1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جدید ذرائع کا استعمال فائدہ کس کو ؟؟

'نفسیاتی و اجتماعی مشکلات' میں موضوعات آغاز کردہ از Dua, ‏جنوری 25، 2015۔

  1. ‏جنوری 25، 2015 #1
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    بات ہو رہی ہے جدید ذرائع کی ، اس سے مراد وہ تمام ذریعہ ہیں ، جنھیں آج ہم اپنی ہر فیلڈ میں استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم " ٹیکنالوجی" ہے۔ جن میں انٹرنیٹ ، میڈیا ، سیٹلائٹس ، ریکارڈرز ، ڈی وی ڈیز سوفٹ ویرز وغیرہ وغیرہ شامل ہے۔یہ ایک بڑی تفصیلی فہرست ہے۔جو گھر کے الیکٹرانکس سے لے کر آپ کے کاروبار تک موجود ہے۔ان ذرائع کا استعمال مفید یا غیر مفید کرنا ایک دوسرا پہلو ہے۔میرا موضوع ہے ،ان ذرائع کے ذریعے ڈائریکٹ یا ان ڈائیریکٹ غیر مسلم معیشت کو مضبوط کرنا !!!


    کیا ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ ہے ؟ جس پر چل کر ہمارا روز قیامت حساب آسان ہو جائے۔کہ جو جدید اشیاء ہمارے استعمال میں ہے ، ہو سکتا ہے کہ ان سے مسلمانوں کے خلاف اسلحہ ، پراپگینڈا ، اور فتنوں پر فتنے تیا رکیئے جاتے ہوں۔جب بھی ہم سے مقصد حیات کا سوال ہوتا ہے ، تو کم و بیش سبھی کا جواب ہوتا ہے ۔۔۔وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون!!

    اس مقصد کے حصول کی خاطر ذرائع کی ہمیں پرواہ نہیں ، اگر ہے تو صرف تنقید کے لیے!!
    کیا دین اسلام فنون میں مہارت حاصل کرنے سے روکتا ہے یا ہم تحقیق سے زیادہ" کاپی پیسٹ" پر توجہ دے رہے ہیں ؟؟ شاید تبھی ان ذرائع کے منافع کہیں اور جا رہے ہیں!!


    یہی ہمارا آج کا "موضوع بحث " ہے اور عرصے بعد زیر بحث ہے!! :)
    مدلل آراء سے آگاہ کریں۔



     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 25، 2015 #2
    مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 30، 2011
    پیغامات:
    640
    موصول شکریہ جات:
    396
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    ضروریات کو استعمال کرنا اور ان ضروری اشیاء کا ایجاد کرنا مستحسن ہے ۔ مثلاً نوح علیہ السلام کا کشتی ایجاد کرنا ۔وغیرہ
    لیکن ان عصری علوم پر شرعی علوم سے زیادہ توجہ دینا اور اس کو مقصد بنانا درست نہیں ہے ۔
    زیادہ منافع ان کو اس لیے مل رہا ہے کہ انھوں نے چوبیس گھنٹے دنیا کے لیے وقف کررہے ہیں ، ان کا مقصد صرف دنیا کا حصول ہے ۔ بس۔
    اب ہم کو اللہ وہی ٹیکنالوجی مہیا کررہا ہے جو ریڈی میڈ ہے ، جس پر ہم نے بالکل توجہ ہی نہیں دی ہے ۔ یہ اللہ کا احسان ہے ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏جنوری 25، 2015 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اہم موضوع ہے ۔ دونوں پہلوؤں پر بات ہو جانی چاہیے :
    1۔ کفار کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے متبادل تیار کیا جاسکتا ہے؟
    2۔ کیا متبادل تیار کرنا ہمارے لیے فائدہ مند ہوگا ؟
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 25، 2015 #4
    مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 30، 2011
    پیغامات:
    640
    موصول شکریہ جات:
    396
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    ناممکن تو نہیں البتہ بہت ہی مشکل ہے ۔
    بے شک ۔
     
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 29، 2015 #5
    Nasrullah khalid

    Nasrullah khalid رکن
    جگہ:
    multan
    شمولیت:
    ‏اگست 23، 2012
    پیغامات:
    183
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    70

    متبادل تیار کرنا نہ تو مشکل ہے نہ ہی نا ممکن مسئلہ ان کو تیار کر کے قائم و دائم رکھنا ہے تاریخ کے بڑے بڑے کارنامے مسلمانوں نے سرانجام دیئے ہیں.سائنس کی بڑی ایجادات میں مسلمانوں کا کردار ہے.
    مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے لوگ مثبت سوچتے ہی نہیں ہیں حالیہ میڈیا کی تقلید میں کچھ ایسا غلط بہہ گئے ہیں کہ درست امت تار تار ہو گئی.
    کھو دی ہم نے وہ میراث جو اسلاف سے پائی ثریا سے زمیں پر ہمیں آسماں نے دے مارا.
    دوسری بات متادل تیار کرنا لازمی فائدے مند رہے گا تاکہ معاشی لحاظ سے جو فائدے دوسرے ہم سے لے رہے ہیں وہ ہمیں حاصل ہوں جیسے کہ بل گیٹس اور دیگر ایسے ادارے.
    دوسرا بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ ہماری وہ پرائیویسی جو دنیا کے ہر عام سے کونے میں اور غیر مسلموں کے پاس ہیں وہ ہم تک محدود ہو جائیں گی.
    آج ہمارے لیپ ٹاپ سے لیکر موبائل تک کچھ بھی ذاتی نہیں ہے نہ ہم ان کو کھولے دل و دماغ سے استعمال کر سکتے ہیں...
    بس یہ ہی نہیں اور بھی بہت سے فوائد ہیں.
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 29، 2015 #6
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اوپر آفریدی بھائی نے آپ سے مختلف رائے پیش کی تھی کہ کافروں کا کام ہی دنیا کمانا ہے ، جبکہ مسلمان کو دین پر توجہ کرنی چاہیے اور دنیاوی ایجادات میں وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ۔
    بظاہر آپ کی بات کافی وزنی ہے لیکن آفریدی بھائی کی بات پر بھی غور و فکر ہونا چاہیے تاکہ بات مزید نکھر جائے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏جنوری 30، 2015 #7
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    آپ معاملہ کو چاہے کیسے بھی دیکھ لیں ، یہ تو کنفرم ہے کہ معاشی فوائد اور منافع انھی کو حاصل ہو رہا ہے ، اور معاشی ترقی ملک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔صنعت ، زراعت ، اور مختلف آلات اور جدید ٹیکنالوجی نے مسلمانوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیئے ہیں ، جدید ذرائع کی بدولت اسلحہ میں "ترقی " ہوئی ، اور جان سستی ہو گئی ، کچھ دن قبل دانشور اور سائنسدانوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ دنیا میں نیوکلئیر ٹیکنالوجی کی مقدار ضرورت سے زائد ہے ، اور دیکھا جائے تو یہ صرف تباہی ہے۔بطور مسلمان اپنے مقاصد کے حصول کی جستجو میں ہمیں جدید ٹیکنالوجی کو "ضرورت" کے تحت استعمال میں لانا مفید لگتا ہے۔باقی اگلی پوسٹ میں۔۔۔ان شاء اللہ
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  8. ‏فروری 03، 2015 #8
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    جدید ذرائع میں بذات خود بری ایجادات نہیں ہے ، الا یہ کہ ان کا مقصد ہی منفی نتائج حاصل کرنا ہو ، یا اچھے ذرائع کو کوئی فرد برے طریقے یا نقصان کی غرض سے استعمال میں آئے۔چونکہ معاشرے میں برائی زیادہ رائج ہے ، اس لیے عوام الناس مثبت چیزیں بھی منفی طور پر زیادہ استعمال کرتے ہیں۔اس کی اہم مثال انٹرنیٹ اور موبائیلز کا بے دریغ اور بے فائدہ استعمال ہے ، حالانکہ اس کے درست فوائد بھی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جنھوں نے جدوجہد اور ہزاروں سال کی محنت سے جدید ذرائع میں "ترقی " کے رنگ بھرے ، وہ اکثر ان کے لیے حق کی تلاش کا راستہ بھی بنا ، یہی وجہ ہے کہ بیشتر سائنسدان تحقیق کے دوران مسلمان ہوئے ، اور اللہ تعالی کی کائنات کے پنہاں راز ان پر عیاں اور یہ چیز ان کے لیے معرفت الاسلام کا باعث بنی۔بے شک اللہ جسے چاہے ہدایت عطا کرے۔دوسرا حال مسلمانوں کا ہے ، جنھوں نے جتنا اس "ریڈی میڈ" ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال کیا اتنا ہی فائدہ بھی ہوا۔ ان میں نمایاں اسلامک سوفٹوئیرز ، آن لائن تدریس کے ساتھ آمدورفت جیسی سہولیات بھی شامل ہیں۔اگرچہ جدید ذرائع کی پیداوار ہمارے لیے مشکل ہونے کے ساتھ مقصد سے بھی دوری کا سبب ہے ، لیکن اس کو باوجود ہم اپنا "حصہ" اس میں ضرور ڈال سکتے ہیں ، اور وہ تبھی ممکن ہے ، جب ایک بنے بنائے ریڈی میڈ سیٹ اپ کو اسلام کے اصولوں اور ضابطوں سے بھر دیا جائے ، تاکہ کل اگر کوئی " گوگل" پر خالق کائنات کی تلاش کرے تو اس کے 100 فیصد " نتائج " لا الہ الا اللہ ہونے چاہیئے !!!
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  9. ‏فروری 05، 2015 #9
    اخت ولید

    اخت ولید سینئر رکن
    جگہ:
    ارض اللہ الواسعہ
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2013
    پیغامات:
    1,789
    موصول شکریہ جات:
    1,264
    تمغے کے پوائنٹ:
    326

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جہاں تک میں موضوع سمجھ سکی"
    1)ٹیکنالوجی اور جدید دور۔۔گناہ،برائی کا پیمانہ تو ایک ہی ہے۔۔اگر موبائل سے گناہ پھیلا ہے تو گاڑی سے احساس تفاخر۔۔سو سو منزلہ فلیٹس سے گھروں میں تانک جھانک!!
    2)ٹیکنالوجی ہے کن کی؟پہلے عربی سے مغربی زبانوں میں تراجم اور اب وہاں کی"تحقیق و ٹیکنالوجی" یہاں لائی جا رہی ہے۔
    3)اپنی ٹیکنالوجی؟؟کہاں کی۔۔؟؟جو ٹیلینٹڈ ہے وہ فورا"اڈاپ" کر لیتے ہیں۔۔ارفع کریم کی بھی پذیرائی ادھر سے ہوئی۔۔شافع تھوبانی،علی رضا ،شایان انیق۔۔کتنے نام گنیں اور گنوائیں؟ابھی حال ہی میں کراچی کے 23 سالہ فرخ بھابھا نے تھری ڈی پرنٹر بنایا۔۔یہ صرف کمپیوٹر اور مائیکرو سافٹ سے متعلق افراد ہیں۔۔اس کا مستقبل کیا ہو گا؟؟پاکستان میں رہے تو دھکے،اور باہر پذیرائی۔۔پاکستان کا کم عمر ترین میڑک کرنے والا گیارہ سالہ بچہ انیس سال کی عمر میں ایم بی اے کیا اور بیروگار ہے۔۔ادھر ادھر کے ریڑھی لگاتے انجینئرز اور ماسٹرز کو تو چھوڑیے۔۔پھر ہمیں بھی اعتراض ہوتا ہے کہ اپنا ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔۔سنا تھا کہ بین الاقوامی مقابلہ جات میں جو قابل تھیوریز ہوتی ہیں ۔۔وہ انعام دے کر رخصت کرتے ہیں اور بعد میں اسی پر مزید تحقیق کرتے ہیں۔۔واللہ اعلم!
    ہم کارٹون بنانا حرام سمجھتے ہیں لہذا اسلامی کارٹون بھی نہیں بنائے جاتے اور پھر بچوں کے ساتھ بیٹھ کر "اچھے اچھے کارٹونز" دیکھتے ہیں۔۔کارٹونز بچوں بڑوں میں اس قدر مقبول ہیں اور ایک آنکھ والے اور عجیب و غریب بھوت بنگلے۔۔بچے ایسے کردار دیکھ دیکھ کر دجال کو بھی اپنا ہیرو مانیں گے۔۔یہ بے ساختہ نہیں ،خود ساختہ کردار ہیں۔۔آج ہم"تیز" کھانوں کے اس قدر عادی ہی کہ دجال نے پیزا دکھایا نہیں اور ہم ایمان لائے نہیں۔۔کینڈی کرش اور وائی فائی کے ایک گھنٹے کے لیے۔۔۔۔۔استغفراللہ۔۔امت مسلمہ کی حالت پر ایک گھڑی بے سکونی سے نہیں گزرے گی اور نیٹ کنکشن خراب ہپو جائے تو گھر بھر رات بھر جاگ کر گزارتا ہے۔۔یہ حقائق ہیں!!چیزین استعمال کرنے کے لیے تھیں۔۔لیکن چیزوں نے ہمیں استعمال کرنا شروع کر دیا!!
    اور اگر پھر بھی کوئی ہمت کر کے کچھ بنا لے تو ہمیں "کوالٹی" بھی بہترین چاہیے۔۔جب اس کی مصنوعات بکیں گی نہیں،وہ کیونکر ترقی کر سکے گا؟؟انقلاب۔۔قربانی مانگتا ہے۔۔لیکن وہ دینے کو کوئی تیار نہیں!!ہمارے ہاںافغانستان و عراق حملے کے بعدسے ملٹی نیشنل چیزیں نہیں آتی تھیں۔۔حتٰی کہ گھر آئی چیز واپس کروا دیتے تھے ۔اب وہ بھی "جائز " ہونا شروع ہو گئی ہیں کہ کس کس چیز کو چھوڑیں؟؟کئی سوچیں ہلا کر رکھ دیتی ہیں!!آج موبائل و کمپیوٹر کو ہی دیکھ لیں۔۔ہر ایک کے پاس ہے۔۔کوئی اس کے بغیر جی سکتا ہے؟؟؟اور مصنوعات کن کی ہیں؟؟
    ایک فیس بکی دانش ور کی دلچسپ بات یاد آئی کہ مجھے کسی صاحب نے ق موبائل پکڑے ہوئے کہا کہ آئی فون نہ خریدنا۔۔ایپل کا ہے۔میں نے جوابا پوچھا کہ کیو موبائل کون سا چاچا عبدالغفور کی فیکڑی میں تیار ہوتا ہے؟"۔۔میں ہیلپرز سےبات کر رہی تھی کہ گارنیئر اسرائیلی کمپنی ہے۔۔اس کی مصنوعات اب استعمال نہیں کریں گے۔کسی کے لیے نئی بات نہیں تھی،ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ مگر ہیلپر نمبر دو نے تحمل سے پوچھا کہ مجھے یہ بتائیے کہ میڈ ان پاکستان کے متعلق آ پ کا کیا خیال ہے؟؟جب کہ وزیرستان میں۔۔۔۔۔میں کیا کہتی؟میں چپ کر گئی۔۔مجھے چپ ہی کرنا چاہیے تھا۔۔اور اس کے بعد میں آج تک اس معاملے میں بول نہیں سکی!!!اللھم ارحم علٰی حالنا
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  10. ‏فروری 05، 2015 #10
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    سب جدید صنعت و حرفت اور ذرائعےمال غنیمت ہیں ۔۔۔ایک شرط کے ساتھ۔۔۔۔۔جو کہ معلوم ومعروف ہےلیکن عمل مفقود ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں