1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جشن میلاد النبیﷺکی شرعی حیثیت

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از عبد الرشید, ‏نومبر 23، 2017۔

  1. ‏نومبر 30، 2017 #31
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    574
    موصول شکریہ جات:
    103
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

  2. ‏دسمبر 01، 2017 #32
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,013
    موصول شکریہ جات:
    8,159
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ
    میرے خیال میں بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے ، میرے نزدیک دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں ۔ کافر کے اعمال قبول نہیں ہوں گے ، یہ ایک عمومی بات ہے ، جبکہ کچھ خاص واقعات استثنائی حالات ہیں ۔ خیر اس نکتے میں آپ نے جو بات کہی ، وہ بھی تسلیم کی جائے ، حرج نہیں ۔ اور نہ ہی اس کا نفس مسئلہ کا کوئی اثر پڑتا ہے ۔
    سیرت رسول کی مجلس کسی بھی دن میں کی جاسکتی ہے ، جو باعث ثواب کام ہے ۔ ہم کسی ایک دن کو خاص کرنے کرکے اس کے فضائل گھڑنے کے خلاف ہیں ، کیونکہ یہ منصب شارع کا ہے ۔
    ختم بخاری شریف یا سیرت کانفرنس کے حوالے سے میں پہلے عرض کر چکا ہوں ، کہ یہ وعظ و نصیحت یا تعلیم و تعلیم کے حکم میں آتا ہے ، ہم کسی خاص دن یا وقت کی تحدید یا تخصصین کے قائل نہیں کہ اس کا بدعت ہونا لازم آئے ۔
    وتر کے دوران لمبی دعائیں ، یا ختم قرآن کے بعد کی دعائیں ، یہ مسئلہ مختلف فیہ ، کئی ایک علما اس سے منع کرتے ہیں ، آپ کے علم یہ بات نہیں ہوگی ۔
    میں ایک آخری بات عرض کرکے اس موضوع سے رخصت چاہوں گا کہ کسی بھی مسئلہ میں وارد دلائل کو بالترتیب اور ان کے سیاق و سباق سے دیکھنا چاہیے ، کسی ایک بات کو پکڑ کر ، یا کسی ایک نکتہ پر اعتراض در اعتراض اور جواب در جواب والا رویہ ممکن ہے مفید ہو ، لیکن بہرصورت بعض دفعہ انسان اس طرح کی چیزوں میں الجھنے کی وجہ سے مستند اور متفق علیہ دلائل کی عظمت و حیثیت کو سمجھنے سے بھی عاری ہوجاتا ہے ۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 02، 2017 #33
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    574
    موصول شکریہ جات:
    103
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    محترم @خضر حیات
    السلام علیکم
    میرے سوالات کی بنیاد جناب کوکب نورانی صاحب کا یہ بیان تھا۔ جس کا ذیل میں لنک دیا ہے۔ یہ سوالات یا اعتراضات میرے اپنے خود ساختہ نہیں تھے۔ آپ کا بے حد شکریہ جو آپ نے اپنے قیمتی وقت سے وقت نکال کر جوابات دیے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں