1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جمع عثمانی﷜ اور مستشرقین

'علم القراءات' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏اپریل 02، 2012۔

  1. ‏اپریل 02، 2012 #1
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    جمع عثمانی﷜ اور مستشرقین

    ڈاکٹر محمود اختر​

    قرآن مجید وہ واحد کتاب ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری اﷲ تعالیٰ نے اپنے اوپر لی ہے۔ اسی طرح صرف قرآن حکیم کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک محفوظ کتاب ہے ۔اﷲ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری کے باوجود مسلمانوں نے اس کی حفاظت کی ضرورت سے آنکھیں بند نہیں کیں۔ نہ صرف اس کا ایک ایک حرف اور حرکت محفوظ ہے بلکہ اس کے الفاظ کی ادائیگی کے طریقے بھی تسلسل اور تواتر سے پوری صحت کے ساتھ ہم تک پہنچے ہیں ۔ قرآن کے نزول کے ساتھ ہی اس کی کتابت کا اہتمام کیا گیا ۔ اس کی ترتیب بھی وہی ہے جو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی تھی۔ لیکن مستشرقین نے قرآن کو اپنی کتابوں کے برابر لانے کے لئے قرآن کے متن کے غیر معتبر ہونے کے نقطہ نگاہ کو ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور صرف کیا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں عہدِ عثمانِ غنی﷜ میں جمع قرآن کے بارے میں مستشرقین کے نقطہ نگاہ کی حقیقت پر روشنی ڈالی جائے گی۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 02، 2012 #2
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (١) مصحفِ عثمان﷜ پر مستشرقین کے اعتراضات میں سے نمایاں یہ ہیں۔
    مصحفِ عثمانی﷜ پر اعتراضات کے سلسلے میں نولڈیکے (Noldeke)کے نقطہ نگاہ کو دیگر لوگوں نے اپنایا ہے اور یہ نقطہ نگاہ اختیار کیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق﷜سے قبل قرآن مجید کا کوئی معیاری اور مرتب نسخہ موجود نہ تھا اور مصحفِ عثمان﷜، مصحفِ صدیق﷜کی نقل ہی تھا۔ لہٰذا اگر مصحفِ صدیق﷜ صحیح نہ تھا تو مصحفِ عثمان﷜ کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔رچرڈبل (Richard Bell) نے کہا ہے کہ قرآن مجید عہدِ نبویﷺ اور عہدِ ابوبکر صدیق﷜ میں اختلافات کا شکار تھااور مصحفِ عثمانی﷜ ، مصحفِ صدیق﷜ کی نقل ہونے کی وجہ سے ناقص ہی ہے۔
    منٹگمری واٹ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی﷜ کے عہد میں قرآن مجید کے متفرق اجزاء کو اکٹھا نہیں کیا جا سکا تھا۔
    S.E. Frost کہتے ہیں کہ قرآن مجید ، حضرت محمدﷺ کی وفات کے بارہ برس بعد تک بھی جمع نہیں ہو سکا تھا حضرت عثمان﷜ نے اس مسئلے کے حل کا حکم دیاکہ آپﷺ کی اصل تعلیمات کا کھوج لگایا جائے۔اس وقت جو نسخہ معرض وجود میں آیا وہ دیگر مذاہب ، زرتشت ۔ یہودیت اور عربی روایات کے علاوہ عوامی داستانوں کے ردی ٹکڑوں پر مشتمل تھا۔
    Encyclopaedia of Islam میں Koran کے مقالہ نگار BUHL کا بھی نقطہ نگاہ یہی ہے کہ
    مصحفِ عثمان﷜ ، مصحفِ صدیق﷜ کی نقل تھا لیکن ساتھ ہی کہتا ہے کہ مصحفِ صدیق﷜ کوئی باقاعدہ مرتب نسخہ نہ تھا۔ آرتھر جیفری کہتے ہیں کہ ایک طویل عرصے تک قرآن مجید کے اصل متن کا تعین نہ ہوسکا ۔ لوگ مختلف طریقوں سے قرآن مجید پڑھتے رہے۔ حتٰی کہ ایک لمبا عرصہ گزرنے کے بعد مجاہد﷫ نے متنِ قرآن مجید کا تعین کیا وہ یہ تاثر دیتا ہے کہ ایک طویل عرصہ تک متن متعین نہ ہونے کی وجہ سے اس میں سے بہت کچھ ضائع ہوگیا ہوگا۔ یہ مستشرق لکھتے ہیں کہ متنِ قرآن مجید کے تعین کا مسئلہ ابھی تک مسلمانوں کے ہاں اپنے بچپن کے دور میں ہے۔ بہل یہ اعتراض بھی کرتا ہے کہ نوآموز اورناتجربہ کار کاتبوں کی طرف سے کچھ لاپرواہیاں اور غلطیاں ہوئیں۔
     
  3. ‏اپریل 02، 2012 #3
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٢) نولڈیکے(Noldeke)، حضرت عثمان غنی﷜ کی تدوین قرآن کی ساری کاروائی کو مشکوک بناتے ہوئے کہتا ہے:
    ....As to how they were conducted we have no trustworthy information, tradition being here too much under the influence of dogmatic presuppositions
    (٣) مستشرقین ، حضرت عثمان غنی﷜کے تیار کروائے ہوئے نسخے کی حیثیت کم کرنے کے لئے یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے ساری کاروائی سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے کی۔ ورنہ جمع قرآن کی کوئی حقیقی ضرورت نہ تھی۔
    ..... But essentially political object of putting an end to controversies by admitting only one form of the common book of religion and of law this measures was necessary.
    بلاشر(Blachere) اور آرتھر جیفری(Arthur Jeffery) نے بھی یہی نقطہ نگاہ اختیار کیا ہے۔
    (٤) اس طرح کا ایک اعتراض یہ ہے کہ حضرت زید بن ثابت﷜ کے علاوہ اس کمیٹی کے باقی تینوں ممبران قریشی تھے۔ یہ تینوں حضرات طبقہ امراء سے تعلق رکھتے تھے اور حضرت عثمان غنی﷜ کے رشتہ دار تھے۔ اس لئے یہ سب لوگ ایک مشترکہ مصلحت کی خاطر متحد ہو گئے ۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مکہ کے علاوہ کسی اور جگہ کا تلفظ قرآن کا معیار بنے۔ اور حضرت زید بن ثابت﷜ ان کے ہم نوا بن گئے اور وہ ان کی خوشامد کیا کرتے تھے۔ حضرت زید بن ثابت﷜ جانتے تھے کہ وہ قریش کے خواص میں سے نہیں ہیں۔
     
  4. ‏اپریل 02، 2012 #4
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٥) اس مصحف پر یہ اعتراض بھی کیا گیا ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے مخصوص مقاصد کے سلسلے میں قرآن مجید کے کچھ حصے اس سے خارج کر دئیے۔
    نولڈیکے(Noldeke) لکھتا ہے۔
    It seems to me highly probable that this second redaction took this simple form, Zaid read off from the codex which he had previously written......
    اسی بنیاد پر وہ قرآن مجید کے موجودہ نسخے کو نامکمل قرار دیتا ہے۔ وہ لکھتا ہے۔
    Othman's Koran was not complete some passages are evidently fragmentry and few detached pieces are still extent which were originally part of the Koran. although have been omitted by Zaid. Amongst these are some which there is no reason to suppose Mohammad desired to suppress.
    وہ مزید لکھتا ہے۔
    Zaid may easily have overlooked a few stray fragments , but he purposly ommited any thing he believed to belong to the Koran is very unlike.
     
  5. ‏اپریل 02، 2012 #5
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    تاویل القرآن کے مؤلف، ضربت عیسوی نے اسی بات کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے وہ تمام آیات قرآن سے خارج کر دیں جن میں اہل بیت کے مناقب بیان کئے گئے تھے۔اسی طرح کہا گیا کہ قرآن مجید میں کچھ منافقین کے نام تھے۔ اب ان لوگوں کی اولادیں مسلمان ہوگئیں تو مصلحت کی خاطر ان کے نام قرآن سے نکال دئے گئے۔
    یہ روایت بھی موجود ہے کہ حضرت زید بن ثابت﷜ کہتے ہیں کہ سورۃ التوبۃ کی آیت ’’لَقَدْ جَآئَکُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ أَنْفُسِکُمْ… ‘‘ (التوبۃ: ۱۲۸) حضرت ابو خزیمہ﷜ کے علاوہ کسی کے پاس سے نہ ملی
    اس روایت سے بھی مستشرقین یہی نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ شاید اس طرح کی اور بھی آیات شاملِ قرآن ہونے سے رہ گئیں ہوں ۔ Tritton لکھتا ہے کہ دو ایسی سورتیں ہیں جواس سے قبل موجود تھیں لیکن اب نہیں ہیں
     
  6. ‏اپریل 02، 2012 #6
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    مستشرقین کہتے ہیں کہ
    حضرت عثمان غنی﷜ نے اپنے نسخے کے علاوہ دیگر تمام مصاحف جلوا ڈالے اس طرح قرآن مجید کا بہت سا حصہ اس عمل میں ضائع ہو گیا اور قرآن کا حقیقی متن اگر ہم جاننا چاہیں بھی تو نہیں جان سکتے۔
    اس سلسلے میں آرتھر جیفری نے ابن ابیّ داؤد کی کتاب المصاحف کی روشنی میں ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ’ما قبل عہد عثمان‘ کی قرأتیں اب ضائع ہو چکی ہیں۔ یہی موقف Encyclopaedia of Islam کے مقالہ نگار نے اختیار کیا ہے۔ پادری فنڈر(Funder) نے میزان الحق میں اسی نقطہ نگاہ کو اپنایا ہے۔
    مارگولیتھ(Margoliuth) کا خلاصہ تحقیق بھی یہی ہے ۔
    یہ نقطہ نگاہ بھی ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ تو ایک متفقہ متن اور متفقہ تلفظ تیار نہ کرسکے۔اگرچہ کہا جاتا ہے کہ حضرت عثمانِ غنی﷜ نے اختلافات ختم کرنے کے لیے باقی نسخے جلوا دئے تھے ۔ لیکن اختلافات ختم کرنے کے لیے جلانے یا ضائع کرنے کا یہ عمل بالکل بے اثر تھا۔ کیونکہ قرآن مجید تو لوگوں کے حافظے میں موجود تھا۔
     
  7. ‏اپریل 02، 2012 #7
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    الف اس مصحف کی تیاری کے بعد بھی دیگر مصاحف موجود رہے۔
    ب اس طرح قرآن مجید کے متن میں اختلافات بھی موجود رہے۔
    یہی شخص لکھتا ہے کہ مصحفِ عثمان غنی﷜ حقیقی قرآن نہیں ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ اس مصحف کی کوئی ترتیب بھی نہ تھی۔جو مصاحف دیگر ممالک کو روانہ کئے گئے ان میں بھی ہم آہنگی نہ تھی۔
    In this way there arose a perplexing confusion of readings and in place of the striving for uniformity that one would have expected people became accustomed to unlimited liberty in these matters so that did not hesitate to substitute for particular words their synonyms or to insert short explainatory additions. This freedom was all the more unbredled in its development as the unmayed caliphs had little feeling on such question and preferred to take care that passions were not aroused by state interference in such matters.
    (٧) Encyclopaedia of Islamکے مقالہ نگار نے تفسیر طبری کے حوالے سے لکھا ہے کہ
    حضرت عثمان غنی﷜ خود بھی اپنے تیار کروائے ہوئے نسخے کو مستند اور صحیح نہیں سمجھتے تھے۔ انہوں نے سورۃ 3 کی آیت نمبر ۱۰۰ پڑھی جس میں اصل متن کے علاوہ کچھ اضافی الفاظ بھی تھے۔ اس بنا پر مقالہ نگار لکھتا ہے
    If this is correct it is no wonder that others took still greater liberties. Various circumstances contributed to the continual variations in the form of the text.
     
  8. ‏اپریل 02، 2012 #8
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    نولڈیکے لکھتا ہے کہ اس میں slight clerical errors باقی رہ گئیں تھیں۔
    مارگولیتھ (Margoliuth)(بقول اس کے) اس ابہام اور اغلاط کے بارے میں لکھتا ہے کہ حضرت زید بن ثابت﷜ کو حضرت عثمان غنی﷜ نے اس لئے کام پر لگایا کہ انتہائی ابہام کی موجودگی میں وہی اس متن کی وضاحت کر سکتے تھے۔ اس کے الفاظ میں :
    Perhaps because in the extreme ambiguity and imperfection of the arabic script he alone could interpret the first edition with certainity.
    (٨) پادری فنڈر نے یہ اعتراضات نقل کئے ہیں ۔
     
  9. ‏اپریل 02، 2012 #9
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (١) حضرت عثمان غنی﷜ نے قرآن کا متن تیار کروایا ۔ حالانکہ شیعہ انہیں کافر قراردیتے ہیں۔
    (٢) اگر اصل قرآن اور حضرت عثمان غنی﷜ کا قرآن ایک ہی تھا تو دوسرے قرآنوں کو جلایا کیوں گیا؟
    (٣) شیعہ کہتے ہیں کہ قرآن کو خود گم کر دیا گیا۔
    ان تمام افکارو آراء کا بنیادی نقطہ نگاہ یہی ہے کہ مصحفِ عثمان غنی﷜ بھی ناقص ہی تھا ۔ اس میں تصرفات بھی کر دئے گئے اور اس کی ترتیب بھی بدل دی گئی۔
    مستشرقین کے نقطہ نگاہ کا جائزہ ہم مندرجہ ذیل پہلوؤں سے لیں گے۔
    (١) ان کی تحقیقات کے ذہنی فکری اور مذہبی پس منظر، ان کے مقاصدِ تحقیق او ر ان کی تحقیقات کے مآخذ کا جائزہ لے کر واضح کیا جائے گاکہ ان کی تحقیقات کی اصلیت کیا ہے؟
    (٢) تاریخی شواہد کی روشنی میں واضح کیا جائے گا کہ ان لوگوں کے نتائجِ تحقیق محض ان کے خود ساختہ خیالات ہی ہیں۔ تاریخی حقائق ان کے نقطہ نگاہ کی تائید نہیں کرتے۔
    (٣) عقلی و منطقی دلائل سے ان کے نقطہ نگاہ کا ردّ کیا جائے گا۔
     
  10. ‏اپریل 02، 2012 #10
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    صحتِ قرآن کے بارے میں مستشرقین کے نقطہ نگاہ کا تجزیہ
    قرآن حکیم یا اسلام کے بارے میں مستشرقین کے نقطہ نگاہ کی حقیقت کا جائزہ لیتے ہوئے ہمیں ان لوگوں کے ذہنی پس منظر اور طریقِ کار کے بارے میں کچھ حقائق کو ملحوظ رکھنا ہوگا ورنہ ہم ان کے نقطہ نگاہ کی حقیقت کو سمجھ نہیں سکیں گے۔ جہاں تک اسلامی تحقیق کے دوران ان کے رویے اور ذہنی پس منظر کا تعلق ہے مستشرقین نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اپنا بدترین دشمن سمجھتے ہیں اور وہ اس وقت ’قلمی صلیبی جنگ‘ (Crusade by Pen) میں مصروف ہیں۔
    ٭ یہ لوگ خالی الذہن ہو کر تحقیق نہیں کرتے بلکہ مسلمانوں کے خلاف تعصب سے بھرے ہوئے ہیں۔وہ خود اعتراف کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے بارے میں تحقیقات کرتے ہوئے ہم غیر جانبدرانہ نہیں رہ سکے۔ اس صورت میں ہم فیصلہ کرسکتے ہیں کہ ان کی تحقیقات کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے۔
    ٭ تحقیق کا بین الاقوامی مسلمہ اصول ہے کہ تحقیق شروع کرنے سے قبل اور تحقیق کے دوران محقق خالی الذہن اور غیر جانبدار رہے۔ پہلے سے طے شدہ کسی مقصد کو ذہن میں رکھے بغیر تحقیق کی جائے ۔ اگر پہلے سے طے شدہ کوئی مقصد ذہن میں رکھ کر تحقیق کی جائے گی تو اسے تحقیق نہیں کہا جاسکتا ۔ جبکہ مستشرقین کے ہاں اس بات کا مکمل فقدان ہے ۔وہ پہلے ایک مقصد طے کرتے ہیں پھر ہر طرح کے مآخذ سے اپنے مقصد کے لیے ڈھونڈ ڈھونڈ کر دلائل تلاش کرتے ہیں۔ان کے ذہن میں مقصد یہ ہے کہ قرآن کے بارے میں ثابت کریں کہ قرآن ایک طویل عرصے تک جمع نہیں کیا گیا اس کے لیے وہ محض اپنے ظن وگمان کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ مسلمان، متنِ قرآن کو محفوظ کرنے کے بارے میں غیر محتاط اوربے نیاز رہے اور حضرت عثمان غنی﷜ کے دور تک قرآن جمع نہیں کیا گیا ۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے وہ ان تمام بنیاد ی حقائق ومسلمات کو بھول جاتے ہیں کہ نزولِ قرآن کے ساتھ ہی قرآن کو سینوں اور کتابت کی صورت میں محفوظ کرنے کا بہترین اہتمام موجود تھا۔ایک طرف مستند مآخذ کی روشنی میں ثابت شدہ یہ حقیقت ہے کہ قرآن پہلے دن ہی سے محفوظ چلا آرہا ہے، دوسری طرف بغیر کسی دلیل کے صرف ایک فقرے میں کہہ دینا کہ قرآن محفوظ نہیں ہے کسی طرح قرین انصاف نہیں ہے۔ عقل اور انصاف کا تقاضا ہے کہ حفاظتِ قرآن کے قابلِ اعتماد اہتمام اور مستشرقین کے ظن وگمان کو ہم پلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر کوئی شخص تمام سائنس دانوں اور محققین کی تحقیقات کے بارے میں کہہ دے کہ میں ان کو نہیں مانتا تو اسے نہ ماننے کی کوئی دلیل بھی تو دینی چاہئے ۔ بغیر کسی دلیل کے اس کا دعویٰ ماننا قرین انصاف نہیں ہے۔مثلاً اگر تاریخی واقعات کی بنیاد پر کوئی دعویٰ کیا گیا ہو تو اسے جھٹلانے کے لیے تاریخی شواہد پیش کرنے چاہئیں۔ اگر عقلی بنیاد پر کوئی دعویٰ کیا جائے تو اس کا توڑ بھی عقلی بنیاد پر کیا جانا چاہئے۔ کسی شخص یا گروہ کا عقلی و نقلی شواہد کو جھٹلا دینا اور کہنا کہ میں ان دلائل کو نہیں مانتا،کسی صورت بھی قابلِ فہم نہیں ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں