1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جس سے جنازہ کی کچھ تکبیریں جماعت کے ساتھ چھوٹ گئی ہوں وہ کیا کرے ؟

'نماز جنازہ' میں موضوعات آغاز کردہ از اسحاق سلفی, ‏دسمبر 12، 2017۔

  1. ‏دسمبر 12، 2017 #1
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,359
    موصول شکریہ جات:
    2,393
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    ایک بھائی نے ذاتی پیغام سوال کیا ہے کہ :
    السلام و علیکم ( اگر کسی کی نمازِ جنازہ میں دو تکبیر چھوٹ جائے تو وہ باقی دو تکبیر کیا کرے ؟
    ـــــــــــــــــــــــــ
    جواب :
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ ابن بازرحمہ اللہ سے یہی سوال ہوا تو انہوں نے فتوی دیا کہ :
    ـــــــــــــــــــ
    قال الشيخ ابن باز رحمه الله : السنة لمن فاته بعض تكبيرات الجنازة أن يقضي ذلك ؛ لعموم قول النبي صلى الله عليه وسلم: (إذا أقيمت الصلاة فامشوا إليها وعليكم السكينة والوقار ، فما أدركتم فصلوا ، وما فاتكم فاقضوا) ، وصفة القضاء : أن يعتبر ما أدركه هو أول صلاته وما يقضيه هو آخرها ، لقوله صلى الله عليه وسلم : (فما أدركتم فصلوا ، وما فاتكم فأتموا) ، فإذا أدرك الإمام في التكبيرة الثالثة كبر وقرأ الفاتحة, وإذا كبر الإمام الرابعة كبر بعده وصلى على النبي صلى الله عليه وسلم, فإذا سلم الإمام كبر المأموم المسبوق، ودعا للميت دعاء موجزاً, ثم يكبر الرابعة ويسلم " انتهى من " مجموع الفتاوى " (13/149)
    ترجمہ :
    جس سے جنازہ کی بعض تکبیر چھوٹ گئی اس کے متعلق لکھتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ جس سے جنازہ کی بعض تکبیر یں چھوٹ گئیں وہ ان کی قضا کرے نبی ﷺ کے قول کے عموم کی وجہ سے ۔
    إذا أقيمت الصلاة فامشوا إليها وعليكم السكينة والوقار ، فما أدركتم فصلوا ، وما فاتكم فاقضوا(جب نماز کھڑی ہوجائے تو اس کی طرف چل پڑو اور سکینت ووقار لازم پکڑو، جو مل گئی اسے پڑھو اور جوچھوٹ گئی اس کی قضا کرو)
    قضا کا طریقہ یہ ہے: جو مل گئی ہے اسے اول نماز سمجھے اور چھوٹ گئی ہے (جس کی قضا کرنی ہے)اسے نماز کا آخری حصہ سمجھے۔ نبی ﷺ کے فرمان کی وجہ سے: فما أدركتم فصلوا ، وما فاتكم فأتموا(جو مل گئی اسے پڑھو اور چھوٹ گئی اس کی قضا کرو)۔
    اگر مقتدی امام کو تیسری تکبیر میں پائے تو وہ تکبیر کہہ کر فاتحہ پڑھے اور جب امام چوتھی تکبیر کہے تو وہ اس کے پیچھے تکبیر کہے اور نبی ﷺ پر درود پڑھے۔ اور جب امام سلام پھیردے تو وہ (سلام نہ پھیرکر) خود سے تکبیر کہے تو اور میت کے لئے مختصر دعا کرے اور پھر چوتھی تکبیر کہے اور سلام پھیردے ۔ (مجموع الفتاوى :13/149)
    ______________________________
    اور فتاویٰ کیلئے سعودی عرب کے جید علماء پر مشتمل کمیٹی (اللجنۃ الدائمہ ) کا فتوی اس مسئلہ پر حسب ذیل ہے ؛
    حكم قضاء ما فات من صلاة الجنازة

    السؤال الرابع من الفتوى رقم (5069)
    سوال : ما حكم من أدرك مع الإمام تكبيرة من صلاة الجنازة، وفاته ثلاث تكبيرات، وماذا يفعل؟
    جواب: يكمل صلاة الجنازة فيكبر ثلاث تكبيرات قضاء قبل رفع الجنازة، لما فاته ثم يسلم، ويعتبر ما أدركه مع الإمام أول صلاة، ويكفيه أقل الواجب بعد التكبيرة الثانية والثالثة، فيقول بعد الثانية: اللهم صل على محمد، وبعد الثالثة: اللهم اغفر له، ويسلم بعد الرابعة.
    وبالله التوفيق وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.
    اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
    عضو ... عضو ... نائب رئيس اللجنة ... الرئيس
    عبد الله بن قعود ... عبد الله بن غديان ... عبد الرزاق عفيفي ... عبد العزيز بن عبد الله بن باز

    ــــــــــــــــــــ
    ترجمہ :

    سوال :
    اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جس کو نماز جنازہ میں امام کے پیچھے صرف ایک تکبیر ملی ہے، اور تین تکبیرات چھوٹ گئی ہيں؟ اب وہ شخص کیا کرے گا؟

    ــــــــــــــــــــــــــ
    جواب : وہ نماز جنازہ کو مکمل کرے گا، اور جنازہ اٹھانے سے پہلے چھوٹی ہوئی ان تین تکبیرات کی قضا کرے گا، اس لئے کہ وہ تکبیرات اس سے چھوٹ گئی تهیں، پهر اس کے بعد وہ سلام پھیرے گا، اور نماز کا جو حصہ اس نے امام کے ساتھـ پایا ہے، اس کو نماز کا اول حصہ سمجھا جائے گا، دوسری اور تیسری تکبیر کے بعد واجب کی کم سے کم مقدار کی ادائیگی اس کے لئے کافی ہے، لہذا وہ دوسری رکعت کے بعد درود پڑھے گا، تیسری رکعت کے بعد جنازہ کی دعا پڑهے گا، اور چوتھی رکعت کے بعد سلام پهیر دے گا۔
    ( [فتاوى اللجنة الدائمة جلد کا نمبر 8، صفحہ 400)
    وبالله التوفيق۔ وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم۔
    علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی
    ممبر ممبر نائب صدر برائے کمیٹی صدر
    عبد اللہ بن قعود عبد اللہ بن غدیان عبدالرزاق عفیفی عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں