام نہاد "امام"

    محمد رفیق چودھری
    فاضل مقالہ نگار محمد رفیق چودھری جناب جاوید احمد غامدی کے ان ابتدائی ساتھیوں میں سے ہیں جب غامدی صاحب ابھی محمد شفیق عرف 'کاکو شاہ' سے نام تبدیل کر کے غامدی کے لاحقہ کے بغیر صرف 'جاوید احمد' کہلاتے تھے۔ یہ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد کا دور ہے، جب جاوید احمد بی اے کرنے کے بعد اپنی طلاقت ِلسانی کی بدولت پنجاب کے ایڈمنسٹریٹر اوقاف جناب حامد مختار گوندل کو متاثر کر کے اوقاف کے خرچ پر 29؍جے ماڈل ٹاؤن لاہور میں دائرة الفکرکے نام سے ایک تربیتی اور تحقیقی ادارہ کی داغ بیل ڈال رہے تھے اور عمومی مجلسوں میں مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اور جماعت ِاسلامی پر تنقید کرنے کاخصوصی شوق فرماتے تھے۔

    جناب جاوید احمدنے اسی زعم میں ان دنوں جماعت ِاسلامی کے مقابلہ میں 'تحریک ِاسلامی' کے نام سے ایک تنظیم کا افتتاح کیا تو محترم محمد رفیق چودھری بھی اس کے فعال رکن تھے۔پھر جلد ہی قدرت نے اُنہیں مولانا مودودی مرحوم کے سایۂ عاطفت میں ڈال دیا تو جاوید احمد کو فوری طور پر جماعت ِاسلامی میں بڑی پذیرائی ملی۔ رکنیت ِمجلس شوریٰ تو چھوٹی شے ہے، ان کے حواری اُنہیں مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا 'جانشین' بتانے لگے کیونکہ مولانا مرحوم نے غالباًجاوید احمدکی جولانی ٔ طبع کو آزمانے کے لیے ان کودارالعروبة کی خالی ہونے والی کوٹھی 4؍ذیلدار پارک،اچھرہ، لاہور نہ صرف مفت دے رکھی تھی بلکہ ایک ہزار روپیہ مزید ماہوار تعاون کا وعدہ بھی فرمایا۔ اس طرح جاوید احمد کو جماعت ِاسلامی کے متاثرین میں پھلنے پھولنے کا خوب موقع ملا۔

    اس وقت جاوید احمد ابھی عربی گرامر کے طالب علم تھے اور ہر وقت معتزلہ کے امام'زمخشری'کی علم نحو پر کتاب المُفصّل ان کی بغل میں ہوتی اور تفسیر میں الکشاف سے استفادہ کرنے کا اُنہیں خصوصی شوق دامن گیر رہتا۔ اس فکری ارتقا کو ہم کسی اور فرصت میں عرض کریں گے ۔إن شاء اللہ
     
  2. ‏فروری 11، 2015 #2
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,727
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    جب جناب جاوید احمد کو اپنے ابتدائی امتحان میں کچھ اُلجھنوں کے حوالے سے جماعت ِاسلامی کے حلقوں سے واسطہ پڑا تو جماعت ِاسلامی سے 1957ء میں الگ ہونے والے مولانا امین احسن اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ سے روابط کا شوق اُنہیں اُن کے قریب تر اور جماعت اسلامی سے مزید دور لے جانے کا باعث بنا۔ یہ ان کی تحریکی سفرکی بہت مختصر روداد ہے۔ جناب رفیق احمدچودھری اس سارے سفر کے قریبی ساتھی ہیں اورجناب جاوید احمد صاحب کے اس سارے دورانئے میں علمی ارتقا اور فکری خدوخال کے چشم دید گواہ بھی ہیں ۔ آپ کا 'مسئلہ رجم' پر اختلاف ایک طرف جاوید احمد سے جدائی کا باعث بنا تو دوسری طرف 'غامدیہ' کا واقعہ رجم جاوید احمد کو 'غامدی' کے لقب سے آشنا کر گیا۔ یہ سارا قصہ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد کا ہے اور اب سقوطِ کابل کے بعد کا دور جاوید احمد غامدی کے خصوصی عروج کا دور ہے،کیونکہ اس وقت وہ بر سراقتدار جرنیل تو کجا امریکہ بہادر کی نمک حلالی بھی فرما رہے ہیں ۔
     
  3. ‏فروری 11، 2015 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,727
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    علمی میدان میں ان کا بڑا زعم'عربی دانی اور قرآن فہمی' کا ہے جس کو قبولیت ِعام دینے کے لیے اُنہوں نے مولانا امین احسن اصلاحی کو 'مولانا' کی بجائے 'امام' کے لقب سے نوازا ہے۔اگرچہ غامدی صاحب اپنے حلقہ میں خود بھی 'امامت' کے درجہ سے قریب ترہونے کے وہم میں مبتلا ہیں ، اسی بنا پر اکثر تبصرے اور اختلافی مضامین خواہ وہ خود لکھیں یا لکھوائیں ،ان کے حاشیہ نشینوں کے نام سے شائع ہوتے ہیں جس میں وہ غامدی صاحب کو 'اُستاذِ محترم' ہی لکھتے ہیں ۔ غامدی صاحب کی اس حکمت ِعملی کا فائدہ یہ ہے کہ اگر کل کلاں کسی فکری تبدیلی کی ضرورت محسوس ہو تو آسانی رہے۔ بہر صورت یہ ان کا ہر دم بدلتا فکر ہے جسے ان کے اپنے حلقہ میں جاوید احمد غامدی صاحب کا فکری ارتقا باور کرایا جاتا ہے۔
     
  4. ‏فروری 11، 2015 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,727
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    جناب محمد رفیق چودھری نے اگرچہ عرصہ سے جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے الحادی فکر کا تنقیدی جائزہ چھوڑ رکھا ہے تا ہم کسی جذبہ محرکہ نے ان کے قلم کو مہمیز دی ہے اور اُنہوں نے جاوید احمد غامدی اور ان کے نام نہاد امام امین احسن اصلاحی کی عربی دانی اور قرآن فہمی کے 'مشتے از خروارے' چند نمونے سپردِ قلم کیے ہیں ۔ ہم اُمید رکھتے ہیں کہ وہ ان کے 'نادر افکار' کا بھی گاہے بگاہے اسی طرح جائزہ لیتے رہیں گے جس طرح ایک عرصہ قبل ان کے جذبہ ایمانی نے ایک جزوی 'مسئلہ رجم' پر اُنہیں جاوید احمد سے داغِ جدائی دیاتھا۔ زیر نظر مقالہ سے قبل 'سقوط ِڈھاکہ سے سقوطِ کابل' تک بننے والی شخصیت کایہ تاریخی حلیہ پیش خدمت رہے ۔(محدث)

    جناب جاوید احمد غامدی اُس 'حلقہ فکر ِفراہی' کے ایک نمائندہ فرد ہیں جس نے دورِ حاضر میں تجدد اور انکارِ حدیث کی نئی طرح ڈالی ہے اور اپنے چند خود ساختہ اُصولوں کو تحقیق کے نام سے پیش کرنے کی جسارت کی ہے۔

    زیرنظر مضمون میں ہم ان کے ایک مخصوص اُصولِ ترجمہ و تفسیر کا علمی جائزہ لیں گے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ ان کے من گھڑت اُصولوں کی زد کہاں کہاں تک پہنچتی ہے اور کس طرح اس کے نتیجے میں ایک نئی شریعت ایجاد ہوجاتی ہے؟
     
  5. ‏فروری 11، 2015 #5
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,727
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    چنانچہ قرآن فہمی کے حوالے سے وہ اپنے بعض اُصولوں کویوں بیان فرماتے ہیں :
    ''اس (قرآن) کے الفاظ کی دلالت اس کے مفہوم پر بالکل قطعی ہے۔ یہ جو کچھ کہنا چاہتا ہے پوری قطعیت کے ساتھ کہتا ہے اور کسی معاملے میں بھی اپنا مدعا بیان کرنے سے ہرگز قاصر نہیں رہتا۔ اس کا مفہوم وہی ہے جو اس کے الفاظ قبول کرلیتے ہیں ، وہ نہ اس سے مختلف ہے نہ متبائن۔ اس کے شہر ستانِ معانی تک پہنچنے کا ایک ہی دروازہ ہے اور وہ اس کے الفاظ ہیں ۔ وہ اپنا مفہوم پوری قطعیت کے ساتھ واضح کرتے ہیں ۔'' 1

    پھر اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
    ''قرآن کا کوئی لفظ اور کوئی اُسلوب بھی اپنے مفہوم کے اعتبار سے شاذ نہیں ہوسکتا۔ وہ اپنے مخاطبین کے لئے بالکل معروف اور جانے پہچانے الفاظ اور اسالیب پر نازل ہواہے۔ زبان کے لحاظ سے اس کی کوئی چیز اپنے اندر کسی نوعیت کی غرابت نہیں رکھتی، بلکہ ہر پہلو سے صاف اور واضح ہے۔ چنانچہ اس کے ترجمہ و تفسیر میں ہر جگہ اس کے الفاظ کے معروف معنی ہی پیش نظر رہنے چاہئیں ، ان سے ہٹ کر ان کی کوئی تاویل کسی حال میں قبول نہیں کی جاسکتی۔'' 2
     
  6. ‏فروری 11، 2015 #6
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,727
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    اس کے بعد اپنے موقف کودرج ذیل مثالوں سے واضح کرتے ہیں :
    ''وَٱلنَّجْمُ وَٱلشَّجَرُ يَسْجُدَانِ میں النَّجْمُ کے معنی 'تاروں ' ہی کے ہوسکتے ہیں ۔ إِلا إِذَا تَمَنّٰى میں لفظ تَمَنّٰی کا مفہوم خواہش اور ارمان ہی ہے۔ أفَلاَ يَنْظُرُوْنَ إلَى الإِبِلِ میں الإبل کا لفظ اونٹ ہی کے لئے آیا ہے۔ كَأَنَّهُنَّ بَيضٌ مَّكنُوْنٌ میں بَیْض انڈوں ہی کے معنی میں ہے۔ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ میں نحر کا لفظ قربانی ہی کے لئے ہے۔ اور اُسے 'بوٹیوں ' اور 'تلاوت' اور 'بادل' اور انڈوں کی چھپی ہوئی جھلی اور سینہ پر ہاتھ باندھنے کے معنی میں نہیں لیا جاسکتا۔'' 3

    اس سے معلوم ہوا کہ غامدی صاحب کے نزدیک:
    (1) قرآن کے الفاظ کی دلالت اس کے مفہوم پربالکل قطعی ہوتی ہے اور قرآن کا ہر طالب علم اپنے طور پر اس کے الفاظ کا ایک قطعی مفہوم آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔
    (2) قرآن کے ترجمہ و تفسیر میں ہر جگہ اس کے الفاظ کے صرف معروف معنی ہی لئے جاسکتے ہیں اور ان سے ہٹ کر ان کی کوئی تاویل قابل قبول نہیں ہوسکتی۔گویا قرآن کے الفاظ کے ایک سے زیادہ ترجمے یا تفسیریں نہیں ہو سکتیں ۔
    (3) قرآن کے معانی تک پہنچنے کا ایک ہی دروازہ ہے اور وہ اس کے الفاظ ہیں ، لہٰذا فہم قرآن کے لیے حدیث وسنت کی کوئی ضرورت نہیں ۔
     
  7. ‏فروری 11، 2015 #7
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,727
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    ہمارے نزدیک غامدی کے یہ تینوں اُصول ہی غلط ہیں اور قرآن مجید کی ایک مثال کے ذریعے ہم ان کے اُصولوں کی غلطی واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    وَٱلسَّارِقُ وَٱلسَّارِقَةُ فَٱقْطَعُوٓاأَيْدِيَهُمَا...﴿٣٨﴾...سورۃ المائدہ

    اگر غامدی صاحب کے اصولوں کو تسلیم کرلیا جائے تو اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ
    ''تم ان دونوں (چوری کرنے والے مرد اور عورت) کے سارے بازو کاٹ دو۔''

    کیونکہ قرآنِ کریم کے الفاظ میں (جمع ) مطلق آیا ہے اور قاعدہ ہے:'' '' ''جب لفظ مطلق استعمال ہو تو اس سے فرد کامل مراد ہوتا ہے۔'' چونکہ کی کامل حد کندھوں یا بغل تک ہے، اسی لیے وضو کی آیت میں 'کامل ید' میں سے کہنی تک ( ) کی حد بندی کی گئی ہے۔ چنانچہ قرآن کے الفاظ کو دیکھا جائے تو بظاہر مفہوم یہی بنتا ہے کہ چور کا سارا ہاتھ (بازو تک) کاٹ دیا جائے،لیکن حدیث رسولؐ نے اس اِجمال کی تفصیل پیش کر دی ہے کہ چوری کی حد اور سزا کی صورت ہاتھ کے جوڑ ( پہنچہ) سے کاٹا جائے گا۔

    امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : '' قرآن مجمل اُترا ہے یہاں تک کہ اس اجمال کی وضاحت رسولِ کریمؐ کرتے ہیں ۔ شریعت کی رو سے قرآن اور رسولؐ کا چولی دامن کا ساتھ ہے، لہٰذا ''قرآن کے الفاظ قطعی الدلالہ ہیں ۔'' کا اُصول اس مفہوم میں غلط ہے کہ اس کی تشریح میں سنت وحدیث کی ضرورت نہیں کیونکہ قرآن فی ذاتہ کتنا بھی محکم اور قطعی ہو، اللہ تعالیٰ نے اسے رسولِ کریمؐ کی 23؍سالہ زندگی میں پرو کر اسی لیے اُتارا ہے کہ سنت وحدیث سے اس کی تشریح وتفسیر ہوتی چلی جائے۔ گویا قرآن کی دلالت مخاطب کے لحاظ سے اسی وقت قطعی ہوتی ہے جب مخاطب اسے رسول اللہؐ کی زندگی (اُسوئہ حسنہ) کی روشنی میں سمجھتاہے ورنہ مختلف مغالَطوں کا شکار ہو جاتا ہے۔
     
  8. ‏فروری 11، 2015 #8
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,727
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    اب غامدی صاحب کے اُصولوں کی روشنی میں یہ ترجمہ کرنا کہ ''چور کے دونوں بازو کاٹ دیے جائیں ۔'' کیا درست ترجمہ ہوگا اور کیا اسلامی شریعت میں چوری کی یہی سزا ہے؟ کیا پوری اُمت ِمسلمہ میں سے کوئی ایک مجتہد، فقیہ اور مفسر اس بات کو صحیح تسلیم کرتا ہے؟ کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے چوری کی سزا پر کسی چور کے دونوں ہاتھ کاٹے تھے۔ ھاتوا برھانکم إن کنتم صادقین !

    بلکہ اسلامی شریعت میں جس امر پر اجماعِ اُمت ہے جو ایک سنت ِثابتہ اور غامدی صاحب کے نزدیک تواتر عملی ہے یعنی جو امر اُمت کے متوارث عمل سے ثابت ہے، وہ یہ ہے کہ جرم ثابت ہونے پرچور کا صرف ایک ہاتھ کاٹا جائے گا اور وہ بھی دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا، بایاں نہیں کاٹا جائے گا اور یہ دایاں ہاتھ اس وجہ سے نہیں کاٹا جائے گا کہ چوری کا صدور دائیں ہاتھ سے ہوا ہے بلکہ اس لئے کہ چوری کی حد یہی ہے کہ چور کا دایاں ہاتھ کاٹا جائے خواہ اُس نے چوری بائیں ہاتھ سے کی ہو۔

    یہ صرف ایک مثال ہے، ورنہ غامدی صاحب کے خود ساختہ تمام اُصولوں کو اگر تسلیم کرلیا جائے تو اسلام کے متوازی ایک نئی شریعت ایجاد ہوجائے گی جس میں احادیث ِصحیحہ اوراجماع کا انکار ہوگا، جس میں مرتد کی سزا قتل نہیں رہے گی۔شادی شدہ زانی کے لئے صرف سو کوڑے کی سزا ہوگی، اسے سنگسار نہیں کیا جائے گا۔ البتہ جو کنوارا زنابالجبر کرے گا اُسے سنگسار کیا جائے گا۔ حدود میں بھی عورت کی گواہی ہوگی اور مرد کی گواہی کے برابر ہوگی۔ قتل خطا میں مرداور عورت کی دیت برابر ہوجائے گی۔ قرآن کی صرف ایک قراء ت (حفص) صحیح ہوگی باقی قراء تیں عجم کا فتنہ قرار پائیں گی اور اُمت ِمسلمہ کے اجماعی عقیدے کے بر خلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوچکی ہوگی۔ اگر کوئی اللہ کا بندہ اعتراض کرے گا تو جواب میں تاویلاتِ فاسدہ کا انبارلگا دیا جائے گا۔
     
  9. ‏فروری 11، 2015 #9
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,727
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    خودساختہ اُصولوں کی خود مخالفت
    اب ہم غامدی صاحب کے ایسے کھلے تضادات واضح کریں گے جن میں اُنہوں نے اپنے خود ساختہ اُصولوں کا خود ہی خون کیا ہے۔ اس سلسلے میں چند مثالیں ملاحظہ ہوں :
    (1) پہلی مثال: غامدی صاحب نے اپنی اُلٹی تفسیر (میں اِسے اُلٹی اس لئے کہتا ہوں کہ یہ آخری سورتوں سے ہوتی ہوئی پیچھے کو آرہی ہے اور ابھی صرف پہلی جلد طبع ہوئی ہے جوسورة الملک سے سورة الناس تک ہے اور باقی تفسیر ابھی نامکمل ہے) کے الفاظ کا ترجمہ غامدی صاحب نے یوں کیا ہے کہ
    ''ابولہب کے بازو ٹوٹ گئے۔'' 4

    اور اُن کے 'استاذ امام' امین احسن اصلاحی نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ
    ''ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے ۔'' 5

    اب یہ فیصلہ کرنااہل علم کا کام ہے کہ لفظ '' کے معروف معنی 'بازو' کے ہیں یا'دونوں ہاتھ' کے۔کیونکہ استاد امام اور شاگرد رشید دونوں ہی معروف معنی لیتے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ مذکورہ دونوں ترجموں میں ایک معنی ہی معروف ہوسکتے ہیں اوردوسرے معنی لامحالہ 'غیر معروف' یا'مجہول' قرار پائیں گے۔
     
  10. ‏فروری 11، 2015 #10
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,727
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    (2) دوسری مثال: سورة العلق کی پہلی آیت کا ترجمہ غامدی صاحب نے یوں کیا ہے کہ
    ''اُنہیں پڑھ کرسناؤ (اے پیغمبرؐ) اپنے اُس پروردگار کے نام سے جس نے پیدا کیا ہے۔'' 6

    ان کے اُستاذِ گرامی نے اسی آیت کا یہ ترجمہ کیا ہے :
    ''پڑھ، اپنے اُس خداوند کے نام سے جس نے پیدا کیا ہے۔'' 7

    اب یہ فیصلہ کرنا اہل علم کا کام ہے کہ عربی زبان میں لفظ (بغیر کے صلہ) کے معروف معنی'پڑھ' کے ہیں یا'اُنہیں پڑھ کرسناؤ' کے ہیں ۔ اور اُستاد اور شاگرد میں سے کس نے اپنے ہی بنائے ہوئے اُصولوں کا صحیح تتبع کیا ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں