1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جب مطلق امر کا صیغہ بولا جائے تو اس کا کیا حکم ہوتا ہے؟ اصول الفقہ

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ناصر رانا, ‏ستمبر 27، 2011۔

  1. ‏ستمبر 27، 2011 #1
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    جب مطلق امر کا صیغہ بولا جائے تو اس کا کیا حکم ہوتا ہے؟

    جب امر کا صیغہ اپنی مراد پر دلالت کرنے والے تمام قرائن سے خالی ہو تو وہ وجوب کا تقاضا کرتا ہے، یہی جمہور کا قول ہے اور اسی پر دلیلیں دلالت کرتی ہیں۔ مثلاً اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ابلیس سے یہ کہنا کہ : ﴿ مَا مَنَعَكَ أَلاَّ تَسْجُدَ إذْ أَمَرْتُكَ ﴾ [الأعراف:12] جب میں نے تجھے سجدہ کرنے کا حکم دے دیا تھا تو تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا؟

    اسی طرح اللہ رب العالمین کا یہ فرمان کہ: ﴿ وَإذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لا يرْكَعُونَ ﴾ [المرسلات:48] جب انہیں کہا جاتا ہے کہ رکوع کرو تو رکوع نہیں کرتے۔

    اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کہ : ﴿ فَلْيحْذَرِ الَّذِينَ يخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴾ [النور:63] تو جو لوگ رسول اللہﷺ کے حکم کی نافرمانی (مخالفت) کرتے ہیں ، وہ فتنے یا دردناک عذاب کے پہنچنے سے ڈریں۔

    اسی طرح یہ فرمان الہٰی بھی کہ: ﴿ أَفَعَصَيتَ أَمْرِي ﴾ [طه:93] کیا آپ نے میرے حکم کی نافرمانی کی ہے؟

    اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان عبرت نشان بھی کہ : ﴿ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يكُونَ لَهُمُ الْخِيرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ﴾ [الأحزاب:36] جب اللہ اور اس کے رسولﷺ کسی معاملہ کا فیصلہ کردیں تو کسی مؤمن مردوعورت کےلیے ان کے معاملے میں کوئی اختیار باقی نہیں رہ جاتا۔

    اس کے علاوہ اور بھی بہت سے فرامین ہیں۔ ان تمام دلائل سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ مامور (جس کو حکم دیا گیا ہو) کےلیے سوائے امر کو سرانجام دینے کے اور کوئی راستہ نہیں ہے جس کے ذریعے وہ وعید سے خلاصی، عذاب اور نافرمانی کی عار (ذلت) سے نجات پاسکے۔

    اسی طرح صحابہ ]کا بھی امر کے ذریعے وجوب پر استدلال کرنا اس قاعدے کی ایک اور دلیل ہے اور چونکہ اس کے خلاف کوئی دلیل نہیں ہے لہٰذا یہ اجماع ہے۔

    پھر اسی طرح اہل لغت کا اس غلام کی مذمت بیان کرنا اور اسے نافرمانی سے موصوف کرنا جو اپنے آقا کے حکم کو سرانجام نہ دے ، بھی اس قاعدے کے درست ہونے پر دلالت کرتا ہے کیونکہ کسی کی مذمت اور اسے نافرمان اسی وقت قرار دیا جاسکتا ہے جب وہ کسی واجب کو ترک کرے۔

    ترجمہ کتاب تسہیل الوصول از محمد رفیق طاہر
     
  2. ‏ستمبر 27، 2011 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں