1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جس کے ساتھ زبردستی کی جائے اس کا نکاح

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏مئی 01، 2012۔

  1. ‏مئی 01، 2012 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,946
    موصول شکریہ جات:
    5,773
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    {‏ ولا تكرهوا فتياتكم على البغاء إن أردن تحصنا لتبتغوا عرض الحياة الدنيا ومن يكرههن فإن الله من بعد إكراههن غفور رحيم‏}‏
    جائز نہیں اور اللہ نے سورۃ النور میں فرمایا تم اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو جو پاک دامن رہنا چاہتی ہیں تاکہ تم اس کے ذریعہ دنیا کی زندگی کا سامان جمع کرو اور جو کوئی ان پر جبر کرے گا تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ بخشنے والا مہربان ہے۔


    حدیث نمبر: 6945
    حدثنا يحيى بن قزعة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا مالك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عبد الرحمن بن القاسم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عبد الرحمن،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ومجمع،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ابنى يزيد بن جارية الأنصاري عن خنساء بنت خذام الأنصارية،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أن أباها،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ زوجها وهى ثيب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فكرهت ذلك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فأتت النبي صلى الله عليه وسلم فرد نكاحها‏.‏

    ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن القاسم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے یزید بن حارثہ انصاری کے دو صاحبزادوں عبدالرحمٰن اور مجمع نے اور ان سے خنساء بنت خذام انصاریہ نے کہ ان کے والد نے ان کی شادی کر دی ان کی ایک شادی اس سے پہلے ہو چکی تھی (اور اب بیوہ تھیں) اس نکاح کو انہوں نے ناپسند کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر (اپنی ناپسندیدگی ظاہر کر دی) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو فسخ کر دیا۔


    حدیث نمبر: 6946
    حدثنا محمد بن يوسف،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا سفيان،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن ابن جريج،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن ابن أبي مليكة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبي عمرو ـ هو ذكوان ـ عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ قالت قلت يا رسول الله يستأمر النساء في أبضاعهن قال ‏"‏ نعم ‏"‏‏.‏ قلت فإن البكر تستأمر فتستحي فتسكت‏.‏ قال ‏"‏ سكاتها إذنها ‏"‏‏.‏

    ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے ابوعمرو نے جن کا نام ذکوان ہے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا عورتوں سے ان کے نکاح کے سلسلہ میں اجازت لی جائے گی؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ میں نے عرض کیا لیکن کنواری لڑکی سے اجازت لی جائے گی تو وہ شرم کی وجہ سے چپ سادھ لے گی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی خاموشی ہی اجازت ہے۔


    کتاب الاکراہ صحیح بخاری
     
  2. ‏مئی 01، 2012 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏مئی 01، 2012 #3
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,501
    موصول شکریہ جات:
    6,012
    تمغے کے پوائنٹ:
    447

    جزاک اللہ خیرا

     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. اسحاق سلفی
    جوابات:
    0
    مناظر:
    870
  2. اسحاق سلفی
    جوابات:
    0
    مناظر:
    520
  3. محمد ارسلان
    جوابات:
    4
    مناظر:
    268
  4. عبدالجبار سلفی
    جوابات:
    1
    مناظر:
    458
  5. محمد عامر یونس
    جوابات:
    1
    مناظر:
    305

اس صفحے کو مشتہر کریں