1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جزابوں پر مسح

'طہارت' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوحنظلہ, ‏مئی 16، 2018۔

  1. ‏مئی 16، 2018 #1
    ابوحنظلہ

    ابوحنظلہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 20، 2018
    پیغامات:
    163
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    25


    جرابوں ہر مسح اور اہل حدیث علما

    ۱۔ شیخ الکل فی الکل نذیر حسین دہلوی لکھتےہیں :
    اَلْمَسْحُ عَلَی الْجَوْرَبَۃِ الْمَذْکُوْرَۃِ لَیْسَ بِجَائِزٍ لِاَنَّہُ لَمْ یَقُمْ عَلیٰ جَوَازِہ دَلِیْلٌ وَکُلٌّ مَّا تَمَسَّکَ بِہِ الْمُجَوِّزُوْنَ فَفِیْہِ خَدْشَۃً ظَاہِرَۃً۔
    (فتاویٰ نذیریہ ج ۱ ص ۳۲۷)
    ترجمہ : مذکورہ جرابوں پر مسح جائز نہیں ہے کیونکہ اس کی کوئی صحیح دلیل نہیں ہے اور ان پر مسح کو جائز قرار دینے والوں نے جن سے استدلال کیا ہے اس میں خدشات کا ہوناظاہر ہے۔

    ۲۔ شیخ الاسلام مولانا ثنا اللہ امرتسری لکھتے ہیں۔
    جرابوں پر مسح جائز نہیں۔ (فتاویٰ ثنائیہ ج ۱ ص ۴۴۳)

    ۳۔ شہرہ آفاق کتاب رحیق المختوم کے مصنف مولوی عبدالرحمٰن مبارکپوری لکھتے ہیں :
    وَالْحَاصِلُ اَنَّہُ لَیْسَ فِیْ بَابِ الْمَسْحِ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ حَدِیْثٌ مَّرْفُوْعٌ صَحِیْحٌ خَالٍ عَنِ الْکَلَاْمِ۔ (تحفۃ الاحوذی ج ۱ ص ۳۴۹)
    ترجمہ: اس تمام بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جرابوں پر مسح کرنے کے بارے میں کوئی حدیث مرفوع صحیح ایسی نہیں جو کلام سے خالی ہو یعنی جس پر محدثین رحمہم اللہ نے ضعف کا حکم نہ لگایا ہو۔

    ۴۔ اہلحدیث عالم مولوی ابو سعید شرف الدین دہلوی لکھتے ہیں
    یہ بعض ائمہ امام شافعی وغیرہ کا مسلک ہے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا بھی یہی مسلک ہے مگر یہ مسلک صحیح نہیں اس لیے کہ دلیل صحیح نہیں ہے …….. یہ جرابوں پر مسح والا مسئلہ نہ قرآن سے ثابت ہے نہ حدیث مرفوع صحیح سے نہ اجماع نہ قیاس سے لہٰذا خف چرمی جس پر مسح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کے سوا جورب پر مسح ثابت نہیں ہوا۔ (فتاویٰ ثنائیہ ج ۱ ص ۴۴۱)

    ۵۔ جورابوں پر مسح کرنا حدیث صحیح سے ثابت نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بعض صحابہ کے مسح کرنے سے جوربین پر یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ مطلق جوربین پر مسح جائز ہے کیونکہ یہ معلوم نہیں کہ وہ جوربین چمڑے کی تھین یا اور چیز کی ہاں اگر کوئی قولی حدیث ایسی ہے جس میں حکم ہو کہ اِمْسَحْ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ پھر تو مطلق جرابوں پر مسح اس سے ثابت ہوجائے گا وَاِذْ لَیْسَ فَلَیْسَ ہاں اگر جوربین اون اور سوت کی ایسی سخت ہوں کہ سختی میں چمڑے کی بربری کریں پس وہ چمڑے کا حکم رکھتی ہیں اور ان پر مسح جائز ہے۔ (مجموعہ فتاویٰ مولوی عبدالجبار ص ۱۰۲)

    ۶۔ اہلحدیث عالم ابو البرکات احمد لکھتے ہیں : موزوں پر مسح کرنے والی بہت زیادہ احادیث ہیں لیکن جرابوں پر مسح کرنے کے متعلق کوئی حدیث صحیح نہیں ہے (فتاویٰ برکاتیہ ص ۱۸)

    ۷۔ اہلحدیث عالم محمد یونس لکھتے ہیں :جرابوں پر مسح کرنا درست ہے جب کہ وہ خف بنی ہوئی ہوں معمولی اور پتلی جرابوں پر مسح کرنا؛ ناجائز ہے۔ مسح جراب کی اکثر حدیثیں ضعیف ہیں امام ابو داؤد نے اپنی کتاب میں ضعیف کہا ہے۔
    )دستور المتقی فی احکام النبی صلی اللہ علیہ وسلم ص ۷۸ اسلامک پبلشنگ ہاؤس لاہور)
    وما علینا الالبلاغ

    -ابوحنظلہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں