1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

جشن عید میلاد پر اُٹھائے جانے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ ابن آدم, ‏نومبر 25، 2017۔

  1. ‏نومبر 25، 2017 #1
    عبداللہ ابن آدم

    عبداللہ ابن آدم رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 05، 2014
    پیغامات:
    156
    موصول شکریہ جات:
    52
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    گزشتہ کچھ دِنوں سے وٹس ایپ پر ایک پوسٹ گردش کر رہی ہے جس میں اہل بدعت کی طرف سے ایک مجہول الحال شخص کی طرف سے ایک تحریر لکھی گئی ہے جس میں اس نے اپنے زعم باطل میں میلاد پر کئے جانے والے تمام اعتراضات کے جواب دئیے ہیں۔ موصوف نے میلاد نہ منانے والے کو انگریز کا ایجنٹ، منافق اور غدار قرار دیا ہے اور قارئین کو یہ تأثر دیا ہے کہ اصل میں میلاد پر جو اعتراضات کیے جاتے ہیں وہ نبی مکرمﷺ سے دشمنی اور حسد کی بناء پر کئے جاتے ہیں اور میلاد منانے والے ہی صحیح مسلم اور مُحبِ رسولﷺ ہیں۔
    لیجئے اب بریلوی پوسٹ ملاحظہ فرمائیں۔ اہل علم حضرات سے التماس ہے کہ وہ اس پر تبصرہ فرمائیں اور اس کا مدلل رد لکھیں۔
    انگریزوں کی نئی چال اور منافقین کے 9 دھوکے

    (ايک دلچسپ اور منفرد تحرير)
    انگریزوں نے ایک اجلاس منعقد کیا جس میں کہا گیا کہ
    ” ہم نے مسلمانوں کو چوری ، ڈاکہ ، قتل ، رشوت ، سفارش ، بےپردگی ، شراب ، بدکاری ، فحاشى ، فلموں ، گانوں غرض ہر گناه پر لگا دیا تاکہ یہ کمزور ہو جائیں مگر اس کے باوجود ہم مسلمان پر مکمل غلبہ پانے میں ناکام رہے آخر اس کی وجہ کیا ہے؟؟“
    اس پر ایک انگریز کہنے لگا کہ
    ”تم لاکھ کوششیں کرلو مگر تم مسلمانوں پر غالب نہيں آ سکتے کیونکہ ان کی طاقت كا سبب ان کا اپنے نبى سے مضبوط تعلق ہے۔“
    اور میں نے دیکھا ہے کہ
    یہ تعلق دو موقع پر بهرپور ظاہر ہوتا ہے۔

    پہلا موقع:
    جب ان کے نبی کی شان میں گستاخى ہوتی ہے ۔
    اس موقع پر بڑے سے بڑا گناه گار مسلمان بھی تڑپ اُٹھتا ہے کہ اس کے نبی کی توہین کیوں ہوئی

    دوسرا موقع:
    کہ جب ان کے نبی کی ولادت کا مہینہ آتا ہے
    تو گناه گار سے گناه گار مسلمان بھی خوشى کے مارے اپنے نبی کی ولادت کا جشن منانے لگ جاتا ہے جھنڈیاں لگاتا ہے چراغاں کرتا ہے مبارک باد دیتا ہے۔
    لہٰذا اگر مسلمان پر مکمل غلبہ چاہتے ہو تو دو کام کرو

    B انہیں اتنا بےحس اور بےغيرت کر دو ک توہین رسالت پر بھی چپ بیٹھے رہیں۔
    C انہیں اپنے نبی کی ولادت پر جشن منانے سے اتنا متنفر کر دو کہ اپنے نبی کے میلاد کا جشن ہی چھوڑ دیں۔
    یہ دو کام کیے بغير تم مسلمانوں کو کمزور تو کر سکتے ہو مگر ان پر قابض نہیں ہو سکتے۔
    لہٰذا ايسا ہی کیا گیا پہلے کام کے لیے مسلمانوں کے چند بےغیرت حكمران اور صحافى خريدے گئے۔
    حكمرانوں کو کہا گیا کہ وه مسلمان ممالک میں گستاخان رسول كو سزائیں نہ دیں، اور میڈیا کے صحافيوں کی ذمہ داری لگائی گئی ک وه گستاخان رسول کا دفاع کریں اور اگر کوئی مسلمان گستاخ رسول كو قتل کرے تو اسے دہشت گرد کہیں۔
    لہٰذا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ حكومت پاکستان نے ممتازقادری کو دو منٹ میں پهانسی دے دی جبکہ آسیہ مسیح كا ابھی تک سپریم کورٹ میں کیس ہی نہیں چلا اسی طرح میڈیا کے تقریبا تمام صحافى ممتاذ قادرى شہيد كو دہشت گرد کہتے ہیں لیکن ملعونہ آسیہ مسیح كو كسی ايک صحافى نے بھی گستاخ نہیں کہا۔
    جبکہ دوسرے کام کے لیے

    کچھ لمبی لمبی داڑھیوں اور عماموں والے چند منافق مولوی خريدے گئےاور ان کو کہا گیا کہ صرف قرآن کی آیتیں اور احاديث پڑھ کر مسلمانوں کو جشن میلاد النبی سے متنفر کریں ۔ اب بھی منافقین ہمارے ساده مسلمان نوجوانوں کو حديثيں پڑھ کر ہی دھوکہ دیتے ہیں۔ تاکہ جشن عید میلاد النبی منانے کا ایک جذبہ جو امت مسلمہ کے نوجوانوں میں باقی ہے اسے بھی ختم كر دیں۔ تاکہ ایک مسلمان سے اپنے نبی کی ولادت کی خوشى كا حق بھی چھین لیں۔ تاکہ وه تڑپ ، وه ولولہ ، وه جوش جو اپنے نبی کی ولادت کی خوشى میں چراغاں کرتے وقت ايک مسلمان کے دل میں ہوتا ہے اسے باہر نکال پھینکیں۔
    لیکن ہم اس تحرير میں ان کے ایک ایک دھوکے کے پرخچے اُڑا کر رکھ دیں گے۔ تاکہ قیامت تک
    انگریز اور انگریز کے ایجنٹ یہ منافق مولوی جان لیں کہ مسلمان گناه گار تو ہو سکتا مگر غدار نہيں، مسلمان کٹ تو سکتا مگر اپنے نبی کے جشن ولادت کو چھوڑ نہیں سکتا۔
    تاکہ جشن میلاد النبی مناتے وقت ہر مسلمان کے دل سے یہ صدا نكلے ہے کہ اے انگریز کے ایجنٹو! سن لو !
    منانا جشن میلاد النبی ہرگز نہ چھوڑیں گے
     
    Last edited: ‏نومبر 25، 2017
  2. ‏نومبر 25، 2017 #2
    عبداللہ ابن آدم

    عبداللہ ابن آدم رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 05، 2014
    پیغامات:
    156
    موصول شکریہ جات:
    52
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    D منافقین کے 9 دھو کے

    u حضور کا یوم وفات بھی 12ربیع الاول ہے اس لیے اس دن غم كرنا چاہیے۔
    v اسلام میں دو عیدیں ہیں مسلمانوں نے عید میلاد النبی کے نام پر تیسری عید خود سے ایجاد کر لی ہے۔
    w اگر عید میلاد النبی واقعی عید ہو تی تو اس میں عید کی نماز بھی ہو تی۔
    x میلاد میں تو ڈھو ل گانے باجےاور ڈانس ہو تا ہے۔
    y عید میلاد النبی پر اتنا خرچ کرنے سے بہتر ہے کسی یتیم کی شادی کرا دی جائے۔
    z میلاد منانا حرام ہے کیونکہ اس میں کرسمس سے مشابہت یعنی (Resemblance) ہے ۔
    }میلاد پر کیک کاٹنا حرام ہے کیونکہ یہ انگریزوں کا طريقہ ہے۔
    | میلاد نہیں منانا چاہیے کیونکہ حضور کی تاریخ ولادت میں اختلاف ہے۔
    {آخرى مگر سب سے خطرناک اور مشہور دھوکہ کہ
    میلاد نہ تو حضور نے منایا نہ کسی صحابى نے منایا اس لیے یہ بدعت ہے اور حديث میں ہے کہ کل بدعة ضلالة یعنی ہر بدعت گمراہی ہے اس لیے میلاد حرام ہے۔
     
    Last edited: ‏نومبر 25، 2017
  3. ‏نومبر 25، 2017 #3
    عبداللہ ابن آدم

    عبداللہ ابن آدم رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 05، 2014
    پیغامات:
    156
    موصول شکریہ جات:
    52
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    =منافقین کا پہلا دھو کہ=

    عموما ًمنافقين یہ عظيم بہتان باندهتے ہیں کہ 12 ربیع الاول کو ہی حضور كا وصال بھی ہو ا اس ليے اس دن غم كرنا چاہیے۔معاذالله
    چونکہ منافقین كو اس اعتراض پر بہت غرور ہے اس لیے ہم اس بات کے ایک دو نہیں بلکہ چار جواب دے دیتے ہیں۔
    پہلا جواب:
    تو یہ ہے کہ تمام مسلمانوں کا عقیده ہے کہ حضور زنده ہیں کیونکہ كئى احاديث اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ الله نے زمین پر حرام كر ديا ہے کہ وه انبیاء کے جسموں کو کھائے اور دوسری دلیل سورة البقرہ کی آیت نمبر 154 ہے جس میں موجود ہے کہ شہید زنده ہیں تو جب ایک عام شہید زنده ہے تو کیسے ممکن ہے کہ نبى اور وه بھی امام الانبیا حضرت محمد ﷺ معاذالله ثم معاذالله مرده ہو ں لہٰذا كوئی مسلمان ایسا سوچ بھی نہیں سکتا تو جب حضور زنده ہیں تو غم كرنے کا کوئی جواز ہی نہیں۔

    دوسرا جواب یہ ہے
    کہ اگر بالفرض بالفرض بالفرض ايک لمحے کے کروڑویں حصے کے لیے مان بھی لیا جائے کہ معاذالله حضور زنده نہیں تو بھی 12 ربیع الاول کو غم کرنا جائز نہیں ہو سکتا کیونکہ اسلام میں میت کا غم صرف تين دن تک جائز ہے۔
    تیسرا جواب
    حضور كا بغض ركهنے کی وجہ سے منافقین کی سمجھ بوجھ بالکل ختم ہو گئی ہے اب دیکھئے کہ
    مسلمان اپنے فوت شدگان کے ايصال ثواب کے لیے چہلم وغيره کا اہتمام کرتے ہیں تا کہ قرآن خوانى وغيره کر کے ان کو ایصال ثواب كيا جائے اگرچہ اس عمل کا مقصد ايصال ثواب ہو تا ہے غم يا سوگ نہیں مگر پهر بھی تب یہ منافقین کہتے ہیں چالیس دن بعد یہ چہلم منعقد کرنا ناجائز ہے کیونکہ سوگ کی اجازت صرف تين دن تک ہے لیکن حضور ﷺ كے میلاد سے انہیں اس قدر نفرت ہے ک آپ ﷺ کے وصال کو چوده صدياں گزر گئیں مگر منافقین چاہتے ہیں کہ سوگ ہو تا ہی رہے۔ (معاذالله)

    چوتھا جواب
    پہلا دوسرا اور تیسرا جواب تو اس صورت میں ہے جب بالفرض یہ تسلیم کر لیا جائے کہ حضور کی وفات 12 ربیع الاول کو ہی ہے۔
    لیکن حقيقت تو اس کے برعکس ہے اور چوتھا جواب یہ ہے کہ آپ کی تاریخ وفات 12 ربیع الاول ہے ہی نہیں
    اور یہ بات آپ ابھی چیک کر سکتے ہیں کیونکہ جو دلیل ابھی میں ذكر کروں گا یہ آپ نے کم ہی سنی ہو گی۔
    دیکھئے کچھ باتیں تمام احاديث ميں بالکل کنفرم ہیں جن میں کوئی اختلاف نہيں۔

    B حضور كا وصال ماه ربیع الاول میں سوموار کے دن ہو ا ۔
    C حضور نے حجةالوداع كا خطبہ ۹ ذي الحج کو جمعہ کے دن كو ارشاد فرمايا اور اسی سے متصل اگلے سال آپ ماه ربیع الاول ميں وصال فرما گئے ۔
    اب ديكهيے ماه ذی الحج اور ربیع الاول كے درمیان تین مہینے آتے ہیں۔
    محرم كا چاند
    صفر كا چاند
    ربیع الاول کا چاند
    ان تینوں چاند کی چار صورتيں ہو سکتی ہیں ۔

    u یا تو تینوں 30 دن کے ہو ں گے
    v یا دو 30 کے اور ایک 29 کا
    w یا ایک 30 کا اور دو 29 کے
    x یا تینوں 29 دن کے ہو ں گے۔
    اب 9 ذي الحج كو جمعے کا دن تھا تو اس حساب سے
    پہلی صورت ميں 12 ربیع الاول اتوار کو بنتی ہے ۔
    دوسری صورت میں ہفتے کو ،
    تیسری صورت ميں جمعے کو جبکہ
    چوتھی صورت میں 12 تاريخ جمعرات كو بنتى ہے ۔
    غرض كسی صورت میں بھی 12 تاريخ سوموار کو نہیں بنتی جبکہ حضور كا يوم وصال سوموار ہے تو اب کنفرم ہو گیا کہ حضور کے وصال كى تاريخ 12 ربیع الاول نہیں ہے۔
    یہ وه دلیل ہے جس کا جواب منافقین قیامت تک نہیں دے سکتے۔
     
    Last edited: ‏نومبر 25، 2017
  4. ‏نومبر 25، 2017 #4
    عبداللہ ابن آدم

    عبداللہ ابن آدم رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 05، 2014
    پیغامات:
    156
    موصول شکریہ جات:
    52
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    =منافقین کا دوسرا دھو کہ=
    کبھی منافقین ساده مسلمانوں کو یوں دھوکہ دیتے ہیں کہ
    ”اسلام میں دو عیدیں ہیں اور تم مسلمانوں نے عید میلادالنبی کے نام پر تیسری عید خود سے ایجاد کر لی ہے۔“
    پہلا جواب
    یاد رکھیے عید میلاد النبی مسلمانوں نے ایجاد نہیں کی بلکہ اس کا ثبوت قرآن ميں ہے۔
    سوره مائده کی آیت نمبر 114 میں ہے کہ حضرت عيسى ﷤ نے بارگاه خداوندی میں عرض كى کہ
    ”اے الله اے ہمارے رب ہم پر آسمان سے خوان(کھانا) نازل فرما کہ یہ عید بن جائے ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے۔“
    حضرت عیسی ﷤ كى قوم کو تو الله کی طرف سے صرف كهانا ملا تو وه دن ان کے اگلوں اور پچھلوں کے سب کے لیے عید بن گیا ہمیں تو 12 ربیع الاول کو محبوب خدا ملے ہیں ، حیرت كى انتہا ہے ک جس دن حضرت عيسى علیہ السلام كى قوم كو آسمان سے کھانا ملنے قرآن اس دن کو عید کہے تو منافق اعتراض نہیں کرتا لیکن کوئی مسلمان اپنے نبی کے ملنے پر 12 ربیع الاول کو عید کھے تو منافق کے پیٹ میں مروڑ پڑ جاتے ہیں۔

    دوسرا جواب
    منافقین جو رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ اسلام میں تو صرف دو عیدیں ہیں ان نادانوں کو کوئی کہے ک یہ دو عیدیں تمھیں کس کے وسیلے سے ملی ہیں کچھ بھی کہا جائے نتیجہ یہ ہی نکلے گا کہ عید میلاد النبی کے صدقے ملی ہے۔
    تیسرا جواب
    ایک اور انتہائی زبردست اورٹیکنیکل جواب سن لیجیئے جو عالم اسلام کے عظيم رہنما مولانا الیاس قادری نے دیا،
    وه یہ کہ اسلام میں عید الفطر ایک دن ہےجبک ہم نے اس کے تین دن بنا لیے ہیں اور اكثر اوقات رمضان کے آخرى دنوں ميں ہم عیدالفطر کی پلاننگ بھی اسی طرح کرتے ہیں کہ اس بار عیدالفطر پر ہم پہلی عید کو یہ یہ کام کریں گے، دوسری عید کو رشتہ داروں کے گھر جائیں گے اور تیسری عید کو پکنک وغيره پہ جائیں گے۔
    اب بحیثیت مسلمان میرا تمام منافقين سے سوال ہے کہ
    جب تمہارے مطابق عید الفطر کی خوشی میں دوسری اور تیسری عید جسے صحابہ نے عید نہیں کہا اسے عید کہنا جائز ہے تو حضور ﷺ کی ولادت کی خوشى میں آپ کے یوم ولادت کو عید کہنا کیونکر حرام ہو گیا۔؟؟؟؟
    جبکہ آپﷺ کی ولادت کی خوشى تو عيد الفطر كى خوشى بلکہ كائنات كى تمام خوشيوں سے بڑی خوشی ہے۔

    ایک دلچسپ واقعہ:
    ایک مرتبہ ایک منافق جو حديثيں پڑھ پڑھ کر مسلمانوں کو میلاد سے دور کرتا تھا ایک مسلمان عالم کے ہاتھ چڑھ گیا پهر اس کے ساتھ کیا ہو ا آئیے ایک مکالمے کے ذریعے جانتے ہیں ۔
    منافق: ”اسلام میں صرف دو عيدیں ہیں اور تم مسلمانوں نے عید میلاد النبی کے نام پر ایک اور عید بھی بنا لی ہے اور یہ بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“
    مسلمان عالم: ”اس طرح تو ميں بھی کہ سکتا ہو ں کہ اسلام میں عید الفطر ایک دن ہے جبکہ تم نے اس کے تین دن بنالیے ہیں اور یہ بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“
    منافق: نہیں ... نہیں.. او ... وه... وه تو ہم خوشى میں عید الفطر کے دوسرے اور تیسرے دن کو عید کہتے ہیں
    مسلمان عالم : مگر صحابہ نے تو خوشى میں عید الفطر کے دوسرے اور تیسرے دن کو کبھی عید نہیں کہا۔
    منافق : مگر دوسرے اور تیسرے دن کو عید کہنا شریعت کے کسی اصول کے خلاف نہيں ہے۔
    مسلمان عالم: ہاں بیٹے ہم بھی صديوں یہ ہی کہتے رہے کہ 12 ربیع الاول کو عید منانا بھی شریعت کے کسی اصول کے خلاف نہیں۔مگر تب تم نے نہیں مانا لیکن آج عید الفطر کے دوسرے تیسرے دن کی بریانی اور قورمے سے محروم ہو نے کا خطره محسوس ہو ا تو فوراً سمجھ گئے۔
     
  5. ‏نومبر 25، 2017 #5
    عبداللہ ابن آدم

    عبداللہ ابن آدم رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 05، 2014
    پیغامات:
    156
    موصول شکریہ جات:
    52
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    =منافقین کا تیسرادھو کہ=
    منافقین کا ایک اور دھوکہ یہ ہو تا ہے کہ ”اگر عید میلاد النبی واقعی عید ہے تو عید کی نماز بھی پڑھو۔“
    پہلا جواب
    تو یہ ہے کہ اگر ہر عید پر عید کی نماز پڑھنا ضرورى ہے تو پهر تو چاہیے کہ جمعہ کے دن بھی عید کی نماز پڑھنی واجب ہو کیونکہ حديث ميں تو جمعہ کے دن کو بھی عید قرار دیا گیا ہے۔ (ابن ماجہ حديث نمبر 1312,1311)
    پتا چلا ہر عید پر نماز عید واجب نہیں بلک صرف عيدالفطر اور عيد الاضحیٰ پر واجب ہے۔

    دوسرا جواب
    اسی طرح كا ايک منافق مسلمان عالم کے پاس آیا اور بڑے کانفیڈنس (اعتماد) سے کہنے لگا۔
    منافق : ”اگر تمہارے نبی کا یوم ولادت واقعی عید ہے تو پهر تو اس دن عید کی نماز بھی پڑها کرو اور اس دن روزه بھی نہ رکھا کرو کیونکہ عید کے دن تو روزه رکھنا منع ہے۔“
    مسلمان عالم : ”پهر تو تمہیں بھی چاہیے کہ عید الفطر کے دوسرے اور تیسرے دن بھی عید کی نماز پڑھا کرو اور چونکہ تم بھی عيد الفطر كے دوسرے اور تیسرے دن کو عید کہتے ہو تو چاہیے کہ شوال کے چھ روزے بھی تیسری عید کے بعد شروع کیا کرو مگر تم منافق بھی عید الفطر کے دوسرے اور تیسرے عید دن روزه رکھنے کو جائز سمجھتے ہو تو جو اعتراض ہم پر کرتے ہو وه تو تم پر بھی آتا ہے۔“
    منافق : وه عید الفطر کی دوسری اور تیسری عید کو ہم شرعا ً عید نہیں سمجھتے بلک عرفا ًعید سمجھتے ہیں ۔
    مسلمان عالم : یہ شرعا ً اور عرفا ًعيد كے فرق کی بھی وضاحت كر دیجئے۔
    منافق : یعنی ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ دوسری اور تیسری عید کو شریعت نے عید قرار دیا کہ جس میں روزه رکھنا منع ہو اور عید کی نماز پڑھنی ضرورى ہو بلکہ صرف عرف عام ميں خوشى كا دن ہو نے کے اعتبار سے ہم اسے عید کہتے ہیں۔
    مسلمان عالم : ہاں بیٹے یہی بات تو ہم بھی صديوں تک کہتے رہے کہ
    ہم عيد ميلاد النبى كو شرعاً ایسى عید نہیں مانتےجس میں روزه رکھنا منع ہو اور عید کی نماز پڑھنی ضرورى ہو بلکہ صرف عرف عام میں خوشى كا دن ہو نے کے اعتبار سے ہی اسے عید کہتے ہیں ۔لیکن تب تمھیں یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی مگر آج عید الفطر کے دوسرے تیسرے دن کا کیپسول ملا تو فورا ً عقل ٹھکانے آگئی۔

    =منافقین کا چوتھا دھو کہ=
    کبھی منافقین دھوکہ دینے کے لیے جھوٹے الزام بھی لگا دیتے ہیں مثلاً ” میلادالنبی میں ڈھو ل پر ڈانس اور گانے باجے ہو تے ہیں۔“
    پہلا جواب
    میں کہتا ہو ں کہ خدا كى قسم یہ اتنا بڑا جھوٹ ہے کہ شاید شیطان بھی سن کر شرما جائے کیونکہ ہم نے اپنی زندگی میں یہ تو دیکھا ہے کہ میلاد میں تلاوت، نعتیں ، درود اور بيان ہو تے ہیں مگر یہ کبھی نہیں دیکھا کہ میلاد کی محفل میں ڈھول باجے اور گانے پر ڈانس ہو رہا ہو ۔
    دوسرا جواب
    اس جواب کے بعد دوسرا جواب بھی دے دیتے ہیں اور وه یہ کہ اگربالفرض ، بالفرض ، بالفرض ايك لمحے کے لیے مان بھی لیا جائے کہ كوئی میلاد النبی کے نام پر میوزک یا ڈانس یا کوئی اور غير شرعى کام کرتا ہے۔تو اے منافقو ! صرف اسی غلط كام پہ تنقید کرو نہ کہ پورے جشن میلاد پر...
    ناک پر مکھی بیٹھ جائے تو مکھی کو اُڑايا جائے گا یا سرے سے ناک ہی کاٹ دی جائے گی؟؟؟؟
    مسجد میں پاگل آجائے تو پاگل کو نکالا جائے گا یا مسجد ہی بند کر دی جائے گی؟؟؟
    کوئی قرآن پڑھنے میں غلطى کرے تو کیا اس کی غلطى درست کی جائے گی یا اسے قرآن پڑھنے سے ہی منع کر دیا جائے گا؟؟
    تو اگر میلاد میں بھی کچھ غلط ہے تو اس کی اصلاح ہو نی چاہیے نہ کہ یہ کہ سارے میلاد پر تنقید کی جائے۔

    ايک دلچسپ واقعہ:
    ایک بار میرے سامنے ایک منافق نے ایسے ہی بے بنیاد الزام لگائے:
    کہ میلاد میں ڈھو ل اور گانے باجے ہو تے ہیں، تو ميں نے اسے ساده سا کیپسول دیا اور کہا
    ” یہ سب باتيں تو میرے نزدیک بھی غلط ہیں، تم مجھے یہ بتاؤ کہ یہ ساری غلط باتیں نکال كر فقط درود شریف اور نعتیں پڑهی جائیں تو کیا پھر تمہارے نزدیک میلاد جائز ہے۔“؟؟؟
    اس پر وه منافق آئیں بائیں شائیں کرنے لگا....
    پتا چلا کہ ڈھو ل اور ڈانس فقط جھوٹے الزامات ہیں اصل اُلجھن منافقین کو جشن میلاد سے ہے۔

    =منافقین کا پانچواں دھو کہ=
    آجکل منافقین نے مسلمانوں کو میلاد سے دور کرنے کے لیے ایک نیا طریقہ نکالا ہے كہتے ہیں:
    ”عید میلاد النبی پر اتنا خرچ کرنے سے بہتر ہے کسی یتیم کی شادی یا کسی غريب مريض کا علاج کروا دیا جائے۔“
    پہلا جواب
    حيرانگی کی بات ہے کہ جب منافقین اپنی شادیوں پر چھ چھ کھانے کھلاتے ہیں ، یا تیس تیس اور پچاس پچاس ہزار کے اعلی موبائل استعمال کرتے ہیں، یا اعلی بنگلوں میں رہائش ركهتے ہیں تب انہیں یہ خیال كيوں نہیں آتا کہ اپنی رہائش ، گاڑیوں، اور موبائلوں کا معیار کم کر کے بقیہ رقم سے کسی غريب کا علاج کروا دیا جائے
    یا شادیوں پر پانچ پانچ کھانے دینے کے بجائے ایک ہی کھانا دے دیا جائے بلکہ میز کرسیوں پر کھانا دینے کے بجائے زمین پر ہی سادگی کے ساتھ سنت کے مطابق کھانا کھلا کر بقیہ رقم سے کسی یتیم کی شادی کروا دی جائے۔
    افسوس صد افسوس اگر شیطان لعین یہ خیال دلاتا بھی ہے تو صرف حضور کے میلاد سے دور کرنے کے لیے۔

    دوسرا جواب
    یاد رکھیے کہ جشن عيد ميلاد النبى سے ہو نے والا فائده کسی ایک یتیم کی شادی سے کہیں بڑا ہے مثلاً ماه عید میلاد النبی کے آتے ہی
    u لائیٹنگ کے کاروبار میں زبردست تیزی آتی ہے اور اس کھپت کو پورا کرنے کے لیے کئی نئے مزدوروں کو کام مل جاتا ہے۔
    v جھنڈے اور کلیاں بنانے والے مزدورں کی بھی عید ہو جاتی ہے۔
    w لاکھوں بے روزگار لوگ عید میلاد النبی کے سامان کے سٹال لگا لیتے ہیں۔
    x لاکھو ں غريب کوک ( cook ) یعنی دیگیں پکانے والے پورا سال عید میلاد النبی کا انتظار كرتے ہیں کیونکہ
    ربیع الاول میں پورا مہینہ لوگ ان سے کوکنگ cooking) ) کرواتے ہیں ۔
    الغرض عيد ميلاد النبى کے سبب پوری معیشت کو غير معمولى فائده پہنچتا ہے جس كا احاطہ كرنا اس تحرير ميں ممکن نہیں۔

    =منافقین کا چھٹا دھو کہ=
    کبھی منافقین حضور صلى الله علیہ وسلم كى بارگاه میں گستاخى بھی کر دیتے ہیں اور معاذالله ثم معاذالله کہتے ہیں کہ
    عيد ميلاد النبى منانا حرام ہے کیونکہ اس میں عیسائیوں کے ساتھ مشابہت یعنی (Resemblance) ہے کہ جس طرح عیسائی كرسمس مناتے ہیں مسلمان اس طرح عيد ميلاد النبى مناتے ہیں۔
    پہلا جواب
    خدا گواه ہے کہ عيسائيوں کی کرسمس اور مسلمانوں کے میلاد میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔
    کہ عیسائی حضرت عيسى ﷤ کو خدا کا بیٹا سمجھ کر کرسمس مناتے ہیں اور مسلمان حضور کو خدا کا بنده سمجھ کر عید میلاد النبی مناتے ہیں ۔

    دوسرا جواب
    ياد دکھیے کہ کفار کا عمل ياد كرا کے مسلمانوں کو اسى عمل كى ترغیب دلانا قرآن كا طریقہ ہے ۔
    جیسا کہ سورة النساء کی آیت نمبر 104 میں مسلمانوں کو كہا گیا کہ کفار سے جہاد کرنے کے لیے ان کو تلاش کرنے میں سستی نہ کرو کہ اگر تمہیں اس کام سے تکلیف ہو تی ہے تو یہ تکلیف تو انہيں بھی ہو تی ہے حالانکہ تم الله سے وه اُمید رکھتے ہو جو وه نہیں رکھتے۔ یعنی مسلمانوں کو کہا گیا کہ جب جھوٹا عقیده رکھ کر کافر جہاد کی تکالیف برداشت کر رہے ہیں تو تمہیں تو زیاده تکلیف برداشت کرنی چاہیے کہ تمہارا تو عقیده بھی سچا ہے۔
    اب علماء بھی بالکل اسی آیت کے تناظر میں کہتے ہیں کہ اگر جھوٹا عقیده رکھ کر عیسائی ناجائز کام کرتے ہوئے کرسمس مناتے ہیں تو مسلمانوں کو تو جائز کاموں کے ذریعے حضور كا میلاد زیاده شان وشوکت سے منانا چاہیے کہ مسلمانوں کا تو عقیده بھی سچا ہے۔ پهر بھی کسی منافق کو یہ بات سمجھ نہ آئے تو اسے چاہیے کہ قرآن پر بھی اعتراض كرے کہ قرآن نے مسلمانوں کو کفار کا عمل یاد کرا کر اسی عمل کی ترغیب کیوں دلائی ہے ؟
     
    Last edited: ‏نومبر 25، 2017
  6. ‏نومبر 25، 2017 #6
    عبداللہ ابن آدم

    عبداللہ ابن آدم رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 05، 2014
    پیغامات:
    156
    موصول شکریہ جات:
    52
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    =منافقین کاساتواں دھو کہ=
    ٹی وی پہ ایک منافق مفتی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ
    مسلمان اپنے نبی کے میلاد پر کیک کاٹتے ہیں اور یہ انگریزوں کا طریقہ اور چونکہ حديث ميں کفار کی مشابہت سے منع کیا گیا ہے اس لیے یہ عمل بھی ناجائز ہے۔
    اس کا جواب
    لگتا ہے ان یہودی ایجنٹ منافقوں نے انگریزوں سے اس قدر مال لے لیا ہے کہ ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ مسلمانوں کو ان کے نبی سے دور کرو اور عید میلاد النبی کے ہر کام پر چاہے کوئی کتنی ہی محبت سے حضور کا میلاد منائے لیکن منافق کوئی نہ کوئی حديث پڑھ کر اس پر اعتراض كر ہی ديتے ہیں اور ساده مسلمان ان کے دھوکے میں آجاتے ہیں۔جس حديث ميں کفار کی مشابہت سے منع کا حكم ہے اس سے مراد یہ ہے کہ” کفار سے اس عمل میں مشابہت نہ کی جائے جو ان کے ساتھ خاص ہو مثلاً زنار باندھنا جو کہ عیسائیوں کے ساتھ خاص ہے ورنہ اس حديث سے اگر یہ مفہوم لے لیا جائے جو منافقین نے گڑھ لیا ہے تو پھر تو پیزا (Pizza)کھانا بھی حرام اور پینٹ شرٹ پہننی بھی حرام ہو جائے گی کہ یہ دونوں بھی انگریز کے طریقے ہیں۔“
    = منافقین کا آٹھواں دھو کہ=
    کبھی منافقین یہ مضحکہ خيز بات بھی کر دیتے ہیں کہ حضور کی ولادت کی تاریخ میں اختلاف ہے کہ یہ 12 ہے یا 8 یا کوئی اور تاریخ ہے۔
    پہلا جواب

    ایسا اعتراض كرنے والے سے آپ ہمیشہ ایک بات کہیں کہ
    ”اس کا مطلب یہ ہے کہ جشن میلاد تمہارے نزدیک جائز ہے تمہارا اختلاف صرف تاريخ ميں ہے۔“
    یہ سنتے ہی اس کی بولتی بند ہو جائے گی۔

    دوسراجواب
    ویسے تو کثير دلائل یہ ثابت کرتے ہیں کہ حضور كی ولادت 12 ربیع الاول کو ہو ئی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کا بھی اسی پر عمل ہے ۔ لیکن بالفرض بالفرض بالفرض ايک لمحے کی لیے مان بھی ليا کہ تاریخ ولادت میں اختلاف ہے اور دنیا بھر کے مسلمان غلط ہیں اور منافقوں کا یہ چھوٹا سا ٹولہ صحيح ہے تو بھی
    اے منافقو! تمہیں یہ کہا جائے گا کہ جو تاریخ تمہارے نزدیک راجح یعنی زیاده صحيح ہے تم اسی کو میلاد منا لو ليكن سرے سے میلاد ختم کرنے کی سازش کرنا چھوڑ دو ۔
    آخر نماز کے مسائل مثلاً رفع اليدین، آمين بالجہر وغيره میں بھی مختلف آراء ہو تی ہیں ، تو کیا اس پر سرے سے نماز پڑھنی ہی چھوڑ دیتے ہو یا کوئی ایک رائے جو تمہارے نزدیک راجح ہو تی ہے اس پر عمل کرتے ہو ؟؟؟؟
     
  7. ‏نومبر 25، 2017 #7
    عبداللہ ابن آدم

    عبداللہ ابن آدم رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 05، 2014
    پیغامات:
    156
    موصول شکریہ جات:
    52
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    =منافقین کا نواں دھو کہ=
    منافقین کا سب سے اہم اور خطرناک وار جس کا کئی ساده مسلمان شکار ہو جاتے ہیں وه یہ سوال ہے کہ
    ”اے مسلمانو! جب صحابہ نے میلاد نہیں منایا تو تم کیوں مناتے ہو جب میلاد صحابہ سے ثابت نہیں تو وه بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“
    منافقین نے مسلمانوں کو عید میلاد النبی سے متنفر کرنے کے لیے جتنا اس اعتراض كو استعمال كيا ہے اتنا کسی اور اعتراض كو نہیں کیا اس کے چھ جواب لیجیے
    پہلا جواب
    یہاں پر منافق انتہائی مکاری سے کام لیتا ہے کہ صحابہ كا نام استعمال كرکے میلاد سے نفرت پهیلاتا ہے ۔
    منافق کی چالاکی یہ ہے کہ وه میلاد کی مجموعی صورت پیش کر کے یہ بات کہتا ہے مثلا ًكہے گا ”میلاد کا جلوس صحابہ سے ثابت نہیں۔“

    اب آپ غور سے دیکھیں تو سمجھ جائیں گے کہ جلوس فی نفسہ یعنی بذات خود كوئی نیک کام نہیں بلکہ یہ تو بہت سے نیک کاموں مثلاً درود و سلام،حمد و نعت،علماء كے بیانات وغيره کا مجموعہ ہے ، اور ان نیک کاموں کی مجموعی صورت كا نام جلوس ہے۔
    مكار منافق جانتا ہے کہ وه یہ تو کہہ نہیں سکتا کہ درود و سلام يا حمد و نعت صحابہ سے ثابت نہیں اس لیے چالاکی سے کہہ دیتا ہے کہ میلاد کا جلوس صحابہ سے ثابت نہیں۔اس لیے جب بھی میلاد کو دیکھیں تو یہ نہ دیکھیں کہ میلاد كى مجموعى صورت صحابہ سے ثابت ہے یا نہیں بلکہ یہ دیکھیں کہ میلاد میں ہو نے والا ہر ہر عمل الگ الگ صحابہ سے ثابت ہے یا نہیں کیونکہ کسی بھی کام کی مجموعی صورت تو زمانے کے اعتبار سے بدلتی رہتی ہے ۔
    دوسرا جواب
    یاد رکھیے کہ منافقین بھی ہر سال تین روزه سالانہ عالمی تبلیغى اجتماع منعقد کرتے ہیں۔
    ايک منافق وہاں سے واپس آرہا تھا اس نے جلوس میلاد پر اعتراض کیا میں نے اسے یہی جواب دیا اس پر اس نے مجھے دھو کا دینے کے لیے ایک اور طریقہ استعمال کیا غور سے پڑھیے گا وه کہنے لگا ”درودو سلام پڑھنا ، حمد ونعت پڑھنا يا علماء كا بيان كرنا يہ تینوں نیکی کے کام ہیں اور صحابہ سے ثابت ہیں مگر ہر سال پابندی سے 12 ربیع الاول کا دن منتخب كر کے جلوس كى صورت ميں یہ تینوں کام کسی صحابی کے دور میں نہیں ہو ئے اس لیے یہ بدعت ہے۔“
    منافق کا جواب بظاہر تو بڑا قوى تھا مگر اس کی ساری قوت شلوار میں نکل گئی۔
    میں نے اسے کہا کہ”اس طرح تو تمہارا تین روزه سالانہ عالمی تبلیغى اجتماع بھی بدعت ہے۔“

    منافق : ”ہم تو تبلیغى اجتماع میں دين کی تبلیغ کرتے ہیں نیکی کا درس دیتے ہیں برائی سے روکتے ہیں اس میں کیا برائی ہے۔“
    اب میں نے اسی کا جواب اس کو لوٹا دیا اور کہا ”دين كى تبليغ ، نيكى كا درس يا برائى سے روکنا یہ تینوں نيكى کے کام ہیں اور صحابہ سے ثابت ہيں مگر ہر سال تین دن منتخب كر کے عالمی تبلیغى اجتماع كى صورت ميں یہ تینوں کام کسی صحابی کے دور میں نہیں ہو ئے اس لیے یہ بدعت ہے۔“ وه دن اور آج کا دن وه منافق اس راستے سے بھی بھاگ جاتا ہے جہاں مجھے دیکھتا ہے۔
    پهر اگر یہ ہی اُصول بنا ليا تو مسلمانوں کے %95 جائز کام باآسانی حرام ہو جائیں گے اور ہاں منافقین کا تبلیغى اجتماع بھی۔

    تیسرا جواب
    ہر معاشرے میں خوشى کے کچھ انداز ہو تے ہیں ہمارے ہاں مثلاً شادیوں پر خوشى کے اظہار کے لیے یہ کام کیے جاتے ہیں۔ڈانس، میوزک، آتش بازی، لائیٹنگ ( Lighting)، سجاوٹ(ڈیکوریشن)، یہ پانچوں کام صحابہ سے ثابت نہیں اس کے باوجود آپ منافقوں کے مفتی سے بھی پوچھیں تو وه آپ کو یہ ہی کہے گا کہ آتش بازى میوزک اور ڈانس ناجائز ہے مگر لائیٹنگ اور ڈیکوریشن جائز ہے کیونکہ لائیٹنگ اور ڈیکوریشن شریعت کے کسی اُصول سے ٹکراتے نہیں ، اب میں کہتا ہو ں کہ ہمارے کلچر میں خوشى كے پانچ نئے انداز آئے جن میں سے کوئی بھی صحابہ سے ثابت نہیں تها، مگر منافقين نے یہ نہیں کہا کہ یہ پانچوں انداز چونکہ صحابہ سے ثابت نہیں اس لیے پانچوں ناجائز ہیں بلکہ لائیٹنگ اور ڈیکوریشن کو جائز کہا، لیکن منافقین کا سب سے بڑا دھوکہ یہ ہے کہ یہی لائیٹنگ اور ڈیکوریشن جب مسلمانوں نے اپنے نبی کی ولادت کے موقع پر کی تو منافقین نے اسے بدعت اور حرام كہہ ديا۔
    چوتھا جواب
    اصولى بات يہ ہے کہ شريعت اسلامیہ ميں
    u فرض کام وه ہیں جن کا کرنا ضرورى ہو مثلاً نماز ،روزه، زكوة ۔۔
    v حرام وه كام ہیں جن سے بچنا ضروری ہو مثلا ً چوری اور زنا وغيره
    w مستحب وه كام ہیں جن کا کرنا لازم يا واجب تو نہ ہو مگر ان کے کرنے پر ثواب ملے مثلا ًنعت پڑهنا ، حضور كا ذكر كرنا ، آپ کے ذكر کی محفل سجانا وغيره ۔۔جبکہ
    xمباح اس کام کو کہتے ہیں جس کا کرنا اور نہ کرنا برابر ہو یعنی اس کے کرنے یا نہ کرنے پر نہ تو ثواب ہو اور نہ گناه۔ مثلا ً شادى کی سنت ادا کرتے وقت گھر سجانا یا مکان تعمیر کرتے وقت گھر میں کھڑکی وغيره ركهنا۔
    لیکن!!! اگر مباح كام میں نیت نیک ہو تو یہ مباح كام بھی مستحب بن جاتا ہے مثلاً اگر مكان میں کھڑکی تعمیر کرتے وقت یہ نیت ہو کہ اس کے ذریعے اذان سنوں گا تو اب یہ كام مباح نہ رہا بلکہ مستحب بن گیا۔
    مسلمان تو جشن میلاد پر جو جو کام کرتے ہیں وه کام اُوپر بیان کی گئی تفصيل كے مطابق یا تو مستحب ہیں ۔ مثلا ً نعتيں پڑهنا ، حضور پر درود وسلام بھیجنا، آپ کے ذكر کی محافل سجانا وغيره يا وه كام مباح ہیں مثلاً گھروں کو کلیوں سے سجانا اور لائيٹنگ کرنا اورجھنڈے لگانا وغيره اور ان مباح كاموں میں بھی نیت چونکہ نیک ہے یعنی حضور کی ولادت پر خوشی منانا پس اس نیک نیت کے سبب مباح كام بھی مستحب بن گئے ۔ جبکہ!! وه کام جو پہلے سے مستحب تھے ان کا ثواب تو ڈبل ہو گیا ۔ ایک ثواب تو پہلے سے مستحب ہو نے کا ، جبکہ دوسرا ثواب اس اچھی نیت کا۔
    اس ٹیکنیکل تفصيل كے بعد منافقین سے ساده سا سوال ہے اے امریکی ایجنٹو!! مسلمانوں کے اس عمل میں تمہیں حرام کدهر سے نظر آگیا؟؟؟؟؟؟؟؟

    پانچواں جواب
    منافقین کے دو گروه وھابیہ اور دیوبندیہ پوری زندگی مسلمانوں پر اعتراض كرتے رہے کہ عید میلاد النبی کے جلوس صحابہ سے ثابت نہيں اور اب کچھ عرصے سے خود ہر سال يكم محرم الحرام كو حضرت عمر فاروق ﷜ كى شہادت كے سلسلے میں جلوس نکالتے ہیں کوئی ان کند ذہنوں سے پوچھے کہ اب بدعت والا اُصول غلط ہو گیا۔ ؟؟
    چھٹا جواب
    منافقين كا اُصول مان ليا جائے ک جو کام صحابہ سے ثابت نہ ہو وه حرام ہے تو پھر لازم آئے گا عید الفطر کے دوسرے اور تیسرے دن کو عید منانا اور عید کہنا بھی حرام ہو کیونکہ کسی ضعیف روايت سے بھی یہ ثابت نہیں ہو تا کہ کسی صحابى نے ماه شوال کے دوسرے اور تیسرے دن پر لفظ عيد كا اطلاق كيا ہو ۔
    اختتامى كلمات
    خدا کی قسم اگر ان منافقین کو حضور ﷺ کی ولادت کی ذرا بھی خوشى ہو تی تو مسلمانوں کو ہرگز وسوسے نہ دلاتے مگر انہیں تو اس پر اتنی بھی خوشى نہیں ہو تی جتنی اپنی شادی یا عید الفطر پر ہو تی ہے بلكہ انہیں تو خوشى کے بجائے اُلجھن ہو تی ہے کہ مسلمان اپنے نبی کا میلاد منا کیوں رہے ہیں۔۔۔۔مجھے معلوم ہے کہ اس قسم کے منافقین بہت تھوڑے ہیں۔۔۔ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں کیونکہ تمام ہی مسلمان اپنے آقا کا میلاد بھرپور عقيدت و احترام سے مناتے ہیں چراغاں کرتے ہیں گھروں اور بازاروں کو سجاتے ہیں اچھے اچھے کھانے پکا کر تقسیم کرتے ہیں لیکن ان منافقين کى سازشوں کو ناکام بنانا بھی ضرورى تها تاکہ باقی مسلمان ان کے فتنے سے محفوظ رہيں، اسى ليے یہ تحریر لکھی مجھے نہیں لگتا کہ کوئی اعتراض باقى ره گیا ہے جس کا جواب اس تحرير میں نہ ہو ۔
    یہ تحرير محض ايک تحرير نہيں بلک مسلمانوں کے جشن میلاد پر ہو نے والے اعتراضات کے جوابات پر مشتمل ایک مکمل کتاب ہے جس ميں ایک ایک اعتراض كے کئی کئی جواب دے دئیے گئے ہیں۔
    شیاطین و منافقین ہرگز نہیں چاہیں گے کہ آپ یہ تحرير فارورڈ کریں مگر آپ اسے اپنے موبائل میں موجود ہر نمبر اور ہر واٹس ایپ گروپ میں بھرپور عام کر کے تمام منافقوں کو بتا دیں کہ
    میرے نبی سے ميرا رشتہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے...
     
    Last edited: ‏نومبر 25، 2017
  8. ‏نومبر 26، 2017 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,902
    موصول شکریہ جات:
    2,076
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    اس کا ترکی بترکی جواب یہ ہے کہ :
    انگریزوں نے ایک اجلاس منعقد کیا جس میں کہا گیا کہ
    ” ہم نے مسلمانوں کو بےپردگی ، شراب ، بدکاری ، فحاشى ، فلموں ، گانوں غرض ہر گناه پر لگا دیا تاکہ یہ کمزور ہو جائیں مگر اس کے باوجود ہم مسلمان پر مکمل غلبہ پانے میں ناکام رہے آخر اس کی وجہ کیا ہے؟؟“
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس پر ایک انگریز کہنے لگا کہ
    ”تم لاکھ کوششیں کرلو مگر تم مسلمانوں پر غالب نہيں آ سکتے کیونکہ ان کی طاقت كا سبب ان کا اپنے نبى سے مضبوط تعلق ہے۔“
    اس لئے اس کا توڑ یہ ہے تم انہیں پاپائیت اور تصوف پرستی میں لگادو ، شخصیت پرستی کا زہر ان کے قلوب میں اتار دو ،

    بالکل اس طرح جس طرح بنی اسرائیل کے دلوں میں بچھڑے کی پوجا رچ بس گئی تھی (واشربوا فی قلوبہم العجل )
    یہ قبر پرست بن جائیں گے ، ہر ہر بات پر " بزرگ فرماتے ہیں " کا نعرہ بلند کرتے پھریں گے ۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ایک اور بوڑھا انگریز کہنے لگا کہ :

    جیسے ہم جناب عیسی کو خداوند بنابیٹھے ، اور ہر سال ان کا یوم پیدائش مناتے اور اس شراب و شباب کی عشرتوں میں ڈوب جاتے ہیں
    اسی طرح مسلمانوں کو
    میلاد النبی کا جشن منانا سکھا دو ، جسے یہ جشن بہاراں کی طرح موج مستی کرتے گزار کر سمجھیں کہ ہم نے محبت رسول ﷺ کا حق ادا کردیا ۔
     
    • زبردست زبردست x 3
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  9. ‏نومبر 26، 2017 #9
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,902
    موصول شکریہ جات:
    2,076
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    یہ قبر پرست منافقین اور میلادیوں کا جاہلانہ دھوکہ ہے کہ :
    پیارے نبی ﷺ اس دنیا میں اب تک زندہ ہیں ، جس پر دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ شہید زندہ ہیں تو انبیاء کیوں زندہ نہیں ،
    حالانکہ اس پر جو آیت پیش کرتے ہیں وہ صاف بتاتی ہے کہ شہید تو اللہ کی راہ میں قتل کردیئے گئے حضرات ہی ہیں ، اور اتنا تو عالم و جاہل سب ہی جانتے ہیں کہ
    مقتول اسی کو کہتے ہیں جو موت کا پیالہ پی لے ، اور دنیوی زندگی سے اس کا رشتہ منقطع ہوجائے ، اگر دنیوی زندگی بھی موجود اور حاصل ہو تو وہ مقتول نہیں ،
    ہاں قرآن جو بتاتا ہے وہ یہ اعزاز ہے کہ دنیا میں اللہ کی راہ میں قربان ہونے والے اگلے جہان یعنی برزخ میں بہت اعلی درجہ کی زندگی جی رہے ہیں ،
    وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ (سورۃ آل عمران ۔169)
    جو لوگ اللہ کی راه میں شہید کئے گئے ہیں ان کو ہرگز مرده نہ سمجھو، بلکہ وه زنده ہیں اپنے رب کے پاس (اور ) روزیاں دیئے جاتے ہیں۔ (169)
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اگر نبی اکرم ﷺ اس دنیا میں زندہ ہیں ، تو آپ ﷺ کو قبر میں کیونکر دفنادیا گیا ، اور نمازجنازہ کس لیئے پڑھی گئی ؟
    اور خلفاء راشدین کی خلافت اور امامت کہاں سے برحق ثابت ہوگئی ؟
    اور وفات نبی ﷺ پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے درج ذیل مشہور و معروف خطبہ صحابہ کی موجودگی میں برسر منبر کیسے سنادیا :


    عَنِ الزُّهْرِيِّ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ: " أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى فَرَسِهِ مِنْ مَسْكَنِهِ بِالسُّنْحِ حَتَّى نَزَلَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمْ يُكَلِّمْ النَّاسَ، حَتَّى نَزَلَ فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَتَيَمَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّى بِبُرْدِ حِبَرَةٍ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ، ثُمَّ بَكَى , فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ، أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي كُتِبَتْ عَلَيْكَ فَقَدْ مُتَّهَا، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُكَلِّمُ النَّاسَ , فَقَالَ: اجْلِسْ فَأَبَى، فَقَالَ: اجْلِسْ فَأَبَى، فَتَشَهَّدَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَالَ إِلَيْهِ النَّاسُ وَتَرَكُوا عُمَرَ، فَقَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ إلى الشَّاكِرِينَ سورة آل عمران آية 144 وَاللَّهِ لَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَكُونُوا يَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ الآيَةَ حَتَّى تَلَاهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَلَقَّاهَا مِنْهُ النَّاسُ، فَمَا يُسْمَعُ بَشَرٌ إِلَّا يَتْلُوهَا.(صحیح بخاری الجنائز )
    امام زہریؒ نے، کہا کہ مجھے ابوسلمہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ (جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی) ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے جو سنح میں تھا گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اور اترتے ہی مسجد میں تشریف لے گئے۔ پھر آپ کسی سے گفتگو کئے بغیر عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں آئے (جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعش مبارک رکھی ہوئی تھی) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برد حبرہ (یمن کی بنی ہوئی دھاری دار چادر) سے ڈھانک دیا گیا تھا۔ پھر آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک کھولا اور جھک کر اس کا بوسہ لیا اور رونے لگے۔ آپ نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ دو موتیں آپ پر کبھی جمع نہیں کرے گا۔ سوا ایک موت کے جو آپ کے مقدر میں تھی سو آپ وفات پا چکے۔ ابوسلمہ نے کہا کہ مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ جب باہر تشریف لائے تو عمر رضی اللہ عنہ اس وقت لوگوں سے کچھ باتیں کر رہے تھے۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ نہیں مانے۔ پھر دوبارہ آپ نے بیٹھنے کے لیے کہا۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ نہیں مانے۔ آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ـخطبہ شہادت پڑھا تو تمام مجمع آپ کی طرف متوجہ ہو گیا اور عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا۔ آپ نے فرمایا امابعد! اگر کوئی شخص تم میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو چکی اور اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ باقی رہنے والا ہے۔ کبھی وہ مرنے والا نہیں۔ اللہ پاک نے فرمایا ہے ”اور محمد صرف اللہ کے رسول ہیں اور بہت سے رسول اس سے پہلے بھی گزر چکے ہیں“ «الشاكرين» تک (آپ نے آیت تلاوت کی) قسم اللہ کی ایسا معلوم ہوا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آیت کی تلاوت سے پہلے جیسے لوگوں کو معلوم ہی نہ تھا کہ یہ آیت بھی اللہ پاک نے قرآن مجید میں اتاری ہے۔ اب تمام صحابہ نے یہ آیت آپ سے سیکھ لی پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہی آیت تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏نومبر 27، 2017 #10
    انوارالحق

    انوارالحق رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 07، 2015
    پیغامات:
    10
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اعتراضات اور جوابات سے دل افسردہ ہوتا ہے
    مسلمان بھائیوں کا ایک گروہ میلاد مناکر سرخرو ہیں سمجھتا ہے اور دوسرا گروہ معترض ہے۔
    خدا مہربان کے فضل اور کرم سے ہمیں محمدی ہونے کا شرف حاصل ہے مگر ادراک کی سعی میں سقم ہے۔
    خدا کی عطا کردہ عقل و فہم سے معلوم ہوا ہے کہ مسلمان مذہبی تفریح میں پڑے ہوئے ہیں اور تفریق ہوچکے ہیں۔
    دعا ہی کرسکتا ہوں کہ اللہ ہمیں ادراک عطا فرمائے۔
    بقول اقبال ؒ
    دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلادے۔
    ورنہ
    خدا نے آج تک اس قوم کی حالات نہیں بدلی
    نہ ہو جسے خیال آپ اپنی حالات کے بدلنے کا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں