1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جس گھر میں کھجور نہیں،وہ گھر والے بھوکے ہیں

'طب نبویﷺ' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏مارچ 14، 2017۔

  1. ‏مارچ 14، 2017 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,246
    موصول شکریہ جات:
    354
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    جس گھر میں کھجور نہیں،وہ گھر والے بھوکے ہیں
    مقبول احمد سلفی

    احادیث کے اندر کھجور کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے کیونکہ اس میں صحت کا راز اور مختلف بیماریوں کا علاج موجود ہے ۔ ان فضیلتوں والی احادیث میں ایک حدیث وہ بھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جس گھر میں کھجور ہو وہ گھروالے کبھی بھوکے نہیں رہتے ۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جس گھر میں کھجور نہ ہو وہ گھروالے بھوکے ہیں ۔ دونوں روایات میں پیش کرتا ہوں ۔
    پہلی روایت : ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
    لا يجوعُ أهلُ بيتٍ عندهم التَّمْرُ(صحيح مسلم:2046)
    ترجمہ: اس گھر کے لوگ بھوکے نہیں رہتے جس گھر میں کھجور ہو۔
    *اسے امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ذکر کیا ہے ۔
    دوسری روایت : ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
    يا عائشةُ ! بيتٌ لا تمرَ فيهِ ، جياعٌ أهلُهُ . يا عائشةُ ! بيتٌ لا تمرَ فيهِ جياعٌ أهلُهُ - أو جاعَ أهلُهُ - قالها مرتينِ ، أو ثلاثًا .(صحيح مسلم:2046)
    ترجمہ: اسے عائشہ ! جس گھر میں کھجور نہ ہو اس گھر کے رہنے والے بھوکے ہیں ۔ اسے عائشہ ! جس گھر میں کھجور نہ ہو اس گھر کے رہنے والے بھوکے ہیں ۔ آپ ﷺنےیہ بات دو مرتبہ یا تین مرتبہ دہرائی۔
    ٭اسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں ذکر کیا ہے ۔
    یہ حدیث بلاشبہ کھجوروں کی اہمیت وفضیلت اجاگر کرتی ہے ، ساتھ ہی اس حدیث سے یہ جواز بھی نکلتا ہے کہ ہم کھجوروں کو جمع کرکے گھر میں رکھ سکتے ہیں تاکہ تھوڑا تھوڑا اس میں سے کھاتے رہیں اور گھر کبھی کھجوروں سے خالی نہ ہو۔
    یہاں ایک اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس گھر میں کھجور نہیں اس گھر کے رہنے والےکیا واقعی بھوکے ہیں ؟ یعنی ان کی بھوک نہیں مٹتی جبکہ مشاہدے میں یہ بات آتی ہے کہ لوگ بغیر کھجور کے بھی شکم سیر ہورہے ہیں ؟۔
    تو اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ حدیث میں اہل بیت یا اھلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے یہاں کھجوروں کی پیداروار ہوتی ہے اور ان کی خوارک ہی کھجور ہے جیسے کہ نبی ﷺ کے زمانے میں نجد و مدینہ والے جن کے یہاں مہینوں گذر جاتا مگر ان کے پاس سوائے کھجور وپانی کے کچھ بھی نہیں ہوتا ، اسی سے ان گزربسر ہوتا ۔ آج کل کوئی بھی جگہ ایسی نہیں جہاں صرف کھجور خوراک کے طور پر استعمال ہوتی ہو، نجد اور مدینہ میں بھی نہیں ۔ اس بات سے کھجور کی اہمیت کم نہیں ہوجاتی کیونکہ اس حدیث سے اصل کھجور وں کی اہمیت وفضلیت بیان کرنا اور گھر والوں کے لئے غذائی ضروریات کی ذخیرہ اندوزی کے جواز کا اظہار اور اس کی ترغیب دینا مقصود ہے ۔ یہ غذاء بھی ہے اور شفا بھی ۔ اس لئے ہمیں کھجوروں کی طرف التفات کرنا چاہئے ۔ آج ہمارے گھروں میں متعدد قسم کی مٹھائیاں ، بسکوٹ، نمک پارے موجود ہوتے ہیں جن سے گھروالے بھی وقتا فوقتا ناشتہ کرتے رہتے ہیں اور گھرآنے والے مہمانوں کی بھی ضیافت کرتے ہیں ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان سامانوں کی جگہ ہمارے گھر کھجور ہوتی۔ سنت پر بھی عمل ہوجاتا اور اس سے نہ صرف جسمانی قوت حاصل ہوتی بلکہ جسمانی بیماریوں سے شفا بھی ملتی ۔
     
    • پسند پسند x 4
    • علمی علمی x 2
    • مفید مفید x 2
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 03، 2018 #2
    طارق راحیل

    طارق راحیل مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2011
    پیغامات:
    390
    موصول شکریہ جات:
    692
    تمغے کے پوائنٹ:
    125

    شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  3. ‏ستمبر 15، 2018 #3
    شیخ قاسم

    شیخ قاسم رکن
    جگہ:
    سیالکوٹ
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 03، 2014
    پیغامات:
    225
    موصول شکریہ جات:
    9
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    جزاک الله خیرا کثیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں