1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جعلی علماء کیسے تیار ہوتے ہیں؟انکشاف انگیز تحریر

'بدعت' میں موضوعات آغاز کردہ از خوشبواسلام, ‏مارچ 16، 2016۔

  1. ‏مارچ 16، 2016 #1
    خوشبواسلام

    خوشبواسلام مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2016
    پیغامات:
    7
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    مسلمانوں کو بہت سے مسائل کے ساتھ جس ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے، وہ ہے باہمی اتحاد کی کمی،ایک خدا،ایک رسولؐ ،ایک کتاب،ایک امت ،لیکن پھر بھی امت اتنی پارہ پارہ کیوں ہے ۔ اس میں ہماری اپنی کوتاہیوں کے ساتھ اسلام کے دشمنوں کی بھی محنت شامل ہے

    مسلمانوں کو بہت سے مسائل کے ساتھ جس ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے، وہ ہے باہمی اتحاد کی کمی،ایک خدا،ایک رسولؐ ،ایک کتاب،ایک امت ،لیکن پھر بھی امت اتنی پارہ پارہ کیوں ہے ۔ اس میں ہماری اپنی کوتاہیوں کے ساتھ اسلام کے دشمنوں کی بھی محنت شامل ہے۔ زیرِ نظر تحریر ایک ایسی ہی حقیقت ہے کہ کیوں ابھی تک ہم ایک چاند پر بھی متفق نہیں ہو پارہے ہیں؟۔یہ مضمون جولائی 2010 ءکے’اُردو ڈائجسٹ ‘میں شائع ہوا تھا۔ ”نواب راحت خان سعید خان چھتاری 1940 ءکی دہائی میں ہندوستان کے صوبے اتر پردیش کے گورنر رہے ۔ انگریز حکومت نے انہیں یہ اہم عہدہ اس لئے عطا کیا کہ وہ مسلم لیگ اور کانگریس کی سیاست سے لاتعلق رہ کر انگریزوں کی وفاداری کا دم بھرتے تھے۔نواب چھتاری اپنی یادداشتیں لکھتے ہوئے انکشاف کرتے ہیں کہ ایک بار انہیں سرکاری ڈیوٹی پر لندن بلایا گیا ۔ان کے ایک پکے انگریز دوست نے، جو ہندوستان میں کلکٹر رہ چکاتھا ،نواب صاحب سے کہا: ”آئیے ! آپ کو ایک ایسی جگہ کی سیر کرائوں، جہاں میرے خیال میں آج تک کوئی ہندوستانی نہیں گیا۔“نواب صاحب خوش ہوگئے ۔انگریز کلکٹر نے پھر نواب صاحب سے پاسپورٹ مانگا کہ وہ جگہ دیکھنے کیلئے حکومت سے تحریری اجازت لینی ضروری تھی۔دو روز بعدکلکٹر اجازت نامہ ساتھ لے آیا اور کہا: ”ہم کل صبح چلیں گے“ لیکن میری موٹر میں‘موٹر وہاں لے جانے کی اجازت نہیں۔ اگلی صبح نواب صاحب اور وہ انگریز منزل کی طرف روانہ ہوئے ۔شہر سے باہر نکل کر بائیں طرف جنگل شروع ہوگیا ۔جنگل میں ایک پتلی سی سڑک موجودتھی۔جوں جوں چلتے گئے جنگل گھنا ہوتا گیا ۔سڑک کے دونوں جانب نہ کوئی ٹریفک تھا، نہ کوئی پیدل مسافر۔ نواب صاحب حیران بیٹھے اِدھراُدھر دیکھ رہے تھے۔ موٹرچلے چلتے آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت گزر گیا۔تھوڑی دیربعد ایک بہت بڑا دروازہ نظر آیا ۔پھر دور سامنے ایک نہایت وسیع وعریض عمارت دکھائی دی،اس کے چاروں طرف کانٹے دار جھاڑیاں اور درختوں کی ایسی دیوار تھی، جسے عبور کرنا ناممکن تھا،عمارت کے چاروں طرف زبردست فوجی پہرہ تھا۔ اس عمارت کے باہر فوجیوں نے پاسپورٹ اور تحریری اجازت نامہ غور سے دیکھا اور حکم دیا کہ اپنی موٹر وہیں چھوڑ دیں اور آگے جو فوجی موٹر کھڑی ہے، اس میں سوار ہو جائیں،نواب صاحب اور انگریز کلکٹر پہرے داروں کی موٹر میں بیٹھ گئے۔ اب پھر اس پتلی سڑک پر سفر شروع ہوا،وہی گھنا جنگل اور دونوں طرف جنگلی درختوں کی دیواریں۔نواب صاحب گھبرانے لگے تو انگریز نے کہا :”بس منزل آنے والی ہے۔“آخر دورایک اور سرخ پتھر کی بڑی عمارت نظر آئی تو فوجی ڈرائیور نے موٹر روک دی اور کہا: ”یہاں سے آگے آپ صرف پیدل جا سکتے ہیں “۔راستے میں کلکٹر نے نواب صاحب سے کہا :”یاد رکھیں ‘کہ آپ یہاں صرف دیکھنے آئے ہیں، بولنے یا سوال کرنے کی بالکل اجازت نہیں ۔“ عمارت کے شروع میں دالان تھا ،اس کے پیچھے متعدد کمرے تھے ۔دالان میں داخل ہوئے تو ایک باریش نوجوان عربی کپڑے پہنے سر پر عربی رومال لپیٹے ایک کمرے سے نکلا۔ دوسرے کمرے سے ایسے ہی دو نوجوان نکلے ۔ پہلے نے عربی لہجے میں ”السلام علیکم“ کہا۔دوسرے نے ”وعلیکم السلام !کیا حال ہے ؟“نواب صاحب یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔کچھ پوچھنا چاہتے تھے لیکن انگریز نے فوراً اشارے سے منع کردیا۔چلتے چلتے ایک کمرے کے دروازے پر پہنچے ،دیکھا کہ اندر مسجد جیسا فرش بچھاہے ،عربی لباس میں ملبوس متعدد طلبہ فرش پر بیٹھے ہیں، ان کے سامنے استاد بالکل اسی طرح بیٹھے سبق پڑھا رہے ہیں، جیسے اسلامی مدرسوں میں پڑھاتے ہیں۔طلباءعربی اور کبھی انگریزی میں استاد سے سوال بھی کرتے ۔نواب صاحب نے دیکھا کہ کسی کمرے میں قرآن کا درس ہورہا ہے ،کسی جگہ بخاری کا درس دیا جارہا ہے اور کہیں مسلم شریف کا ۔ایک کمرے میں مسلمانوں اور مسیحوں کے درمیان مناظرہ ہورہا تھا۔ ایک اور کمرے میں فقہی مسائل پر بات ہورہی تھی ۔سب سے بڑے کمرے میں قرآن مجید کا ترجمہ مختلف زبانوں میں سکھایا جارہا تھا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ہر جگہ باریک مسئلے مسائل پر زور ہے ۔مثلاً وضو،روزے،نماز اور سجدہ سہو کے مسائل ، وراثت اور رضاعت کے جھگڑے ،لباس اور داڑھی کی وضع قطع،چاند کانظر آنا،غسل خانے کے آداب ،حج کے مناسک،بکرا ،دنبہ کیساہو،چھری کیسی ہو ،دنبہ حلال ہے یا حرام،حج بدل اور قضاءنمازوں کی بحث،عید کا دن کیسے طے کیاجائے اورحج کا کیسے؟پتلون پہنناجائزہے یا ناجائز ؟عورت کی پاکی کے جھگڑے ،امام کے پیچھے سورة الفاتحہ پڑھی جائے یا نہیں ؟تراویح آٹھ ہیں یا بیس؟وغیرہ ۔ایک استاد نے سوال کیا،پہلے عربی پھر انگریزی اور آخر میں نہایت شستہ اردو میں!”جماعت اب یہ بتائے کہ جادو ،نظربد،تعویذ ،گنڈہ آسیب کا سایہ برحق ہے یا نہیں ؟“پینتیس چالیس کی جماعت بہ یک آواز پہلے انگریزی میں بولیTRUE,TRUE پھر عربی میں یہی جواب دیا اور اردو میں! ایک طالب علم نے کھڑے ہو کر سوال کیا: ”الاستاد ،قرآن تو کہتا ہے ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار خود ہے۔“استاد بولے: ”قرآن کی بات مت کرو،روایات اور ورد میں مسلمان کا ایمان پکا کرو۔ستاروں ،ہاتھ کی لکیروں ،مقدراور نصیب میں انہیں اُلجھاو۔“ یہ سب دیکھ کر وہ واپس ہوئے تو نواب چھتاری نے انگریز کلکٹر سے پوچھا: ”اتنے عظیم دینی مدرسے کو آپ نے کیوں چھپارکھا ہے؟“انگریز نے کہا: ”ارے بھئی ،ان سب میں کوئی مسلمان نہیں، یہ سب عیسائی ہیں،تعلیم مکمل ہونے پرانہیں مسلمان ملکوںخصوصاًمشرق وسطیٰ،ترکی،ایران اور ہندوستان بھیج دیا جاتا ہے۔وہاں پہنچ کر یہ کسی بڑی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں ۔پھر نمازیوں سے کہتے ہیں کہ وہ یورپی مسلمان ہیں ۔انہوں نے مصر کی جامعہ الازہر میں تعلیم پائی ہے اور وہ مکمل عالم ہیں ۔یورپ میں اتنے اسلامی ادارے موجود نہیں کہ وہ تعلیم دے سکیں،وہ سردست تنخواہ نہیں چاہتے ،صرف کھانا،سر چھپانے کی جگہ درکار ہے۔وہ مؤذن،پیش امام ،بچوں کیلئے قرآن پڑھانے کے طورپراپنی خدمات پیش کرتے ہیں ،تعلیمی ادارہ ہو تو اس میں استاد مقررہوجاتے ہیں۔جمعہ کے خطبے تک دیتے ہیں۔“ نواب صاحب کے انگریز مہمان نے انہیں یہ بتا کر حیران کردیا کہ اِس’ عظیم مدرسے‘ کے بنیادی اہداف یہ ہیں: (۱) مسلمانوں کو وظیفوں اور نظری مسائل میں الجھاکر قرآن سے دور رکھا جائے۔ (۲) حضوراکرم ﷺ کا درجہ جس طرح بھی ہوسکے ،گھٹایا جائے۔اس انگریز نے یہ انکشاف بھی کیا کہ 1920ء میں توہینِ رسالت کی کتاب لکھوانے میں یہی ادارہ شامل تھا۔اسی طرح کئی برس پہلے مرزاغلام احمد قادیانی کو جھوٹا نبی بناکر کھڑا کرنے والایہی ادارہ تھا ۔اسکی کتابوں کی بنیاد لندن کی اسی عمارت سے تیار ہوکر جاتی تھی۔ خبر ہے کہ سلمان رشدی کی کتاب لکھوانے میں بھی اسی ادارے کا ہاتھ ہے۔
    (Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachi)
     
  2. ‏مارچ 17، 2016 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,127
    موصول شکریہ جات:
    8,178
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    مجھے یہ تحریر بذات خود جعلی لگ رہی ہے ، اس کا مصدر ؟
    یہ افسانہ کسی منکر حدیث کا گھڑا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔ واللہ اعلم ۔
     
  3. ‏مارچ 18، 2016 #3
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    خضر بھائی ۔ تحریر کو آپ نے غور سے نہیں پڑھا ۔اور کچھ بھائیوں نے آپ کے بھروسے پر پسند بھی کردیا۔
    اس جملے سے استدلال نہیں کیا جارہا ۔
    بلکہ وہ علما مسلمان تھے ہی نہیں ۔ دوبارہ پڑھیں ۔ پورا جملہ یہ ہے ۔ کہیں اور سے لیا ہے ۔
    ’’
    پھر ایک طالب علم نے کھڑے ہو کر سوال کیا ’’ہر استاد عبادت کے لئے نیت ضروری ہوتی ہے تو مردہ لوگوں کا حج بدل کیسے ہو سکتا ہے؟ قرآن تو کہتا ہے ہر شحض اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے‘‘ استاد بولے ’’قرآن ‘‘کی بات مت کرو روایات میں مسئلے ڈھونڈا کرو ۔ جادو ، نظرِ بد، تعویز، سیب وظیفے اور ورد استخارہ میں مسلمانوں کا ایمان پکا کر دو اور ستاروں میں ، ہاتھ کی لکیروں میں مقدر اور نصیب ہیں‘‘
    یہ واقعہ مشہور ہے ۔ اور نواب چھتاری مشہور تاریخی شخصیت ہے ۔ واقعی وہ گورنر تھے ۔
    http://aligarhmovement.com/karwaan_e_aligarh/Nawab_Chattari
    نیٹ پہ یہ واقعہ اردو ڈائجسٹ کے پرانے شمارے کے حوالے سے ہے ۔ وہ نیٹ پہ نہیں ملا ۔
    لیکن نواب چھتاری کی خود نوشت ۔۔ہے ۔۔۔یاد ایام۔۔کے نام سے ۔ یہ یقیناََ اس میں ہوگا۔
    [​IMG]
    اور قرائن بتاتے ہیں کہ بالکل صحیح ہے ۔
    کسی کو شبہ نہ ہو کہ اکثر صحیح علما بھی کچھ ان بحثوں میں کتب لکھتے رہے ۔ تو یہ کوئی اشکال نہیں ۔ مسئلہ جب چِھڑ جائے تو کیا ہو سکتا ہے ۔ سب اس میں حصہ لیتے ہیں ۔ شرارت تو اس کی جس نے شروع کیا۔
     
    Last edited: ‏مارچ 18، 2016
  4. ‏مارچ 18، 2016 #4
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    ضروری تنبیہ یہ ہے کہ عام سطحی ذہن سے پڑھیں گے تو ۔۔۔ایک برا اثر بھی ہوسکتا ہے کہ ۔۔ موجود علما میں جس سے آپ متفق نہ ہوں ۔یاکسی کی کوئی بات اچھی نہ ہوں ۔۔۔یا وہ کچھ لبرل ٹائپ ہو ۔ ۔۔۔ تو ہم لوگ سب پہ اوپر والے سازشی مولوی کا الزام نہ لگا دیں ۔ بتانا صرف یہ ہے کہ یہ سب کچھ شروع میں ہوا۔۔
    بعد میں ہوسکتا ہے ۔۔ ان میں سے کوئی نہ بچا ہو ۔۔۔لیکن انہوں نے آگ بھڑکائی یعنی شروع کیا ۔۔۔یہ اہم بات ہے یاد رکھیے گا۔

    اور درس و تدریس کا یہ منظر کہ ایک جگہہ قرآن پڑھایا جارہا ہے ۔۔ ایک جگہہ حدیث کی کتب ۔۔یا مسائل پر بحث۔۔۔
    تو یہ عمل ہر صحیح مدرسے میں بھی ہوتا ہے ۔
    اصل ماخذ چونکہ موجود نہیں ۔۔ اسلئے حرف بحرف سے اتفاق نہیں کہ واقعی لفظ بلفظ یہی ہوا ہوگا۔۔مضمون کی اصل سے اتفاق لگتا ہے ۔ ۔۔کیونکہ بعض ناقل اپنی سوچ کے مطابق روایت میں مزید شدت پیدا کر دیتے ہیں ۔
     
    Last edited: ‏مارچ 18، 2016
  5. ‏مارچ 22، 2016 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,127
    موصول شکریہ جات:
    8,178
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جی اگر یہ تحری کسی قابل اعتماد کتاب میں مل جائے تو پھر ظن و تخمین بے محل ہوگا ۔ اوپر آپ نے جو کتاب ذکر کی ، اگر آپ کو یقین ہے تو ذرا ہمت کرکے اس سے ڈھونڈیں ۔ میرے پاس یہ کتاب نہیں ہے ۔
     
  6. ‏مارچ 22، 2016 #6
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,127
    موصول شکریہ جات:
    8,178
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    شاید آپ وجہ استدلال نہیں سمجھ سکے ، چونکہ یہ تحریر ایک سازش کو بے نقاب کرنے کے لیے لکھی گئی ہے ، اب آپ اس کہانی میں جس چیز کو اچھا کہیں گے یا جس سے روکیں گے، اس کا اثر بالکل عکس ہوگا ۔
    ’’ یعنی قرآن کی بات مت کرو روایات میں مسئلے ڈھونڈو ۔۔ ‘‘
    یہاں قرآن مجید کے نام پر لوگوں کو روایات سے متنفر کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ بعض افسانہ گو منکرین حدیث کا یہی انداز ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے غالبا قاری حنیف ڈار نے ایک تحریر لکھی تھی ، جس میں بظاہر لوگوں کو تقلید و جمود سے منع کیا گیا تھا ، لیکن ساتھ ہی کتب سنۃ اور احادیث بلکہ ائمہ کرام کی جہود کو بھی اسی طرح رگڑا لگادیا تھا ۔
     
  7. ‏مارچ 22، 2016 #7
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    آپ صحیح کہہ رہے ہیں ۔
    ناقل واقعی اسی مزاج کا لگتا ہے ۔ اس واقعے کی سرچ میں نے تھوڑی سی کی تو تھوڑے سے الفاظ آگے پیچھے لگے ۔ اس سے لگا کہ ۔ مثلاََ کہہ کر جو مثالیں دی گئی ہیں اس میں ناقل جو اسی ٹائپ کا لگتا ہے ۔ متجدد قسم کا ۔۔ اس نے کچھ اور مسئلے بھی ڈال دئے ہیں ۔
    مثلاََ پہلے وہ کہتا ہے کہ ایک کمرے میں قرآن کا درس ہو رہا تھا ۔۔۔
    پھر کہتا ہے ۔۔قرآن کی بات مت کرو۔۔۔۔۔
    اور اس پر یہ بھی اعتراض ہوتا ہے کہ فتنہ پھیلانے والے قرآن کی من مانی تاویل سے سب سے زیادہ فتنہ پھیلاتے ہیں ۔
    بہر حال واقعہ کی اصل کوئی ہے ۔۔۔پورا یہ نہیں جو بیان ہوا۔
     
  8. ‏مارچ 23، 2016 #8
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    پھر مجھے یاد آیا کہ مجھے ایک سائٹ ۔ rekhta پہ یہ کتاب کا نیا ایڈیشن نظر آیا ۔ سائٹ ادبی ٹائپ کی ہے ۔ انہوں نے کتاب کی صرف آنلائن ریڈنگ (وہ بھی کافی سست) ہی کھولی ہوئی ہے ۔ ڈاؤنلوڈنگ نہیں ہو سکتی ۔ میں نے اس کی جلدی جلدی (میری طرف سے جلدی تھی ۔ سائٹ کی طرف سے پیچ لوڈ ہونے میں سستی ) ورق گردانی کی ہے ۔ لیکن جلدی میں تو نہیں نظر آیا ۔ کتنا مشکل کام ہے ۔ ایک بور کتاب (اگرچہ اس میں پارٹیشن کے وقت کی تاریخی باتیں بھی ہیں ) لیکن چونکہ اس سے مناسبت نہیں ۔ اوپر سے پیچ لوڈ ہونے میں ٹائم لے تو کیا حال ہو ۔
     
  9. ‏اگست 16، 2016 #9
    Abdul Haseeb

    Abdul Haseeb مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 14، 2016
    پیغامات:
    37
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    18


    Ulma-E-Soo ka Fitna By Shaikh Muhammad Tariq Hafizullah
     
  10. ‏جون 19، 2018 #10
    muslimengineer123

    muslimengineer123 مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2015
    پیغامات:
    10
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    21

    اسلام علیکم
    یہ کتاب https://www.rekhta.org/ebooks/yaad-e-ayyam-ahmad-saeed-khan-ebooks# پر موجود ہے لیکن صرف آن لائن مطالعہ کے لئے
    جبکہ دو حصوں میں https://ia801609.us.archive.org/12/items/in.ernet.dli.2015.415436/2015.415436.Yaad-E-Ayyam-.pdf اور https://ia801609.us.archive.org/12/items/in.ernet.dli.2015.415436/2015.415436.Yaad-E-Ayyam-.pdf پر موجود ہے لیکن سرسری سے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ دونوں کتابیں مختلف ہیں
    @خضر حیات
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں