1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جشن عید میلاد النبی جیسی بدعات کو اچھا سمجھنے والے کا رد

'بدعی عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از Aamir, ‏اپریل 17، 2012۔

  1. ‏اپریل 17، 2012 #1
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    جشن عید میلاد النبی جیسی بدعات کو اچھا سمجھنے والے کا رد
    ﴿ الرد على من استحسن شيئا من البدع كالاحتفال بالمولد النبوي ﴾



    محمد صالح المنجد
    مراجعہ: شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
    ناشر: 2010- 1431

    بسم الله الرحمن الرحيم

    جشن عید میلاد النبی جیسی بدعات کو اچھا سمجھنے والے کا رد
    سوال: برائے مہربانی درج ذیل موضوع کے متعلق معلومات مہیا کریں: عید میلاد النبی صلى اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لوگ دو گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں, ان میں سے ایک گروہ تو کہتا ہے کہ یہ بدعت ہے کیونکہ نہ تو یہ نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے دور میں منائی گئی اور نہ ہی صحابہ کے دور میں اور نہ تابعین کے دور میں. اور دوسراگروہ اسکا رد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ :تمہیں جو بھی کہے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے دور میں یا پھر صحابہ کے دور میں یا تابعین کے دورمیں پایا گیا ہے ,مثلا ہمارے پاس علم رجال اور جرح وتعدیل نامی اشیاء ایسی ہیں اور انکا انکار بھی کوئی شخص نہیں کرتا حالانکہ انکار میں اصل یہ ہے کہ وہ بدعت نئی ایجاد کردہ ہو اور اصل کی مخالف ہو-اورجشن عید میلاد النبی صلى اللہ علیہ وسلم کی اصل کہاں ہے جسکی مخالفت ہوئی ہےٍ, اوربہت سارے اختلافات اس موضوع کے اردگرد گھومتے ہیں؟ اسی طرح وہ اسکودلیل بناتے ہیں کہ ابن کثیررحمہ اللہ نے جشن میلاد النبی منانے کو صحیح کہا ہے ,اسلئے آپ اس سلسلے میں شرعی دلائل کے ساتھ حکم واضح کریں؟

    الحمد للہ:
    اول:
    سب سے پہلى بات تو يہ ہے كہ علماء كرام كا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى تاريخ پيدائش ميں اختلاف پايا جاتا ہے اس ميں كئى ايك اقوال ہيں جنہيں ہم ذيل ميں پيش كرتے ہيں:
    ہمارے علم كے ليے علماء كا يہى اختلاف ہى كافى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے محبت كرنے والے اس امت كے سلف علماء كرام تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى پيدائش كے دن كا قطعى فيصلہ نہ كر سكے، چہ جائيكہ وہ جشن ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم مناتے، اور پھر كئى صدياں بيت گئى ليكن مسلمان يہ جشن نہيں مناتے تھے، حتى كہ فاطميوں نے اس جشن كى ايجاد كى.
    شيخ على محفوظ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " سب سے پہلے يہ جشن فاطمى خلفاء نے چوتھى صدى ہجرى ميں قاہرہ ميں منايا، اور انہوں نے ميلاد كى بدعت ايجاد كى جس ميں ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم، اور على رضى اللہ تعالى عنہ كى ميلاد، اور فاطمۃ الزہراء رضى اللہ تعالى عنہا كى ميلاد، اور حسن و حسين رضى اللہ تعالى عنہما، اور خليفہ حاضر كى ميلاد، منانے كى بدعت ايجاد كى، اور يہ ميلاديں اسى طرح منائى جاتى رہيں حتى كہ امير لشكر افضل نے انہيں باطل كيا. اور پھر بعد ميں خليفہ آمر باحكام اللہ كے دور میں پانچ سو چوبيس ہجرى ميں دوبارہ شروع كيا گيا حالانكہ لوگ تقريبا اسے بھول ہى چكے تھے.
    اور سب سے پہلا شخص جس نے اربل شہر ميں ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم كى ايجاد كى وہ ابو سعيد ملك مظفر تھا جس نے ساتويں صدى ہجرى ميں اربل كے اندر جشن میلاد النبی منائى، اور پھر يہ بدعت آج تك چل رہى ہے، بلكہ لوگوں نے تو اس ميں اور بھى وسعت دے دى ہے، اور ہر وہ چيز اس ميں ايجاد كر لى ہے جو ان كى خواہش تھى، اور جن و انس كے شياطين نے انہيں جس طرف لگايا اور جو كہا انہوں نے وہى اس ميلاد ميں ايجاد كر ليا " انتہى ديكھيں" الإبداع في مضار الابتداع " ( ص 251 )
    دوم:
    سوال ميں ميلاد النبى كے قائلين كا يہ قول بيان ہوا ہے كہ:
    جو تمہيں كہے كہ ہم جو بھى كرتے ہيں اس كا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم يا عہد صحابہ يا تابعين ميں پايا جانا ضرورى ہے "
    اس شخص كى يہ بات اس پر دلالت كرتى ہے كہ ايسى بات كرنے والے شخص كو تو بدعت كے معنى كا ہى علم نہيں جس بدعت سے ہميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بچنے كا بہت سارى احاديث ميں حكم دے ركھا ہے؛ اس قائل نے جو قاعدہ اور ضابطہ ذكر كيا ہے وہ تو ان اشياء كے ليے ہے جو اللہ كا قرب حاصل كرنے كے ليے كى جاتى ہيں يعنى اطاعت و عبادت ميں يہى ضابطہ ہو گا.
    اس ليے كسى بھى ايسى عبادت كے ساتھ اللہ كا قرب حاصل كرنا جائز نہيں جو ہمارے ليے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مشروع نہيں كى، اور يہ چيز نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جو ہميں بدعات سے منع كيا ہے اسى سے مستنبط اور مستمد ہے، اور بدعت اسے كہتے ہيں كہ: كسى ايسى چيز كے ساتھ اللہ كا قرب حاصل كرنے كى كوشش كى جائے جو اس نے ہمارے ليے مشروع نہيں كى، اسى ليے حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ كہا كرتے تھے:
    " ہر وہ عبادت جو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ نے نہيں كى تم بھى اسے مت كرو "
    اور اسی کے مثل امام مالک نے فرمایا: "جو چیز اسوقت دین نہ تھی ,آج بھی دین نہ ہوگی"
    يعنى: جو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں دين نہيں تھا، اور نہ ہى اس كے ساتھ اللہ كا قرب حاصل كيا جاتا تھا تو اس كے بعد بھى وہ دين نہيں بن سكتا "
    پھر سائل نے جو مثال بيان كى ہے وہ جرح و تعديل كے علم كى ہے، اس نے كہا ہے كہ يہ بدعت غير مذموم ہے، جو لوگ بدعت كى اقسام كرتے ہوئے بدعت حسنہ اور بدعت سئيہ كہتے ہيں ان كا يہى قول ہے كہ يہ بدعت حسنہ ہے، بلكہ تقسيم كرنے والے تو اس سے بھى زيادہ آگے بڑھ كر اسے پانچ قسموں ميں تقسيم كرتے ہوئے احكام تكليفيہ كى پانچ قسميں كرتے ہيں:
    وجوب، مستحب، مباح، حرام اور مكروہ عزبن عبد السلام رحمہ اللہ نے يہ تقسيم ذكر كيا ہے اور ان كے شاگرد القرافى نے بھى ان كى متابعت كى ہے.

    اور شاطبى رحمہ اللہ قرافى كا اس تقسيم پر راضى ہونے كا رد كرتے ہوئے كہتے ہيں:
    " يہ تقسيم اپنى جانب سے اختراع اور ايجاد ہے جس كى كوئى شرعى دليل نہيں، بلكہ يہ اس كا نفس متدافع ہے؛ كيونكہ بدعت كى حقيقت يہى ہے كہ اس كى كوئى شرعى دليل نہ ہو نہ تو نصوص ميں اور نہ ہى قواعد ميں، كيونكہ اگر كوئى ايسى شرعى دليل ہوتى جو وجوب يا مندوب يا مباح وغيرہ پر دلالت كرتى تو پھرى كوئى بدعت ہوتى ہى نہ، اور عمل سارے ان عمومى اعمال ميں شامل ہوتے جن كا حكم ديا گيا ہے يا پھر جن كا اختيار ديا گيا ہے، چنانچہ ان اشياء كو بدعت شمار كرنے اور يہ كہ ان اشياء كے وجوب يا مندوب يا مباح ہونے پر دلائل دلالت كرنے كو جمع كرنا دو منافى اشياء ميں جمع كرنا ہے اور يہ نہيں ہو سكتا.

    رہا مكروہ اور حرام كا مسئلہ تو ان كا ايك وجہ سے بدعت ہونا مسلم ہے، اور دوسرى وجہ سے نہيں، كيونكہ جب كسى چيز كے منع يا كراہت پر كوئى دليل دلالت كرتى ہو تو پھر اس كا بدعت ہونا ثابت نہيں ہوتا، كيونكہ ممكن ہے وہ چيز معصيت و نافرمانى ہو مثلا قتل اور چورى اور شراب نوشى وغيرہ، چنانچہ اس تقسيم ميں كبھى بھى بدعت كا تصور نہيں كيا جا سكتا، الا يہ كہ كراہت اور تحريم جس طرح اس كے باب ميں بيان ہوا ہے.
    اور قرافى نے بدعت كے انكار پر اصحاب سے جو اتفاق ذكر كيا ہے وہ صحيح ہے، اور اس نے جو تقسيم كى ہے وہ صحيح نہيں، اور اس كا اختلاف سے متصادم ہونے اور اجماع كو ختم كرنے والى چيز كى معرفت كے باوجود اتفاق ذكر كرنا بہت تعجب والى چيز ہے، لگتا ہے كہ اس نے اس تقسيم ميں بغير غور و فكر كيے اپنے استاد ابن عبد السلام كى تقليد و اتباع كى ہے.
    پھر انہوں نے اس تقسيم ميں ابن عبد السلام رحمہ اللہ كا عذر بيان كيا ہے اور اسے " مصالح مرسلہ " كا نام ديا ہے كہ يہ بدعت ہے، پھر كہتے ہيں:
    " ليكن اس تقسيم كو نقل كرنے ميں قرافى كا كوئى عذر نہيں كيونكہ انہوں نے اپنے استاد كى مراد كے علاوہ اس تقسيم كو ذكر كيا ہے، اور نہ ہى لوگوں كى مراد پر بيان كيا ہے، كيونكہ انہوں نے اس تقسيم ميں سب كى مخالفت كى ہے، تو اس طرح يہ اجماع كے مخالف ہوا " انتہى
    ديكھيں: الاعتصام ( 152 - 153 ).
    ہم نصيحت كرتے ہيں كہ آپ كتاب سے اس موضوع كا مطالعہ ضرور كريں كيونكہ رد كے اعتبار سے يہ بہت ہى بہتر اور اچھا ہے اس ميں انہوں نے فائدہ مند بحث كى ہے.
    عز بن عبد السلام رحمہ اللہ نے بدعت واجبہ كى تقسيم كى مثال بيان كرتے ہوئے كہا ہے:
    " بدعت واجبہ كى كئى ايك مثاليں ہيں:
    پہلى مثال:
    علم نحو جس سے كلام اللہ اور رسول اللہ كى كلام كا فہم آئے ميں مشغول ہونا اور سيكھنا يہ واجب ہے؛ كيونكہ شريعت كى حفاظت واجب ہے، اور اس كى حفاظت اس علم كو جانے بغير نہيں ہو سكتى، اور جو واجب جس كے بغير پورا نہ ہو وہ چيز بھى واجب ہوتى ہے.
    دوسرى مثال:
    كتاب اللہ اور سنت رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميں سے غريب الفاظ اور لغت كى حفاظت كرنا.
    تيسرى مثال:
    اصول فقہ كى تدوين.
    چوتھى مثال:
    جرح و تعديل ميں كلام كرنا تا كہ صحيح اور غلط ميں تميز ہو سكے، اور شرعى قواعد اس پر دلالت كرتے ہيں كہ شريعت كى حفاظت قدر متعين سے زيادہ كى حفاظت فرض كفايہ ہے، اور شريعت كى حفاظت اسى كے ساتھ ہو سكتى ہے جس كا ہم نے ذكر كيا ہے " انتہى.
    ديكھيں: قواعد الاحكام فى مصالح الانام ( 2 / 173 ).

    اور شاطبى رحمہ اللہ بھى اس كا رد كرتے ہوئے كہتے ہيں:
    " اور عزبن عبد السلام نے جو كچھ كہا ہے: اس پر كلام وہى ہے جو اوپر بيان ہو چكى ہے، اس ميں سے واجب كى مثاليں اسى كے حساب سے ہيں كہ جو واجب جس كے بغير واجب پورا نہ ہوتا ہو تو وہ چيز بھى واجب ہے ـ جيسا اس نے كہا ہے ـ چنانچہ اس ميں يہ شرط نہيں لگائى جائيگى كہ وہ سلف ميں پائى گئى ہو، اور نہ ہى يہ كہ خاص كر اس كا اصل شريعت ميں موجود ہو؛ كيونكہ يہ تو مصالح مرسلہ كے باب ميں شامل ہے نہ كہ بدعت ميں " انتہى. ديكھيں: الاعتصام ( 157 - 158 ).

    اور اس رد كا حاصل يہ ہوا كہ:
    ان علوم كو بدعت شرعيہ مذمومہ كے وصف سے موصوف كرنا صحيح نہيں، كيونكہ دين اور سنت نبويہ كى حفاظت والى عمومى شرعى نصوص اور شرعى قواعد سے ان كى گواہى ملتى ہے اور جن ميں شرعى نصوص اور شرعى علوم ( كتاب و سنت ) كو لوگوں تك صحيح شكل ميں پہچانے كا بيان ہوا ہے اس سے بھى دليل ملتى ہے. اور يہ بھى كہنا ممكن ہے كہ: ان علوم كو لغوى طور پر بدعت شمار كيا جا سكتا ہے، نا كہ شرعى طور پر بدعت، اور شرعى بدعت سارى مذموم ہى ہيں، ليكن لغوى بدعت ميں سے كچھ تو محمود ہيں اور كچھ مذموم.

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " شرعى عرف ميں بدعت مذ موم ہى ہے، بخلاف لغوى بدعت كے، كيونكہ ہر وہ چيز جو نئى ايجاد كى گئى اور اس كى مثال نہ ہو اسے بدعت كا نام ديا جاتا ہے چاہے وہ محمود ہو يا مذموم " انتہى - ديكھيں: فتح البارى ( 13 / 253 ).
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كا يہ بھى كہنا ہے:
    " البدع يہ بدعۃ كى جمع ہے، اور بدعت ہر اس چيز كو كہتے ہيں جس كى پہلے مثال نہ ملتى ہو، لہذا لغوى طور پر يہ ہر محمود اور مذموم كو شامل ہو گى، اور اہل شرع كے عرف ميں يہ مذموم كے ساتھ مختص ہو گى، اگرچہ يہ محمود ميں وارد ہے، ليكن يہ لغوى معنى ميں ہو گى " انتہى ديكھيں: فتح البارى ( 13 / 340 ).
    اور صحيح بخارى كتاب الاعتصام بالكتاب و السنۃ باب نمر 2حديث نمبر ( 7277 ) میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كى تعليق پر شيخ عبد الرحمن البراك حفظہ اللہ كہتے ہيں:
    " يہ تقسيم لغوى بدعت كے اعتبار سے صحيح ہے، ليكن شرع ميں ہر بدعت گمراہى ہے، جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
    " اور سب سے برے امور دين ميں نئے ايجاد كردہ ہيں، اور ہر بدعت گمراہى ہے "
    اور اس عموم كے باوجود يہ كہنا جائز نہيں كہ كچھ بدعات واجب ہوتى ہيں يا مستحب يا مباح، بلكہ دين ميں يا تو بدعت حرام ہے يا پھر مكروہ، اور مكروہ ميں يہ بھى شامل ہے جس كے متعلق انہوں نے اسے بدعت مباح كہا ہے: يعنى عصر اور صبح كے بعد مصافحہ كرنے كے ليے مخصوص كرنا " انتہى
    اور يہ معلوم ہونا ضرورى ہے كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور صحابہ كرام كے دور ميں كسى بھى چيز كے كيے جانے كے اسباب كے پائے جانے اور موانع كے نہ ہونے كو مدنظر ركھنا چاہيے چنانچہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا ميلاد اور صحابہ كرام كى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے محبت يہ دو ايسے سبب ہيں جو صحابہ كرام كے دور ميں پائے جاتے تھے جس كى بنا پر صحابہ كرام آپ كا جشن ميلاد منا سكتے تھے، اور پھر اس ميں كوئى ايسا مانع بھى نہيں جو انہيں ايسا كرنے سے روكتا.
    لہذا جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كے صحابہ كرام نے جشن ميلاد نہيں منايا تو يہ علم ہوا كہ يہ چيز مشروع نہيں، كيونكہ اگر يہ مشروع ہوتى تو صحابہ كرام اس كى طرف سب لوگوں سے آگے ہوتے اور سبقت لے جاتے.

    شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " اور اسى طرح بعض لوگوں نے جو بدعات ايجاد كر ركھى ہيں وہ يا تو عيسى عليہ السلام كى ميلاد كى طرح عيسائيوں كے مقابلہ ميں ہيں، يا پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى محبت ا ور تعظيم ميں ـ اللہ سبحانہ و تعالى اس محبت اور كوشش كا تو انہيں اجروثواب دے گا نہ كہ اس بدعت پر ـ كہ انہوں نے ميلاد النبى كا جشن منانا شروع كر ديا ـ حالانكہ آپ كى تاريخ پيدائش ميں تو اختلاف پايا جاتا ہے ـ اور پھر كسى بھى سلف نے يہ ميلاد نہيں منايا، حالانكہ اس كا مقتضى موجود تھا، اور پھر اس ميں مانع بھى كوئى نہ تھا. اور اگر يہ يقينى خير و بھلائى ہوتى يا راجح ہوتى تو سلف رحمہ اللہ ہم سے زيادہ اس كے حقدار تھے؛ كيونكہ وہ ہم سے بھى زيادہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ محبت كرتےتھے، اور آپ كى تعظيم ہم سے بہت زيادہ كرتے تھے، اور پھر وہ خير و بھلائى پر بھى بہت زيادہ حريص تھے. بلكہ كمال محبت اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى تعظيم تو اسى ميں ہے كہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم كى اتباع و پيروى كى جائے، اور آپ كا حكم تسليم كيا جائے، اور ظاہرى اور باطنى طور پر بھى آپ كى سنت كا احياء كيا جائے، اور جس كے ليے آپ صلى اللہ عليہ وسلم مبعوث ہوئے اس كو نشر اور عام كيا جائے، اور اس پر قلبى لسانى اور ہاتھ كے ساتھ جھاد ہو. كيونكہ مہاجر و انصار جو سابقين و اولين ميں سے ہيں انكا بھى يہى طريقہ رہا ہے اور ان كے بعد ان كى پيروى كرنے والے تابعين عظام كا بھى " انتہى - ديكھيں: اقتضاء الصراط ( 294 - 295 ).

    اور يہى كلام صحيح ہے جو يہ بيان كرتى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى محبت تو آپ كى سنت پر عمل كرنے سے ہوتى ہے، اور سنت كو سيكھنے اور اسے نشر كرنے اور اس كا دفاع كرنے ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى محبت ہے اور صحابہ كرام كا طريقہ بھى يہى رہا ہے.
    ليكن ان بعد ميں آنے والوں نے تو اپنے آپ كو دھوكہ ديا ہوا ہے، اور اس طرح كے جشن منانے كے ساتھ شيطان انہيں دھوكہ دے رہا ہے، ان كا خيال ہے كہ وہ اس طرح نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ اپنى محبت كا اظہار كر رہے ہيں، ليكن اس كے مقابلہ ميں وہ سنت كے احياء اور اس پر عمل پيرا ہونے اور سنت نبويہ كو نشر كرنے اور پھيلانے اور سنت كا دفاع كرنے سے بہت ہى دور ہيں.

    سوم:
    اور اس بحث كرنے والے نے جو كلام ابن كثير رحمہ اللہ كى طرف منسوب كى ہے كہ انہوں نے جشن ميلاد منانا جائز قرار ديا ہے، اس ميں صرف ہم اتنا ہى كہيں گے كہ يہ شخص ہميں يہ بتائے كہ ابن كثير رحمہ اللہ نے يہ بات كہاں كہى ہے، كيونكہ ہميں تو ابن كثير رحمہ اللہ كى يہ كلام كہيں نہيں ملى، اور ہم ابن كثير رحمہ اللہ كو اس كلام سے برى سمجھتے ہيں كہ وہ اس طرح كى بدعت كى معاونت كريں اور اس كى ترويج كا باعث بنيں ہوں.
    واللہ اعلم .
    الاسلام سوال و جواب
     
  2. ‏اپریل 17، 2012 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏اپریل 17، 2012 #3
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,501
    موصول شکریہ جات:
    6,012
    تمغے کے پوائنٹ:
    447

    جزاکم اللہ خيرا واحسن الجزاء في الدنيا و الآخر
     
  4. ‏ستمبر 02، 2012 #4
    وقاص خان

    وقاص خان مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 14، 2012
    پیغامات:
    27
    موصول شکریہ جات:
    109
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    جی بہت بہتر! آئندہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں آنے پر بلکل خوشی کا اظہار نہیں کرونگا۔ جزاک اللہ خیر۔
     
  5. ‏ستمبر 02، 2012 #5
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    اگر آئندہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائیں، تو ہمیں بھی بتائیے گا، ہم آپ کے ساتھ مل کر خوشی منائیں گے۔
     
  6. ‏ستمبر 02، 2012 #6
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,176
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    بھائی! اصل مسئلہ خوشی کا نہیں، بلکہ اس کے اظہار کا ہے۔ کیا یہ اظہار نئی تیسری عید منا کر، چراغاں کرکے، بدعات وشرکیات (جو سراسر نبی کریمﷺ کی صریح نافرمانی ہیں،) کرکے کریں گے؟؟؟

    ویسے یہ بھی بتائیے گا کہ کیا آپ کو یہ خوشی پورے سال میں ایک مرتبہ صرف 12 ربیع الاول کو ہی ہوتی ہے؟؟؟
     
  7. ‏ستمبر 02، 2012 #7
    وقاص خان

    وقاص خان مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 14، 2012
    پیغامات:
    27
    موصول شکریہ جات:
    109
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    جہاں تک میرے علم میں ہے۔عید خوشی کو کہتے ہیں۔ ایسی کئی مثالیں آپ کو ملیں گی۔ جس میں عید کا ذکر ہے۔ اور میں نے نہ ہی خوشی کے اظہار میں چراغاں کا ذکر کیا اور نہ ہی خوشی کا اظہار کسی بدعت میں شمار ہوتا ہے۔ اور میری کسی بات نے 12 ربیع الاول کی طرف بھی کوئی اشارہ نہیں کیا۔ یہ آپ نے کیسے اخذ کرلیا؟ میں تو اس مراسلے کو پڑھنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں آمد پر کسی بھی قسم کی خوشی کا اظہار چاہے وہ کسی بھی تاریخ میں ہو کا اظہار گناہ ہے۔ ظاہر ہے لکھنے والے صاحب نے پوری تحقیق کرکے ہی لکھا ہوگا۔
     
  8. ‏ستمبر 02، 2012 #8
    وقاص خان

    وقاص خان مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 14، 2012
    پیغامات:
    27
    موصول شکریہ جات:
    109
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    بات کوپکڑنے کا جو کمال آپ میں ہے وہ مجھ میں نہیں۔
     
  9. ‏ستمبر 03، 2012 #9
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,176
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    یہ تھریڈ مزعومہ عید میلاد کے متعلق ہے جو 12 ربیع الاول کو منائی جاتی ہے، لہٰذا آپ کی پوسٹ سے اس کے علاوہ اور کوئی نتیجہ اخذ ہی نہیں کیا جا سکتا۔

    خوشی کا اظہار بدعات کے ذریعے بدعت ہی ہوتا ہے۔

    بہرحال!
    نبی کریمﷺ نے مسلمانوں کیلئے اللہ کے حکم سے دو عیدیں مقرر کی ہیں۔ 12 ربیع الاول کو تیسری عید کے طور پر منانا بدعت ہے، جس میں نبی کریمﷺ سے محبت کے نام پر آپﷺ ہی کے احکامات کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔

    خوشی ہوئی کہ آپ ان خرافات کے قائل نہیں۔

    نبی کریمﷺ فداہ اَبی واُمی کی دُنیا میں ایک ہی مرتبہ ’عام الفیل‘ میں تشریف آوری ہوئی ہے، اور میرے نزدیک جسے اس بات کی خوشی نہ ہو، اس کا ایمان ہی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

    لیکن دین اسلام میں ہمارے لئے مکمل ضابطۂ حیات ہے، خوشی وغمی کے اظہار کے طریقے بھی ہمیں سکھائے گئے ہیں۔ خوشی میں فخر ومباہات وبدعات اور غمی میں نوحہ وبین وگریبان چاک کرنا وغیرہ غیر شرعی اُمور سے ہمیں روکا گیا ہے۔

    ہم صحابہ کرام﷢ کی طرح اس خوشی کا اظہار نبی کریمﷺ کے احکامات پر عمل کرکے کرتے ہیں۔ نبی کریمﷺ کی مبارک سنتوں (مثلاً سوموار کو روزہ رکھنا وغیرہ) کو حرزِ جان بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کمی وکوتاہی معاف فرمائیں۔

    ہم غیروں کی نقالی میں سال میں کسی ایک دن اس خوشی کے اظہار کو غلط سمجھتے ہیں۔

    اللہ تعالیٰ ہماری اصلاح فرمائیں!
     
  10. ‏ستمبر 03، 2012 #10
    آصف نور

    آصف نور مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 20، 2012
    پیغامات:
    19
    موصول شکریہ جات:
    48
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    مسلمانوں کو ان کی بنیاد سے دور کرنے یعنی قرآن وسنت کی تعلیمات اور فرائض سے متنفر کرنے کے لئے ایسی بدعات کو خوبصورت نعروں میں سجا کر اسلامی معاشرے میں رواج دیا گیا ہے۔
    یہ کتنی افسوس ناک بات ہے کہ ایک شخص مسجد کے قریب بیٹھا ہے اور مسجد سے آذان شروع ہوتی ہے وہ لفظ محمد پر انگوٹھے چومنا تو اپنا فرض سمجھتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی علامت سمجھتا ہے لیکن وہ مسجد نہیں جاتا یہاں تک کہ نمازی نماز کی ادائگی کے بعد جارہے ہیں اور وہ شخص اپنی جگہ بیٹھا نظر آتا ہے۔
    ہمیں اپنی بنیادی تعلیمات اور فرائض سے دور کردیا گیا اس کی وجہ صرف ایسی ہی بدعات ہیں ۔ ذہنی اور فکری طور پر اس خوش فہمی میں مبتلہ کردیا گیا ہے بس اسی کا نام محبت ہے، اسی کا نام اطاعت ہے اور بس اسی کا نام دنیا کی کامیابی اور آخرت کی فلاح ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں