1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جشن میلاد النبیﷺکی شرعی حیثیت

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از عبد الرشید, ‏نومبر 23، 2017۔

  1. ‏نومبر 28، 2017 #21
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    جی اب مطبوعہ کتب میں حاشیہ نیچے لکھا کاتا ہے، اور اس میں آسانی ہوتی ہے! کچھ عرصہ قبل سائیڈ پر لکھنے کا رواج عام بھی تھا!
    لیکن پہلے جاب کوئی حاشیہ نگار کسی کتاب کے متن پر اپنی توضیح یا تنقیح لکھا کرتا تھا، تو وہ اس عبارت کے اوپر نیچے لکھتا تھا! یا سائیڈ پر لکھتا تھا، اسی اعتبار سے اسے حاشیہ کہا جاتا ہے!
    اور پھر وہ اسی طرح طبع بھی ہوتی تھیں!
    آج سے کچھ سال قبل کی مطبوعہ کتب میں اس طرح پائیں گے!
    جی اسی طرح ہے!
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 28، 2017 #22
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,246
    موصول شکریہ جات:
    686
    تمغے کے پوائنٹ:
    213

    ایک اور جانب بھی توجہ کی جا سکتی ہے ، اصل مضمون جو محترم عبدالرشید بھائی نے پیش کیا ہے اس میں حواشی تلاش کیئے جائیں کیونکہ متذکرہ مضمون پر ہی تبصرہ محترم و مکرم انوارالحق بھائی نے کیا ہے ۔ میں نے کافی توجہ سے سہ بارہ پڑھا ، مجھے تو سمجھ نہیں آئی کہ آخر تبصرہ یا اختلاف یا اعتراض مکمل مضمون سے ہے یا اس مضمون کے کسی جزء سے ھے ! حاشیہ (حواشی) کا تعلق تو کم از کم مضمون سے ھو!!

    دوبارہ گذارش کردوں:
    دیگر الفاظ میں بات واضح ہوں تو سمجھنے میں دشواریاں نہیں ہوتیں۔

    والسلام
     
  3. ‏نومبر 28، 2017 #23
    انوارالحق

    انوارالحق رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 07، 2015
    پیغامات:
    10
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    قوسین کو حاشیہ لکھنے پر معذرت خواہ ہوں۔
     
  4. ‏نومبر 28، 2017 #24
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,246
    موصول شکریہ جات:
    686
    تمغے کے پوائنٹ:
    213

    محترم و مکرم معذرت والی بات ہی نہیں ، آپ کے مراسلات آپ کے مشاہدات و تجربات ہی ہونگے ، آپکی حاصل شدہ معلومات کا آئینہ دار ہونگے اور ہمیں استفادہ سے محروم نا رکھیں ۔

    معذرت میری بھی ضرور قبول فرمائیں کہ میں قوسین کا تعلق محترم عبدالرشید بھائی کے مضمون سے بالکل ہی نا پا سکا ، اصلا سمجھ ہی نا پایا، یہ اعتراف اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اصل مضمون اور اس میں درج کلام، دلائل و حوالاجات پر علمی گفتگو ضرور فرمائینگے کہ علم تو بانٹنے کے لئے ہوتا ہے ۔

    والسلام
     
  5. ‏نومبر 28، 2017 #25
    انوارالحق

    انوارالحق رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 07، 2015
    پیغامات:
    10
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    اللہ اکبر ( کبیرہ)
    سبحان اللہ
    ماشاء اللہ
    جزاک اللہ خیر جناب طارق صاحب آپ کے جوابی کلام کے انداز سے طبیت میں تازگی آئی ۔
    احوال عرض ہے کہ میں ایک سادہ طبیت والا ناخواندہ اور کاسب شخص ہوں اور کچھ سالوں سے کمر کے مہرے ، اعصاب اور بینائی کے مرض سے دوچار ہوں ۔

    اللہ تبارک و تعالی کے عطا کردہ رزق سے بہت کم حاصل کر پایا لیکن کام اور فرست میں برابر غور کرتا رہا ۔
    میری عمر ۵۴ ہے اور ۳۰/۳۵ تک ایک
    متعصب سنی تھا اسی اثناء میں ایک کتابی علم کے ماہر (جسے علمی حوالوں پر دسترس تھی) نے میرے غور کو نئی جہت دی۔
    بعد ازاں قرآن حکیم کو ترجمع مع تفسیر(ابن کثیر ، خزائن العرفان ، تدبر القرآن اور فہم القرآن کے علاوہ بھی دیگر تفاسیر پڑھنے کی توفیق نے دماغ کی تاریکی ہٹانے میں اکسیر کاکام کیا۔
    اس کےعلاوہ کٹھن حالات میرے لیے خدا کی نعمت سے کم نہ رہے جو مجھے ادراک بخشتے رہے۔
    حالیہ چند سالوں سےجناب مولانا وحیدالدین خان صاحب کےکلام سے مستفیض ہورہا ہوں۔
    مجھے کسی میں کوئی کمی نہیں ملی سوائے اس کے کہ سب کا کچھ پر اتفاق ہے اور کچھ پر نہیں ، مگر سب کا سمجھنے بتانے کا اپنا اپنا زاویہ ہے اور میرے لیے نئی فکر کاسامان ہے۔
    رہا اختلاف تو وہ بھی رہےگا اور اصلاح بھی رہےگی۔
    میرے نزدیک بہت سی نئی بدعتیں اور خرافات کو ختم نہیں ںلکہ انھیں درست سمت موڑنے کی ضرورت ہے جس کو امت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اگر اپنائے تو ایک مثالی اصلاحی معاشرہ میں ڈھل کر دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہمکنار ہوسکتی ہے جس کےلیے صرف تبلیغی انداز کافی نہیں بلکہ داعیانہ صفات کا ہونا ناگزیر ہے۔
    میرے کسی خیال سے کوئی متفق نہ ہو تو مجھے کم فہم سمجھ کر اپنی طبیت میں فشار نہ آنے دے اور اگر کوئی ابہام پائے تو تنہائی کے لمحے میں اپنے فہم کو ادراک کی کسوٹی پر پرکھے۔
    آخر میں دعا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی ہمیں اسلام کی سپرٹ دریافت کرنے میں مدد عطا فرمائے۔
     
  6. ‏نومبر 28، 2017 #26
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,246
    موصول شکریہ جات:
    686
    تمغے کے پوائنٹ:
    213

    جزاک اللہ خیرا

    مکرم و محترم و عزیز بھائی
    اللہ آپ کے علم و عمل کو وسیع فرمائے ، نیز آپ کو کامل شفاء عطاء فرمائے (تمام امراض سے)، ناچیز دعاء کرتا ہے۔
    آپ نے فرمایا: "میرے نزدیک بہت سی نئی بدعتیں اور خرافات کو ختم نہیں ںلکہ انھیں درست سمت موڑنے کی ضرورت ہے"
    یہ درست سمت یقینا اسلام نہیں ہوسکتی ، صحیح سمت وہ جسکا حکم قرآن و احادیث نبوی ﷺ سے ہمیں ملا اور وہ یہ کہ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم کیطرف لے جانیوالی ھے ۔ یقینا آپ کے علم یہ بات ہوگی ہی ۔ اس پر ایک سوال اٹھ کھڑا ہوا کہ بدعتوں کے تو خاتمہ کی تعلیم ہمیں ملی ، صحابہ الکرام سے کئی کئی مثالیں موجود ہیں تو آپ اور ہم کو کسی نئے فارمولے کی حاجت کیا ہے جبکہ دین مکمل ہوچکا ہے اور شریعت کا اتمام ھوچکا ہے - دوسری بات یہ بھی ذہن میں اٹھ رہی ھے کہ بقول آپ:
    "بعد ازاں قرآن حکیم کو ترجمع مع تفسیر(ابن کثیر ، خزائن العرفان ، تدبر القرآن اور فہم القرآن کے علاوہ بھی دیگر تفاسیر پڑھنے کی توفیق نے دماغ کی تاریکی ہٹانے میں اکسیر کاکام کیا۔
    اس کےعلاوہ کٹھن حالات میرے لیے خدا کی نعمت سے کم نہ رہے جو مجھے ادراک بخشتے رہے۔"

    ایسی فکر آپ کو کس کتاب سے ملی جس سے آپ کی فہم نے ایک نئی جہت اختیار کرلی اور آپ خاتمہ کے احکامات کو "درست سمت موڑنے" کا حکم فرما رہے ہیں !؟
    حضرت یہ "متعصب سنی" کیا ہوتا ھے ؟ یہ اصطلاح آپ نے کہآں سے پائی؟
    ان شاء اللہ آپ جواب سے محروم نا رکھیں گے۔
    والسلام
     
  7. ‏نومبر 28، 2017 #27
    انوارالحق

    انوارالحق رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 07، 2015
    پیغامات:
    10
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    چند سطروں پر مشتمل تحریر جو آپ کو مطمعن نہ کرسکی دو گھنٹے میں لکھی تھی۔
    میرےلیے تفصیل سے لکھنا جس سے آپ satisfie ہوں تکلیف کے باعث ممکن نہیں۔
    بالمشافہ بات کرنی ممکن نہیں۔
    جب آپ ایک نقطہ کو جان لیں گے تو امید ہے کہ میری اس بات سے متفق ہوں۔
    اسی پر اکتفا کرتا ہوں کہ
    بپھرے دریا کو بند لگانے سےبدرجہا بہتر ہے کہ اس کا رخ بدلا جائے۔
    میری دعا آپ کے ساتھ ہے کہ آپ خرافات کو روکتے ہوئے اپنی دانست کے مطابق خلوص سے فریضہ انجام دیتے ہوئے خدا کے ہاں پہنچیں اور برالذمہ ٹھریں۔
     
  8. ‏نومبر 28، 2017 #28
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,246
    موصول شکریہ جات:
    686
    تمغے کے پوائنٹ:
    213

    اللہ عافیک یا شیخ ، جس طرح بھی آپ مناسب سمجھیں ۔ تکلیف کے لیئے معذرت - اللہ ہم سب سے راضی رہے اور ہم سبکا خاتمہ ایمان پر کرے -
     
  9. ‏نومبر 29، 2017 #29
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,013
    موصول شکریہ جات:
    8,159
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جب حديث میں واضح طور پر اس کا اثبات ہے تو پھر کوئی اشکال باقی نہیں رہنا چاہیے۔
    تینوں قسم کے جلسے درست ہیں ، اگر انہیں عمومی درس و دروس اور وعظ و نصیحت یا حوصلہ افزائی وغیرہ کی نیت سے منعقد کیا جائے ، البتہ ان میں سے کسی بھی جلسے کی کوئی خاص فضیلت ، یا کسی دن کے ساتھ خاص کردیا جائے ، تو یہ ناجائز ہوجائیں گے ۔
     
  10. ‏نومبر 30، 2017 #30
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    574
    موصول شکریہ جات:
    103
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    @خضر حیات صاحب
    السلام علیکم
    تو اس حدیث سے سلف اور خلف کا یہ اتفاق غلط ثابت ہوتا ہے ۔کیوں کلی طور پر یہ ضابطہ نہیں بنایا جاسکتاہے۔

    میں اگر 12 ربیع الاول کی جگہ 11 ربیع الاول یا کسی دوسرے مہینے میں اس نسبت سے کوئی جلسہ کرتا ہوں یا اس میں شرکت کرتا ہوں تو کیا میرا یہ عمل غلط ہوگا؟ کیوں اب اس میں دن کا تعین نہیں ہوگا اور مقصد سیرت مصطفیٰ کا بیان ہوگا۔

    بریلوی حضرات کا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ ختم بخاری شریف ایک نیک عمل کہا جاتا ہے ۔ تو اس کا ثبوت کہاں ملتا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین سے۔
    اسی طرح تراویح میں ختم قران کے بعد لمبی لمبی اجتماعی دعاؤں کا ثبوت بھی نہیں ہے ۔ لیکن اس کو کوئی بدعت نہیں کہتا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں