1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جاوید احمد غامدی کے من پسند اُصولِ تفسیر

'جدیدیت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏فروری 10، 2015۔

  1. ‏فروری 10، 2015 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,719
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    جاوید احمد غامدی کے من پسند اُصولِ تفسیر

    کیا سورة النصرمکی ہے؟ ...ایک جائزہ
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتا پھرتا قرآن تھے تو صحابہ کرامؓ اس کے شاہد اور امین۔بلا شبہ قرآنِ کریم کے جواہرات جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معصوم زندگی کی لڑی میں پروئے جاتے تو یہ ہار صحابہ کی نظروں کو خیرہ کرتا۔چنانچہ بعد کے مفسرین قرآن پر آپؐ کے اصحابؓ کو یہی امتیاز حاصل ہے کہ قرآنِ مبین اُن کی زبان میں اُترتا تھا اور وہ اپنے سامنے وحی ٔ نبوت کا مشاہدہ بھی کرتے تھے۔
    ارشادِ گرامی: (ما أنا علیہ وأصحابي) کی تعمیل کا ایک تقاضا یہ بھی ہے۔اسی بنا پر قدیم مفسرین خواہ وہ فلسفی ہوں یامعتزلی (عقل پرست)، سب اس پر متفق نظر آتے ہیں کہ اگر قرآن کی کسی آیت یا سورت کا موقع محل صحابہ کرام متعین کر دیں تو اسے تسلیم کر لیاجائے۔سورة النصرکے موقع محل کے حوالے سے جب حضرت عمرؓ کے سامنے علما کے ایک مجمع میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے اسے نبیؐ کے قربت ِوصال کا اشارہ بتایا تو سب نے اس پر صاد کیا،لیکن دورِ حاضر کے ندرت پسند فلسفۂ فطرت (اعتزالی نیچریت) کے اُصولوں سے اس امر کے لیے کوشاں رہتے ہیں کہ قرآنی سُوَریا آیات کو قرآنِ کریم کے اوّلین مخاطبین کو نظر انداز کر کے اپنے من پسند سانچوں میں جہاں چاہیں، فٹ کریں۔درج ذیل مضمون اسی غلط' اُصولِ تفسیر' کی نشاندہی کے لیے لکھا گیا ہے جو ہدیۂ قارئین ہے۔ (محدث)
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 10، 2015 #2
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,719
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    اہل علم جانتے ہیں کہ سلف و خلف کے تمام مفسرین کے نزدیک سورۂ نصر مدنی ہے اور اس کے مدنی سورہ ہونے پر سب کا اتفاق اور اجماع ہے۔

    مگر جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے اس متفقہ اور مجمع علیہ امر میں بھی اختلاف پیدا کیا ہے اور ان کو سورۂ نصر کے مکی سورہ ہونے پر اصرار ہے۔چنانچہ وہ اپنی اُلٹی تفسیر البیان (میں اس تفسیر کو اُلٹی اس لئے کہتا ہوں کہ یہ آخری سورتوں سے شروع ہوکر ابتدائی سورتوں کی طرف چلی آرہی ہے اور ابھی تک نامکمل ہے) میں لکھتے ہیں :

    (1) ''سورة النصر کامرکزی مضمون آپؐ کے لئے سرزمین عرب میں غلبہ حق کی بشارت اور آپؐ کو یہ ہدایت ہے کہ اس کے بعد آپؐ اپنے پروردگار سے ملاقات کی تیاری کریں۔
    سورۂ کافرون کے بعد اور لہب سے پہلے یہاں اس سورہ (النصر) کے مقام سے واضح ہے کہ سورۂ کوثر کی طرح یہ بھی، اُمّ القریٰ مکہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلہ ہجرت وبراء ت میں آپؐ کے لئے ایک عظیم بشارت کی حیثیت سے نازل ہوئی ہے۔'' 1

    اس سے معلوم ہوا کہ غامدی صاحب سورۂ نصر کو مکی قرار دیتے ہیں اور ''مرحلہ ہجرت و براء ت'' کے زمانے میں اس کا نزول بتاتے ہیں۔
     
  3. ‏فروری 10، 2015 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,719
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    (2) اسی بات کو وہ دوسرے مقام پر مختصر اور واضح طور پر یوں فرماتے ہیں کہ
    ''ساتواں باب سورۂ ملک سے شروع ہوکر سورۂ ناس پر ختم ہوتا ہے۔ اس میں آخری دو یعنی معوذتین مدنی اور باقی سب مکی ہیں۔'' 2

    گویا غامدی صاحب کی رائے میں سورۂ نصر بھی مکی ہے کیونکہ وہ بھی سورۂ ملک اور معوذتین کے درمیان واقع ہے۔
     
  4. ‏فروری 10، 2015 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,719
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    (3) البتہ اُن کے نقطہ نظر کومزید اچھی طرح سمجھنے کے لئے پہلے حوالے میں ایک دریافت طلب بات یہ ہے کہ 'مرحلہ ہجرت و براء ت' سے اُن کی کیا مراد ہے تو اسے بھی خود ان کی زبانی سنئے، وہ لکھتے ہیں:
    ''مرحلہ ہجرت و براء ت الماعون 7 10 ... الإخلاص 112''
    ''قریش کے سرداروں کی فرد قرار داد ِجرم، اُنہیں عذاب کی وعید اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بشارت کہ حرم کی تولیت اب اُن کی جگہ آپؐ کو حاصل ہوگی اور آپ کے دشمنوں کی جڑ اس سرزمین سے ہمیشہ کٹ جائے گی۔ 107،108''
    ''اُمّ القریٰ کے ائمہ کفر سے آپ کا اعلانِ براء ت اور سرزمین عرب میں غلبہ حق کی بشارت 109، 110''
    ''قریش کی قیادت، بالخصوص ابولہب کا نام لے کر اُس کی ہلاکت کی پیشین گوئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے، اس مرحلے کے اختتام پر عقیدۂ توحید کے فیصلہ کا اعلان۔ 111،112''3
    گویا غامدی صاحب کا خود ساختہ مرحلہ 'ہجرت و براء ت 'دراصل ہجرت سے پہلے کامکی دور ہے اوروہ سورۂ نصر کو اسی دور کی نازل شدہ مکی سورت مانتے ہیں۔
     
  5. ‏فروری 10، 2015 #5
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,719
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    (4) ایک اور مقام پر جناب غامدی قرآنِ مجید کے بارے میں اپنے خود ساختہ 'سات ابواب' میں آخری باب کی وضاحت کرتے ہوئے بھی سورئہ نصر کو مکی سورہ قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ
    ''یہ قرآن مجید کا ساتواں باب ہے۔ اس میں الملک (67) سے الناس(114) تک 48 سورتیں ہیں۔ ان سورتوں کے مضامین، اور اس باب میں ان کی ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے پہلی 46 سورتیں اُمّ القریٰ مکہ میں، اور آخری دو الفلق اور الناس ہجرت کے فوراً بعد مدینے میںنازل ہوئیں ہیں۔''

    قرآنِ مجید کے دوسرے سب ابواب کی طرح یہ چیز اس باب میں بھی ملحوظ رہے کہ یہ مکی سورتوں سے شروع ہوتا اورمدنیات پرختم ہوجاتاہے۔'' 4
     
  6. ‏فروری 10، 2015 #6
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,719
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    گویا غامدی صاحب کی رائے میں زمانی اعتبارسے بھی سورۂ نصر ہجرت سے پہلے مکہ میں نازل ہونے والی مکی سورت ہے۔ ہمارے نزدیک غامدی صاحب کی مذکورہ رائے نہ صرف یہ کہ غلط ہے بلکہ اجماعِ مفسرین اور اجماعِ اُمت کے بھی خلاف ہے۔ اس سلسلے میں ہم ذیل میں چند معتبر اور مستند تفاسیر کے حوالے پیش کرتے ہیں :
     
  7. ‏فروری 10، 2015 #7
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,719
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    (1) تفسیر الکشاف از علامہ محمود زمخشری
    سورة النصر،مدنیة وھي ثلاث آیات ... روي أنھا نزلت في أیام التشریق بمنی في حجة الوداع 5
    ''سورئہ نصر مدنی ہے، اس کی تین آیات ہیں۔۔۔ روایت ہے کہ یہ سورت ایام تشریق میں منیٰ میں حجة الوداع کے موقع پر نازل ہوئی تھی۔''
     
  8. ‏فروری 10، 2015 #8
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,719
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    (2) تفسیر قرطبی از امام قرطبی
    وھي مدنیة بـإجماع وتُسمّٰی سورة التودیع، وھي ثلاث آیات وھي آخر سورة نزلت جمیعًا۔ قاله ابن عباس في صحیح مسلم 6
    ''اور وہ (سورۂ نصر) مدنی ہے، اس کے مدنی ہونے پر اجماع ہے۔ اسے سورۂ تودیع (الوداعی سورت) بھی کہتے ہیں۔ اس کی تین آیتیں ہیں۔ یہ آخری مکمل نازل ہونے والی سورت ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباسؓ کا یہی قول نقل ہوا ہے۔''
     
  9. ‏فروری 10، 2015 #9
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,719
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    (3) تفسیر ابن کثیر از حافظ ابن کثیر
    ''تفسیر سورة إذا جاء نصر اﷲ والفتح وھي مدنیة''7
    ''تفسیر سورہ أذا جاء نصر اﷲ والفتح اور یہ سورة مدنی ہے۔''
     
  10. ‏فروری 10، 2015 #10
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,719
    موصول شکریہ جات:
    6,542
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    (4) تفسیر رازی از امام فخر الدین رازی
    هذہ السورة من أواخر ما نزل بالمدینة۔8
    ''یہ سورة مدینے میں نازل ہونے والی آخری سورتوں میں سے ایک ہے۔''
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں