1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جماعت اسلامی کی اجمیر کے مندر کی نصرت

'مزار پرستی' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوبکر, ‏جولائی 16، 2012۔

  1. ‏جولائی 16، 2012 #1
    ابوبکر

    ابوبکر مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 02، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    414
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

  2. ‏جولائی 16، 2012 #2
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    اس میں جماعت اسلامی کیسے شامل ہو گئی؟
     
  3. ‏جولائی 16، 2012 #3
    ابوبکر

    ابوبکر مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 02، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    414
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    شاکر صاحب اور حافظ زبیر صاحب اگر آپ نیچے دیا گیا لنک کھول کر دیکھ لیتے تو آپکو معلوم ہو جاتا کہ اس میں جماعت اسلامی کیسے آ گئی

    یہ شکوہ جماعت اسلامی کے آفیشل فیس بک پیج پر کیا گیا ہے

    Wall Photos | Facebook
     
  4. ‏جولائی 16، 2012 #4
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    شاکر بھائی سب سے پہلے تو امیج کو ڈیلیٹ کر دیجئے
     
  5. ‏جولائی 16، 2012 #5
    ابوبکر

    ابوبکر مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 02، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    414
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

  6. ‏جولائی 16، 2012 #6
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    بہت خوب۔
    آپ کے طرز استدلال سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ آپ جیسے حضرات کو مسلمانوں ہی کے جان و مال کو حلال باور کروانا ، کس قدر آسان ہوتا ہوگا۔
    محترم، جماعت اسلامی کے آفیشل فیس بک صفحہ پر یہ امیج بحوالہ سورس: ٹائمز آف انڈیا پیش کی گئی ہے۔
    بالفرض اگر یہ کسی نیوز سورس کے توسط سے نہ بھی پیش کی گئی ہوتی۔ تو جماعت اسلامی کا اجمیر کے مندر کی نصرت کرنا ظاہر نہیں ہوتا، بلکہ زرداری کی دھوکہ دہی کو پوائنٹ آؤٹ کرنا ظاہر ہوتا ہے۔
    دوسروں کے الفاظ میں اپنے مفاہیم ڈھونڈنا کوئی بہت اچھی بات نہیں ہے۔ جماعت اسلامی میں ویسے ہی کئی جنیوئن خرابیاں ڈھونڈی جا سکتی ہیں تو خودساختہ و بے بنیاد الزامات لگانے سے کیا حاصل؟
     
  7. ‏جولائی 16، 2012 #7
    ابوبکر

    ابوبکر مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 02، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    414
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    الحمد للہ میں کسی مسلمان کے جان و مال کو حلال باور نہیں کرتا- محترم کچھ حسن ظن میرے ساتھ بھی رکھ لیں
    محترم اگر میں یہی سوال آپ سے کر لوں کہ آپ اپنے فیس بک پر یہ امیج ڈالیں گے
    مرکزی جمیعت اپنے فیس بک پر یہ امیج ڈالے گے ؟
    جماعت اہلحدیث اپنے فیس بک پر یہ امیج ڈالے گے ؟
    جمعیت اہلحدیث ابتسام گروپ اپنے فیس بک پر یہ امیج ڈالے گے ؟
    باقی اگر محض دھوکہ دہی کو ہی پوائنٹ آوٹ کرنا ہوتا تو کچھ تاویل ہو سکتی تھی لیکن انتخابی مہم کے دوران پروفیسر غفور کا دربار پر چادر چڑھانا اور متحدہ مجلس عمل کے دور میں انتخابی جلسے کا آغاز "داتا کے مندر" سے کرنے کا کیا مطلب ہے ؟
    پروفیسر غفور کا دربار پر چادر چڑھانا اور متحدہ مجلس عمل کے دور میں انتخابی جلسے کا آغاز "داتا کے مندر" سے کرنا کیا خودساختہ و بے بنیاد الزام ہے ؟
     
  8. ‏جولائی 16، 2012 #8
    ابوبکر

    ابوبکر مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 02، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    414
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    نیز یہ امیج بھی ٹائمز آف انڈیا کا نہیں ہے یہ جماعت اسلامی کا اپنا ڈیزائن کردہ ہے دیکھیے امیج پر لکھا ہوا ہے
    "facebook.com/jamaat.org"
     
  9. ‏جولائی 16، 2012 #9
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بسم اللہ الرحمن الرحیم​
    مشرکین کے عقیدے کی تردید

    قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّۭا وَلَا نَفْعًۭا ۚ وَٱللَّهُ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ﴿76﴾
    قُلْ أَنَدْعُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا
    أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْا وَهُمْ يُخْلَقُونَ ﴿191﴾وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًۭا وَلَآ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ ﴿192﴾
    إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ ۖ فَٱدْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا۟ لَكُمْ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ ﴿194﴾
    وَٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَآ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ﴿197﴾
    لَهُۥ دَعْوَةُ ٱلْحَقِّ ۖ وَٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُم بِشَىْءٍ إِلَّا كَبَٰسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى ٱلْمَآءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَٰلِغِهِۦ ۚ وَمَا دُعَآءُ ٱلْكَٰفِرِينَ إِلَّا فِى ضَلَٰلٍۢ ﴿14﴾
    قُلْ مَن رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ قُلِ ٱللَّهُ ۚ قُلْ أَفَٱتَّخَذْتُم مِّن دُونِهِۦ أَوْلِيَآءَ لَا يَمْلِكُونَ لِأَنفُسِهِمْ نَفْعًۭا وَلَا ضَرًّۭا ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيرُ أَمْ هَلْ تَسْتَوِى ٱلظُّلُمَٰتُ وَٱلنُّورُ ۗ أَمْ جَعَلُوا۟ لِلَّهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوا۟ كَخَلْقِهِۦ فَتَشَٰبَهَ ٱلْخَلْقُ عَلَيْهِمْ ۚ قُلِ ٱللَّهُ خَٰلِقُ كُلِّ شَىْءٍۢ وَهُوَ ٱلْوَٰحِدُ ٱلْقَهَّٰرُ ﴿16﴾
    وَٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْـًۭٔا وَهُمْ يُخْلَقُونَ ﴿20﴾أَمْوَٰتٌ غَيْرُ أَحْيَآءٍۢ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ ﴿21﴾
    وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًۭا مِّنَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ شَيْا وَلَا يَسْتَطِيعُونَ ﴿73﴾
    قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِهِۦ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ ٱلضُّرِّ عَنكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا ﴿56﴾
    وَٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِهِۦ ءَالِهَةًۭ لَّا يَخْلُقُونَ شَيْا وَهُمْ يُخْلَقُونَ وَلَا يَمْلِكُونَ لِأَنفُسِهِمْ ضَرًّۭا وَلَا نَفْعًۭا وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْتًۭا وَلَا حَيَوٰةًۭ وَلَا نُشُورًۭا ﴿3﴾
    وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُهُمْ وَلَا يَضُرُّهُمْ ۗ وَكَانَ ٱلْكَافِرُ عَلَىٰ رَبِّهِۦ ظَهِيرًۭا ﴿55﴾
    قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۢ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِن شِرْكٍۢ وَمَا لَهُۥ مِنْهُم مِّن ظَهِيرٍۢ ﴿22﴾
    يُولِجُ ٱلَّيْلَ فِى ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِى ٱلَّيْلِ وَسَخَّرَ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ كُلٌّۭ يَجْرِى لِأَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى ۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ ٱلْمُلْكُ ۚ وَٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ ﴿13﴾إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا۟ دُعَآءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا۟ مَا ٱسْتَجَابُوا۟ لَكُمْ ۖ وَيَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ ۚ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍۢ ﴿14﴾
    قُلْ أَرَءَيْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَرُونِى مَاذَا خَلَقُوا۟ مِنَ ٱلْأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شِرْكٌۭ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ أَمْ ءَاتَيْنَٰهُمْ كِتَٰبًۭا فَهُمْ عَلَىٰ بَيِّنَتٍۢ مِّنْهُ ۚ بَلْ إِن يَعِدُ ٱلظَّٰلِمُونَ بَعْضُهُم بَعْضًا إِلَّا غُرُورًا ﴿40﴾
    قُلْ أَرَءَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَرُونِى مَاذَا خَلَقُوا۟ مِنَ ٱلْأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شِرْكٌۭ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ ۖ ٱئْتُونِى بِكِتَٰبٍۢ مِّن قَبْلِ هَٰذَآ أَوْ أَثَٰرَةٍۢ مِّنْ عِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ ﴿4﴾وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُۥ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ وَهُمْ عَن دُعَآئِهِمْ غَٰفِلُونَ ﴿5﴾وَإِذَا حُشِرَ ٱلنَّاسُ كَانُوا۟ لَهُمْ أَعْدَآءًۭ وَكَانُوا۟ بِعِبَادَتِهِمْ كَٰفِرِينَ ﴿6﴾
    مذکورہ بالا آیات مقدسات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے عقیدے کی تردید کی ہے اور واضح کر دیا ہے کہ مافوق الاسباب قوتوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اس کے علاوہ پوری کائنات میں کسی کو اختیارات کا ایک ذرہ بھی نہیں ملا،جو شخص اللہ تعالیٰ کے علاوہ میں اسباب سے بالاتر ہو کر ایک ذرہ بھی اختیار تسلیم کرتا ہے وہ شرک کرتا ہے،یہی شرک فی التصرف ہے،اس کا مرتکب مشرک ہے۔
    کلمہ گو مشرک از مبشر احمد ربانی
     
  10. ‏جولائی 16، 2012 #10
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    اگر میں بھول نہیں رہا تو آپ وہی شخصیت ہیں جنہوں نے سترہ پاکستانی فوجیوں کو تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ذبح کئے جانے والے واقعہ کو جائز قرار دیا تھا؟
    آپ کے نزدیک پاکستانی فورسز مسلمان کی کیٹگری میں ہی شامل نہیں ہیں غالباً۔ لہٰذا لفظاً آپ کی بات درست ہوگی کہ آپ کسی مسلمان کے جان و مال کو حلال باور نہیں کرتے۔ لیکن مسلمان کی تعریف آپ کے نزدیک بہت محدود ہے۔ لہٰذا فورسز میں شامل سلفی، دیوبندی، بریلوی مسلمانوں کا خون آپ کے نزدیک حلال بلکہ جہاد قرار پاتا ہے۔

    مجھے اس تصویر کو اپنے فیس بک صفحہ پر ڈالنے میں قطعاً کوئی قباحت نظر نہیں آتی۔ دیگر جماعتوں کا ان کے ذمہ داران جانیں۔ لیکن اس تصویر سے ہرگز وہ مقصد نہیں نکلتا جو آپ بزور کشید کرنا چاہ رہے ہیں۔
    انتخابی مہم اور انتخابی جلسے جلوس کی اس دھاگے میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ آپ نے فقط ایک تصویر کی بنیاد پر جماعت اسلامی پر الزام لگایا جو نامناسب تھا۔ ہمیں جماعت اسلامی کے لئے کوئی تعصب نہیں ہے کہ ان کی ناجائز باتوں کو بھی جائز قرار دینے بیٹھ جائیں۔ لیکن کسی کی مخالفت میں ایسے اندھے بھی نہیں ہوتے کہ خود سے ان کی جانب باتیں منسوب کر کے اس کی تردید کرنے بیٹھ جائیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں