1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جب تک یہ پکڑا نہیں جائے یہ اصلی پیر رہے گا جس دن پکڑا گیا اس دن جعلی ہو جائے گا

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اگست 12، 2015۔

  1. ‏اگست 12، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    جب تک یہ پکڑا نہیں جائے یہ اصلی پیر رہے گا جس دن پکڑا گیا اس دن جعلی ہو جائے گا

    وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللّهُ قَالُواْ بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءنَا أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لاَ يَعْقِلُونَ شَيْئاً وَلاَ يَهْتَدُونَ (170 سورہ البقرہ

    اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو الله نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا کچھ بھی نہ سمجھتے ہوں اور نہ سیدھی راہ پائی ہو

    وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُواْ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لاَ يَسْمَعُ إِلاَّ دُعَاء وَنِدَاء صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لاَ يَعْقِلُونَ (171 سورہ البقرہ

    کفار کی مثال ان جانوروں کی طرح ہے جو اپنے چرواہے کی صرف پکار اور آواز ہی کو سنتے ہیں (سمجھتے نہیں) وه بہرے، گونگے اور ا ندھے ہیں، انہیں عقل نہیں

     
  2. ‏دسمبر 21، 2016 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    اصلی پیر ... اور ... جعلی پیر


    لیجئے ایک "منکر" کی تحریر بھی پڑھ لیجئے .. میرا ذاتی خیال ہے کہ اسلام میں پیری فقیری کا اور "مرشد ازم" کا کوئی تصور نہیں .. اور پھر بیڑا پار لگا دینے والے "مرشد" تو دور دور تک کوئی وجود نہیں رکھتے ..انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے ، جب کرتا خود ہے تو بھرنی بھی خود ہی پڑے گی ..اور انہی افعال اور اعمال کی بنیاد پر آخرت کے امور کا فیصلہ ہو گا ..
    جب خراسان کے علاقے فتح ہوے تو ان علاقوں کے رسوم و رواج عرب معاشرے میں در آئے ..کچھ کام یونانی دیومالائی کہانیوں نے کیا کہ جن کے تراجم کا کام دور عباسی میں عروج کو پہنچا ہوا تھا .. کچھ عیسائی رہبانیت نے ..اور یوں تصوف کا ادارہ وجود میں آیا ..خیر یہ ہمارا موضوع نہیں آج ..ہم ہندوستان پاکستان میں ہی رہنا چاہتے ہیں .. ہمارے ہاں پیری فقیری ابتداء میں تصوف کے رنگ میں ہی ڈوبی ہوئی تھی .. مگر مدت ہوئی یہ تصوف کی اس ظاہری قید سے آزاد ہو چکی ... تصوف کے تو کچھ اصول، ضابطے ،رواج اور سلسلے تھے .. مگر اس موجودہ پیری فقیری کے اپنے ہی اصول اور ضابطے ہیں .. جن میں سب سے بڑا اصول "روپیہ" ہے..اس کے بعد دوسرا بڑا "عورت" ہے...ہمارا تو آپ دیکھ چکے اصلی اہل تصوف سے بھی فکری اختلاف ہے .. مگر اس پیری فقیری سے "اصلی اہل تصوف " بھی نالاں ہیں مگر کیا کر سکتے ہیں کہ
    یہ روز سیاہ خود دکھایا ہے میرے گھر کے چراغاں نے مجھے
    ..اب آپ ہر دوسرے روز خبریں پڑھتے ہیں کہ پیر صاحب "مریدنی" کو لے بھاگے..کبھی کچھ کچھ .. ایک لمبی فہرست ہوتی ہے .. کام دھندہ ان خبروں کی کثرت کے باوجود چلتا بھی جا رہا ہے اور ترقی پذیر بھی ہے ... مزاروں پر بھاری بھرکم "غلے" جو منہ تک لبالب بھرے ہوتے ہیں ان کی کمائی مجاوروں کی اولاد کے کام آتی ہے ... اقبال نے کہا تھا

    گھرپیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
    اور ہم کو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی..

    ....قصہ مختصر .. پیر صاحب جب تک پکڑے نہیں جاتے تب تک اصلی رہتے ہیں..اور جب پکڑےجاتے ہیں تو خبر آتی ہے "جعلی پیر مریدنی کے ساتھ......... پکڑا گیا "
    ......

    ابوبکر قدوسی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں