1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جشن عید میلاد سے متعلق اقوال علماء کے حوالے سے بریلوی پوسٹ کا رد

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏دسمبر 28، 2015۔

  1. ‏دسمبر 28، 2015 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,233
    موصول شکریہ جات:
    352
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    بریلوی نے پہلے سوال قائم کیاہے ،سوال کچھ اس طرح ہے۔

    "سوال: کیا علمائے امت کے اقوال و افعال سے جشن عیدمیلاد النبیﷺ کا ثبوت ملتا ہے؟
    جواب: اس امت کے بڑے بڑے مفتیان کرام، علماء کرام، مفسرین، محدثین، شارحین اور فقہاء نے اپنی اپنی کتابوں میں جشن عید میلاد النبیﷺ منانے کو باعث اجر وثواب لکھا ہے، چنانچہ علمائے امت کے اقوال ملاحظہ ہوں
    ۔"

    اتنا جواب لکھنے کے بعد چند اقوال رجال ذکر کیا ہے ۔ ان اقوال سے پہلے ہم آپ کو یہ بتلادیں کہ کتاب و سنت کی دلیل کے ہوتے ہوئے اقوال کی کوئی اہمیت نہیں ۔ اور دین میں کسی بات کے ثبوت کے لئے اقوال رجال کی نہیں کتاب وسنت سے دلیل چاہئے ۔ آئیے اقوال رجال کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔

    ٭٭بریلوی کا پہلا قول :حضرت امام اعظم علیہ الرحمہ (المتوفی 150ھ) آپ رحمتہ اﷲ علیہ کا نام تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ کی دینی خدمات اس قدر ہیں کہ ساری دنیا کے مسلمان ان شاء اﷲ عزوجل تا قیامت کے علم سے مستفید رہیں گے۔ آپ رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ اپنے ’’قصیدہ نعمانیہ‘‘ میں حضور نبی اکرمﷺ کا میلاد شریف یوں بیان کرتے ہیں:
    یعنی! ’’آپ ﷺ ہی وہ ہیں کہ اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو کچھ نہ ہوتا اور آپ پیدا نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ پیدا کیا جاتا۔ وہ ہیں جن کے نور سے چودھویں کا چاند منور ہے اور آپ ﷺ ہی کے نور سے یہ سورج روشن ہے اور حضرت عیسٰی علیہ السلام آپ کی خوش خبری سنانے آئے اور آپ ﷺ کے حسن صفات کی خبر لے کر آئے‘‘ (قصیدۂ نعمانیہ، صفحہ 196، 195ء)
    ## قول کا جواب: امام ابوحنیفہؒ کی طرف جو قصیدہ منسوب کیا جاتا ہے وہ امام صاحب سے ثابت ہی نہیں ہے ، دوسری بات یہ ہے کہ یہ قصیدہ غلو پہ مبنی ہے اس لئے یہ قصیدہ امام صاحب کے عقیدہ کے بھی خلاف ہے ۔

    ٭٭بریلوی کا دوسرا قول: حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ (المتوفی 204ھ) آپ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’میلاد شریف منانے والا صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا‘‘ (النعمتہ الکبریٰ بحوالہ ’’برکات میلاد شریف‘‘ ص 6)
    ## بریلویت کا جواب: یہ قول النعمۃ الکبری سے لیا گیا ہے اور النعمہ الکبری نام کی اصل کتاب میں میلاد سے متعلق اس قسم کی کوئی غلط بات نہیں لکھی گئی تھی بعد میں کسی نے النعمۃ الکبری میں اسلام مخالف باتیں داخل کر کے رواج دیا ۔ گویا یہ کتاب علامہ ابن حجر مکی کی طرف منسوب جعلی کتاب ہے۔

    ٭٭بریلوی کا تیسرا قول: حضرت امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ (المتوفی 241ھ) آپ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں ’’شب جمعہ، شب قدر سے افضل ہے کیونکہ جمعہ کی رات سرکار علیہ السلام کا وہ نور پاک اپنی والدہ سیدہ آمنہ رضی اﷲ عنہا کے مبارک رحم میں منتقل ہوا جو دنیا و آخرت میں ایسی برکات و خیرات کا سبب ہے جوکسی گنتی و شمار میں نہیں آسکتا‘‘ (اشعتہ اللمعات)
    ## بریلویت کا جواب: یہ بات صحیح ہے کہ جمعہ ہفتے میں سب سے بہتر دن ہے مگر جمعہ شب قدر سے بھی افضل ہے ، قرآن وحدیث کے صریح نصوص کے خلاف ہے ۔ اس وجہ سے یہ قول قابل رد ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس قول کا بارہ ربیع الاول اور اس کے خرافات و بدعات سے کیا تعلق؟

    ٭٭ بریلوی کا چوتھا قول : امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ (المتوفی 606ھ) فرماتے ہیں کہ ’’جس شخص نے میلاد شریف کا انعقاد کیا۔ اگرچہ عدم گنجائش کے باعث صرف نمک یا گندم یا ایسی ہی کسی چیز سے زیادہ تبرک کا اہتمام نہ کرسکا تو ایسا شخص برکت نبوی سے محتاج نہ ہوگا اور نہ ہی اس کا ہاتھ خالی رہے گا‘‘ (النعمتہ الکبری، بحوالہ برکات میلاد شریف ص 5)
    ## بریلویت کا جواب : یہ قول بھی النعمۃ الکبری کا ہونے کی وجہ سے مردود و باطل ہے ۔

    ٭٭ بریلوی کا پانچواں قول : حضرت امام سبکی رحمتہ اﷲ علیہ (المتوفی 756ھ) آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے ’’قصیدہ تائیہ‘‘ کے آخر میں حضور نبی کریمﷺ کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے۔
    ترجمہ ’’میں قسم اٹھاتا ہوں کہ اگر تمام دریا و سمندر میری سیاہی ہوتے اور درخت میرا قلم ہوتے اور میں آپ ﷺ کی عمر بھر نشانیاں لکھتا تو ان کا دسواں حصہ بھی نہ لکھ پاتا کیونکہ آپ کی آیات و صفات ان چمکتے ستاروں سے بھی کہیں زیادہ ہیں‘‘ (نثرالدرر علی مولد ابن حجر، ص 75)
    ## بریلویت کا جواب:اس قول میں نبی ﷺ کی تعریف کی گئی ہے ۔ کیا نبی ﷺ کی تعریف کرنا جشن عید میلادالنبی منانا ہے؟ ۔
    چلو میں مقبول احمد سلفی (منہج: سلفی ) کہتا ہوں کہ نبی ﷺ انسانوں میں سب سے افضل انسان ہیں، آپ ﷺ کے جیسا کوئی انسان پیدا ہوا نہ آپ ﷺ جیسا کوئی انسان پیدا ہوگا۔
    کیا یہ جشن عیدمیلاد النبی ہوگیا؟

    ؎ مارے گھٹنہ پھوٹے سر

    ٭٭ بریلوی کا چھٹا قول : حافظ ابن کثیر (المتوفی 774ھ) فرماتے ہیں ’’
    رسول اﷲﷺ کی ولادت کی شب اہل ایمان کے لئے بڑی شرافت، عظمت، برکت اور سعادت کی شب ہے۔ یہ رات پاکی ونظافت رکھنے والی، انوار کو ظاہر کرنے والی، جلیل القدر رات ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس رات میں وہ محفوظ پوشیدہ جوہر ظاہر فرمایا جس کے انوار کبھی ختم ہونے والے نہیں‘‘ مولد رسول ﷺ، صفحہ 262)
    ## بریلویت کا رد:اس قول میں بھی اس سے پہلے والے قول والی بات ہے کہ حافظ ابن کثیرؒ نے آپ ﷺ کی تعریف کی ہے ۔ اس تعریف میں آپ کی پیدائش کا توذکر ہے مگر جشن، محفل، نعت وقصیدہ خوانی، قمقمے، رقص، دیگیں،مشعل،جلوس،نعرے وغیرہ وغیرہ رسومات کا ذکر نہیں کیا گیا ہےلہذا اس قول کا 12 ربیع الاول سے کوئی تعلق نہیں۔

    ٭٭ بریلوی کا ساتواں قول : امام حافظ بن حجر رحمتہ اﷲ علیہ (المتوفی 852ھ) نے ایک سوال کے جواب میں لکھا ’’میرے لئے اس (محفل میلاد) کی تخریج ایک اصل ثابت سے ظاہر ہوئی، دراصل وہ ہے جو بخاری و مسلم میں موجود ہے:
    ترجمہ ’’حضور نبی کریمﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو دسویں محرم کا روزہ رکھتے دیکھا۔ ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے، جس دن اﷲ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کیا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی تھی، ہم اس دن کا روزہ شکرانے کے طور پر رکھتے تھے‘‘
    (صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب صوم یوم عاشوراء ، رقم الحدیث 2004،ص 321)
    (صحیح المسلم، کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشوراء رقم الحدیث 2656، ص 462)
    علامہ ابن حجر فرماتے ہیں: اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے کسی معین دن میں احسان فرمانے پر عملی طور پر شکر ادا کرنا چاہئے۔ پھر فرماتے ہیں حضور سرور کائنات نبی رحمت ﷺ کی تشریف آوری سے بڑی نعمت اور کیا ہوسکتی ہے (نثرالدر علی مولد ابن حجر، ص 47)
    ## بریلویت کا جواب : عید میلاد کا تعلق تو یوم پیدائش سے ہے ، اور مذکورہ بالا حدیث میں موسی علیہ السلام کے ظلم سے نجات کا ذکر ہے ۔ اس کے شکرانے کے طور پہ دس محرم کو روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
    اور وہ جاہل بلکہ عقل سے پیدل ہوگا جو دس محرم کا روزہ رکھنے کو جشن عید میلادالنبی کہے گا۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شاید کوئی میلادی دس محرم کا روزہ رکھتا ہوگا کیونکہ اس دن تو ماتم کے نام پہ سبیلیں ، دیگیں اور پگوان کھاناہوتا ہے ۔

    ٭٭ بریلوی کا آٹھواں قول : امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ (المتوفی 911ھ) آپ فرماتے ہیں کہ میلاد النبی ﷺ کے سلسلہ میں منعقد کی جانے والی یہ تقریب سعید (مروجہ محافل میلاد) بدعت حسنہ ہے جس کا اہتمام کرنے والے کو ثواب ملے گا۔ اس لئے کہ اس میں حضور نبی کریم ﷺ کی تعظیم، شان اور آپ کی ولادت باسعادت پر فرحت و مسرت کا اظہار پایا جاتا ہے (حسن المقصد فی عمل المولد، ص 173)
    ## بریلویت کا رد: گوکہ حسن المقصد میں مذموم بدعت جشن عیدمیلاد النبی کے متعلق غلو اور زیادتی سے کام لیا ہے ۔
    پھربھی بریلوی کے مذکورہ بالاقول کی حقیقت بتلادیتے ہیں۔
    جلال السیوطیؒ کے قول میں مذکور لفظ " بدعت حسنہ" آپ خود چیخ چیخ کر بتلا رہا ہے کہ یہ عید میلاد بعد کی ایجاد ہے ، صحابہ کرام کے دور میں موجود نہیں تھی بلکہ اسی کتاب میں لکھا ہے کہ اس کی ایجاد ملک مظفر نے کی۔ طاہرالقادری بریلوی نے لکھا ہے کہ صحابہ غمگین رہتے تھے اس لئے عید میلاد نہیں مناتے تھے ۔
    اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ صحابہ کرام کی سنت پسند ہے یا بعد والوں کی ایجاد کردہ بدعت پسند ہے ؟

    ٭٭ بریلوی کا نواں قول : امام ملا علی قاری علیہ رحمتہ الباری (المتوفی 1014ھ) آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ’’جب میں ظاہری دعوت وضیافت سے عاجز ہوا تو یہ اوراق میں نے لکھ دیئے تاکہ یہ معنوی ضیافت ہوجائے اور زمانہ کے صفحات پر ہمیشہ رہے، سال کے کسی مہینے سے مختص نہ ہو اور میں نے اس کا نام ’’الموردالروی فی مولد النبیﷺ‘‘ رکھا ہے (المورد الروی ص 34)
    ## بریلویت کا رد : جس کتاب سے یہ قول لیا گیا ہے اس کتاب کے صفحہ 12 پہ ملا علی لکھتے ہیں:
    (أصل عمل المولد الشريف لم ينقل عن أحد من السلف الصالح في القرون الثلاثة الفاضلة، وإنما حدث بعدها بالمقاصد الحسنة)
    یعنی اس میلاد شریف کے عمل کی اصل تین بہترین زمانوں میں سے کسی بھی سلف صالح سے منقول نہیں ہے ۔ یہ بعد میں اچھے مقاصد کی وجہ سے ایجاد ہوئی۔
    اب فیصلہ آپ پہ ہے کہ تین بہترین زمانوں کی بہتری اختیار کریں یا بعد والے پرفتن دور کی بدعت اختیار کریں؟

    ٭٭ بریلوی کا دسواں قول : حضرت علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ’’ہمیشہ مسلمان ولادت پاک کے مہینے میں محفل میلاد منعقد کرتے آئے ہیں اور دعوتیں کرتے ہیں اور اس ماہ کی راتوں میں ہر قسم کا صدقہ کرتے ہیں، خوشی مناتے ہیں، نیکی زیادہ کرتے ہیں اور میلاد شریف پڑھنے کا بہت اہتمام کرتے ہیں‘‘ (انوار محمدیہ ص 29)
    ## بریلویت کا رد: یوسف نبہانی نام کے ایک صوفی گذرے ہیں جن کے کچھ باطل عقائد بھی تھے۔ اسی وجہ سے جیل کی بھی ہوا کھانی پڑی ۔ علماء نے ان کے فاسد خیالات کے متعلق بہت کچھ لکھا ہے ۔ مذکورہ قول بھی ان کے فاسد و باطل خیالات میں سے ایک ہے ۔ اور ویسے بھی یہ صرف قول ہے قرآن و حدیث کی دلیل ہوتے ہوئے اسے دیوار پہ مار دیا جائے گا۔
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں