1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جمعہ کے دن روزہ رکھنا اگر کسی نے خالی ایک جمعہ کے دن کے روزہ کی نیت کر لی تو اسے توڑ ڈالے

'روزہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏جولائی 17، 2012۔

  1. ‏جولائی 17، 2012 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    حدیث نمبر: 1984
    حدثنا أبو عاصم،‏‏‏‏ عن ابن جريج،‏‏‏‏ عن عبد الحميد بن جبير،‏‏‏‏ عن محمد بن عباد،‏‏‏‏ قال سألت جابرا ـ رضى الله عنه ـ نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن صوم يوم الجمعة قال نعم‏.‏ زاد غير أبي عاصم أن ينفرد بصوم‏.‏

    ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عبدالحمید بن جبیر نے اور ان سے محمد بن عباد نے کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں! ابوعاصم کے علاوہ راویوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ خالی (ایک جمعہ ہی کے دن) روزہ رکھنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔


    حدیث نمبر: 1985
    حدثنا عمر بن حفص بن غياث،‏‏‏‏ حدثنا أبي،‏‏‏‏ حدثنا الأعمش،‏‏‏‏ حدثنا أبو صالح،‏‏‏‏ عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ لا يصومن أحدكم يوم الجمعة،‏‏‏‏ إلا يوما قبله أو بعده ‏"‏‏.‏

    ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بھی شخص جمعہ کے دن اس وقت تک روزہ نہ رکھے جب تک اس سے ایک دن پہلے یا اس کے ایک بعد روزہ نہ رکھتا ہو۔


    حدیث نمبر: 1986
    حدثنا مسدد،‏‏‏‏ حدثنا يحيى،‏‏‏‏ عن شعبة،‏‏‏‏ ح‏.‏ وحدثني محمد،‏‏‏‏ حدثنا غندر،‏‏‏‏ حدثنا شعبة،‏‏‏‏ عن قتادة،‏‏‏‏ عن أبي أيوب،‏‏‏‏ عن جويرية بنت الحارث ـ رضى الله عنها ـ أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليها يوم الجمعة وهى صائمة فقال ‏"‏ أصمت أمس ‏"‏‏.‏ قالت لا‏.‏ قال ‏"‏ تريدين أن تصومي غدا ‏"‏‏.‏ قالت لا‏.‏ قال ‏"‏ فأفطري ‏"‏‏.‏

    ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوایوب نے اور ان سے جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں جمعہ کے دن تشریف لے گئے، (اتفاق سے) وہ روزہ سے تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دریافت فرمایا کے کل کے دن بھی تو نے روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا آئندہ کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ جواب دیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر روزہ توڑ دو۔ حماد بن جعد نے بیان کیا کہ انہوں نے قتادہ سے سنا، ان سے ابوایوب نے بیان کیا اور ان سے جویریہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور انہوں نے روزہ توڑ دیا۔

    کتاب الصیام صحیح بخاری
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں