1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جمعہ سے قبل سنت مؤکدہ کا حکم اور جمعہ کے بعد کی سنت مؤکدہ کے منکرین پر رد

'نوافل وسنن' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏فروری 24، 2019۔

  1. ‏فروری 24، 2019 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    858
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    #جمعہ_سے_قبل_سنتِ_مؤکدہ_کاحکم_اور_جمعہ_کے_بعد_کی_سنتِ_مؤکدہ_کے_منکرین_پر_رد_
    المسمی ب
    *تذكير الخواص والعوام، بتأكيد سنن الجمعة البعدية الثابتة عن نبينا عليه الصلاة والسلام، والرد على من أنكر سنیتها متخبطا في الظلام، وخالف ماثبت عن أئمة الأعلام*.

    گذشتہ جمعہ کو ہندوستان کی سابق راجدھانی شہرِ کولکاتا میں ایک خطیب نے دورانِ خطبہ فرمایا: "_*جمعہ کے بعد سنت پڑھنا مؤکدہ نہیں ہے، جمعہ کے بعد کوئی سنت نہیں ہے، آدمی نفل پڑھنا چاہے تو پڑھے، نہیں پڑھے تو اٹھ کر چلا جائے، لیکن جمعہ سے پہلے نفل پڑھنا، اس سے پہلے سنت ہے، جمعہ سے پہلے سنت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔*_".

    جب آڈیو مجھے موصول ہوئی تو میں نے سوچا کہ ممکن ہے امام صاحب سے سبقتِ لسانی ہو گئی ہو، لیکن جب میں نے پوری آڈیو اخیر تک سنی تو پتہ چلا کہ موصوف ایک حدیث سے استدلال کرتے ہوئے اپنے موقف کی پختگی کا ثبوت دے رہے ہیں۔

    چوں کہ علماء نے نمازِ جمعہ سے پہلے سنتِ مؤکدہ کے قائلین کے قول کو بدعت قرار دیا ہے، اس لئے جس طرح سنت کا دفاع واجب ہے اسی طرح بدعت کا رد بھی واجب ہے، اور یہاں تو دونوں چیزیں بیک وقت پائی جارہی ہیں، جمعہ سے قبل سنت مؤکدہ قرار دینے کی بدعت، اور جمعہ کے بعد سنت مؤکدہ کا انکار۔

    قارئینِ کرام! شریعت کا حصہ وہی چیز بن سکتی ہے جو کتاب اللہ سے یا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو، نیز کتاب اللہ اور سنت رسول سے کسی بھی چیز کو ویسے ہی ثابت مانا جائے گا جیسے سلف صالحین نے مانا ہے، ہم اپنی فہمِ سقیم کو شریعت میں داخل نہیں کر سکتے، چناں چہ جمعہ کی مؤکدہ سنتوں کے سلسلے میں سلف صالحین اور جمہور کا موقف یہی ہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد سنتِ مؤکدہ ادا کی جائے، نہ کہ جمعہ کی نماز سے قبل، جبکہ مذکورہ خطیب موصوف کا موقف دلائل صحیحہ وصریحہ اور جمہور علماء کی رائے کے خلاف ہے۔

    *جمعہ سے قبل سنتِ مؤکدہ کے بارے میں سلف کا موقف۔*

    # شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: "نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ سے قبل سنت نہیں پڑھتے تھے.......نہ مسجد میں اور نہ ہی گھر میں، نیز جمہور ائمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جمعہ سے قبل کوئی سنتِ مؤکدہ نہیں ہے"(1)۔
    # حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: "جمعہ سے قبل سنت مؤکدہ کے سلسلے میں کوئی حدیث ثابت نہیں ہے"(2)۔
    # ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جمعہ عید کی نماز کی طرح ہے اس سے قبل کوئی سنتِ مؤکدہ نہیں ہے، اور یہی صحیح قول ہے، اور سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی بات پر دلالت کرتی ہے(3)۔
    # شیخ البانی رحمہ اللہ نے جمعہ سے قبل سنتِ مؤکدہ کو بدعت قرار دیا ہے(4)۔
    # نیز شیخ فرماتے ہیں کہ: جمعہ سے قبل سنت مؤکدہ کی کوئی اصل نہیں ہے اور نا ہی کوئی دلیل ہے(5)۔
    # امام ابو شامہ فرماتے ہیں کہ: " جمعہ سے قبل سنت مؤکدہ پڑھنا جائز نہیں ہے"(6).
    شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: "جو لوگ جمعہ سے قبل سنت مؤکدہ پڑھتے ہیں وہ اس مسئلہ میں نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں اور نا ہی ائمہ کی تقلید کرتے ہیں، بلکہ اپنے ہی جیسے بعض متاخرین مقلدین کی تقلید کرتے ہیں، مجھے بڑا تعجب ہوتا ہے کہ ایک مقلد دوسرے مقلد کی تقلید کیسے کررہا ہے(7)۔
    ابنِ باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: " صحیح قول کے مطابق جمعہ سے قبل کوئی سنتِ مؤکدہ نہیں ہے"(8).

    *جمعہ کے بعد کی سنتِ مؤکدہ کے سلسلے میں شریعت کا موقف۔*
    1- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ:
    ((صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم سجدتين قبل الظهر، وسجدتين بعد الظهر، وسجدتين بعد المغرب، وسجدتين بعد العشاء، وسجدتين بعد الجمعة)).
    ترجمہ: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر سے قبل دو رکعت، ظہر کے بعد دو رکعت، جمعہ کے بعد دو رکعت، مغرب کے بعد دو رکعت اور عشاء کے بعد دو رکعت ادا کی(9)۔
    شیخ البانی رحمہ اللہ اس حدیث پر تعلیق لگاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: حدیثِ مذکور اس بات پر نص کی حیثیت رکھتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ سے قبل کوئی سنت نہیں پڑھتے تھے، نہ گھر اور نا ہی مسجد میں(10)۔

    محترم قارئین! اگر مندرجہ بالا حدیث میں غور فرمائیں تو آپ دیکھیں گے کہ یہ حدیث خاص طور سے سننِ مؤکدہ کو بیان کر رہی ہے، جس میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ہر نماز کی سنتِ مؤکدہ کا ذکر کیا ہے، حتی کہ جمعہ کی نماز کے بعد کی سنتِ مؤکدہ کا بھی ذکر کیا ہے، لیکن جمعہ سے قبل کی کسی سنت کا کوئی ذکر نہیں ملتا، اگر جمعہ سے قبل کوئی سنت ہوتی تو وہ ضرور بیان کرتے، البتہ جمعہ کے بعد کی سنتوں کا ذکر موجود ہے۔

    2- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إذا صلى أحدكم الجمعة فليصل بعدها أربعا )).
    ترجمہ: جب تم جمعہ پڑھو تو جمعہ کے بعد چار رکعت پڑھ لیا کرو(11)۔
    اس حدیث سے صاف واضح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے بعد نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی جمعہ کے بعد یہ سنت ادا کیا کرتے تھے، اس لئے خطیب صاحب کا یہ کہنا کہ جمعہ کے بعد کوئی سنت نہیں بالکل غلط ہے اور مذکورہ حدیث کے مخالف بھی۔

    موصوف نے جمعہ سے قبل کی سنتِ مؤکدہ پر صحیح بخاری سے ایک حدیث پیش کی ہے۔
    سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الجُمُعَةِ ، وَتَطَهَّرَ بِمَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ ، ثُمَّ ادَّهَنَ أَوْ مَسَّ مِنْ طِيبٍ ، ثُمَّ رَاحَ فَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ ، فَصَلَّى مَا كُتِبَ لَهُ ، ثُمَّ إِذَا خَرَجَ الإِمَامُ أَنْصَتَ ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الجُمُعَةِ الأُخْرَى)).
    ترجمہ: جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، اور حسب اطاعت طہارت و پاکیزگی اختیار کرے، تیل لگائے، بدن پر خوشبو ملے، پھر جمعہ کی نماز کیلئے جائے، اور صفوں کو چیرتا ہوا آگے نہ بڑھے، اور جتنا میسر ہو سکے نماز ادا کرے، اور جب امام خطبہ کیلئے آئے تو خاموش ہو جائے تو اس کے ایک ہفتے کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں(12)۔

    اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے موصوف فرماتے ہیں کہ: " _*اس حدیث میں جمعہ کے بعد کوئی سنت بتائی گئی ہے؟ نہیں، جمعہ کے بعد کوئی سنت نہیں ہے، جو پڑھنا چاہے پڑھے، جمعہ سے پہلے سنت ہے...."*_۔

    یہ عجیب وغریب استدلال ہے، اگر اس حدیث میں جمعہ کے بعد کی سنتوں کا ذکر نہیں ہے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں ہوا کہ دوسری حدیث میں اس کا ذکر ہی نہ ہو، اوپر کے سطور میں عبد اللہ بن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے دو حدیثیں پیش کی گئیں ہیں، ایک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل نقل کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد ہمیشہ سنت مؤکدہ ادا کرتے تھے، جبکہ دوسری حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو جمعہ کے بعد نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے، کیا ان دونوں حدیث کے بعد بھی کوئی عاقل شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ جمعہ کے بعد کوئی سنت نہیں ہے؟

    موصوف خطیب نے جس حدیث سے جمعہ سے قبل کی سنتِ مؤکدہ پر استدلال کیا ہے وہ سرے سے ہی اس کی دلیل نہیں، کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جمعہ سے قبل کی سنت بالکلیہ ثابت نہیں ہے، جیسا کہ اوپر پیش کئے گئے سلف صالحین کے اقوال سے ظاہر ہے، نیز صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی مخصوص رکعات نہیں پڑھتے تھے، بلکہ جن کو جتنا میسر ہوتا پڑھتے چلے جاتے، بعض آٹھ پڑھتے تو بعض دس، اور یہی مطلب عام نوافل کا ہوتا ہے کہ جس کو جتنا میسر ہو پڑھے۔
    سنت مؤکدہ اور مطلق نفل کے درمیان فرق: سنتِ مؤکدہ اس کو کہتے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وعمل سے ثابت ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مداومت برتی ہو اور اس کا وقت یا عدد معین ہو، جبکہ مطلق نوافل میں یہ چیزیں نہیں پائی جاتیں، چنانچہ ممنوعہ اوقات کو چھوڑ کر جو جب چاہے اور جتنا چاہے نفل پڑھ سکتا ہے، جیسا کہ جمعہ سے قبل نفل پڑھنے کی ترغیب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی، لیکن سنت مؤکدہ کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں، لہذا جتنی رکعات جس وقت میں ثابت ہیں وہ اس وقت میں اتنی ہی پڑھ سکتا ہے، جیسے فجر کی سنت دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھ سکتے، اور نہ ہی وقت سے پہلے پڑھ سکتے ہیں، اور نہ ہی ظہر کی سنت کی جگہ ادا کر سکتے ہیں۔

    خلاصہ کلام یہ کہ نمازِ جمعہ سے قبل کوئی سنت مؤکدہ نہیں ہے، اور جو اس کا دعویٰ کرتے ان کے دعویٰ پر کوئی صحیح دلیل موجود نہیں ہے، بلکہ بعض علماء کے نزدیک جمعہ سے قبل سنت مؤکدہ بدعت ہے، البتہ جو جمعہ سے قبل عام نفل پڑھنا چاہے وہ بلا قیود وشروط جتنا چاہے پڑھ سکتا ہے۔

    ابو احمد محمد کلیم الدین یوسف
    جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (1) مجموع الفتاوی (24/ 188)، ومجموع الرسائل الکبری (2/ 183).
    (2) فتح الباري (2/426)۔
    (3) زاد المعاد (417- 422)۔
    (4) الاجوبۃ النافعۃ (ص118).
    (5) الاجوبۃ النافعۃ (ص46)۔
    (6) الباعث علی انکار البدع والحوادث (1/ 98).
    (7) الاجوبۃ النافعۃ (56).
    (8) مجموع فتاوى و رسائل الشيخ عبدالعزيز بن عبدالله بن باز. المجلد الثاني عشر۔
    (9) صحیح البخاری ( حدیث 1132)۔
    (10) الاجوبۃ النافعۃ (ص 55).
    (11) صحیح مسلم (حدیث 881).
    (12) صحیح البخاری (حدیث 883).
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں