1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جرابوں پر مسح جائز ہے یا نہیں؟

'وضو' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن قدامہ, ‏فروری 13، 2015۔

  1. ‏فروری 13، 2015 #1
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ اونی و سوتی جرابوں پر مسح جائز ہے یا نہیں؟ یہ تو معلوم ہے کہ جرابوں پرمسح کرنے کی حدیث ضعیف ہےاور امام ترمذی نےجو اس کو صحیح کہا ہے، محدثین نے اسے قبول نہیں اور اگر موزوں کے مسح پراس کو علت مشترکہ کی بنا پر قیاس کیا جائے تو اس سے فرض غسل جو قرآن سے ثابت ہے ساقط ہوجائے گا یا نہیں؟ اور ائمہ نے جو جراب کے لیے موٹا ہونے اور پانی کے نفوذ نہ کرنے کی قید لگائے ہے تو کیا اس سے زیادہ کسی اور علت کا بھی اضافہ ہوسکتا ہے یا نہیں؟ پاؤں کا دھونا فرض ہے اور موزے پر مسح رخصت ہے ، کیا رخصت شرعیہ شارع کے بیان پر موقوف ہے یا نہیں، جواب مفصل عنایت فرمائیں۔
    مذکورہ جرابوں پر مسح جائز نہیں ہے ، کیونکہ اس کی کوئی صحیح دلیل نہیں ہے اور مجوزین نے جن چیزوں سے استدلال کیا ہے ، اس میں خدشات ہیں، استدلال تین چیزوں سے کیا گیا ہے ، حدیث مرفوع، فعل صحابہ اور قیاس۔
    حدیث مرفوع تو وہ ہے ، جس کو ترمذی نے مغیر بن شعبہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا اور جراب اور جوتے پر مسح کیا، ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے، اس پر اعتراض یہ ہے،کہ یہ حدیث ضعیف ہے ،اس سے استدلال صحیح نہیں ہے، عبدالرحمٰن بن مہدی یہ حدیث روایت نہیں کیا کرتے تھے، کیونکہ مغیرہ سے مشہور روایت موزے پر مسح کرنےکی ہے،ابوموسیٰ اشعری نے بھی جراب پرمسح کرنےکی روایت نقل کی ہے لیکن اس کی سند متصل نہیں، امام مسلم نے اس کو ضعیف کہا ہے، مغیرہ بن شعبہ سے جتنے لوگوں نے اس حدیث کو روایت کیا ہے ، انہوں نے موزے پر مسح بیان کیا ہے ، صرف ابوقیس اردی اور ہذیل بن شرجیل نے جراب کا لفظ بیان ہے لیکن یہ دوسرے راویوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے، عبدالرحمٰن بن مہدی نے سفیان ثوری سے کہا اگر آپ مجھے ابوقیس عن ہذیل کی حدیث سنائیں تو میں اس کو آپ سے قبول نہیں کروں گا، سفیان نے کہا وہ حدیث واقعی ضعیف ہے ،علی بن مدینی نے کہا مغیرہ کی حدیث کو مدینہ، کوفہ اور بصرہ والوں نے روایت کیا ہے ، سب موزہ کا ذکر کرتے ہیں، صرف ابوقیس جراب کا تذکرہ کرتے ہیں، بیہقی نے کہا یہ حدیث منکر ہے، اس کو سفیان ثوری اور عبدالرحمٰن بن مہدی ، احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین، علی بن مدینی ،امام مسلم نے ضعیف کہا ہے۔
    اگریہ سوال کیا جائے کہ ابن دقیق العید نے اس کی تصحیح پر اعتماد کیا ہے اور کہا ہے کہ ابوقیس کی روایت دوسروں کے مخالف نہیں ہے، کیونکہ وہ تو ایک ارم زائد بیان کررہے ہیں ۔اس کاجواب یہ ہے کہ اگر اس روایت کے یہ الفاظ ہوتے کہ آنحضرتﷺ نے موزوں پر اور جرابوں اور جوتی پر مسح کیا تو ایک امر زائد تھا، لیکن اس نے تو موزے کے بجائے جراب اور جوتی کا ذکر کیا ہے ، تو یہ امر زائد نہیں ہے بلکہ ثقات کی مخالفت ہے، باقی رہا ترمذی کا اس کو حسن صحیح کہنا، تو امام نووی نے کہا کہ جن لوگوں نے اس حدیث کی تصنیف کی ہے ، ان میں سے ہر ایک امام ترمذی سے مقدم ہے اور پھر یہ اصول بھی ہے کہ جرح تعدیل پر مقدم ہوتی ہے۔
    اگر یہ کہا جائے کہ لفظ جراب مختلف المفہوم ہے ، موزے کے اوپر جولفافہ پہنا جاتا ہے اس کو جرموق کہتے ہیں اور جرموق پر جو پہنا جاتا ہے اس کو جراب کہتے ہیں، تو ممکن ہے ، جراب سے چمڑے کا وہ لفافہ مراد ہو جو جرموق پر پہنا جاتا ہے تو میں کہتا ہوں کہ یہ دلیل تو ہماری ہوگی نہ کہ تمہاری اور پھر یہ بھی خیال کرنا چاہیے کہ جراب پر مسح کرنے والوں کا مقصد تو یہ ہے کہ صرف جراب پر مسح کرنا جائز ہے، حالانکہ اس حدیث میں جراب اور جوتی پر مسح کا ذکر ہے یعنی جراب کے اوپر جوتی پہنے ہوئے آپ نے مسح کیا، صرف جراب پرمسح نہیں کیا۔
    یہاں ایک اور خدشہ بھی ہے کہ جراب سوتی بھی ہوتی ہے اور اونی بھی، موٹی اور باریک بھی ، اور وہ بھی جس کے نیچے چمڑا لگا ہوتا ہے تو جب تک کسی خا ص لفظ سے پتہ نہ چلے کہ وہ جراب جس پر آنحضرتﷺ نے مسح کیا وہ چمڑے والی نہ تھی، تب تک مقصود مجوزین ثابت نہیں ہوسکتا کیونکہ چمڑے والی جراب تو موزہ ہی کے حکم میں ہے، اگر کہا جائے کہ دوسری جراب کا بھی احتمال تو ہے تو میں کہتا ہوں کہ اس میں جب صراحت نہیں ہے تو نفس مطمئن نہیں ہوسکتا اور حضور نے فرمایا ہے ’’شک والی چیز کو ترک کردو‘‘
    باقی رہا صحابہ کرام کا عمل تو ان سے مسح جراب ثابت ہے اور تیرہ صحابہ کرام کے نام صراحۃ سے معلوم ہیں کہ وہ جراب پر مسح کیا کرتے تھے یعنی حضرت علی ؓ، ابومسعود انصاریؓ، انسؓ، اب عمرؓ، براء بن عازبؓ، حضرت بلالؓ، عبداللہ بن ابی اوفیؓ، سہل بن سعدؓ، ابوامامہؓ، عمرو بن حریثؓ، عمرو بن عباسؓ، اگر حدیث مرفوع کے بجائے ان کے عمل سے استدلال کیا جائے تویہ اس سے بہتر ہے ، لیکن ان کے عمل میں ایک اور شبہ پیدا ہوتا ہے ، وہ یہ کہ یہ فعل ایک ایسا کام ہے جس میں اجتہاد کو دخل ہے اور جس میں اجتہاد کو دخل ہو، صحابی کا وہ فعل مرفوع حکمی نہیں کہلا سکتا۔
    باقی رہا قیاس کا مسئلہ کہ جب موزہ پر مسح جائز ہے تو قیاسات جراب پر بھی جائز ہونا چاہیئے، کیونکہ ان دونوں میں کوئی فرق مؤثر نہیں ہے اس پر شبہ یہ ہے کہ اگر مسح موزہ کی کوئی علت منصوص ہوتی تو اس علت کی بنا پر جراب کے مسح کو اس پر قیاس کرلیا جاتا لیکن یہاں کوئی علت منصوص نہیں ہے، ممکن ہے ہم کوئی اور علت سمجھیں اور حقیقت میں کوئی اور ہو،اگر سوال کیا جائے کہ صحابہ کی شان اس سے ارفع و اعلیٰ ہے کہ وہ آنحضرتﷺ کی مخالفت کریں تو آخر کسی دلیل کی بنا پر ہی صحابہ نے جراب پر مسح کیا ہوگا۔ اگرچہ وہ ہم کو معلوم نہیں تو ہم بھی اسی وجہ سے مسح کرلیں گے، اس کا جواب یہ ہے کہ اگر صحابہ سے کوئی نقلی دلیل ہے تو وہ کہاں ہے، کیسی ہے، جب تک ہمیں یہ معلوم نہ ہوجائے، ہم قرآن اور متواتر حدیث کے مضمون کو کیوں چھوڑ دیں اور اگر صحابہ کے فعل سے استدلال کیا جائے، تو اس کا جواب پہلے گذرچکا ہے کہ اس میں اجتہاد کو دخل ہے اور پھر یہ بھی تو معلوم نہیں کہ صحابہ کون سی جراب پر مسح کیا کرتے تھے، جب تک ان تمام باتوں کی وضاحت نہ ہوجائے ہم کتاب اللہ کے مضمون کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔ واللہ اعلم


    جلد 01 ص 326​


    محدث فتویٰ​
     
  2. ‏فروری 13، 2015 #2
    مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 30، 2011
    پیغامات:
    640
    موصول شکریہ جات:
    396
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    اس بارے میں شیخ امین اللہ حفظہ اللہ کی تحقیق یہ ہے کہ " جرابوں پر مسح مطلقاً جائز ہے ۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پاؤں دھونے سے یہ اولیٰ ہے ۔یعنی جرابوں پر مسح صرف رخصت ہے ،کوئی کرے تو ہم اس کو منع نہیں کرسکتے ہیں ۔ کسی کا دل نہ چاہے تو اس کو مسح پر مجبور نہیں کرسکتے ہیں ۔
    اور جرابوں کی شرائط کی کوئی دلیل ثابت نہیں ہے ۔
     
  3. ‏دسمبر 14، 2017 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    المسح علی الجوربین ، جرابوں پر مسح کے بارے میں علمی بحث

    مصنف​
    جمال الدین بن محمد قاسمی
    مترجم​
    محمد عبدہ الفلاح الفیروزپوری
    تحقیق و تخریج​
    ناصر الدین البانی
    نظر ثانی​
    عبد الحفیظ مدنی
    ناشر​
    صادق خلیل اسلامک لائبریری فیصل آباد
    صفحات
    59
    یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ
    1180.00 (PKR)
    [​IMG]
    زمانہ جس قدر خیرالقرون سے دور ہوتا جارہا ہے، اتنا ہی فتنوں کی تعداد اور افزائش میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ہر روزایک نیا فتنہ سر اٹھاتا ہے اور عوام الناس کو اپنے نئے اعتقاد ،افکار اور اعمال کی طرف دعوت دیتاہے۔ اپنی خواہشات نفسانی کے پیش نظر قرآن وسنت کی وہ تشریح کرتا ہے جو ان کے خود ساختہ مذہب واعمال کے مطابق ہو۔عوام چونکہ ان کے مکروفریب سے ناواقف ہوتے ہیں ۔لہذا ان کے دام میں پھنس جاتے ہیں اور بعض اوقات اپنے ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔انہی فتنوں میں ایک تقلید کا فتنہ ہے،جس نے لوگوں کے اذہان کو جامد کر کے رکھ دیا ہے۔موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے جبکہ جرابوں پر مسح کرنے کے حوالے سے اہل علم کے ہاں دو مختلف رائے پائی جاتی ہیں۔اس اختلاف کاسبب فقہا میں یہ رہا ہے کہ بعض فقہا کے نزدیک وہ روایت جس میں جرابوں پر مسح کا ذکر ہوا ہے، اتنی قوی نہیں ہے یا ان تک وہ روایت نہیں پہنچی ہے۔ چنانچہ یہ استدلال کیا گیا ہے کہ صرف انہی جرابوں پر مسح کیا جا سکتا ہے جن میں نمی اندر نہ جا سکتی ہو۔ ہمارے نزدیک چمڑا ہو یا کپڑا مسح کی اجازت رخصت کے اصول پر مبنی ہے۔ جرابوں کی ساخت کی نوعیت اس رخصت کا سبب نہیں ہے۔ رخصت کاسبب رفعِ زحمت ہے۔ جس اصول پر اللہ تعالیٰ نے پانی کی عدم دستیابی یا بیماری کے باعث اس بات کی اجازت دی ہے کہ لوگ تیمم کر لیں، اسی اصول پر قیاس کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کی حالت میں جرابیں پہنی ہوں تو پاؤں پر مسح کرنے کی اجازت دی ہے۔ اصول اگر رخصت، یعنی رفعِ زحمت ہے تو اس شرط کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ جرابیں چمڑے کی بنی ہوئی ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب" المسح علی الجوربین ،جرابوں پر مسح کے بارے میں ایک علمی بحث"علامہ جمال الدین قاسمی﷫ کی عربی تصنیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا محمد عبدہ الفلاح صاحب﷫ نے کیا ہے۔جبکہ تحقیق اور حواشی حافظ احمد شاکر ﷫اور امام البانی ﷫کے ہیں۔مولف موصوف نے اس کتاب میں متعدد دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ جرابوں پر مسح کرنا بھی اسی طرح درست ہے جس طرح موزوں پر مسح کرنا ثابت ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ڈاؤن لوڈ کیلئے یہاں کلک کریں
     
  4. ‏دسمبر 14، 2017 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    جرابوں پر مسح جائز ہے

    محدث العصر شیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
    (مجلہ دعوت اہل حدیث ،حیدرآباد ،سندھ )

    ج: حدیث میں آیا ہے کہ
    عن ثوبان قال بعث رسول اللہ سریۃ….امرھم ان یمسحوا علی العصائب والتساخین.
    ترجمہ: ثوبانtسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کی ایک جماعت بھیجی….انہیں حکم دیا کہ پگڑیوں اور پاؤں کوگرم کرنے والی اشیاء (جرابوں اورموزوں) پر مسح کریں۔
    (سنن ابی داؤد ،الرقم:۱۴۶)
    اس روایت کی سند صحیح ہے، اسے حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ اور حافظ ذھبیaدونوں نے صحیح کہاہے۔
    (المستدرک والتلخیص ،الرقم:۶۰۲)
    اس حدیث پر امام احمد رحمہ اللہ کی جرح کے جواب کےلئے نصب الرایہ (۱؍۱۶۵)وغیرہ دیکھیں۔
    امام ابوداؤدؒ فرماتے ہیں:
    ومسح علی الجوربین علی بن ابی طالب وابومسعود والبراء بن عازب وانس بن مالک وابوأمامۃ وسھل بن سعد وعمرو بن حریث وروی ذلک عن عمر بن الخطاب وابن عباس .
    ترجمہ: اور علی بن ابی طالب ،ابومسعود(ابن مسعود)،البراء بن عازب ،انس بن مالک ،ابوأمامۃ ،سھل بن سعد اورعمرو بن حریث نے جرابوں پر مسح کیااور عمر بن الخطاب اورابن عباس سے بھی جرابوں پر مسح مروی ہے۔(سنن ابی داؤد،الرقم:۱۵۹)
    صحابہ کرام کے یہ آثار مصنف ابن ابی شیبہ (۱؍۱۸۸،۱۸۹)، مصنف عبدالرزاق (۱؍۱۹۹،۲۰۰)،محلی ابن حزم (۲؍۸۴)الکنی للدولابی(۱؍۱۸۱)وغیرہ میں باسند موجود ہیں۔
    سیدناعلی رضی اللہ عنہ کا اثر الاوسط لابن المنذر (۱؍۴۶۲)میں صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔
    جیسا کہ آگے آرہا ہے،علامہ ابن قدامہ فرماتے ہیں:
    ’’ولان الصحابۃ رضی اللہ عنھم مسحوا علی الجوارب ولم یظھر لھم مخالف فی عصرھم فکان اجماعا‘‘
    ترجمہ: اور چونکہ صحابہ نے جرابوں پر مسح کیا ہے اور ان کے زمانے میں ان کا کوئی مخالف ظاہرنہیں ہوالہذا اس پر اجماع ہے کہ جرابوں پر مسح کرنا صحیح ہے۔(المغنی ۱؍۱۸۱مسئلہ۴۲۶)
    خفین پر مسح متواتر احادیث سے ثابت ہے، جرابیں بھی خفین کی ایک قسم ہےجیسا کہ سیدنا انسt،ابراھیم نخعی، اورنافع وغیرھم سے مروی ہے، جو لوگ جرابوں پر مسح کےمنکر ہیں ،ان کے پاس قرآن،حدیث اور اجماع سے ایک بھی صریح دلیل نہیں ہے۔
    (۱)امام ابن المنذر النیسابوریaنے فرمایا:
    حدثنا محمد بن عبدالوہاب ثنا جعفر بن عون:ثنا یزید بن مردانبۃ: ثنا الولید بن سریع عن عمرو بن حریث قال: رایت علیا بال ثم توضأ ومسح علی الجوربین.
    ترجمہ: عمروبن حریثtنے کہا میں نے دیکھا (سیدنا) علیtنے پیشاب کیا،پھروضوءکیا اور جرابوں پر مسح کیا۔(الاوسط ۱؍۴۶۲،وفی الاصل مردانیۃ وھو خطأ،طبعی)
    اس کی سند صحیح ہے۔
    (۲)سیدناابوامامہtنے جرابوں پر مسح کیا۔دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ (۱؍۱۸۸ح:۱۹۷۹،وسندہ حسن)
    (۳)سیدنابراء بن عازب tنے جرابوںپر مسح کیا۔دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ(۱؍۱۸۹ح:۱۹۸۴وسندہ صحیح)
    (۴)سیدنا عقبہ بن عمروtنے جرابوںپر مسح کیا، دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ (۱؍۱۸۹ح۱۹۸)اور اس کی سند صحیح ہے۔
    (۵)سیدنا سہل بن سعدtنے جرابوںپر مسح کیا، دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ (۱؍۱۸۹ح۱۹۹۰)وسندہ حسن
    ابن منذر نے کہا:(امام) اسحاق بن راھویہ نے فرمایا:
    ’’صحابہ کا اس مسئلے پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔(الاوسط ابن المنذر ۱؍۴۶۴،۴۶۵)
    تقریبا یہی بات ابن حزم نے کہی ہے۔(المحلی ۲؍۸۶،مسئلہ نمبر۲۱۲)
    ابن قدامہ کا قول سابقہ صفحہ پر گزرچکا ہے۔
    معلوم ہوا کہ جرابوں پر مسح کے جائز ہونے کے بارے میں صحابہ کا اجماع ہے yاور اجماع (بذات خود مستقل)شرعی حجت ہے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ میری امت کو گمراہی پر کبھی جمع نہیں کریگا۔(المستدرک للحاکم ۱؍۱۱۶ح۳۹۷،۳۹۸)
    نیز دیکھئیے:ابراء اہل الحدیث والقرآن معا فی الشواھد من التھمۃ والبھتان‘‘ص:۳۲تصنیف حافظ عبداللہ محدث غازی پوری a(متوفی ۱۳۳۷ھ)
    مزیدمعلومات:
    (۱)ابراھیم النخعی رحمہ اللہ جرابوں پر مسح کرتے تھے۔(مصنف ابن ابی شیبہ ۱؍۱۸۸ح۱۹۷۷)اس کی سند صحیح ہے۔
    (۲)سعید بن جبیر رحمہ اللہ نےجرابوں پر مسح کیا۔(مصنف ابن ابی شیبہ ۱؍۱۸۹ح۱۹۷۹)اس کی سند صحیح ہے۔
    (۱)عطاء بن ابی رباح aجرابوں پر مسح کے قائل تھے۔
    (المحلی ۲؍۸۶)
    معلوم ہوا کہ تابعین کا بھی جرابوں پر مسح کے جواز پر اجماع ہے ،والحمدللہ
    (۱)بقول حنفیہ قاضی ابویوسف جرابوں پر مسح کے قائل تھے۔
    (الھدایہ ۱؍۶۱)
    (۲)بقول حنفیہ محمد بن حسن الشیبانی بھی جرابوں پر مسح کے قائل تھے۔ (ایضا ۱؍۱۶۱باب المسح علی الخفین)
    (۳)آگے آرہا ہے کہ(بقول حنفیہ) امام ابوحنیفہ پہلے جرابوں پر مسح کے قائل نہیں تھے لیکن بعد میں انہوں نے رجوع کرلیاتھا۔
    امام ترمذی aفرماتے ہیں:
    سفیان الثوری،ابن المبارک ،شافعی، احمد اور اسحق (بن راھویہ) جرابوں پر مسح کے قائل تھے۔(بشرطیکہ وہ موٹی ہوں)دیکھئے(سنن الترمذی ،ح:۹۹)
    سیدنذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’باقی رہا صحابہ کا عمل، تو ان سے مسح جراب ثابت ہے، اور تیرہ صحابہ کرام کے نام صراحت سے معلوم ہیں، کہ وہ جرابوں پر مسح کیا کرتے تھے ۔(فتاویٰ نذیریہ ۱؍۳۳۲)
    جورب: سوت یا اون کے موزوں کو کہتے ہیں۔
    (درس ترمذی ۱؍۳۳۴تصنیف محمد تقی عثمانی دیوبندی)
    نیز دیکھئے البنایہ فی شرح الھدایہ للعینی (۱؍۵۹۷)
    امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ خفین(موزوں) جوربین مجلدین اور جوربین منعلین پر مسح کے قائل تھے مگر جوربین (جرابوں)پر مسح کے قائل نہیں تھے ۔
    ملامرغینانی لکھتے ہیں:
    ’’وعنہ انہ رجع الی قولھما وعلیہ الفتویٰ‘‘
    اور امام صاحب سے مروی ہے کہ انہوں نے صاحبین کے قول پر رجوع کرلیاتھا اور اسی پر فتویٰ ہے۔(الھدایہ ۱؍۶۱)
    صحیح احادیث،اجماع صحابہ، قول ابی حنیفہ اور مفتی بہ قول کے مقابلہ میں دیوبندی اور بریلوی حضرات کا یہ دعویٰ ہے کہ جرابوں پر مسح جائز نہیں ہے،اس دعویٰ پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔
    (شہادت، جنوری :۲۰۰۱)
    سوال: جرابوں پر مسح کرنے والی روایت میں سفیان ثوری رحمہ اللہ عن سے روایت کرتے ہیں اور آپ سفیان ثوری کی عن والی روایت کو نہیں مانتے۔(دیکھئے نور العیین ،ترمذی کی روایت)
    توکیاجرابوںپر مسح جائز ہے ؟کیا آپ کے پاس تحدیث یا ثقہ متابعت ہے؟
    اگر ہے توضرور چاہئے ،علامہ مبارک پوری نے تحفۃ الاحوذی میں جراب پر مسح کی روایت کو ضعیف کہا ہے۔
    جواب: سیدناعلی رضی للہ عنہ سے باسند صحیح جرابوں پر مسح کرناثابت ہے۔
    (الاوسط لابن منذر ۱؍۴۶۲ت۴۷۶)
    اس روایت کی سند میں نہ تو سفیان ثوری ہیں اور نہ کوئی دوسرا مدلس راوی بلکہ یہ سند بالکل صحیح ہے۔
    یہ روایت مصنف ابن ابی شیبہ ۱؍۱۸۹ح۱۹۸۶،میں بھی موجود ہے مگر غلطی سے عمرو بن حریث کے بجائے عمرو بن کریب چھپ گیا ہے۔
    ان کے علاوہ دیگر کئی صحابہ سے المسح علی الجوربین ثابت ہےجن کا کوئی مخالف معلوم نہیں لہذا جرابوں پر مسح کے جواز پر صحابہ کا اجماع ہے۔
    (۱؍۱۸۱،مسئلہ ۴۲۶،دیکھئے المغنی ابن قدامہ والاوسط لابن منذر ۱؍۴۶۴،۴۶۵،والمحلی ۲؍۸۷) اور ھدیۃ المسلمین ،ص:۱۷،۲۰ح۴)
    اجماع صحابہ بذات خود بہت بڑی دلیل ہے لہذا سفیان ثوری کی معنعن روایت پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے، اسے صرف اس اجماع کی تائید میں پیش کیا جاسکتا ہے۔
    (ماہنامہ شھادت جنوری:۲۰۰۳)
     
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 14، 2017 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    توحید ڈاٹ کام پر شیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کا ایک مفید مضمون شائع ہے ؛
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جرابوں پر مسح
    بہت سے لوگ، طہارت اور وضو کے بعد، پہنی ہوئی جرابوں پر مسح کرنے میں (سخت) حرج (تنگی) محسوس کرتے ہیں حالانکہ بعض سلف صالحین کے نزدیک جرابیں موزوں کے قائم مقام ہیں۔
    ہم نے اسے اس لئے خبیث ترین بدعت کہا ہے کیونکہ اس سے رسول اللہ ﷺ سے مروی ، اس صحیح حدیث کی مخالفت ہوتی ہے جس میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے جرابوں پر مسح کیا تھا۔ اسی طرح اس (بدعت) سے جماعتِ صحابہ سے ثابت شدہ اس بات کی (بھی) مخالفت ہوتی ہے کہ وہ جرابوں کو موزوں کے قائم مقام سمجھتے اور ان پر مسح کرتے تھے۔ اب اس بات کی تفصیل سن لیں:
    مغیرہ بن شعبہؓ سےصحیح ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے وضو کیا اور جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔

    ]ابوداؤد کتاب الطہارۃ باب المسح علی الجوربین ح ۱۵۹، اس میں سفیان ثوری مدلس ہیں اور عن سے روایت کرتے ہیں (لہذا یہ سند ضعیف ہے) لیکن یہ روایت اپنے شواہد کے ساتھ صحیح ہے ۔خاص طور پر جب اجماعِ صحابہ بھی اس کا مؤید ہے تو صحیح ہونے میں کیا شبہ رہ جاتا ہے ؟/ مترجم[
    یہ حدیث صحیح و ثابت ہے، اسے ابن حزم نے صحیح کہا۔ حافظ اسماعیلی نے فرمایا کہ اس کی سند بخاری کی شرط پر صحیح ہے لہذا امام بخاری کو یہ چاہئے تھا کہ صحیح بخاری میں درج کرتے ۔ (النکت الظراف لابن حجر ۴۹۳/۸)
    حافظ ابن القیمؒ نے “زاد المعاد” (۱۹۹/۱) میں کہا:
    “اور نبی کریم ﷺ نے جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا ہے ” یہ قول اس کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک مغیرہ بن شعبہ کی حدیث صحیح ہے ۔صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے (اس مسئلہ میں)آثار(بہت زیادہ ہیں)۔
    ابن المنذر النیسابوری نے “الاوسط” (۴۶۴/۱) میں امام احمدؒ سے نقل کیا ہے :
    “سات یا آٹھ صحابۂ کرام نے جرابوں پر مسح کیا ہے ۔”
    ان جلیل القدر صحابۂ کرام میں سے بعض کی روایات درج ذیل ہیں:
    ۱: علی بن ابی طالب ؓ
    عمرو بن حریث نے کہا :میں نے دیکھا، علیؓ نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور جرابوں پر مسح کیا، اسے ابن ابی شیبہ (۱۸۹/۱ ح ۱۹۸۶ و فی سندہ تصحیف) اور ابن المنذر (الاوسط ۴۶۲/۱) نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔
    ۲: البراء بن عازبؓ
    مصنف عبدالرزاق (۷۷۸) مصنف ابن ابی شیبہ (۱۸۹/۱ ح ۱۹۸۴) الاوسط لابن المنذر (۴۶۳/۱) اور السنن الکبریٰ للبیہقی (۲۸۵/۱) میں
    الأعمش عن إسما عیل بن رجاء عن رجاءبن ربیعۃ الزبیدیکی سند سے مروی ہے کہ میں (رجاء) نے دیکھا، براءؓ نے وضو کیا اور جرابوں پر مسح کیا ۔ اس کی سند حسن ہے ۔ ]الاعمش صرح بالسماع[

    ۳: انس بن مالکؓ
    قتادہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک انسؓ جرابوں پر مسح کرتے تھے (ابن ابی شیبہ ۱۸۸/۱ ح ،الاوسط۴۶۲/۱، المعجم الکبیر للطبرانی ۲۴۴/۱) اس کی سند صحیح ہے (قتادہ مدلس ہیں اور عن سے روایت کر رہے ہیں لہذا یہ روایت ضعیف ہے)
    ۴: ابو مسعودؓ
    عبد الرزاق (۷۷۷) اور ابن المنذر نے “
    الأعمش عن إبراھیم عن ھمام بن الحارث عن أبي مسعود” کی سند سے روایت کیا ہے کہ ابو مسعود (عقبہ بن عمرو البدری الانصاری) رضی اللہ تعالیٰ عنہ جرابوں پر مسح کرتے تھے۔ اس کی سند صحیح ہے۔
    ]اس روایت کی سند اعمش کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے لیکن مصنف ابن ابی شیبہ ۱۸۹/۱ح ۱۹۸۷ میں اس کا صحیح شاہد ہے لہذا یہ روایت بھی اس شاہد کی وجہ سے صحیح لغیرہ ہے۔[
    ۵: ابوامامہ الباہلیؓ
    ابن ابی شیبہ (۱۹۷۹ و سندہ حسن) اور ابن المنذر (۴۶۳/۱) نے حماد بن سلمہ عن ابی غالب والی حسن سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ میں (ابو غالب) نے ابو امامہ کو جرابوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
    ]سیدنا سہل بن سعد الساعدیؓ نے جرابوں پر مسح کیا ۔ دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ ۱۸۹/۱ح ۱۹۹۰ و سندہ حسن[
    ابن ابی شیبہ (۱۹۰/۱ ح ۱۹۹۲) نے حسن سند کے ساتھ نافع مولیٰ ابن عمر سے اور صحیح سند کے ساتھ ابراہیم النخعی سے نقل کیاکہ جرابیں موزوں کے حکم میں ہیں]ابراہیم نخعی والا قول تو نہیں ملا لیکن ابن ابی شیبہ ۱۸۸/۱ ح ۱۹۷۷ نے صحیح سند سے نقل کیا کہ ابراہیم (نخعی) جرابوں پر مسح کرتے تھے[ اور یہی قول احمد بن حنبل کا مذہب ہے اور اسے ہی ابن المنذر نے عطاء ، سعید بن المسیب ، ابراہیم النخعی، سعید بن جبیر ، الاعمش ، سفیان ثوری ، حسن بن صالح، ابن المبارک ، زفر بن الہذیل اور اسحاق بن راہویہ سے نقل کیاہے ۔ (۴۶۵/۱)
    جرابوں اور موزوں پر مسح کی بدعات میں اور بھی بہت سی باتیں ہیں مثلاً

    ۱: ظاہر اور باطن (اوپر اور نیچے) مسح کرنا ۔
    یہ بات نبی کریم ﷺ سے ثابت شدہ سنت کے خلاف ہے ۔
    (حافظ ) ابن القیم فرماتے ہیں:
    “آپﷺ موزوں کے اوپر مسح کرتے تھے، آپ سے صحیح سند کے ساتھ موزوں کے نیچے مسح کرنا ثابت نہیں ہے۔ اس بارے میں جو حدیث آئی ہے اس کی سند منقطع ہے اور یہ روایت صحیح احادیث کے مخالف بھی ہے ۔” (زاد المعاد ۱۹۹/۱)
    یہی بات مغیرہؓ کی جرابوں پر مسح والی حدیث آئی ہے ۔
    جریر بن عبداللہؓ کی (بیان کردہ) حدیث میں ہے : ((
    رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللہِﷺ بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَ مَسَحَ عَلیٰ خُفَّیْہِ)) میں نے دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور اپنے موزوں کے اوپر مسح کیا۔

    (صحیح البخاری کتاب الصلوٰۃ باب الصلوٰۃ فی الخفاف ح ۳۸۷ و صحیح مسلم، الطہارۃ باب المسح علی الخفین ح ۲۷۲)
    عَلیٰ” کا (ظاہر) مفہوم “اوپر” ہے لہذا اس حدیث سے جراب یا موزہ کے اوپر مسح کرنے کا ثبوت واضح ہوتا ہے۔ البتہ عبداللہ بن عمرؓ سے صحیح ثابت ہے کہ وہ (اپنے موزوں یا جرابوں پر ) اپنے دونوں ہاتھوں کے ساتھ، اوپر نیچے صرف ایک دفعہ مسح کرتے تھے (الاوسط لابن المنذر ۴۵۲/۱ ، اس کی سند صحیح ہے / اس میں عبدالرزاق راوی مدلس ہے اور سند عن سے ہے ۔بیہقی ۲۹۱/۱نے حسن سند کے ساتھ نقل کیا کہ عبداللہ بن عمرؓ موزے کے نیچے اور اوپر مسح کرتے تھے)
    یہ عبداللہ بن عمرؓ کا اجتہاد ہے جو کہ نبی کریم ﷺ کی صحیح و ثابت سنت کے مخالف ہے اور غالباً یہ اس پر ہی محمول ہے کہ انھیں درج بالا حدیث نہیں پہنچی تھی۔ یہ مسئلہ عام لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ بعض ایسی احادیث ہیں جو بعض صحابہ کو اگر معلوم تھیں تو دوسروں کو ان کا علم ہی نہیں تھا ۔اس بات کا اچھی طرح سمجھ لیں۔
    یہاں پر اس بات کا ذکر کرنا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ بعض روایات میں یہ صراحتاً آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ موزوں پر، نیچے کے بجائے (صرف) اوپر ہی مسح کرتے تھے لیکن یہ ساری روایات (بلحاظِ سند ) ضعیف ہے ۔ ہم انہیں یہاں دو وجہ سے ذکر کر رہے ہیں:
    ۱: ان کا ضعیف ہونا واضح کردیں۔
    ۲: کوئی یہ نہ کہہ دے کہ تم سے اس مقام پر ایسی صحیح احادیث رہ گئی جو تمہارے قول کی واضح دلیل ہیں ۔ توفیق دینا اللہ ہی کا فضل و کرم ہے۔
    موزوں پرمسح کی احادیث (بلحاظ مسح) عام ہیں۔ نیچے یا اوپر مسح کی صراحت کے ساتھ صرف تین احادیث مروی ہیں:
    ۱: الفضل بن مبشر نے کہا :”میں نے دیکھا۔ جابر بن عبداللہ (الانصاریؓ) نے وضو کیا ۔آپ نے صرف ایک دفعہ ہی موزوں کے اوپر مسح کیا پھر (اس وضوکی حالت میں جتنی نمازیں آئیں) سازی نمازیں (بغیر نئے وضو کے ) پڑھیں اور فرمایا:
    میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے اور میں اسی طرح کررہا ہوں جیساکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا ” (الاوسط لابن المنذر ۴۵۴/۱) یہ روایت مسح کے ذکر کے بغیر سنن ابن ماجہ (ح ۵۱۱) میں بھی موجود ہے ۔
    اس روایت کا راوی فضل بن مبشر (محدثین کے نزدیک) حدیث میں ضعیف ہے ۔
    ۲: عبدالرحمٰن بن ابی الزناد نے اپنے والد سے انھوں نے عروہ بن الزبیر سے، انھوں نے مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت کیا کہ میں نے دیکھا، نبی کریم ﷺ موزوں کے ظاہر پر (یعنی اوپر) مسح کررہے تھے۔
    (سنن ابی داؤد: ۱۶۱ و سندہ حسن، سنن ترمذی : ۹۸و قال :”حدیث حسن”)
    امام ترمذی نے کہا :”یہ روایت عبدالرحمٰن کے علاوہ کسی اور نے بیان نہیں کی ہے “یعنی اس کلام سے امام ترمذی نے عبدالرحمٰن کی زیادت کے منکر ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ بات وہی ہے جو امام ترمذی نے کہی ہے کیونکہ ابن ابی الزناد کے حافظہ میں (محدثین کا) کلام ہے لہذا ایسے راوی کی زیادت مذکورہ کو قبول نہیں کیا جائے گا ۔ محفوظ یہی ہے کہ مغیرہؓ کی حدیث میں ظاہر اور اوپر کے الفاظ نہیں ہیں۔

    ]تنبیہ: عبدالرحمٰن بن ابی الزناد کے بارے میں راجح یہی ہے کہ وہ سلیمان بن داود الہاشمی کی روایت میں صحیح الحدیث اور دوسرے شاگردوں کی روایت میں حسن الحدیث ہے دیکھئے میری کتاب “نور العینین” ص ۱۸۴،۱۸۳ اور سیر اعلام النبلاء ۱۶۹،۱۶۸/۸ لہذا ا س سند پر جرح صحیح نہیں ہے / مترجم[
    ۳: علیؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ موزوں کے اوپر مسح کررہے تھے ۔
    (سنن ابی داود ۱۶۴۔۱۶۲ واسانیدہ ضعیفۃ)
    اس کا راوی ابو اسحاق السبیعی مدلس ہے اور عن سے روایت کررہا ہے ۔ (لہذا یہ سند ضعیف ہے )
    مغیرہ بن شعبہؓ سے یہ (بھی) مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے موزے کے نیچے اور اوپر (دونوں جگہوں پر ) مسح کیا ہے ۔
    (سنن ابی داود : ۱۶۵، سنن ترمذی: ۹۷، سنن ابن ماجہ : ۵۵۰، الاوسط بن المنذر ۴۵۴،۴۵۳/۱/ وسندہ ضعیف)
    امام ترمذی نے کہا :”یہ حدیث معلول (یعنی ضعیف) ہے ۔ اسے ولید بن مسلم کے علاوہ کسی دوسرے نے ثور بن یزید سے مسنداً (سند سے ) روایت نہیں کیا۔ ابو زرعہ اور (امام ) بخاریؒ دونوں کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے کیونکہ یہی روایت عبداللہ بن المبارک نے ثور عن رجاء بن حیوۃ قال: حدثت عن کاتب المغیرۃ عن النبیﷺ مرسلاً بیان کی ہے ۔اس میں مغیرہ کاذکر نہیں کیا۔”
    امام ابوداؤد نے اس حدیث (کے ضعیف ہونے کی) ایک اور علت (وجۂ ضعیف کی دلیل) بیان کی ہے :”مجھے معلوم ہوا کہ ثور نے یہ روایت رجاء بن حیوۃ سے نہیں سنی تھی۔”
    ابن المنذر نے امام احمد بن حنبل سے نقل کیا کہ وہ اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے تھے۔

    ۲: موزوں یا جرابوں پر ایک سے زیادہ بار مسح کرنا۔
    مسنون یہی ہے کہ موزوں پر ایک ہی دفعہ مسح کیا جائے۔ آپﷺ سے ، ایک سے زیادہ بار مسح کرنا ثابت نہیں ہے ۔ ابن عمرؓ سے یہ ثابت ہے کہ وہ ایک ہی دفعہ مسح کرتے تھے جیساکہ گزر چکا ہے(ص۵۶) یہ بھی یاد رکھیں کہ مسح، دھونے کے خلاف عمل ہے۔ دھونے سے خوب صفائی مقصود ہے جو مسح میں مطلوب نہیں ، اس لئے بار بارے ہونے کی طرح بار بار مسح کرنا صحیح نہیں ہے۔
    ۳: موزے یا جرابیں اتار کر (خوامخواہ) پاؤں کا دھونا۔
    بعض لوگ اپنے آپ کو خود ساختہ مشقت میں مبتلا کرکے جہل مرکب کے مرتکب بن جاتے ہیں۔
    (اصل کتاب “السنن و المبتدعات فی العبادات” میں ) ص ۲۲ پر صحیح حدیث گزر چکی ہے :”بے شک اللہ یہ (اسی طرح) پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصتوں پر عمل کیا جائے جس طرح کہ وہ ناپسند کرتاہے کہ اس کی نافرمانی کی جائے۔”
    (صحیح مسند احمد ۱۰۸/۲ صحیح ابن خزیمہ : ۹۵۰، صحیح ابن حبان ، الموارد :۵۴۵ و سندہ حسن و للحدیث شواہد کثیرۃ)
    وہ عبادات جن میں دونوں صورتیں جائز ہوں (ان میں) بے معنی تکلفات سے منع کیا گیا ہے ۔ انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا: ((نُھِیْنَا عَنِ التَّکَلُّفِ)) ہمیں تکلف سے منع کیا گیا ہے ۔
    (صحیح بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب و السنۃ باب مایکرہ من کثرۃ السوال ح ۷۲۹۳)

    ابن القیم نے “زاد المعاد” (۱۹۹/۱) میں کہا : “نبی کریم ﷺ (جرابوں اور موزوں وغیرہ میں) اپنے حال کے خلاف بے جا تکلف نہیں کرتے تھے ۔ اگر آپ کے پاؤں میں موزے ہوتے تو اتارنے کے بغیر ہی ان پر مسح کرلیتے اور اگر آپ کے پاؤں ننگے ہوتے تو انہیں دھو لیتے۔ اس مسئلہ میں مسح افضل یا دھونا؟ (تو اس میں ) یہی قول سب سے زیادہ راجح ہے کہ اگر پاؤں ننگے ہوں تو دھو لے اور اگر موزے یا جرابیں ہوں تو مسح کرلے۔ یہی بات ہمارے استاد (امام ابن تیمیہ) نے فرمائی ہے۔”
    میرے ساتھ طالب علمی کے ابتدائی زمانہ میں ایک عجیب حادثہ رونما ہوا۔ میں بری (خشکی کے) راستے سے اپنے (دینی ) بھائیوں کے ساتھ، کویت سے عمرہ ادا کرنے کے لئے چلا تھا۔ اتنی شدید سردی تھی کہ درجۂ حرارت صفر سینٹی گریڈ تک گر جاتا تھا۔ میں نے ایک اعلان کرنے والے کو یہ منادی کرتے ہوئے سنا:”اپنی جرابیں اتار دو اور عزیمت پر عمل کرتے ہوئے اپنے پاؤں دھو لو” ۔ مجھے تعجب ہوا کہ شیطان نے کس طرح اس کمزور اور فاسد رائے کو اس شخص کے دل میں ڈال رکھا ہے ، جس کی بنا پر وہ اسے رسول اللہ ﷺ کی سنت پر بھی مقدم کررہا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ وہ دوسروں کو اس کی دعوت بھی دے رہا ہے۔ جن بے چاروں کو ان مسائل کا کوئی علم نہیں ان کے نزدیک رخصت اور عزیمت میں کوئی فرق نہیں ۔ لوگوں کے اس طرزِ عمل کی شکایت، ہم اللہ ہی سے کرتے ہیں۔
    ۴: پھٹی ہوئی جراب یا موزے پر مسح نہ کرنا۔
    (لوگوں کا ) یہ طرزِ عمل سلف صالحین اور محقق علماء کے خلاف ہے۔
    سفیان ثوری فرماتے ہیں:
    “اس وقت تک مسح کرتے رہو جب تک وہ (موزے) تیرے پاؤں سے لٹکے رہیں، کیا تجھے معلوم نہیں کہ مہاجرین اور انصار کے موزے پھٹے ہوئے ہی ہوتے تھے “؟ (مصنف عبدالرزاق ج ۱ ص ۱۹۴ ح ۷۵۳، البیہقی: ۲۸۳/۱)
    اسی بات کو شیخ الاسلام (ابن تیمیہؒ) نے اختیار کیا ہے ۔ فرماتے ہیں:
    “دو اقوال میں سے ایک قول یہ ہے کہ لفافوں پر مسح جائز ہے اسے ابن القیم وغیرہ نے ذکر کیا ہے اور پھٹے ہوئے موزے پر اس وقت تک مسح جائز ہے جن تک اسے موزہ کہا جائے اور اس میں چلنا ممکن ہو۔ امام شافعی کا یہی قدیم فتویٰ ہے ۔ ابوالبرکات وغیرہ علماء نے بھی اسے ہی اختیار کیا ہے ” (الاختیارات العلمیۃ ۳۹۰/۴)

    وضو کی بدعات میں سے بعض طالبعلموں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وضو کے بعد جسم (اعضائے وضو) کو خشک نہ کرنا مسنون ہے۔
    بعض طالب علم اس سلسلے میں ابن القیمؒ کے قول کو بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں :”نبی کریم ﷺ وضو کے بعد اپنے اعضائے وضو کو خشک نہیں کرتے تھے، اس بارے میں کوئی حدیث بھی صحیح نہیں ہے بلکہ اس کے خلاف ثابت ہے ” (زاد المعاد ۱۹۵/۱)
    میں (مصنف) کہتاہوں کہ (یہ تسلیم ہے کہ ) امام ابن القیم بہت بڑے محقق امام تھے لیکن اصول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سوا ہر شخص کی بات قبول بھی ہوسکتی ہے اور رد بھی۔
    محققین کے نزدیک حافظ ابن القیم کا قولِ مذکور پیش نظر ہے ۔ اس لئے کہ سلمان فارسیؓ سے اس فعل کا جواز مروی ہے جسے ابن ماجہ (۳۵۶۴،۴۶۸) نے محفوظ بن علقمہ عن سلمان (الفارسی) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سند سے روایت کیا ہے :
    “رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا ۔ آپ نے اپنا اونی حبہ الٹا کیا پھر اس کے ساتھ اپنا چہرہ (مبارک صاف کیا) پونچھ لیا۔”
    بوصیری نے “مصباح الزجاجۃ” (۱۲۰/۱) میں لکھا ہے:
    “اس کی سند صحیح ہے ۔ اس کے (تمام) راوی ثقہ ہیں (لیکن ) محفوظ کے سلمان سے سماع میں نظر ہے “
    حالانکہ میرے علم کے مطابق کسی نے بھی محفوظ کی سلمانؓ سے روایت کو منقطع نہیں کہا سوائے امام مزی کے ، انہوں نے “تھذیب الکمال” میں لکھا ہے :”یہ کہا جاتا ہے کہ محفوظ کی سلمان (فارسی) سے روایت مرسل ہے” مزی نے یہ بات صیغۂِ تمریض سے کہی ہے گو یا ان کے نزدیک (بھی) یہ قول ثابت نہیں ہے ۔ کیونکہ اس قول پر کوئی دلیل ہے ہی نہیں اور نہ کسی فنِ حدیث کے امام نے ایسا کلام کیا ہے ۔
    [چونکہ محفوظ کی سلمانؓ سے ملاقات ثابت نہیں ہے لہذا مترجم کی تحقیق میں یہ روایت ضعیف ہے ۔ واللہ اعلم]
    اس کے جواز پر دیگر احادیث بھی ہیں مگر ان میں سے ایک حدیث بھی ثابت نہیں ہے ۔
    امام ترمذی فرماتے ہیں :”نبی ﷺ سے اس باب میں کوئی چیز بھی ثابت نہیں ہے ” (سنن الترمذی :ح۵۳)
    ترمذی کا یہ بیان اگر انقطاع کی وجہ سے ہے تو فبہا ورنہ قابلِ سماعت نہیں ہے ۔
    رہا ابن القیم کا یہ قول کہ “بلکہ اس کے خلاف ثابت ہے” تو اس کا اشارہ اس حدیث کی طرف ہے کہ میمونہؓ نے فرمایا:”(وضو کے بعد) نبی کریم ﷺ کے پاس رومال لایا گیا تو آپ نے اسے ہاتھ نہیں لگایا ، اور اپنے ہاتھوں سے وضو کا پانی جھاڑتے رہے” (صحیح بخاری کتاب الغسل باب نفض الیدین عن الغسل عن الجنابۃ ح ۲۷۶، وغیرہ و صحیح مسلم کتاب الحیض باب صفۃ غسل الجنابۃ ح ۳۱۷)
    حالانکہ اس حدیث کا تعلق غسل کے ساتھ ہے وضو کے ساتھ نہیں اور اگر وضو سے بھی ہوتا تو یہ ممانعت کی دلیل نہیں ہے ۔ حافظ ابن المنذر فرماتے ہیں :”یہ حدیث ممانعت کی دلیل نہیں ہے کیونکہ آپ نے اعضائے وضو پونچھنے سے منع نہیں کیا۔ آپ بعض اوقات ایسے مباح کام چھوڑ دیتے تھے جن سے امت کی مشقت کاڈر ہوتا۔” (الاوسط ۴۱۹/۱)
    ابن المنذر کا یہ کتنا بہترین کلام ہے۔ تقریباً اسی جیساکلام امام احمدؒ سے ثابت ہے ۔ عبداللہ بن احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں :”میں نے اپنے ابا سے پوچھا کہ کیا وضو کے بعد رومال (اور تولیا وغیرہ) استعمال کرسکتے ہیں؟” فرمایا :جی ہاں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ میں نے کہا :میمونہؓ والی حدیث (کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے) ؟ تو فرمایا: یہ روایت ممانعت پر واضح (دلیل) نہیں ہے۔”
    عبداللہ کہتے ہیں :”میں نے کئی دفعہ دیکھا ہے کہ میرے اباجان (یعنی امام احمد بن حنبلؒ) وضو کے بعد رومال یا کپڑے سے اپنے اعضاء خشک کرتے تھے ۔” (مسائل عبداللہ : ۱۰۵)
    اس بارے میں انسؓ سے حسن سند کے ساتھ ثابت ہے کہ وہ وضو کے بعد رومال کے ساتھ اپنا چہرہ پونچھتے تھے۔
    (الاوسط لابن المنذر ۴۱۵/۱ و سندہ حسن)
    بعض علماء کرام نے اسے جو مکروہ کہا ہے اس پر (ان کے پاس ) کوئی دلیل نہیں ہے۔ سلمان فارسیؓ کی مرفوع حدیث اور انسؓ کا عمل اس کے جواز کی دلیل ہے۔
    وضو کے پانی میں اسراف
    یہ پرانی بدعت ہے جس میں صرف وہی لوگ بچتے ہیں جن پر اللہ کا (خاص) رحم (و کرم) ہوتا ہے ۔ یاد رہے کہ وضو (اور تمام عبادات) کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا طریقہ ہی بہترین اور کامل طریقہ ہے ۔ آپﷺ وضو کے پانی میں مکمل کفایت شعاری سے کام لیتے تھے۔ ایک مد یا اس سے کچھ کم سے وضو فرماتے تھے۔
    سفینہؓ سے روایت ہے :”رسول اللہ ﷺ ایک صاع (تقریباً ڈھائی کلوپانی) کے ساتھ غسل جنابت اور ایک مد (تقریباً چوتھائی صاع) سے وضو کرتے تھے۔ (صحیح بخاری، کتاب الوضوء بالمدح ۲۰۱ صحیح مسلم ، الطہارۃ باب القدر المستحب من الماء فی غسل الجنابۃ ح ۳۲۵)
    ام عمارہ الانصاریہؓ فرماتی ہیں کہ”نبی ﷺ نے وضو کیا۔ آپ کے پاس پانی کا جو برتن تھا اس میں تقریباً دو تہائی مد پانی تھا” مد اتنا ہوتا ہے کہ اس سے آدمی کی دونوں ہتھیلیاں بھر جائیں ۔ بتائیں، ہمارے زمانے میں ایساکون شخص ہے جو اتنے پانی سے وضو کرتا ہو؟

    امام احمدؒ (کیا خوب) فرماتے ہیں:“انسان کے کم عقل ہونے کی یہ دلیل ہے کہ وہ وضو میں بہت زیادہ پانی استعمال کرتا ہے ” امام احمد کے شاگرد، المیمونی نے کہا:”میں وضو میں بہت زیادہ پانی استعمال کرتا تھا تو امام احمدؒ نے مجھے (بطورِ انکار) کہا: کیا تو ایسا طرزِعمل روا رکھتا ہے ؟یعنی وسوسوں میں مبتلا ہے ؟ تو میں نے یہ طرزِ عمل چھوڑ دیا ۔” (اغاثۃ اللہفان لابن القیم ۱۶۱/۱ دوسرا نسخہ ۱۴۲،۱۴۱/۱ اس قول کی سند معلوم نہیں ہے )
     
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏دسمبر 14، 2017 #6
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    اگر صحابہ کرام کے دور کی کی تحقیق کرلی جائے کہ کہیں ’’الْخُفَّيْنِ ‘‘ اور ’’الجوربین‘‘ ایک ہی چیز کو نہ کہتے ہوں یا اس دور کی ’’الجوربین‘‘ کس قسم کی ہوتی تھیں؟ یہ زیادہ سود مند رہے گا میرے خیال میں۔
     
  7. ‏مئی 16، 2018 #7
    ابوحنظلہ

    ابوحنظلہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 20، 2018
    پیغامات:
    163
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    25


    جرابوں ہر مسح اور اہل حدیث علما

    ۱۔ شیخ الکل فی الکل نذیر حسین دہلوی لکھتےہیں :
    اَلْمَسْحُ عَلَی الْجَوْرَبَۃِ الْمَذْکُوْرَۃِ لَیْسَ بِجَائِزٍ لِاَنَّہُ لَمْ یَقُمْ عَلیٰ جَوَازِہ دَلِیْلٌ وَکُلٌّ مَّا تَمَسَّکَ بِہِ الْمُجَوِّزُوْنَ فَفِیْہِ خَدْشَۃً ظَاہِرَۃً۔
    (فتاویٰ نذیریہ ج ۱ ص ۳۲۷)
    ترجمہ : مذکورہ جرابوں پر مسح جائز نہیں ہے کیونکہ اس کی کوئی صحیح دلیل نہیں ہے اور ان پر مسح کو جائز قرار دینے والوں نے جن سے استدلال کیا ہے اس میں خدشات کا ہوناظاہر ہے۔

    ۲۔ شیخ الاسلام مولانا ثنا اللہ امرتسری لکھتے ہیں۔
    جرابوں پر مسح جائز نہیں۔ (فتاویٰ ثنائیہ ج ۱ ص ۴۴۳)

    ۳۔ شہرہ آفاق کتاب رحیق المختوم کے مصنف مولوی عبدالرحمٰن مبارکپوری لکھتے ہیں :
    وَالْحَاصِلُ اَنَّہُ لَیْسَ فِیْ بَابِ الْمَسْحِ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ حَدِیْثٌ مَّرْفُوْعٌ صَحِیْحٌ خَالٍ عَنِ الْکَلَاْمِ۔ (تحفۃ الاحوذی ج ۱ ص ۳۴۹)
    ترجمہ: اس تمام بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جرابوں پر مسح کرنے کے بارے میں کوئی حدیث مرفوع صحیح ایسی نہیں جو کلام سے خالی ہو یعنی جس پر محدثین رحمہم اللہ نے ضعف کا حکم نہ لگایا ہو۔

    ۴۔ اہلحدیث عالم مولوی ابو سعید شرف الدین دہلوی لکھتے ہیں
    یہ بعض ائمہ امام شافعی وغیرہ کا مسلک ہے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا بھی یہی مسلک ہے مگر یہ مسلک صحیح نہیں اس لیے کہ دلیل صحیح نہیں ہے …….. یہ جرابوں پر مسح والا مسئلہ نہ قرآن سے ثابت ہے نہ حدیث مرفوع صحیح سے نہ اجماع نہ قیاس سے لہٰذا خف چرمی جس پر مسح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کے سوا جورب پر مسح ثابت نہیں ہوا۔ (فتاویٰ ثنائیہ ج ۱ ص ۴۴۱)

    ۵۔ جورابوں پر مسح کرنا حدیث صحیح سے ثابت نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بعض صحابہ کے مسح کرنے سے جوربین پر یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ مطلق جوربین پر مسح جائز ہے کیونکہ یہ معلوم نہیں کہ وہ جوربین چمڑے کی تھین یا اور چیز کی ہاں اگر کوئی قولی حدیث ایسی ہے جس میں حکم ہو کہ اِمْسَحْ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ پھر تو مطلق جرابوں پر مسح اس سے ثابت ہوجائے گا وَاِذْ لَیْسَ فَلَیْسَ ہاں اگر جوربین اون اور سوت کی ایسی سخت ہوں کہ سختی میں چمڑے کی بربری کریں پس وہ چمڑے کا حکم رکھتی ہیں اور ان پر مسح جائز ہے۔ (مجموعہ فتاویٰ مولوی عبدالجبار ص ۱۰۲)

    ۶۔ اہلحدیث عالم ابو البرکات احمد لکھتے ہیں : موزوں پر مسح کرنے والی بہت زیادہ احادیث ہیں لیکن جرابوں پر مسح کرنے کے متعلق کوئی حدیث صحیح نہیں ہے (فتاویٰ برکاتیہ ص ۱۸)

    ۷۔ اہلحدیث عالم محمد یونس لکھتے ہیں :جرابوں پر مسح کرنا درست ہے جب کہ وہ خف بنی ہوئی ہوں معمولی اور پتلی جرابوں پر مسح کرنا؛ ناجائز ہے۔ مسح جراب کی اکثر حدیثیں ضعیف ہیں امام ابو داؤد نے اپنی کتاب میں ضعیف کہا ہے۔
    )دستور المتقی فی احکام النبی صلی اللہ علیہ وسلم ص ۷۸ اسلامک پبلشنگ ہاؤس لاہور)
    وما علینا الالبلاغ

    -ابوحنظلہ
     
  8. ‏مئی 17، 2018 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    چودھویں صدی کے علمائے اہل حدیث رحمہم اللہ کے فتاویٰ کا نمبر بعد میں آئے گا :
    پہلے قرآن و سنت اور اقوال سلف کو دیکھ لیتے ہیں :
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جرابوں پر مسح حدیث رسول ﷺ اور اقوال سلف کی روشنی میں

    انتہائی واضح حدیث شریف ہے کہ :
    قال الامام ابو داود :حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، فَأَصَابَهُمُ الْبَرْدُ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَمْسَحُوا عَلَى الْعَصَائِبِ وَالتَّسَاخِينِ» (سنن ابي داود 146 )
    ترجمہ:
    سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کی ایک جماعت بھیجی….انہیں حکم دیا کہ پگڑیوں اور پاؤں کوگرم کرنے والی اشیاء (جرابوں اورموزوں) پر مسح کریں۔
    (سنن ابی داؤد ،الرقم:۱۴۶) ومسند امام احمدؒ 22383 ، مسند الشاميين 477 ،مستدرک حاکم 602 ،السنن الکبری بیہقی 290 ،
    اس روایت کی سند صحیح ہے، اسے حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ اور حافظ ذھبیؒ دونوں نے صحیح کہاہے۔
    (المستدرک والتلخیص ،الرقم:۶۰۲)
    اور مسند امام احمدؒ بن حنبل میں اس حدیث کی تعلیق میں علامہ شعیب الارناؤط لکھتے ہیں :
    ((إسناده صحيح، رجاله ثقات، وراشد بن سعد -وهو الحمصي المقرائي- قد سمع من ثوبان، جزم بذلك البخاري في "تاريخه" 3/292، وقد عاصره قرابة ثمانية عشر عاماً، وليس موصوفاً بالتدليس، فقد ذكر البخاري في "تاريخه" من طريق بقية بن الوليد أنه ذهبت عينه يوم صفين، وأورد الذهبي هذا الحديث في "السير" 4/491، من "سنن أبي داود" وقال: إسناده قوي.
    وأخرجه الطبراني في "الشاميين" (477) ، والحاكم 1/169 من طريق عبد الله بن أحمد بن حنبل، عن أبيه، بهذا الإسناد. وقال: هذا حديث صحيح على شرط مسلم، وقال الذهبي في "السير": أخطأ، فإن الشيخين ما احتجا براشد، ولا ثورٌ من شرط مسلم.
    وأخرجه أبو داود (146) ، ومن طريقه البيهقي 1/62، والبغوي (234) عن أحمد بن حنبل، به ۔۔۔۔))


    اس حدیث پر امام احمد رحمہ اللہ کی جرح کے جواب کےلئے نصب الرایہ (۱؍۱۶۵)وغیرہ دیکھیں۔
    امام ابوداؤد ؒ فرماتے ہیں:
    ومسح علی الجوربین علی بن ابی طالب وابومسعود والبراء بن عازب وانس بن مالک وابوأمامۃ وسھل بن سعد وعمرو بن حریث وروی ذلک عن عمر بن الخطاب وابن عباس .
    ترجمہ: اور علی بن ابی طالب ،ابومسعود(ابن مسعود)،البراء بن عازب ،انس بن مالک ،ابوأمامۃ ،سھل بن سعد اورعمرو بن حریث نے جرابوں پر مسح کیااور عمر بن الخطاب اورابن عباس سے بھی جرابوں پر مسح مروی ہے۔(سنن ابی داؤد،الرقم:۱۵۹)

    صحابہ کرام کے یہ آثار مصنف ابن ابی شیبہ (۱؍۱۸۸،۱۸۹)، مصنف عبدالرزاق (۱؍۱۹۹،۲۰۰)،محلی ابن حزم (۲؍۸۴)الکنی للدولابی(۱؍۱۸۱)وغیرہ میں باسند موجود ہیں۔
    سیدناعلی رضی اللہ عنہ کا اثر الاوسط لابن المنذر (۱؍۴۶۲)میں صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔
    جیسا کہ آگے آرہا ہے،علامہ ابن قدامہ فرماتے ہیں:
    ’’ولان الصحابۃ رضی اللہ عنھم مسحوا علی الجوارب ولم یظھر لھم مخالف فی عصرھم فکان اجماعا‘‘
    ترجمہ: اور چونکہ صحابہ نے جرابوں پر مسح کیا ہے اور ان کے زمانے میں ان کا کوئی مخالف ظاہرنہیں ہوالہذا اس پر اجماع ہے کہ جرابوں پر مسح کرنا صحیح ہے۔(المغنی ۱؍۱۸۱مسئلہ۴۲۶)

    خفین پر مسح متواتر احادیث سے ثابت ہے، جرابیں بھی خفین کی ایک قسم ہےجیسا کہ سیدنا انسt،ابراھیم نخعی، اورنافع وغیرھم سے مروی ہے، جو لوگ جرابوں پر مسح کےمنکر ہیں ،ان کے پاس قرآن،حدیث اور اجماع سے ایک بھی صریح دلیل نہیں ہے۔
    (۱)امام ابن المنذر النیسابوری ؒنے فرمایا:
    حدثنا محمد بن عبدالوہاب ثنا جعفر بن عون:ثنا یزید بن مردانبۃ: ثنا الولید بن سریع عن عمرو بن حریث قال: رایت علیا بال ثم توضأ ومسح علی الجوربین.
    ترجمہ: عمروبن حریثtنے کہا میں نے دیکھا (سیدنا) علی رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا،پھروضوءکیا اور جرابوں پر مسح کیا۔(الاوسط ۱؍۴۶۲،وفی الاصل مردانیۃ وھو خطأ،طبعی)
    اس کی سند صحیح ہے۔
    (۲)سیدناابوامامہ رضی اللہ عنہنے جرابوں پر مسح کیا۔دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ (۱؍۱۸۸ح:۱۹۷۹،وسندہ حسن)
    (۳)سیدنابراء بن عازب رضی اللہ عنہ نے جرابوں پر مسح کیا۔دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ(۱؍۱۸۹ح:۱۹۸۴وسندہ صحیح)
    (۴)سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے جرابوں پر مسح کیا، دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ (۱؍۱۸۹ح۱۹۸)اور اس کی سند صحیح ہے۔
    (۵)سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے جرابوں پر مسح کیا، دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ (۱؍۱۸۹ح۱۹۹۰)وسندہ حسن

    امام ابن منذر ؒنے کہا:(امام) اسحاقؒ بن راھویہ نے فرمایا:
    ’’صحابہ کا اس مسئلے پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔(الاوسط ابن المنذر ۱؍۴۶۴،۴۶۵)
    تقریبا یہی بات ابن حزم نے کہی ہے۔(المحلی ۲؍۸۶،مسئلہ نمبر۲۱۲)​
     
  9. ‏مئی 17، 2018 #9
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    امام ابو حنیفہ کا جدید اور آخری موقف بھی جرابوں پر مسح کے جواز کا تھا
    امام ترمذیؒ ان کا جدید موقف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    سَمِعْت صَالِحَ بْنَ مُحَمَّدٍ التِّرْمِذِيَّ قَال: سَمِعْتُ أَبَا مُقَاتِلٍ السَّمَرْقَنْدِيَّ، يَقُولُ: ( دَخَلْتُ عَلَى أَبِي حَنِيفَةَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَعَلَيْهِ جَوْرَبَانِ، فَمَسْحَ عَلَيْهِمَا، ثُمَّ قَالَ: (( فَعَلْتُ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ أَكُنْ أَفْعَلُهُ، مَسَحْتُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَهُمَا غَيْرُ مُنَعَّلَيْنِ )) )
    ("الجامع" للترمذي [ج1/ص: 167) تحقيق و تعليق شيخ احمد شاكر
    ’’میں نے صالح بن محمد سنا وہ کہتے ہیں میں نے میں ابو مقاتل سمرقندی سے سنا وہ کہتے ہیں کہ میں جس بیماری میں امام ابوحنیفہ صاحب کی وفات ہوئی تھی اس بیماری کے ایام میں میرا امام صاحب کے ہاں جانا ہوا تو انھوں نے پانی منگوایا اور انھوں نے جرابیں پہنے ہوئے وضو کیا پس آپ ان پر مسح کیا پھر فرمایا: میں نے آج ایسا کام کیا ہے جو میں اس سے پہلے نہیں کرتا تھا یعنی میں نے جورابوں پر مسح کیا ہے حالاں کہ جورابوں کے نیچے چمڑا نہیں لگا تھا‘‘
    https://archive.org/stream/waq4822/suntrmsh1#page/n167/mode/2up
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
    مسح 2.jpg
     
  10. ‏مئی 17، 2018 #10
    ابوحنظلہ

    ابوحنظلہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 20، 2018
    پیغامات:
    163
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    25

    بدقسمتی سے یہ چودھویں صدی کے علمائے اہلحدیث اتباع قرآن وحدیث کا دعوی کرتے ہوئے دنیا سے چلے گئے اور پندرھویں صدی کے علمائے اہل حدیث کی نظر میں ناقابل اعتبار و غیر مستند قرار پائے۔ اب سولہوں آدی کے اہلحدیث علما کی نظر میں آپکا کیا مقام ہوگا واللہ اعلم
    بہرحال آپ کے دلائل کا جائزہ پیش خدمت ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں